لڑکیوں کے حوالے سے سرپرستوں کی ذمہ داریاں

نبی کریم ﷺ کے ارشاد:’’سنو تم میں سے ہر ایک ذمہ دار ہے اور ہر ایک شخص اپنی رعیت (زیر سرپرستی و ذمہ داری) کے بارے میں مسئول ہے۔‘‘ کے مطابق ہر شخص کو ذمہ داری دی گئی ہے کہ وہ اپنے زیر دست و کفالت افراد کی اخلاقی، معاشی و معاشرتی سرگرمیوں اور ضروریات پرنظر رکھے اور انہیں کنٹرول کرے اور جس چیز کی ضرورت ہے فراہم کرے اور جو چیز ان کے اخلاق کردار اور معاشرت کو کمزور کرسکتی ہو اسے دور کرے، لہٰذا ایسے شخص کو مسئول قرار دیا گیا ہے۔

چناں چہ مسئولیت کا تقاضا یہ ہے کہ وہ اپنی تمام تر ذمہ داریوں کو پورا کرے اور تعلیم و تربیت اور اخلاق کے حوالے سے ان پر اپنا کنٹرول رکھے اور وہ تمام باتیں انہیں سکھائے جو اخلاقی سربلندی کی طرف لے جائیں اور انہیں ایسی باتوں سے خبر دار کرے جو اخلاقی پستیوں کی جانب لے جائیں اور روک ٹوک ڈانٹ ڈپٹ بھی کرتا رہے۔ لہٰذا اپنے بچوں اور چھوٹے بہن بھائیوں خصوصاً بچیوں کو خاص طور سے اخلاقی قدروں سے روشناس رکھے اور انہیں بچپن ہی سے اخلاقی قدروں کے دائرے میں رکھ کر ان کی عادت ڈالے اور غلط باتوں پر ٹوکا کرے اور بری اور مخرب اخلاق چیزوں اور باتوں سے انہیں دور رکھے۔

اسی طرح بچے خصوصاً بچیاں جب بڑی ہونے لگیں تو انہیں عام اختلاط سے بچائیں نامحرم لڑکوں اور لڑکیوں کو تنہا نہ ہونے دیں ان کے ساتھ اکیلے میں بیٹھنے، راز و نیاز کی باتیں کرنے یا ٹی وی وغیرہ ساتھ نہ دیکھنے دیں بلکہ کوششیں یہ کریں کہ یہ لعنت گھروں سے نکل جائے اور بچے خود ہی اس برے پروگراموں سے احتراز کرنے لگیں۔

ان کے رابطوں کا خیال کریں، ان کے دوستوں اور بچیوں کی سہیلیوں کا دھیان رکھیں کہ کہیں کوئی سہیلی کسی دوسری سہیلی کو غلط راستہ تو نہیں دکھا رہی۔ لڑکوں اور ان سے میل جول کی باتیں تو نہیں کر ہی ہیں۔ ماؤں اور بڑی بہنوں کو چاہیے کہ وہ آزدانہ میل جول اور غیر جنس سے دوستی کے پیش آئندہ نقصانات اور خدشات سے انہیں آگاہ کریں۔

تہمت اور بدگمانی کی جگہوں سے بچائیں

شک والی جگہوں اور حالات میں پڑنے، جانے اور کھڑے ہونے، بیٹھنے سے بچائیں یعنی انہیں تہمت اور بدگمانی والی جگہوں پر جانے اور ایسے کام کرنے سے منع کریں جن سے بدگمانی پیدا ہو۔ ضروری ہے کہ معاشرتی شعور بیدا رکیا جائے کہ وہ سمجھ سکیں کہ کہاں جانا مناسب یا غیر مناسب ہے۔

لڑکیاں بہت نازک ہوتی ہیں انہیں شیطان کے بچھائے ہوئے اس جال سے بچانا ضروری ہے کیوں کہ معمولی سا خدشہ بھی ان کے لیے وبال بن جاتا ہے۔ ماؤں کو چاہیے کہ وہ بیٹے بیٹیوں پر کڑی نظر رکھیں تاکہ بعد میں پریشانی نہ ہو۔ بچپن سے اچھی تربیت کریں تاکہ بعد میں زیادہ پریشان نہ ہونا پڑے۔

بچپن میں میک اب اور شوخ کپڑوں سے بچائیں

بچیوں کو بچپن میں میک اپ غیر ضروری بناؤ سنگار سے دور رکھیں۔ اسلام کا نظریہ بناؤ سنگار کے بارے میں بتائیں اور آگاہ کریں کہ غیر مرد کے لیے بننا سنورنا شرعی مزاج کے خلاف ہے۔ البتہ گھر داری اور صفائی ستھرائی کی تربیت دیں۔ اور بڑے ہونے کے ساتھ ساتھ سماجی و معاشرتی زندگیوں کی اونچ نیچ سے آگاہ کریں۔

تعلیم و تربیت کا دھیان

ان کی تعلیم تربیت کا دھیان رکھیں۔ زیادہ توجہ ان کی تعلیم پر مرکوز کرائیے کیوں تعلیم کا ہر سال ان کے لیے اہم ہے اگر توجہ نہ دے سکے تو کمزور رہ جائیں گے اور تعلیم کا خاطر خواہ فائدہ نہیں اٹھا پائیں گے، وقتاً فوقتاً امتحان لیتے رہئے۔

اپنے گھر کا ماحول تعلیم و تربیت کا بنائیں اور اسلامی ماحول پیش کریں۔ فضولیات سے خود نفرت کریں اور بچوں کو بھی دلائیں۔ بیٹیوں کو بھی سادگی، علم اور دین کی تعلیمات اور اعمال کا دلدادہ بنائیں۔

جس گھر میں اسلامی تعلیمات اور کلچر کو فوقیت دی جاتی ہو، بچے بچیاں تعلیم حاصل کر رہے ہوں اور واقعی صحیح طریقے سے پڑھ لکھ رہے ہوں پڑھنے کا حق ادا کر رہے ہوں تو انہیں فضول کام کرنے، بننے ٹھننے، گھومنے پھرنے، فضول انٹرنیٹ چیٹنگ اور واہیات کیبل اور ڈش پر پروگرام دیکھنے کی فرصت نہ ملے گی۔

لہٰذا بچے بچیوں کو تعلیم دلائیے اور تعلیم کا دل دادہ بنائیے، ماحول دینی اور نماز روزے کا پابند بنائیے دیکھئے معاشرے میں آپ کے بچے بچیاں خود تبدیلی کا باعث بنیں گے۔

ایک تعلیم یافتہ اور تربیت یافتہ لڑکی آئندہ نسلوں کو بھی تعلیم یافتہ اور مہذب بنانے کی ضمانت ہے۔ اگر ہم اپنی بچیوں کو ادب، سلیقہ اور تعلیم نہیں دیں گے تو سماج میں مستقبل میں بھی اچھے افراد پیدا نہ ہوسکیں گے۔ اس لیے ضروری ہے کہ بچیوں کی صحیح تعلیم و تربیت کر کے انہیں سماج میں ایک مصلح اور معاشرے میں خیر کا داعی بنائیں۔lll

شیئر کیجیے
Default image
محمد ثناء اللہ قاسمی

Leave a Reply