جہیزلینے سے متعلق: طرزِ فکر کا تجزیہ

کمپیوٹر پر مختلف آن لائن شاپنگ ویب سائٹ پر سر کھپاتے دیکھ کر بالآخر میں نے اس کا کاندھا تھپتھپا کر پوچھ ہی لیا… ’’کیا تلاش کر رہے ہو بھائی؟‘‘ اس نے کہا: ’’بیڈ شیٹ اور مختلف گھریلو اشیاء…‘‘ وجہ پوچھی تو جواب ملا: ’’عنقریب شادی ہے!‘‘

’’تو … جہیز؟‘‘ بالآخر میں نے بھی یہ سوال کرلیا۔ اس نے سکون سے میری جانب دیکھا اور کہا: ’’جہیز کی تو کہانی ہی نہیں کرنی یار! کیا میں اس قابل نہیں ہوں کہ یہ چیزیں خود خرید سکوں؟‘‘

اس لمحے اس کی سوچ پر بہت رشک آیا، دل چاہا اس مرد مجاہد کو سلیوٹ پیش کروں، مانا کہ یہ سوچ بہت اچھی ہے… مگر افسوس اتنی ہی نایاب ہے!!

سوچتا ہوں بڑے بزنس مین، اعلی کلاس کے پروفیشنلز، پوش علاقوں میں لاکھوں کروڑوں روپے کے گھروں میں رہنے والوں کے پاس جب ٹرک بھر کر مانگے کے جہیز کی صورت میں ایک لعنت آتی ہوگی تو کیسا لگتا ہوگا؟ مردانگی کا تقاضا تو یہی ہے کہ چلو بھر پانی میں ہی شرم سے ڈوب مرا جائے، مگر کم ہی ایسا ہوتا ہے!

حیرت اس بات پر ہوتی ہے کہ جب قبل از شادی اکثر نوجوانوں (باتوں کے شیروں) سے رائے لی جائے تو جہیز کی شدید مخالفت کرتے نظر آتے ہیں، مگر جب وہی جہیز جسے لعنت سے تشبیہ دیتے نہیں تھکتے، انہیں دیا جاتا ہے تو اس لعنت کو اپنے ماتھے کا جھومر بناتے انہیں شرم نہیں محسوس ہوتی۔ وہ تو پھر الگ ہی موضوع ہے۔

جہاں جہالت کی بنیاد پر نہ صرف جہیز مانگا جاتا ہے بلکہ کم ملنے پر رشتے مسترد اور بعد از شادی لڑکی کو اذیتیں دی جاتی ہیں۔ یہ تو موضوع گفتگو نہیں۔ اس وقت یہ سوال اٹھایا گیا ہے کہ وہ کیا وجوہات ہیں، جن کی بناء پر ایک پڑھا لکھا، اپر مڈل کلاس اور مالی طور پر مستحکم لڑکا جہیز لینے میں شرم محسوس نہیں کر رہا؟

جب میں نے یہ سوال سماجی رابطوں کی ویب سائٹ پر اپنے دوستوں اور رابطے میں رہنے والوں سے کیا تو میرا سامنا متفرق خیالات کے افراد سے ہوا۔ کئی نئی باتیں اور جہتیں پتا چلیں جنہیں آپ سے بیان کرتا چلوں۔

ہم نے صحافت سے وابستہ مڈل کلاس سے تعلق رکھنے والے چند افراد سے رابطہ کیا، جن کا خیال تھا کہ ہمارے یہاں کچھ مڈل کلاس گھرانے ایسے بھی ہوتے ہیں جو اپنی بیٹیوں کو خود جہیز دینا چاہتے ہیں، اور جب لڑکے یا اس کے گھر والوں کی جانب سے جہیز کے لیے منع کیا جائے تو بجائے اس کا خیر مقدم کرنے کے الٹا ناراض ہو جاتے ہیں، جس کی وجہ وہ کچھ یوں بیان کرتے ہیں کہ ’’ہم کوئی گرے پڑے لوگ نہیں، نہ ہی ہماری بیٹی کوئی یتیم لڑکی ہے!‘‘ اور اگر اس سب صورت حال میں لڑکا اپنی جانب سے سختی کرے تو اسے اکھڑ مزاج اور سخت طبیعت کا سمجھا جانے لگتا ہے۔ یہ دراصل ایک مائنڈ سیٹ ہے جسے تبدیل کرنے کی ضرورت ہے، اور یہ کوشش دونوں خاندانوں کی جانب سے ہونی ضروری ہے۔

پیشے کے لحاظ سے صحافت سے وابستہ ایک متوسط گھرانے کے فرد نے بیان کیا کہ انہوں نے اپنی شادی میں اس بات پر پورا زور لگایا تھا کہ کسی بھی قسم کا جہیز نہ لیا جائے۔ ان کا موقف یہ تھا کہ لڑکی کو گھر والوں نے پڑھا لکھا دیا، اب جب کہ وہ لڑکے کے گھر جا رہی ہے تو پھر اس کی ساری ذمہ داری لڑکے کے ذمہ ہے۔ ان کی کوششوں سے شادی سادگی سے ہوئی مگر اس دوران دونوں گھرانوں میں مکمل ذہنی ہم آہنگی ہونے کے باوجود سسرال ’’عجیب سے احساس‘‘ کا شکار رہا۔ معلوم یہ ہوتا ہے کہ ایسی تمام رسموں میں سماجی دباؤ اس قدر زیادہ ہے کہ چاہتے نہ چاہتے ہوئے بھی ایک فرد اس میں ملوث ہو جاتا ہے اور بہت بار ایسا بھی ہوتا ہے کہ وہ اپنی سی کوشش کرنے کے بعد ہار کر اپنے آپ کو حالات کے رحم و کرم پر چھوڑ دیتا ہے۔

جہاں کچھ افراد کی یہ رائے تھی، وہیں کچھ افراد کا خیال ہے کہ جہیز ایک لعنت نہیں بلکہ مانگ کر اور خواہش کر کے لیا جانے والا جہیز ایک لعنت ہے۔ کم اور مناسب جہیز دینا تو ہمارے پیارے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے ثابت بھی ہے۔ لیکن اگر لڑکی والے ہی جہیز دینے پر بضد ہوں تو اس کو مجبوری سمجھ کر مان لیا جائے تاکہ اس سارے معاملے میں کسی کی دل آزاری نہ ہو۔

اس سلسلے میں ہمارے ایک دوست نے ایک دلچسپ واقعہ سنایا، کہتے ہیں کہ ان کے ایک دوست نے اپنی پوری کوشش کر کے لڑکی والوں کو جہیز نہ دینے پر رضامند کرلیا تھا، شادی کے کچھ دن بعد ان کے گھر ایک فریج کا پارسل آیا، بڑے حیران ہوئے کیوں کہ انہوں نے آرڈر نہیں کیا تھا۔ خیر جب اس کو کھولا گیا تو اس پر لگی پرچی پر لکھا تھا کہ ’’خالہ کی جانب سے اپنی بھانجی کے لیے پرخلوص تحفہ‘‘ جب بیگم سے دریافت کیا تو انہوں نے بھی کہہ دیا کہ انہیں اس بارے میں علم نہیں۔ اس کے بعد کیا تھا، ہر دوسرے دن کسی کی جانب سے تحفہ آجاتا، اور یوں دو ہفتے میں ہی جہیز پورا ہوگیا۔

جہاں کچھ افراد نے اس قسم کے واقعات سنائے، وہیں ایک دوست نے اپنی رائے کا اظہار کچھ یوں کیا کہ خود فرمائش کر کے جہیز کے نام پر من پسند چیزوں کا حصول اور اس کے لیے ضد اور اختلاف کر کے روایتی لڑکے والے ہونے کا ثبوت دینا ان کے نزدیک ایک نہایت شرم ناک فعل اور سراسر ظلم ہے! غیروں کی اندھی تقلید اس رسم کو پھیلانے اور مضبوط کرنے کی ایک بڑی وجہ ہے۔ یہ ہمارے اجتماعی جاہلانہ طرزِ عمل کا منہ بولتا ثبوت ہے کہ لڑکے والوں کی جانب سے جہیز کی ڈیمانڈ نہ ہونے کے باوجود بھی لڑکی والے اپنے دل میں نہ صرف خوف رکھتے ہیں بلکہ بہت کچھ دے دلا کر اپنی تسلی کرلیتے ہیں۔ اس کا حل یہ ہے کہ سب سے پہلے تو لڑکا خود اپنے اندر اور اپنے گھر والوں میںشعور پیدا کرے، پھر لڑکی والوں کو یہ بات پیار سے سمجھائی جائے اور اس بات کا یقین دلایا جائے کہ جہیز نہ لینے کی وجہ سے کبھی بھی اس ازدواجی تعلق میں دراڑ نہیں ڈالی جائے گی۔ لڑکی اپنے باپ کی شہزادی ہوتی ہے اور گھر والوں کی خواہش ہوتی ہے کہ وہ اس کو ایسے تحفے دیں جو کہ دیرپا ہوں تاکہ وہ ان کو آئندہ زندگی میں استعمال میں لاسکے۔ اس لیے اگر وہ اپنی خوشی سے ضروری اشیاء دینا چاہیں تو ضرور دیں مگر اس کو شادی کا ایک اہم جز بنا دینا، یا اس سلسلے میں لڑکی والوں کو مجبور کرنا سراسر ایک ظلم ہے۔

بعض لوگوں کا خیال ہے کہ ہم جہیز تو خوب دیتے ہیں مگر لڑکی کے جائداد میں اصل حق میں ڈنڈی مار جاتے ہیں، حالاں کہ جہیز فرض نہیں بلکہ جائداد میں حق دینا ایک فرض عمل ہے، مگر رسم و رواج میں جکڑے معاشرے میں یہ پکار نقار خانے میں طوطی کی آواز سمجھی جاتی ہے۔

ان آراء سے یہ نتیجہ نکالا جاسکتا ہے کہ ایک بری تعداد یہ بات جانتی ہے کہ بھاری جہیز لینا اور دینا نہ صرف ایک غلط روایت ہے بلکہ یہ لڑکی والوں پر شادی کے اخراجات کے علاوہ ایک اضافی بوجھ اور رقم ہے جو کہ دینا ناگزیر سمجھا جاتا ہے۔ اس ادراک کے باوجود اس مسئلے کو سمجھنے اور اس کے تدارک کے لیے آج کا نوجوان کوئی ٹھوس اور عملی قدم اٹھانے پر تیار نہیں، اور نہ اس سلسلے میں کسی تلخی کو جھیلنے کے لیے راضی ہے۔ بلکہ وہ اس رسم کو قسمت کا لکھا سمجھ کر قبول کرتا ہے۔ یوں یہ روایت ہر گزرتے سال کے ساتھ نہ صرف مزید پختہ ہوتی جا رہی ہے بلکہ اس میں جدت، نمود و نمائش اورفضول خرچی بھی جڑ پکڑ رہی ہیں، جس کا نتیجہ مزید مسائل کی صورت میں نکل رہا ہے۔

جب مضبوط کردار کا حامل ایک لڑکا اس بات کا عہد کرلے کہ وہ کسی بھی قبیح رسم کا حصہ نہیں بنے گا تو پھر اس کو نہ معاشرے کی فرسودہ روایات اپنے موقف سے ہٹا سکتی ہیں اور نہ ہی کسی کی زور زبردستی۔۔۔ ہاں یہ ضرور ذہن میں رکھا جائے کہ معاشرے میں اس رسم کو سدھارنے کا بیڑا جب بھی آپ اٹھائیں گے تو راستے میں رکاوٹوں کا آنا ناگزیر ہے لیکن مردانگی کا ثبوت یہی ہے کہ ان تمام رکاوٹوں کا بہادری کے ساتھ مقابلہ کیا جائے۔lll

شیئر کیجیے
Default image
سید اویس مختار

One comment

Leave a Reply