سخن دل نواز – داعی کا رخت سفر

بندہ کوئی بات کہتا ہے تاکہ مجلس کو ہنسائے حالاںکہ اس کی وجہ سے وہ آسمان و زمین کے درمیان بعید ترین علاقہ میں پھینک دیا جاتا ہے۔ آدمی کے قدموں سے جو لغزش ہوتی ہے وہ زبان کی لغرش کی خطرناکیوںسے کہین کم ہوتی ہے۔‘‘ (بیہقی)

پاکیزہ اور عمدہ گفتگو دوستوں اور دشمنوں سب پر اثر انداز ہوتی ہے اور اس کے میٹھے پھل ظاہر ہوتے ہیں۔ دوستوں کے درمیان محبت کی حفاظت کرتی ہے۔ ان کی دوستی کو مستحکم و پائیدا رکرتی ہے اور شیطان کی تمام چالوں کو ناکام بنا دیتی ہے کہ وہ ان کے رشتے کمزور کرسکے او ران کے درمیان فساد و عداوت ڈال سکے۔

’’اور اے نبیؐ! میرے بندوں سے کہہ دو کہ زبان سے وہ بات نکالا کریں جو بہترین ہو دراصل یہ شیطان ہے جو انسانوں کے درمیان فساد ڈلوانے کی کوشش کرتا ہے، حقیقت یہ ہے کہ شیطان انسان کا کھلا دشمن ہے۔‘‘ (بنی اسرائیل:۳۵)

دشمنوں کے ساتھ دل نواز گفتگو کیجئے تو ان کی دشمنی کی آگ بجھ جاتی ہے اور غصہ ٹھنڈا پڑ جاتا ہے یا کم از کم دشمنی اور شر انگیزی کے اسلوب میں نمایاں فرق ہو جاتا ہے۔ ’’اور نیکی اور بدی یکساں نہیں ہیں۔ تم بدی کو اس نیکی سے دفع کرو جو بہترین ہو۔ تم دیکھوگے جس کے ساتھ تمہاری عداوت پڑی ہوئی تھی وہ جگری دوست بن گیا ہے۔‘‘ (حم السجدۃ:۴۲)

عمدہ گفتگو ایک ایسی خصلت ہے جو نیکیوں اور فضائل میں شمار ہوتی ہے اور اس کو اختیار کرنے والا اللہ کی خوشنودی کا مستحق ٹھہرتا ہے اور اس کے لیے ہمیشگی کی نعمت لکھ دی جاتی ہے۔

اللہ تعالیٰ نے ہمیں حکم دیا ہے کہ ہم دوسرے مذاہب کے پیروکاروں سے بحث کریں تو شریفانہ اور سنجیدہ اندازِ بحث کو ملحوظ رکھیں۔ اس میں شدت ہو نہ غیض و غضب، البتہ جو ہمارے اوپر ظلم کریں تو ان کی سرکشی کو توڑنا اور ان کے ظلم و عدوان کو روکنا ضروری ہے۔

’’اور اہل کتاب سے بحث نہ کرو مگر عمدہ طریقے سے سوائے ان لوگوں کے جو ان میں ظالم ہوں۔‘‘ (عنکبوت:۶۴)

جوابِ جاہلاں باشد خموشی

کچھ لوگ زندگی بھر ترش رو، تند مزاج اور فحش گو رہتے ہیں۔ ان کا ایمان و یقین ان برائیوں پر ذرہ برابر نہیں کڑھتا نہ ان کا اخلاق اس پر انہیں ملامت کرتا ہے۔ دوسروں سے ایسی باتیں کہنے میں انہیں کوئی باک نہیں ہوتا جو انہیں ناپسند ہوں، جب انہیں اپنی بدخو طبیعت کی جولانی دکھانے کے لیے کوئی میدان میسر آجاتا ہے تو وہ بگٹٹ گھوڑے کی طرح فحش اور بے ہودہ باتوں کی طرف دوڑ پڑتے ہیں۔ کوئی چیخ ان کو متاثر نہیں کرتی نہ کوئی آواز انہیں متنبہ ہونے دیتی ہے۔

ایسے لوگوں کے ساتھ ایک شریف آدمی کا رویہ یہ ہونا چاہیے کہ وہ ان کی باتوں میں نہ الجھے اس لیے کہ ان کی طبیعت کو ابھارنے سے فساد کبیر ہو جاتا ہے اور اس وسیلہ کو روکنا ضروری ہے۔ اسی لیے اسلام نے حکم دیا ہے کہ بے وقوفوں اور کم عقلوں سے بچ کر نکل جاؤ۔

ایک بار انہی جاہلوں میں سے ایک جاہل رسول اللہؐ کے گھر کے سامنے اندر جانے کے لیے کھڑا ہوا تو رسول اکرمﷺ نے اس کے ساتھ حسن معاملہ کیا یہاں تک کہ اسے واپس کر دیا۔ اور اس کے علاوہ کوئی اور راستہ بھی نہ تھا اس لیے کہ حلم و برد باری ہی جاہل و بے وقوف کے منہ کو بند کرنے کا کپڑا ہے۔ اگر آپﷺ اسے چھوڑ دیتے کہ جو کچھ اس کی سخت و احمق طبیعت میں ہے اسے انڈیل دے تو آپؐ کو وہ تمام باتیں سننی پڑتیں جن سے آپ کے دونوں کان محفوظ رہے۔

عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ ایک آدمی نے اللہ کے رسولؐ سے اندر آنے کی اجازت چاہی تو آپؐ نے کہا: ’’اپنے خاندان کا کیا ہی برا شخص ہے یہ۔‘‘ جب وہ اندر آیا تو کھل اٹھے اور اس سے بڑی نرمی سے بات کی اس کے واپس چلے جانے کے بعد میں نے پوچھا: ’’اے اللہ کے رسول! آپ نے اس آدمی کو اس طرح کی باتیں کہتے ہوئے سنا پھر بھی آپؐ کے چہرے پر کوئی شکن نہ آئی بلکہ اس سے خوش روئی سے ملے؟‘‘ تو آپؐ نے فرمایا: اے عائشہ! تم نے مجھے کب فحش گو پایا ہے؟ قیامت کے دن سب سے بدتر آدمی اللہ کے نزدیک وہ شخص ہوگا جس سے لوگوں نے اس کے فحش سے بچنے کے لیے ملنا جلنا چھوڑ دیا ہو۔‘‘ (بخاری)

یہ ایک ایسا مسلک ہے جس کی صداقت کی گواہی خود تجربات دیتے ہیں، اس لیے کہ کسی آدمی کے لیے یہ کیسے مناسب ہوسکتا ہے کہ وہ کسی بداخلاق کے ساتھ خود اپنا اخلاق گنوا دے؟ اگر وہ ہر جاہل و بے وقوف آدمی کو ادب سکھانے میں لگ جائے گا تو اس کی اپنی جان کے لالے پڑ جائیں گے۔ اسی لیے قرآن کریم نے رحمن کے بندوں کی صفات گناتے ہوئے اس رواداری کا سب سے پہلے تذکرہ کیا ہے۔

’’رحمن کے بندے وہ ہیں جو زمین پر نرم چال چلتے ہیں اور جاہل ان کے منہ آئیں تو کہہ دیتے ہیں کہ تم کو سلام۔‘‘

انسان ایک بار دو بار غصہ پی جاتا ہے لیکن پھر پھٹ پڑتا ہے۔ لیکن ایک بااخلاق مسلمان سے اسلام کا مطالبہ یہ ہے کہ وہ اس سے کہیں زیادہ تکلیفوں کو برداشت کرے تاکہ آخر کار شر کو اپنے موقف پر جمنے کا موقع نہ مل سکے۔

سعیدؓ بن مسیب کہتے ہیں کہ اس اثنا میں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اپنے ساتھیوں کے درمیان بیٹھے ہوئے تھے، ایک آدمی نے ابوبکرؓ کو برا بھلا کہا اور انہیں دل آزار بات کہہ دی لیکن ابو بکرؓ خاموش رہے اس نے پھر دوبارہ انہیں تکلیف دہ بات کہی ابوبکرؓ پھر خاموش رہے پھر تیسری بار جب اس نے انہیں تکلیف پہنچائی تو انہوں نے اس کا جواب دینے کی کوشش کی۔ اللہ کے رسول اٹھ کھڑے ہوگئے۔ ابوبکرؓ نے سوال کیا: کیا آپ مجھ پر ناراض ہوگئے ہیں اے اللہ کے رسول! آپؐ نے فرمایا نہیں، بلکہ آسمان سے ایک فرشتہ نازل ہوا تھا جو اس کی باتوں کو جھٹلا رہا تھا لیکن جب تم نے جواب دینا شروع کیا تو فرشتہ چلا گیا اور شیطان بیٹھ گیا اور میں وہاں نہیں بیٹھ سکتا جہاں شیطان بیٹھا ہو۔‘‘ (ابوداؤد)

سفہا او رکم عقل لوگوں کی تعظیم کرنے کا یہ مطلب ہرگز نہیں ہے کہ ان کی پست اور سطحی حرکتوں کو بھی تسلیم کرلیا جائے، ان دونوں صورتوں میں بڑا عظیم فرق ہے۔

پہلی چیز کا مطلب یہ ہے کہ جہالت و سفاہت کے سامنے آدمی اپنے نفس پر قابو رکھے اور اسے اس بات کا موقع نہ دے کہ وہ اصل فطرت جو غصہ و غضب کی حامل ہے، کو ظاہر کر سکے اور انتقام لینے پر تل جائے۔

جب کہ دوسرا پہلو بالکل ہی مخالف مفہوم رکھتا ہے۔ اس میں نفس کو حماقت اور ذلت و رسوائی کے حوالے کرنا ہے او ران پست چیزوں کو قبول کرنا ہے جنہیں کوئی عاقل و شریف آدمی قبول کرنے پر آمادہ نہیں ہوسکتا۔

مناظرہ بازی سے اجتناب

بے بنیاد باتوں اور واہی تباہی چیزوں سے زبان کو محفوظ رکھنے کے لیے اسلام نے جو احکامات جاری کیے ہیں ان میں ایک مناظرہ بازی کو حرام قرار دینا اور اس کے دروازے بند کردینا ہے چاہے وہ مناظرہ صحیح ہو یا غلط ہو۔

اس لیے کہ یہاں کچھ ایسے حالات پیدا ہوجاتے ہیں کہ آدمی اپنی بات منوانے اور غلبہ حاصل کرنے کی فکر میں مبتلا ہو جاتا ہے وہ مخاطب کو اپنی باتوں سے چت کرنے کی کوشش کرتا ہے۔ اس لیے ان شکوک و شبہات کا بھی سہارا لیتا ہے، جو اس کے پہلو کو طاقتور بناتے ہوں اور ان عبارتوں کو بے دھڑک نقل کرتا ہے جو اس کی دلیل کے حق میں ہوں۔ چناں چہ اس محفل میں لوگوں کے نزدیک اظہارِ حق سے زیادہ غلبہ کی محبت اہمیت رکھتی ہے اور عناد و فساد کو مختلف شکلوں میں سر ابھارنے کا موقع ملتا ہے جن میں وضاحت یا طمانیت کی کوئی گنجائش نہیں رہ جاتی۔

اسلام ان تمام حالتوں سے نفرت کرتا ہے اور انہیں دین و اخلاق کے لیے خطرہ تصور کرتا ہے۔

اللہ کے رسولؐ نے فرمایا: جس نے لغو اور باطل چیزوں میں مناظرہ کرنا چھوڑ دیا اس کے لیے جنت کے نچلے خانہ میں ایک گھر بنایا جائے گا اور جس نے حق کے معاملہ میں بھی مناظرہ بازی ترک کردی اس کے لیے وسط میں ایک گھر بنایا جائے گا اور جس نے اپنا اخلاق درست کرلیا اس کے لیے جنت کی بالائی منزل میں گھر بنایا جائے گا۔‘‘ (ابوداؤد)

کچھ افراد ایسے ہیں جنہیں اللہ نے زبان و بیان کی طاقت اور اس میں مہارت دے رکھی ہے یہ چیز انہیں عالم و جاہل ہر شخص کو مشتبہ کرنے پر ابھارتی ہے اور گفتگو کو ان کی ایسی شہوت بنا دیتی ہے جو ہر وقت ان پر چھائی رہتی ہے چناں چہ وہ اپنی اس شہوت کی تکمیل سے بے موقع کبھی نہیں تھکتے۔ یہ گروہ جب اپنی تیزی و فصاحت کا استعمال لوگوں پر کرتا ہے تو ان کا دل دکھاتا ہے اور جب دینی حقائق کے معاملہ میں اس صفت کا استعمال ہوتا ہے تو اس کا جلال و جمال اور اس کی ہیبت و دل پذیری رخصت ہو جاتی ہے۔

حلق پھاڑ کر واہی تباہی بکنے والے اس گروہ پر اسلام سخت ناراض ہوتا ہے اور انہیں سخت دھمکیاں سناتا ہے۔ نبیؐ نے فرمایا ’’اللہ کے نزدیک سب سے زیادہ قابل نفرت جھگڑا لو مناظرہ باز ہیں۔‘‘ (بخاری)

ایک دوسری حدیٹ میں ہے ہدایت کے بعد کوئی قوم گمراہ نہیں ہوئی اور اس راستہ سے نہ ہٹی جس پر وہ گام زن تھی البتہ مناظرہ بازوں نے اسے راہ راست سے ہٹا دیا۔‘‘ (ترمذی)

یہ گروہ اپنی زبان کی تیزی کی وجہ سے کسی حد پر نہیں ٹھہرتا، بس بات ہی کیے چلا جاتا ہے، لوگوں پر فخر جتاتا اور اتراتا ہے۔ اس کے نزدیک الفاظ کی حیثیت اولین اہمیت کی حامل ہے۔ معانی دوسرے درجہ میں آتے ہیں، رہا عظیم و پاکیزہ مقصد تو بسا اوقات اسے بالکل آخری درجہ میں جگہ ملتی ہے بلکہ اکثر و بیشتر اس چیخ و پکار میں اسے جگہ ہی نہیں مل پاتی۔

ایک روایت میں آتا ہے کہ اسی طرح کا ایک دھوکہ باز شخص خوب صورت لباس زیب تن کیے رسولِ اکرمؐ کی خدمت میں آیا اور دوران گفتگو اس نے اپنی آواز نبیؐ کی آواز سے اونچی کرنے کی کوشش کی اور آپؐ سے بلند گفتگو کی ٹھانی۔ جب وہ واپس ہوگیا تو اللہ کے رسولؐ نے فرمایا:

’’اللہ تعالیٰ اس طرح کے افراد کو بالکل پسند نہیں کرتا۔ یہ اپنی زبان اسی طرح چلاتے ہیں جیسے گائے چارہ کھانے کے بعد جگالی کرتی ہے۔ اسی طرح قیامت کے دن اللہ تعالیٰ ان کی زبانوں اور چہروں کو جہنم کی آگ میں مروڑ دے گا۔‘‘ (طبرانی)

دین و سیاست اور علم و آداب میں مناظرہ بازی کے لیے جب اس طرح کے نام نہاد قبیح و بلیغ ادباء آگے آتے ہیں تو دین کی روح بگڑ جاتی ہے۔ سیاست اور علوم و فنون کا چہرہ مسخ ہو جاتا ہے اور شاید تہذیبی و تمدنی انحطاط، فقہی گروہ بندی، جماعتی و فرقی دھڑے بندی اور ان تمام بیماریوں کی اصل وجہ جو امت اسلامیہ کو لاحق ہوئیں۔ دینی حقائق اور زندگی کے دوسرے معاملات میں یہی مردودو ملعون مناظرہ بازی تھی۔

مناظرہ بازی صاف و پاکیزہ بحث اور سنجیدہ و خوش گوار استدلال سے کہیں دور جا پڑی ہے۔

متعدد صحابہؓ کی روای تھے کہ ایک بار ہم لوگ دین کے کسی معاملہ میں بحث و مباحثہ کر رہے تھے کہ اللہ کے رسولؐ آ پہنچے۔ یہ دیکھ کر آپ شدید غضب ناک ہوئے۔ اس سے پہلے یہ غضب ناکی دیکھنے میں نہ آئی تھی پھر ہمیں ڈانٹا اور فرمایا: ’’ٹھہرو اے امت محمدؐ تم سے پہلے کی قوموں کو اسی چیز نے ہلاک کیا ہے، یہ مناظرہ بازی چھوڑ دو اس میں خیر کا عنصر بہت کم ہے۔ یہ بحث ومباحثہ ترک کردو کہ یہ مومن کی صفت نہیں ہے۔ اس بحث و جدال سے پرہیز کرو کہ اس میں مبتلا ہونے والے کا خسران مکمل ہو جاتا ہے۔ یہ مناظرہ چھوڑ دو، تمہارے گناہ گار ہونے کے لیے یہ کافی ہے کہ تم مناظرہ باز ہوجاؤ۔ یہ مناظرہ بازی چھوڑ دو کہ مناظرہ باز کا قیامت کے دن کوئی شفیع نہ ہوگا۔ اس قبیح خصلت سے دامن جھاڑ لو کہ میں جنت میں تین ہی قسم کے گھروں کی رہ نمائی کروں گا۔ اس کی نچلی منزل کی، درمیانی منزل کی اور بالائی منزل کی جو اس شخص کے لیے ہوگی جس نے نیک نیتی اور سچائی سے مناظرہ بازی چھوڑ دی ہوگی۔ اس بری عادت سے دست کش ہوجاؤ کیوں کہ میرے رب نے بتوں کی پرستش کے بعد جس چیز سے سب سے پہلے منع کیا وہ یہی مناظرہ بازی ہے۔‘‘ (طبرانی) lll

شیئر کیجیے
Default image
علامہ محمد الغزلی

Leave a Reply