بلا تحقیق بات کو پھیلانا

عَنِ ابْنِ مَسْعُوْدٍ قَالَ اِنَّ الشَّیْطَانَ لَیَتَمَثَّلُ فِیْ صُوْرَۃِ الرَّجُلِ فَیَاْتِی الْقَوْمَ فَیُحَدِّثُھُمْ بِالْحَدِیْثِ مِنَ الْکَذِبِ فَیَتَفَرَّقُوْنَ، فَیَقُوْلُ الرَّجُلُ مِنْھُمْ سَمِعْتُ رَجُلا اَعْرِفُ وَجْھَہٗ وَلاَ اَدْرِیْ مَا اِسْمُہٗ یُحَدِّثُ (مسلم)

’’عبد اللہ ابن مسعود رضی اللہ عنہ نے کہا کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: شیطان آدمی کے بھیس میں لوگوں کے پاس آکر جھوٹی بات کہتا ہے پھر اہل مجلس منتشر ہوجاتے ہیں۔ تو ان میں سے کوئی یوں کہتا ہے، ایک آدمی جس کے چہرے کو میں پہچانتا ہوں لیکن نام نہیں جانتا، وہ یہ بات کہہ رہا تھا۔‘‘

تشریح: اس حدیث میں مسلمانوں کو اس بات سے روکا گیا ہے کہ کوئی بات بغیر تحقیق نہ کہی جائے، نہ پھیلائی جائے ہوسکتا ہے جس نے وہ بات کہی ہے وہ شیطان ہو لہٰذا بات کہنے والے کے بارے میں تحقیق کرو۔ بلا تحقیق بات پھیلانے سے معاشرے کو سنگین نقصان ہوسکتا ہے۔

شیئر کیجیے
Default image
مولانا جلیل احسن ندویؒ

Leave a Reply