domestic voilence

بنتِ حوا تشدد کی زد میں کیوں؟

دانشور کہتے ہیں کہ لکھنے اور کہنے کے لیے سب سے مشکل کام بات کا سرا تلاش کرنا ہوتا ہے، اس کے بعد کوئی مشکل نہیں رہتی لیکن ہماری مشکل یہ ہے کہ دماغ سن، ہاتھ ساکت اور زبان گنگ ہے کہنے کو بہت کچھ ہے لیکن وہ سرا نہیں مل رہا جہاں سے بات آگے بڑھائی جائے۔ قلم بھی وزنی کلہاڑا بن گیا،سب کچھ لکھنے سے انکاری ہے۔ذہن میں کبھی کشمیر کی آصفہ کی تصویر گردش کرتی ہے تو کبھی حیدرآباد کی ویٹنری ڈاکٹر کی جسے عصمت دری کے بعد سرِ راہ جلادیا گیا تھا۔ کبھی متھرا کی وہ مظلوم لڑکی ذہن میں گھومنے لگتی ہے جسے چتا بھی نصیب نہ ہوئی اور جس کے ماں باپ اور گھر والے اس کا انتم سنسکار تک نہ کرسکے اور رات کے اندھیرے میں پولیس نے پیٹرول چھڑک کر اس کی چتا کو ’’موکش اگنی‘‘ دے ڈالی۔ ان تمام واقعات میں گھر، سڑکیں، عبادت گاہیں اور فیکٹریاں اور آفس تک نظر آتے ہیں۔ کس کس کا ماتم کریں۔

ہر خبر میں اندوہناک منظر سمایا ہوا ہے۔ واقعات ایسے ہیں جن سے نظریں نہیں چرائی جاسکتیں لیکن جنہیں پوری طرح بیان بھی نہیں کیا جاسکتا۔ایسا لگتاہے کہ گڈریے، بھیڑیوں کے ساتھ ملے ہوئے ہیں اور کھیت کی باڑ کھیت ہی کو کھا رہی ہے۔ یقین اور بے یقینی کی کیفیت میں دل و دماغ پر ایک ہی سوال ہتھوڑے برسا رہا ہے، کیا ہم بہ حیثیت قوم انسانیت کے کم سے کم معیار پر پورے اتر رہے ہیں؟

رواں سال دیش میں ایسے ایسے دل خراش واقعات ہوئے کہ دل کانپ کانپ گیا۔ خواتین سمیت پھول جیسی معصوم بچیوں کے ریپ ہی نہیں ہوئے، زیادتی کے بعد انہیں جان سے بھی مار دیا گیا اور پھر ثبوت ختم کرنے کے لیے ان کی لاشوں کو پٹرول ڈال کر جلا دیایا کچرے کے ڈھیر میں پھینک دیا۔

خواتین کے خلاف روا رکھے جانے والے تشدد اور ظلم و زیادتی کی داستان محض کسی ایک کے حوالے سے نہیں ہے،یہ تو دنیا میں آنکھ کھولتی ہیں تو خاندان میں سوگ کا سماں ہوتا ہے۔ غذا کم ہو تو سب سے کم بیٹی، بہن اور ماں کے حصے میں آتی ہے۔ انصاف اگر سب کو مکمل نہیں ملتا تو عورت کو اس سے بھی کم ملتا ہے، اگر مزدور کی بیوی ہے تو مزدور تو پسا ہوا ہے لیکن اس کی بیوی مزید پستی ہے۔

معاشرہ سوالیہ نشان بنا ہوا ہے کہ کیا جنسی دیوانگی کی کوئی لہر آئی ہوئی ہےیا معاشرہ تہذیبی زوال کا شکار ہے۔ جنسی بھیڑیئے ہر قسم کی پابندیوں سے آزاد خواتین اور بچوں پر تیزی سے حملہ آور ہورہے ہیں۔ لگ ایسا رہا ہے کہ ہمارا سماجی و معاشرتی ڈھانچا زمیں بوس ہورہا ہے۔ عدم تحفظ کا احساس بڑھ رہا ہے، جب کہ کم زور تفتیش اور عدلالتی نظام کے سقم سے فائدہ اٹھانے والے مجرموں کے دلوں سے قانون کا خوف جاتارہا ہے۔ سزا کا تصور ختم ہوچلا ہے ۔

بہ ظاہر تو ایسا لگتا ہے کہ ہمارے ہاں جنگل کا قانون لاگو ہے۔ جہاں ہوس کے پجاری درندوں کا قبضہ ہے۔ جہاں وحشتیں رقص کررہی ہیں۔ زمین ان کے کالے کرتوتوں سے لرز رہی ہے۔ فضا ان کی بھیانک آوازوں کی گونج سے سہمی ہوئی ہے اور انسانیت سسک رہی ہے۔ حکومت اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کے ہاتھ پائوں بندھے ہوئے ہیں۔ یہی نہیں بلکہ بعض جگہ تو قانون ساز اداروں کے ممبران اور حکومتیں مجرمین کے ساتھ کھڑی نظر آتی ہیں۔ پھر ان کمزوریوں کو چھپانے کے لیے نئے نئے اشوز پر قانون سازی کرکے عوام کو ’بھرم‘ میں مبتلا کیا جارہا ہے۔ لَو جہاد اور ’مسلم عورت کے تحفظ‘ کا قانون اس کی مثالیں ہیں جن سے صاف ظاہر ہوتا ہے کہ حکومتوں کو اصل مسائل سے زیادہ دلچسپی ان اشوز سے ہے جو ان کی سیاسی روٹیاں سیکنے میں معاون ہوں۔

ناقابل تصور دکھ کی تین داستانیں، تین ملکوں کی ہیں لیکن کردار دنیا بھر کی خواتین کے ہیں۔ یہ ایسی داستانیں ہیں جنہیں کبھی پوری طرح نہ سنایا جاسکے۔ دکھ، کرب، غصہ، اشتعال، بے بسی، بیزاری، ان تینوں کے لہجے میں کئی لہجے تھے۔ کبھی وہ ہتک عزت کے احساس سے کھولنے لگتیں اور کبھی بے بسی سے ہونٹ چبانے لگتیں، کبھی جھنجھلاہٹ ان کی آواز بلند کردیتی، کبھی بے چارگی چپ کرا دیتی۔ کانفرنس سیشن ختم ہونے کے بعد بھی وہ منظر سے غائب نہیں ہوئیں اور ہو بھی کیسے سکتی ہیں، یہ کردار تو ہمارے چاروں طرف بکھرے ہوئے ہیں۔

اسرائیل کی نسائی امن تنظیم ’’بیت شالم‘‘ کی نمائندہ خاتون ٹیری گرین نے مارچ 2005ء میں ایک کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہا تھا۔

’’میں ایک عورت ہونے کے ناتے یہ بات اچھی طرح جانتی ہوں کہ جس کسی کو بھی دوسرے پر برتری حاصل ہوتی ہے، وہ اس کا غلط یا ناجائز استعمال کرسکتا ہے۔ اس لئے طاقت کا استعمال کرتے ہوئے اخلاق کا قطب نما ہاتھ میں رکھنا چاہئے جس کی سوئی ہمیشہ انصاف کے رخ پر رہتی ہو۔ ہم سب عورتیں وحشت و بربریت سے نفرت کرتی ہیں۔ تشدد، ناانصافی، صنفی تفریق کو جڑ سے ختم کردینا چاہتی ہیں۔ ایک طویل عرصے تک عورت کو صرف مظلوم اور متاثرہ فرد کے طور پر دیکھا جاتا رہا ہے، گرچہ آج بھی بہت سے ممالک میں ایسے ہی نظر آرہا ہے لیکن اب ہمیں اپنے اردگرد کی دنیا کو خود بدلنا ہوگا، اپنے پر ہونے والے ظلم و زیادتی پر آواز بلند کرنا ہوگی۔ اب وقت آگیا ہے کہ عورتوں پر تشدد کرنے والوں کو عبرتناک سزائیں دی جائیں تاکہ آئندہ کسی کو بھی عورت پر ہاتھ اٹھانے، میلی نظروں سے دیکھنے کی ہمت نہ ہو۔ ‘‘

انسانی حقوق کی تنظیمیں اسے عالمی سطح پر دیکھتی اور احتجاج کرتی ہیں۔ دل دوز واقعات ہوں گے تو دنیا میں دہائی تو مچے گی، لیکن سوال یہ ہے کہ صدیاں گزر جانے کے بعد بھی بنتِ حوا کے بدن پر انصاف کا لبادہ نہیں ہے۔ آج اکیسویں صدی میں بھی عورت کے چیخ و پکار اور مظلومیت کی داستانیں عالمی سطح پرسنی جارہی ہیں، لیکن کب تک سنیں جائیں گی، کب تک وہ صرف اعلان ناموں سے خوش ہوتی رہیں گی؟

جب کہ ان کے ساتھ نا انصافی کا احساس اقوام عالم کو برسوں پہلے ہوچکا تھا۔ اقوام متحدہ نے 1979ء میں پہلی مرتبہ خواتین کے ساتھ نا انصافی کا نوٹس لیتے ہوئے خصوصی اجلاس بلایا، جس میں تمام ممالک نے اقوام متحدہ کے جھنڈے تلے جمع ہوکر ’’ویمن کنونشن‘‘ منظور کیا، بعد ازاں 20 دسمبر 1999ء کو اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی خواتین کے خلاف امتیازی قوانین، تشدد اور صنفی رویے کے خاتمے سے متعلق قرار داد بیش تر ممالک نے متفقہ طور پر منظور کی تھی۔

آج اس قرار داد کو منظور ہوئے 20 سال ہونے کو ہیں، لیکن آج بھی اکثر ممالک میں خواتین بہمانہ تشدد و زیادتی سے دوچار ہیں۔ ان پر ظلم و زیادتی کرنے والے ہاتھوں میں مسلسل اضافہ ہی ہو رہا ہے۔ اس اضافے کی بنیادی وجہ تو یہی نظر آرہی ہے کہ ذمے دار افراد کو قانون کے کٹہرے میں نہیں لایا جاتا۔ اکثر ایسی شہادتوں کو بھی چھپایا جاتا ہے، جن کے باعث تشدد کرنے والوں پر مقدمہ چلا کر سزا سنائی جاسکتی ہو۔

ضرورت اس وقت یہ ہے کہ قانونی کی بے لچک اور بلاامتیاز حکم رانی اور منفی ذہنیت کو بدلنے کے لئے مثبت شعوری کاوشیں کی جائیں۔ اگر کچھ کو تو تادیبی سزا ملے اور دیگر اثر و رسوخ والے جھوٹ جائیں تو اسے قانون کی حکم رانی نہیں کہا جاسکتا۔

نیشنل کرائم ریکارڈ بیورو کی رپورٹ کے مطابق ملک کے طول و عرض میں ہر ایک گھنٹے سترہ منٹ کے بعد جہیز نہ لانے کی پاداش میں نوبیاہتا کی موت کی خبر ملتی ہے یا اس پر تیزاب پھینکنے کی! جس کا تناسب تیزی سے بڑھ رہا ہے۔ رپورٹ میں اندرا گاندھی اسپتال نئی دہلی سے تعلق رکھنے والے ایک ڈاکٹر ٹی۔پی بنڈال کے حوالے سے درج ہے کہ امسال جس حالت میں تیزاب سے جھلسی، تشدد سے دوچار لب مرگ خواتین علاج کیلئے آئی ہیں، یہ ایک ریکارڈ اضافہ ہے۔ 20؍جنوری 2019ء میں تیزاب سے متاثرہ خواتین کی تعداد ایک سو پچیس تھی جن میں ستر خواتین کا چہرہ ہی نہیں آنکھیں بھی چھین لی گئی تھیں جبکہ چالیس خواتین سر تا پیر اور پندرہ خواتین کے ہاتھ، پیر مسخ تھے۔

معروف عالمی جریدے ’’سائنس جرنل‘‘ نے اپنی ایک اسٹڈی رپورٹ 2019ء میں لکھا ہے کہ ہماراملک اپنے پڑوسی ممالک کے مقابلے میں خواتین پر تشدد اور انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں میں نمبر ون ہے۔ جہاں سڑکوں، چوراہوں، گھروں، تعلیمی اداروں اور دفاتر میں پرتشدد کارروائیاں عام ہیں۔

’’نیشنل جیوگرافکس‘‘ میں شائع ایک رپورٹ کے مطابق جدید ہندوستان میں ذات پات کے مسئلے پر بھی ایک دوسرے پر تیزاب پھینکنا ایک تشویشناک بات ہے۔

خواتین کے خلاف بڑھتے تشدد اور جرائم سے ایک بات تو صاف ہے کہ حکومتیں صورت حال کو کنٹرول کرنے میں پوری طرح ناکام ہوچکی ہیں۔ تو کیا اب ہماری خواتین اسی طرح ظلم و ستم کا شکار ہوتی رہیں گی یا اس کے خلاف اٹھنے اور سیاسی و سماجی سطح پر کسی تحریک کے لیے آمادہ ہوں گی۔ کس کو اس کا احساس ہو یا نہ ہو کم از کم مسلم خواتین کو تو اس کا احساس ہونا چاہیے اور ان کی جانب سے ملک کو یہ پیغام جانا چاہیے کہ وہ ہندوستانی خواتین پر ہورہے ظلم کے خلاف آگے بڑھیں گی۔ یہ سوچ ایک طرف تو عام خواتین میں عزم و اعتماد پیدا کرے گی دوسری طرف اس ’’بھرم‘‘ کو بھی توڑنے کا ذریعہ بنے گی کہ مسلم خواتین کو ان کا پردہ گھروں میں قید اور سماجی اور معاشرتی اعتبار سے بے کار بنارہا ہے۔

شیئر کیجیے
Default image
مومنہ انصاری (مالیگاؤں)

تبصرہ کیجیے