اسکول کیسے سکھاتا ہے؟

بچہ چار سال کے بعد جب اسکول میں داخل ہوتا ہے تو سیکھنے کا ایک نیا پیٹرن اس کا منتظر ہوتا ہے۔ بالکل نیا اور الگ۔ بچہ اس کو جانتا ہے اور نہ ہی وہ اس کی شخصیت سے تال میل کھاتا ہے۔ اسکول کے پیٹرن کو دیکھ کر لگتا ہے کہ اسکول بچے کی سیکھنے کی فطرت سے واقف ہی نہیں۔ اسے کچھ بھی پتا نہیں کہ بچے کا ذہن کس طرح کام کرتا ہے۔ اس کے سیکھنے کا اسلوب کیا ہے۔ وہ سیکھنے کا عمل کس طرح شروع کرتا ہے اور کیسے اسے کمال تک پہنچاتا ہے۔

سب سے پہلے اسکول کی دانش اس بات کو ماننے کے لیے تیار نہیں ہوتی کہ بچہ خود سیکھ سکتا ہے۔

اسکول کا اصرار ہے کہ بچہ بہت چھوٹا ہے، یہ خود کچھ نہیں سیکھ سکتا۔ اسے سکھانا ہے تو صرف ہم ہی کو سکھانا ہے۔ اس لیے نصاب تشکیل دیا جاتا ہے۔ پورے نصابی خاکے میں بچہ ایک بے جان پرزہ ہوتا ہے۔ بچے کا خود سیکھنے کا عمل نصابی خاکے میں اشارتاً بھی مذکور نہیں ہوتا۔ کیا سرگرمیاں، کیا متن اور کیا جائزہ۔ نصابی خاکے کا ایک جزو بھی اس نقطہ نظر سے تشکیل نہیں دیا جاتا کہ بچہ خود کچھ سیکھ سکتا ہے۔

بچہ اسکول میں داخل ہوتا ہے تو آپ اس سے سیکھنے کا کنٹرول چھین کر اس کی آزادی پر حملہ کردیتے ہیں۔ آپ بغیر کسی فطری ترغیب کے اس کو وہ کچھ سیکھنے پر مجبور کرتے ہیں جو وہ نہیں سیکھنا چاہتا۔ اور وہ کچھ اسے سیکھنے نہیں دیتے جو وہ سیکھنا چاہ رہا ہوتا ہے۔ مثال کے طور پر بچہ تصاویر دیکھنا چاہتا ہے، آپ اس کے ہاتھ سے تصاویر کی کتاب لے کر اسے حروف تہجی کی کتاب تھما دیتے ہیں۔ بچہ اس مداخلت پر ڈسٹرب ہو جاتا ہے۔ اس طرح آپ بچے کو ریاضی کے کچھ ہندسے دلچسپ مثالوں کے ذریعے سکھاتے ہیں، وہ یہ ہندسے سیکھ لیتا ہے۔ آپ دوسرے دن پھر وہی ہندسے پڑھاتے ہیں، بچہ بادلِ نخواستہ دوسرے دن بھی وہ ہندسے پڑھتا ہے، لیکن وہ کچھ اور سیکھنا چاہتا ہے، کچھ نیا جو اس کے متجسس اور تخلیقی ذہن کی تسکین کا سامان کرسکے۔ لیکن آپ کا تعلیمی کیلنڈر آپ کو مجبور کرتا ہے کہ آپ یہ ہندسے پورا ایک ہفتہ پڑھاتے رہیں۔ بچے کی سیکھنے کی جبلت اسے آگے بڑھنے کی ترغیب دیتی ہے لیکن آپ اسے راستہ نہیں دیتے۔ اس کی یہ جبلت بھٹک جاتی ہے۔ آٹھ گھنٹے ایک ماحول میں ساکت ہوکر اور چپکے ہوکر بیٹھے رہنا اس کے لیے عذاب بن جاتا ہے۔ وہ کلاس سے باہر کسی اور دنیا میں پہنچ جاتا ہے، سو جاتا ہے یا غیر متعلق ہو جاتا ہے۔ یہ عمل ایک عرصے تک جاری رہتا ہے، حتی کہ اسکول اس کے لیے کشش کھو دیتا ہے۔اسکول سے بڑھ کر غیر دلچسپ جگہ اس کے لیے دنیا میں کوئی نہیں۔ اسکول سے چھٹی اس کے لیے رہائی کے مترادف ہوتی ہے۔ چھٹی کا دن عید سے کم نہیں ہوتا۔ چھٹی کے دنوں کو وہ باقاعدہ سلیبریٹ کرتا ہے۔

بچے کے سامنے مضامین کی کوئی حدود نہیں ہوتیں۔ لیکن آپ اسے مضامین کی حدود میں قید کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔ آپ بچے کو پڑھاتے ہیں ’بھ‘ بھیڑ۔ بچہ بھیڑ دیکھ کر خوش ہوتا ہے کہ کوئی خاص شے ہے۔ اس کی توجہ ’بھ‘ سے زیادہ بھیڑ کی طرف ہے۔ یہ بھیڑ کیا ہوتی ہے؟ کیا کرتی ہے؟ کیا کھاتی ہے؟ اس کا کوئی گھر ہوتا ہے؟ ماں باپ اور دوست ہوتے ہیں؟ بچے کے ذہن میں یہ سوالات اٹھ رہے ہوتے ہیں، لیکن آپ کے لیے تو بچے کے یہ سوالات غیر متعلق اور بے معنی ہیں۔ آپ کی دلچسپی تو بھیڑ سے زیادہ ’بھ‘ پر ہے جو آپ کو اسے پڑھانی ہے۔ بھیڑ کیا ہوتی ہے اور کیا نہیں، یہ تو سائنس کے استاد کو اسے بتانا ہے یا معاشرتی علوم یا جغرافیے کے استاد کو۔ لیکن بچہ تو سیکھنے کو ایک اکائی کے طور پر لے رہا ہوتا ہے۔ اس کے سامنے مضامین کی کوئی تقسیم نہیں ہوتی۔ وہ ایک لمحے میں زبان سیکھ رہا ہوتا ہے تو دوسرے لمحے سائنس سے فلسفے کی طرف چلا جاتا ہے۔ بچے کے غیر متعلق سوالات اور اس کا تجسس بظاہر آپ کے سبق کے لیے سازگار نہیں، اس لیے آپ اس کے سوالات کو نظر انداز کردیتے ہیں۔ لیکن دراصل آپ اس کے سوالات نظر انداز نہیں کر رہے ہوتے بلکہ اس کے تجسس کو بے وقعت قرار دے رہے ہوتے ہیں۔ وہ تجسس جو اس کے اندر جاننے کی عمل کو متحرک کرتا ہے، اس کے ذہن میں حقیقی سوالات اٹھاتا ہے اور یہی سیکھنے کی کلید ہے۔ لیکن بچے کے نہ سیکھنے سے آپ کو فرق نہیں پڑتا اس لیے کہ آپ کی کامیابی کی کلید تو بچوں کے اچھے نمبر اور گریڈ ہیں، جو آپ کو اسکول انتظامیہ کے سامنے سرخ رو کردیتے ہیں۔ اس لیے آپ تکرار کرتے ہیں اور بچے سے تکرار کرواتے ہیں۔ بھ بھیڑ، بھ بھیڑ، بھ بھیڑ، بھ بھیڑ۔

غرض ایک بھیڑ چال ہے جو تعلیمی نظام میں نظر آتی ہے۔ دنیا بھر میں ایک ہی تعلیمی ماڈل کی پیروی کی جاتی ہے، جس میں بچہ ایک روبوٹ ہے۔ آپ تعلیمی نظام کے ریموٹ سے اس کی حرکات و سکنات کا تعین کرتے ہیں۔ اس ماڈل میں بچے کا کام صرف اطاعت کرنا ہے۔ ایک اطاعت شعاری بچہ ہی اچھا طالب علم ثابت ہوسکتا ہے۔ اطاعت شاعری پر اسے انعام ملتا ہے اور حکم عدولی پر سزا۔ بچے کی اسی اطاعت شعاری میں اس کو تعلیم یافتہ بنانے کی حکمت عملی کارفرما ہوتی ہے۔ آپ کے تعلیمی اسٹرکچر میں بچہ مجبور ہوکر آپ کے معیارات کے راستے پر چلتا ہے۔ وہ درجہ بدرجہ آگے بڑھتا ہے، پاس ہوتا ہے، نمبر حاصل کرتا ہے، سند اور سرٹیفکیٹ وصول کرتا ہے۔ لیکن وہ کچھ بھی نہیں سیکھ رہا ہوتا۔ ہمیں جاننا چاہیے کہ مضامین میں نمبر حاصل کرنے اور ان کا علم حاصل کرنے میں بہت فرق ہوتا ہے۔

کرنے کا کام

مشہور ماہر تعلیم پیٹر گرے موجودہ اسکولوں کے سب سے بڑے ناقد ہیں۔ وہ اسکولوں کو قید خانہ قرار دیتے ہیں۔ یقینا ان کی بات میں وزن ہے۔ ایسے لوگوں کی تعداد بڑھتی جا رہی ہے جو روایتی اسکولوں کو چھوڑ کر گھریلو اسکولوں کی طرف راغب ہو رہے ہیں۔ صرف امریکہ میں دو ملین بچے گھروں میں رہ کر تعلیم حاصل کر رہے ہیں۔ پیٹرگرے نے ۲۳۲ ایسے خاندانوں کا جائزہ لیا۔ ان کے مطابق ایسے بچوں میںفطری تجسس، تخلیقی صلاحیت، سیکھنے کی امنگ اور جوش موجود تھا اور وہ اسکول کی قید خانے جیسی کیفیت سے آزاد خوشی خوشی تعلیم حاصل کر رہے تھے۔ سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ اگر بچے گھر میں رہ کر فطری انداز میں تعلیم حاصل کرسکتے ہیں تو پھر ہم موجودہ اسکول سسٹم کو بچے کی فطرت سے ہم آہنگ کیوں نہیں کرسکتے؟ ایسا اسکول سسٹم جہاں تعلیمی معیارات اور مقاصد کی بچے کی عمر کے ساتھ وابستگی نئے سرے سے تشکیل دی جائے۔ جہاں ’’کیا سوچنا ہے؟‘‘ سے زیادہ ’’کس طرح سوچنا ہے؟‘‘ پر توجہ ہو۔ جس میں نظام امتحانات کو نئے انداز میں ترتیب دیا جائے، تاکہ بچہ ٹیسٹ کے لیے نہ پڑھے بلکہ سیکھنے کے لیے پڑھے۔lll

شیئر کیجیے
Default image
ناصر محمود اعوان

Leave a Reply