رنگ نکھارنے والے زہر

خوب صورت نظر آنا ہر انسان کی دلی خواہش ہوتی ہے مگر خواتین اس معاملے میں زیادہ حساس ہوتی ہیں۔ گورے اور صاف رنگ کی خواتین کو عموماً خوب صورتی کی علامت سمجھا جاتا ہے۔ اور معاشرے میں خوب صورت خواتین کو خاص اہمیت دی جاتی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ بعض کاسمیٹکس کمپنیاں رنگ گورا کرنے کے لیے ناقص فارمولوں پر مبنی کریمیں بناتی ہیں اور یہ دعویٰ کرتی ہیں کہ چند دن میں ہی اس کے استعمال سے رنگ گورا ہوجائے گا۔ میڈیا پر ان ناقص کریموں کی تشہیر کچھ اس انداز سے کی جاتی ہے کہ دیکھنے والے، اپنی ذاتی زندگیوں اور رشتوں پر اس کے اثر انداز ہونے کی چھوٹی چھوٹی باتوں پر یقین کرلیتے ہیں۔ ان کے اشتہار میں لکھا ہوتا ہے ’’چند دن میں رشتے کے لیے لڑکے والے آرہے ہیں یا کچھ دنوں میںمہندی کی تقریب ہے تو فارمولا کریم کے استعمال سے رنگ گورا کیجئے۔‘‘

ایسے سہانے خواب دکھانے والے اشتہاروں اور ان فارمولا کریموں کی حقیقت پر غور کیا جائے تو اس کے اثرات بہت بھیانک نظر آئیں گے۔ رنگ گورا کرنے والی ان فارمولا کریموں میں پارا (Mercury)شامل ہوتا ہے۔ جو انسانی صحت کے لیے انتہائی نقصان دہ ہے۔ پارا جلد میں میلانیں کی پیداوار کو روکتا ہے۔ جلد کی رنگت میلانین کی وجہ سے ہی ہوتی ہے اور یوں پارے کے جلد میں شامل ہونے کے باعث بظاہر رنگ صاف نظر آتا ہے لیکن جوں جوں ان کریموں کا استعمال ترک کیا جاتا ہے ان کے منفی اثرات جلد ہی سامنے آنے لگتے ہیں اور بظاہر گورا نظر آنے والا چہرہ مرجھا کر سانولا رنگ اختیار کرنے لگتا ہے۔ بعض اوقات ان فارمولا کریموں کے استعمال سے پھنسیاں بھی نکل آتی ہیں اور داغ نمودار ہوجاتے ہیں۔ عمر رسیدگی کے نشانات پیدا ہونے لگتے ہیں۔ کیل مہاسے اور خشک جلد سمیت دیگر علامات ظاہر ہوجاتی ہیں۔ اگرچہ کریموں میں انتہائی قلیل مقدار میں پارہ شامل کرنا نقصان دہ نہیں ہے۔ امریکی ادارے FDA نے اس کی اجازت بھی دی ہے لیکن کچھ لالچی عناصر اس چھوٹ کا فائدہ اٹھاتے ہوئے، اس مقدار کو خطرناک حد تک بڑھا دیتے ہیں، جن سے خواتین کا چہرہ گورا اور چمکدار تو نظر آنے لگتا ہے مگر وہ اس حقیقت سے بے خبر رہتی ہیں کہ ان فارمولا کریموں کے استعمال سے ان کے اور ان کے ارد گرد لوگوں کی صحت کو شدید نقصان پہنچ رہا ہے۔ عالمی ادارہ صحت کی تحقیق کے مطابق رنگ گورا کرنے والے صابن اور فارمولا کریموں میں غیر نامیاتی پارے کا مضر اثر گردوں کی خرابی کی صورت میں پیدا ہوتا ہے۔ اس رپورٹ کے مطابق رنگ گورا کرنے والی مصنوعات میں پارے کا استعمال جلد پر سرخ دانے نکلنے کا سبب بھی بنتا ہے۔ رنگت بگڑ جاتی ہے۔ مزید برآں ان کے استعمال سے جلد میں بیکٹریا اور فنگس سے مزاحمت بھی کم ہوجاتی ہے اور ان کے مضر اثرات پیدا ہونے لگتے ہیں۔

صابن اور فارمولا کریموں اور دیگر کاسمیٹک مصنوعات میں استعمال ہونے والا پارہ سیوریج کے پانی کو بھی متاثر کرتا ہے۔ پارہ میتھائی صورت اختیار کرنے کے بعد فوڈ چین سے گزر کر انتہائی زہریلا مادہ میتھائل مرکزی بن جاتا ہے۔ جو آبی حیوانات کے لیے جان لیوا ہوتا ہے۔ مذکورہ تحقیق میں یہ بھی انکشاف کیا گیا ہے کہ وہ حاملہ خواتین جو اس زہریلے مادے سے متاثرہ مچھلی کا گوشت کھاتی ہیں، وہ اپنے بچوں میں قبل از وقت پارہ منتقل کردیتی ہیں۔ جو بعد ازاں بچوں میں اعصابی مسائل کی وجہ بنتا ہے۔ زہریلے مادوں سے پیدا ہونے والے اثرات کے ماہر مائیک بولجر کہتے ہیں کہ چھوٹے اور شیر خوار بچوں میں زہریلی اشیاء کے استعمال سے کئی طرح کے نقصانات کا اندیشہ ہوتا ہے۔

غیر معیاری کریموں کے استعمال سے مزاج میں چڑچڑا پن، عدم اعتماد، جسم میں لرزہ، قوت سماعت میں کمی اور بصارت میں فرق، قوت حافظہ میں کمی، ڈپریشن سے ہاتھ پاؤں اور چہروں کا سن ہو جانا او ران میں سنسناہٹ کا احساس ہونا جیسی علامتیں ظاہر ہوسکتی ہیں۔

عالمی ادارہ صحت نے صارفین کو خبردار کیا ہے کہ وہ رنگ گورا کرنے والی کریموں کی خریداری کے وقت ان پر درج لیبل کو ضرور پڑھیں اور بالخصوص مندرجہ ذیل اجزاء کی حامل کریموں سے احتیاط کریں۔ مرکری، مرکیورک آئیوڈائیڈ، امونئے ٹیڈمرکری، امائیڈ کلورائیڈ آف مرکری، کوئک سلور، کینا باریس، مرکری سلفائیڈ وغیرہ۔ ماہرین کے مطابق پارا جلد کے راستے انسانی جسم میں آسانی سے شامل ہوجاتا ہے۔ جہاں رفتہ رفتہ یہ صحت متاثر کرنے لگتا ہے۔ لمبی مدت تک اس کے استعمال سے انسانی گردوں، دماغ اور اعصابی نظام کو نقصان پہنچ سکتا ہے۔

یہ کریمیں جلد کے سرطان کا باعث بھی بن سکتی ہیں۔ لہٰذا خواتین ہوں یا مرد دونوں کو اپنی صحت پر خدا کا شکر گزار ہونا چاہیے۔ خواتین کو اپنی بدصورتی پر مایوس ہونے کے بجائے خود میں باطنی خوب صورتی پیدا کرنے کی طرف توجہ دینی چاہیے۔lll

شیئر کیجیے
Default image
نادیہ عزیز

Leave a Reply