گھر میں طبی امداد

اچانک چوٹ لگ جائے یا کوئی حادثہ پیش آجائے، تو ابتدائی طبی امداد اس تکلیف یا نقصان کو کم کرنے میں معاون ثابت ہوتی ہے، یہاں تک کہ بعض اوقات ابتدائی طبی امداد متاثرہ شخص کی جان بچانے میں بھی کارگر ثابت ہوتی ہے۔ یہ صورت حال کبھی بھی پیش آسکتی ہے، جس کے بعد حواس بحال رکھ کر ہنگامی اقدام کرنا ہوتا ہے۔ اس لیے خواتین کو بھی اس سے متعلق بنیادی معلومات ہونا ضروری ہیں۔

عموماً گھر میں بچوں کو کھیل کود کے دوران چوٹ لگ جاتی ہے۔ باورچی خانے میں مصروف خواتین کے ساتھ بعض کوئی ایسی صورت حال پیش آجاتی ہے، جس میں فوری ابتدائی طبی امداد کی ضرورت ہوتی ہے۔ ابتدائی طبی امداد کے ضمن میں فرسٹ ایڈ باکس ہونا بے حد ضروری ہے اور ابتدائی طبی امداد فراہم کرنے کے لیے بنیادی معلومات کا ہونا بھی بے حد اہم ہے۔ عموماً خواتین کی لاعلمی کے باعث بروقت ابتدائی طبی امداد مہیا نہیں کی جاتی، جس کی بنا پر متاثرہ فرد کی حالت اسپتال پہنچنے تک مزید خراب ہو جاتی ہے اور اکثر صحت کے پیچیدہ مسائل کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔

خدانخواستہ باورچی خانے میں آگ بھڑک جانے کی صورت میں پہلی کوشش اسے بجھانا اور بڑھنے سے روکنا ہونی چاہیے۔ اس کے لیے فائر بلینکٹ (Fire Blanket) آگ پر ڈال دیا جاتا ہے، تاکہ اسے بجھایا جا سکے۔ جل جانے کی صورت میں جھلسے ہوئے زخم پر پانی کا استعمال مفید ثابت ہوتا ہے۔ اس سے نہ صرف مریض کی تکلیف میں کمی آتی ہے، بلکہ نقصان بھی کم سے کم ہوتا ہے۔

اکثر کھانا پکانے کے دوران جلد یا ہاتھ جل جانے یا جھلس جانے پر بھی پانی ڈالیں۔ پانی کا استعمال جلد کی اندرونی سطح پر موجود خلیات کو مزید نقصان پہنچنے سے محفوظ رکھتا ہے، لہٰذا فوری طور پر پانی کا استعمال کرنا چاہیے۔

جھلس جانے یا شدید سینک سے اگر دل، دماغ یا پھیپھڑوں وغیرہ کے افعال متاثر ہوں تو مریض کی زندگی کو زیادہ خطرات ہوتے ہیں۔ اگر پانی کا استعمال کیا جائے، تو تپش کم ہوتی چلی جائے گی اور زخم اور جلن دونوں کو افاقہ ہوگا۔ اس کے علاوہ زمین پر لوٹیاں لگانے یا لوٹنے سے بھی آگ بجھنے میں مدد ملتی ہے۔

گھر میں ایسی تمام اشیا جن سے بچوں کو نقصان پہنچنے کا خطرہ ہو محفوظ مقام پر رکھیں۔ باورچی خانے میں کام کے دوران دروازے پر کوئی ایسی رکاوٹ رکھ دیں یا دروازے میں ایک چھوٹا لکڑی کا تختہ اٹکا دیں تاکہ بچے باورچی خانے کے اندر داخل نہ ہو سکیں۔ اس کے باوجود اگر خدانخواستہ بچے کوئی گرم سالن یا گرم پانی وغیرہ خود پر گرا لیتے ہیں، تو فوراً ٹھنڈے پانی سے دھولیں اور مزید ٹھنڈا پانی ڈالتی رہیں، تاکہ بچوں کی جلد کی اندرونی سطح کسی نقصان سے محفوظ رہ سکے۔

اسی طرح خدانخواستہ اگر کھیل کے دوران کوئی ہڈی ٹوٹ جاتی ہے، تو بہت احتیاط کیجیے تاکہ مزید نقصان سے بچا جا سکے۔ مثلاً اگر ہاتھ کی ہڈی ٹوٹ گئی ہو اور ہاتھ ڈھلک جائے، تو ہاتھ کی ہڈی کو اسی طرح جوڑ کر کسی لکڑی کے ٹکڑے یا بڑے اسکیل کو رکھ کر بینڈیج یا کپڑے کو لپیٹ دیں، تاکہ اسپتال پہنچنے تک ہڈی بالکل علیحدہ ہونے سے بچ جائے۔ اس ضمن میں یہ احتیاط رہے کہ آپ ہڈی جوڑنے کی کوشش نہ کریں، بلکہ صرف اسی پوزیشن میں رکھیں۔

اکثر بچے یا بڑے چھری سے کچھ کاٹنے کے دوران بھی ہاتھ زخمی کر لیتے ہیں۔ اگر ہاتھ یا انگلی میں کٹ لگ جائے اور خون مسلسل بہہ رہا ہو تو سب سے پہلے اس جگہ کو دوسرے ہاتھ کے انگوٹھے سے یا ہاتھ سے دبائیں اور تقریباً دس منٹ تک دبائے رکھیں۔ خون بہنا بند ہو جائے گا۔

ابتدائی طبی امداد کے ضمن میں فرسٹ ایڈ باکس بے حد اہم ہے۔ تھوڑی سی سوچ بچار اور منصوبہ بندی اور ڈاکٹر کے مشورے سے آپ اپنی ضروریات کے مطابق فرسٹ ایڈ باکس بنا سکتی ہیں۔ ضرورت، موقع محل اور جگہ کی مناسبت سے فرسٹ ایڈ باکس میں تبدیلی کی جاتی ہے۔ مثال کے طور پر دفتر یا گاڑی میں رکھے جانے والا فرسٹ ایڈ باکس مختلف ہو گا۔ ملازمت پیشہ اور ڈرائیونگ کرنے والی خواتین کو اپنے دفتر اور گاڑی کے لیے بھی فرسٹ ایڈ باکس رکھنا چاہیے۔

عموماً گھروں میں فرسٹ ایڈ باکس میں زخم پر لگانے والی ادویات خون کے بہاؤ کو روک کر زخم کو جلد مندمل کرنے میں مددگار ثابت ہوتی ہیں۔ اس کے علاوہ روئی، بینڈیج، قینچی، جلے ہوئے زخم پر لگانے والی مرہم، وغیرہ چاہئیں۔ اسی طرح اپنی گاڑی میں کسی بھی ہنگامی صورت حال سے نمٹنے کے لیے ایک بستہ یا ڈبے میں درج بالا تمام اشیا کے علاوہ ٹارچ، لکڑی کی اسٹک وغیرہ ضرور شامل کرنی چاہیے۔

فرسٹ ایڈ باکس ہمیشہ منظم رکھنا چاہیے۔ اس کی ایک جگہ مقرر ہونی چاہیے۔ ایسی جگہ رکھا جائے، جہاں گھر میں موجود ہر شخص کی اس تک رسائی ہو۔ اس ڈبے کو بہت زیادہ اشیا یا دواؤں سے نہ بھریں۔ فرسٹ ایڈ باکس کا مقصد کسی بھی ہنگامی صورت حال میں اسپتال یا ڈاکٹر تک پہنچنے سے قبل ابتدائی طبی امداد مہیا کرنا ہوتا ہے۔ اس کی مدد اور ابتدائی طبی امداد کے متعلق بنیادی معلومات ہونے کی صورت میں آپ گھروں میں خواتین یا بچوں کے ساتھ پیش آنے والے چھوٹے موٹے حادثات میں ان کی بہتر دیکھ بھال کر سکتی ہیں۔

فرسٹ ایڈ باکس میں دوائیں عموماً شامل نہیں ہوتیں۔ کسی بھی قسم کی دوا کا استعمال ڈاکٹر کے مشورے کے بغیر نہ کریں۔ کسی بھی مرض مثلاً بلند فشار خون، ذیابیطس، امراض قلب وغیرہ وغیرہ کے مریض اپنے ڈاکٹر کے مشورے سے اپنا فرسٹ ایڈ باکس تشکیل دیں۔

کسی بھی معاشرے میں ابتدائی طبی امداد کی اہمیت سے انکار نہیں کیا جا سکتا۔ بالخصوص خواتین کو بھی اس کی ضرورت سے روشناس کرایا جائے اور ذرائع اِبلاغ کے ذریعے اس کی اہمیت کو اجاگر کیا جائے۔ مختلف تربیتی نشست اور پروگراموں کے ذریعے اس کی اہمیت بتائی جائے اور لوگوں میں اس کا شعور پیدا کیا جائے۔lll

شیئر کیجیے
Default image
ڈاکٹر نسرین جمال

Leave a Reply