رشتہ کی بنیاد

مہمان کے آنے میں بہت کم وقت رہ گیا تھا اور وہ آج بھی ہمیشہ کی طرح دیوار پر لگے شیشے میں خود کو ہر زاویے سے دیکھ رہی تھی-

وہ کبھی آئینے کے قریب جاتی تو کبھی دور، کبھی بال کھولتی ہے تو کبھی باندھتی ہے، کبھی مسکراتی ہے تو کبھی ایک دم سنجیدہ ہوجاتی ہے۔ یہ سب کرتے ہوئے نہ جانے کتنے آنسو اس کی آنکھوں سے نکل کر زمین میں جذب ہوگئے تھے۔ آج بھی تیار ہوتے ہوئے وہ سوچ رہی تھی کہ آخر کب تک؟

اماں کے چہرے پر آج بھی ہمیشہ کی طرح پریشانی اورغصے کے ملے جلے تاثرات تھے، اماں کا بھی کیا قصور؟ اگر میں بھی خوبصورت ہوتی تو آج یہ سب نہ ہوتا، مہمانوں کے سامنے چائے کی ٹرے رکھتے ہی اس کے آگے سوالات کی برسات کردی جاتی، جن کے جوابات وہ ہمیشہ سے ہی بڑی روانی کے ساتھ دیتی آئی تھی۔ لیکن افسوس پھر بھی پاس نہیں ہوتی تھی۔ رات گئے فون کی گھنٹی بجی اور اماں کے چہرے پر مایوسی کا رنگ دیکھ کر وہ سمجھ گئی تھی، کہ لڑکے والوں نے انکار کردیا ہے۔ وہ آج بھی ریجیکٹ کردی گئی تھی، صرف اس لئے کہ وہ ایک عام شکل و صورت کی گھرداری میں ماہر پڑھی لکھی لڑکی تو ہے لیکن مس یونیورس جیسی خوبصورت نہیں، ناز، انداز اور ادا، اس میں مفقود ہے۔

یہ وہ کہانی ہے جو آج ہمیں اپنے ’’سو کالڈ‘‘ تعلیم یافتہ معاشرے کے ہر دوسرے گھر میں نظر آتی ہے۔ آپکا تعلق چاہے کسی بھی طبقہ سے ہو اگر آپ بیٹی والے ہیں تو آپ کو بھی اس کہانی کا کردار بننا ہی پڑیگا۔ کہتے ہیں بیٹیاں سب کی سانجھی ہوتی ہیں لیکن درحقیقت صرف اپنی بیٹی ہی اپنی ہوتی ہے۔ ہمارے معاشرے کی یہی تو روایت ہے کہ اپنی بیٹی جان سے پیاری اور دوسرے کی بیٹی کی تو جان ہی لے لو! آپ کسی کی بیٹی میں خامیاں نکالو اور بدلے میں اس بدی کا بدلا نیکی تصور کرو تو یہ سراسر بیوقوفی ہے۔

ہم آج کس دین کی اقدار لیکر چل رہے ہیں کہ جہاں ماں باپ کو اپنی بیٹی کو اسکے گھر کا کرنے کے لئے سجا سنوار کر ہر طرح کی سوچ رکھنے والے لوگوں کے آگے پیش کرنا پڑتا ہے۔ اور حقیقت یہ ہے کہ:

’’خود کا بیٹا چاہے بھوسی کا ٹکڑا ہو لیکن بہو چاند کا ٹکڑا چاہیے۔‘‘

ہمارے معاشرے میں عام تصور یہی ہے کہ لڑکے کی صرف نوکری، تعلیم اور گھر دیکھا جاتا ہے شکل و صورت نہیں۔ تو کوئی یہ بھی بتادے کہ پھر لڑکیوں کا کیا قصور ہے؟ اس صنف کے ساتھ دہرا معیار کیوں؟ لڑکیوں کی رنگت، صحت اور صورت کیوں دیکھی جاتی ہے؟ اور سیرت، گھرداری، سلیقہ اور اخلاق کو کیوں نظر انداز کردیا جاتا ہے؟ اس معاشرتی صورتحال نے لڑکیوں سمیت ان کے والدین کو بھی نااْمید اور نڈھال کردیا ہے۔ نہ جانے ہمارے معاشرے میں یہ گھر گھر جاکر، کھاپی کر اور تنقید کرکے گھر کی عزت لانے کا رواج کہاں سے آیا ہے۔ لیکن میں اتنا ضرور جانتی ہوں کہ اس امر کو فوری طور پر درستگی کی ضرورت ہے اور یہ اْسی وقت ممکن ہے جب ہماری سوچ تبدیل ہوگی۔

اگر لڑکے والے لڑکی کے گھر ملکہ حْسن تلاش کرنے کے بجائے بہو تلاش کرنے کی نیت سے جائیں اور یہ سوچ لیں کہ اگر آج وہ کسی کی بیٹی پر تنقید کریں گے تو کل کو ان کے اپنے گھر کی بیٹی بھی اس چیز کا نشانہ بن سکتی ہے تو مجھے یقین ہے کہ یہ خیال ان کی پس ماندہ سوچ کو اتنا اونچا تو کر ہی دے گا کہ وہ کسی بھی لڑکی کو اس کے گہرے رنگ، عام شکل و صورت اور قد کاٹھی کی بنیاد پر ریجیکٹ کرنے سے پہلے 10 بار سوچیں گے۔ خوبصورتی ہی سب کچھ نہیں ہوتی ہے اصل میں انسان کو اچھے اخلاق، کردار اور سیرت کی ضرورت ہوتی ہے۔

ہمیں اپنی سوچ کی صفائی کی ضرورت ہے تاکہ انسان کو صورت کے بجائے سیرت پر جانچنا سیکھ سکیں۔ اس کے ساتھ ہی اس معاملے میں لڑکیوں کو بھی چائیے کہ وہ خود کو کسی طرح بھی کمتر نہ سمجھیں اور لوگوں کی فضول باتوں پر کان دھرنے کے بجائے اپنی شخصیت کو مضبوط بنانے پر توجہ دیں، یہ معاملات اللہ تعالی کی ذات پر یقین رکھتے ہوئے اس کے سپرد کردیں کیونکہ جوڑا تو اللہ تعالیٰ نے ہر ایک کا بنایا ہے بس دیر سویر سے ملنا نصیب ہے۔lll

شیئر کیجیے
Default image
ربابہ دلشاد

Leave a Reply