سجدۂ گراں مایہ

اس آفس میں یہ میری پانچویں چکرتھی میں جب بھی جاتا تھا۔ مجھے یہی بتایا جاتا کہ صاحب باہر گئے ہیں،کبھی کہا جاتا کہ آج صاحب بہت مصروف ہیں کل آنا اور میں اپنا منہ لٹکا کرالٹے پاوں واپس چلا جاتا۔ کیا کرتا، غرض میری ہی تھی۔

میرے لیے افسر شاہی کے یہ مظاہرے کوئی نئی بات نہیں تھی،آج ہر جگہ ہم جیسے بے چارے،بے وسیلہ،عام لوگ یونہی دھکے کھاتے ہوئے زندگی گزار رہے ہیں۔چاہے کوئی آفس ہو،ہر جگہ چار چھ بار چکر لگائے بغیرکسی کام کی شروعات ہی نہیں ہوتی اوراتنے دھکے کھانے کے بعد بھی کوئی ضما نت نہیں کہ آپ کا کام ہو ہی جائے گا۔لیکن اگر آپ کی جیب میں نوٹوں کی گرماہٹ ہے اور آپ کرسی نشین کوان نوٹوں کا نذرانہ پیش کر سکتے ہیں توپھر آپ کاناممکن سے ناممکن کام بھی تکمیل پاسکتا ہے۔

میں راستے کے کنارے ایک چھوٹی سی دوکان پر پھل فروخت کرتا ہوں۔اس کے لیے شہر کی میونسپل کارپوریشن سے لائسنس لینا پڑتا ہے اور لائسنس کا ہر سال رنیول کرانا ضروری ہوتا ہے۔اس سال لائسنس کی معیاد ختم ہوکر دو مہینے گزر گئے تھے۔لیکن میں اپنی پریشانیوں میں ایسا الجھ رہا کہ رنیول نہیں کر سکا۔پچھلے ہفتے ایک ٹرافک پولس والا میری دوکان پر پھل خریدنے کے لیے آیا اور بہت ہی کم داموں میں پھل مانگنے لگا۔میں نے کہا "صاحب’اتنے کم داموں میں تو مجھے بھی نہیں ملے’میں دوسروں سے دس روپیے کم سے دے دیتا ہوں۔

’’تم مجھے جانتے ہو نا! تم لوگ اسی طرح جھوٹی باتوں میں گاہکوں کو پھنساکر لوٹتے ہو۔میں بالکل صحیح قیمت پر مانگ رہا ہوں۔‘‘

پولس والا بڑی رعونت سے بولا.

وہ سو روپے کے پھل بیس روپے میں مانگ رہا تھا۔

میں نے اسے سختی سے منع کر دیا کہ صاحب میں اتنے کم داموں میں نہیں دے سکتا،آپ کہیں اور سے جا کر لے لو۔

میرے دو ٹوک جواب پر اسے بہت غصہ آیا اور اس نے اپنا آخری ہتھیار مجھ پر آزمایا۔’’چل تیرا لائسنس دکھا۔‘‘

میرا لائسنس دیکھ کر اس کی تو بانچھیں کھل اٹھیں۔

’’تجھے پڑھنا لکھنا نہیں آتا کیا؟

یہ لائسنس تو دو مہینے پہلے ہی ختم ہو گیا۔بغیر لائسنس کے روڈ پر کاروبارکرتا ہے ،چل پانچ سو روپے کا جرمانہ نکال اور یہ رسید پکڑ۔‘‘

رسید بناکر اس نے میرے ہاتھ میں تھمادی اور جاتے جاتے مجھے دھمکا کر گیا کہ بغیر لائسنس کے دوکان چلائی تواگلی بار اندر کر دوں گا۔

دوسرے ہی دن میں لائسنس رنیو کرانے کے لیے دفتر پہنچ گیا۔گزشتہ ایک ہفتے میں چار پانچ چکروں کے باوجود ابھی تک مجھے اس آفیسر کے دیدارتک نہیں ہو پائے تھے۔

میری ہی طرح کئی اور دکانداربھی جولائسنس کے لیے آفس کی کر لگا رہے تھے وہاں موجود تھے۔ایک دوکاندار مجھے بتانے لگا کہ اس آفیسر سے

سارے دوکاندارپریشان ہیں۔ایک تو کبھی وقت پر اپنے آفس میں ملتا ہی نہیں تھا،رشوت لیئے بغیر کوئی کام نہیں کرتا تھا ،اوپر سے بڑی حقارت سے پیش آتا تھا۔مجبور اور پریشان دوکاندار آنکھیں جھکاکر اس کی ساری بے عزتی کو برداشت کر جاتے۔برداشت نہ کرتے تو کیا کرتے؟ اپنے بال بچوں کا پیٹ جوپالنا ہے۔

کچھ دیر بعد میں نے باہر بیٹھے چپراسی سے پوچھا صاحب کب تک آئیں گے؟

چپراسی مسلسل چار پانچ مرتبہ سے مجھے آتے جاتے دیکھ رہا تھا ،اس لیے مجھے پہچان کر بولا’’ آج بڑے صاحب کے ساتھ ان کی میٹنگ ہے۔شاید وہیں گئے ہوں۔لیکن وہ آفس میں ایک چکر لگانے ضرور آئیں گے۔ تم یہیں بیٹھو۔‘‘.

میں آفس کے ایک کونے میںجاکر کھڑا ہو گیا اور دوسرے دوکانداروں سے ادھر ادھرکی باتیں کرنے لگا۔

آج جمعہ تھا ،اس لئے میں یہ سوچ کر نکلا تھا کہ جمعہ کی نماز سے پہلے اگر یہ کام ہو گیا تو نماز پڑھ کر ہی دوکان کھولوں گا۔ آفس کے چکروں کی وجہ سے کاروبار کا سارا وقت برباد ہو رہا تھا۔دل میں پولس والے کا خوف بھی بیٹھا ہوا تھا، جب بھی دوکان کھولتا یہ خیال ستاتارہتا کہ پولس والا جرمانے کے لیے کبھی بھی آسکتا ہے۔جب تک لائسنس رنیو نہیں ہو جاتا میں اس کے لیے ایک آسان شکار تھا ،وہ جب چاہتا میرا شکار کر سکتا تھا.

میں آفس کی اس لابی میں ادھر سے ادھر ٹہلتے ہوئے سوچ رہا تھا کہ ملک آزاد ہونے کے8 6 سال بعد بھی ہماری غلامی ختم نہیں ہوئی ہے۔فرق صرف اتنا ہے کہ اب ہمارے اپنے ہی لوگ ہمارے آقا بنے ہوئے ہیں۔آج جو کوئی بھی کسی مسند پر بیٹھا ہے،وہ خود کو وہاں کا فرمانرواں سمجھتا ہے۔اسے اپنے پاس آنے والے عام لوگوں کی مشکلات اور پریشانیوں کا کوئی خیال نہیں ہوتاہے۔بس خانہ پری کے لییاپنی ذمہ داریوں کو جیسے تیسے پورا کرتا رہتا ہے۔

اسی طرح کافی وقت گزر گیا. کہیں دور سے جمعہ کی اذان سنائی دینے لگی اورعین اسی وقت وہ افسر اپنے کیبن میں داخل ہوا.

میں چپراسی کے پاس جا کر کھڑ ا ہو گیا۔اس نیتمام لوگوں سے اپنی اپنی فائلیلں دینے کو کہا، تمام کاغذات چیک کیے اور سب کی فائیلیں لیکر اندرچلا گیا۔

تھوڑی دیر بعد وہ واپس آیا اور بولا”صاحب ،کچھ ضروری فائیلیں دیکھ رہے ہیں،اس کے بعد تم لوگوں کوبلائینگے۔‘‘

’’صاحب، آج کسی طرح سے میرا لائسنس رنیو کرادو،میں ایک ہفتے سے چکر مار رہاہوں۔میں نے چپراسی سے شکوہ کیا۔

’’کیا کریں، صاحب کے اوپر دوسرے سیکشن کا بھی چارج ہے.وہاں بھی کام دیکھنا پڑتا ہے۔ ’’چپراسی نے صفائی پیش کی. جمعہ کی نماز کا وقت قریب آرہا تھا اور میں بے چین ہو رہا تھاکہ اب اگر عین نماز کے وقت اس نے مجھے بلایا تو کیا ہوگا؟

آج میں ساری تیاری سے آیا تھا، فیس کے علاوہ اوپر سے دینے کے لیے ہزار روپے بھی میں ساتھ لے کر آیا تھا. پولس والے کے تلخ تجربے کے بعد میری ساری اکڑ نکل گئی تھی میں کئی دفعہ اپنے آپ کو ملامت کر چکا تھا کہ اگر وہ پھل میں اسے کم قیمت پر دے دیتا توکیا بگڑ جاتا؟جرمانے کے پانچ سو روپیئے اور ایک ہفتے سے ہو رہے نقصان سے تو بچ جاتا۔

اسی طرح کچھ اور وقت گزر گیا۔میں نے گھڑی دیکھی تو خطبہ کے لیے پانچ منٹ ہی باقی تھے اور صاحب کی طرف سے ابھی تک اندر بلانے کے کوئی آثار نظر نہیں آرہے تھے.دل میں خیال آیا کہ اب اگر یہاں سے نھیں نکلا تونمازملنا مشکل ہو جائیگی ۔لیکن ساتھ ہی ذہن اس لئے بھی پریشان ہونے لگا کہ نماز سے واپس آنے پر، پتہ نہیں آفیسر ملے نا ملے، اور کتنے دنوںتک یونہی چکر لگانے پڑے۔

تب ایک خیال دل میں ابھرنے لگا کہ آج جمعہ کی نماز قضع کر کیتنھا ظہرکی نماز ہی پڑھ لیتے ہیں۔اس خیال کہ آتے ہی ذہن میںایک کشمکش شروع ہو گئی۔ایسا لگا کہ میری شخصیت دو مخالف حصوں میں تقسیم ہو گئی ہے،ایک حصہ میری ملامت کرنے لگا کہ میں نماز جمعہ جیسی اہم عبادت کو قربان کررہا ہوں ، تو دوسرا حصہ حالات کی مجبوریوں کی دہائی دے کر رخصت کی راہ پر چلنے کی تلقین کرنے لگا۔مجھے ایسا لگ رہا تھاکہ میرا ذہن خیر وشر کی جنگ کا میدان بنا ہوا ہے۔

مگر بہت جلد میں اپنے نفس کی اس اندرونی جنگ سے باہر نکل گیا۔میں نے سوچا کہ اس دو کوڑی کہ حاکم سے ملاقات کا رعب مجھ پر ایسا چھا رہا ہے کے میں ساری کائنات کے حاکم کے سامنے حاضری کو چھوڑنے پر تیار ہوں۔میں ا بھی اتنا کمزور نہیںہواکہ بندوں کو اپنی تقدیر کا خدا سمجھنے لگوں۔روزی روٹی کا دینے والا تو اللہ ہے۔میںفوراً’ ’آفس سے نماز کے لئے چل پڑا۔‘‘

تبھی چپراسی نے آواز دی’’چلو ،تم کو صاحب بلا رہے ہیں۔ان کو جلدی جانا ہے مگر میں نے سفارش کر کے تمہارے کام کے لیئے انہیں رکوایاہے۔‘‘

میں نے اس کا شکریہ ادا کیا اور معذرت کے ساتھ کہا کہ مجہے نماز کے لیئے جانا ہے۔نماز پڑھتے ہی فوراًً ًواپس آجاوں گا۔

وہ غصہ میں بولا ’’دیکھو ،تم پر رحم کھا کر میں نے صاحب سے تمھاری سفارش کی ہے۔اب اگر صاحب ناراض ہوگئے تو پتہ نہیںوہ تیرے لائسنس کا کیا حال کریں گے۔

مگر میں ایک فیصلے پر پہنچ چکا تھااس لئے میں نے اس سے معافی چاہی اور اپنا رخ بدل کرآفس سے باہر نکل گیا۔

آدھے گھنٹہ بعد نماز سے فارغ ہو کر میں دوبارہ اسی جگہ پر کھڑا تھا۔ابھی جن دوکانداروں کے لائسنس کا کام نہیں ہوا تھا وہ بہی وہیں کھڑے ہوئے تھے۔ میں نے ایک سے معلوم کیا کے میرے جانے کے بعد کیا ہوا۔اس نے بتایا کہ دو لوگوں کا کام ہو گیا اور چار دوکانداروں کو آفیسر، کاغذات کی عدم تکمیل کا عذر بتاکر واپس کر چکا ہے۔

چپراسی کو دیکھا تومجھے اس کے چہرے پر ناراضگی کہ واضح آثار نظر آرہے تھے۔لیکن جیسے ہی اندر والا شخص باہر آیا اس نے مجھے اندر جانے کے لئے کہا۔

میرے آتے ہی اس طرح مجھے فوراًاندربھی جیجا نے پر میںحیران تھا۔اس کا حکم سن کرمیں جلدی سے کیبن کیاندر داخل ہو گیا۔

کیبن میںآفیسراپنی کرسی پر بیٹھا ہوا تھااور میری فائل اس کے سامنے میز پر رکھی ہوئی تھی اس نے میری طرف دیکھا ،میرا نام پوچھا ،دوکان کہاں ہے ،کب سے ہے، اس طرح کے عام سے سوالات پوچھے ،کاغذات دیکھے اور لائسنس پر دستخط کر دیئے۔

میں نے لائسنس رنیول کی فیس اور مزید ہزار روپے اسے تھما دیے اور لائسنس لے کر کیبن سے باہر نکلنے لگا۔ میں ابھی دروازے ہی میں تھا کہ اس نے مجھے آواز دی۔

’’ذرا ادھر آنا۔‘‘

میں جھجکتے ہوئے اس کے ٹیبل کے پاس جاکر کھڑا ہو گیا۔

دیے ہوئے روپیوں میں سے اس نے ہزار رویے مجھے واپس دے دیئے۔

میری طرف دیکھ کر وہ مسکرایا۔میرے چہرے کی حیرانی کو دیکھ کر اس نے کہا۔کچھ دیر پہلے تم میرے بلانے کی پرواہ کئے بغیراپنا فرض ادا کرنے یہاں سے چلے گئے،اس روئیے نے میرے دل میں تمہارے لئے عزت پیدا کر دی ہے۔

روپے تو اوروں سے بھی کمائی جا سکتے ہیں، لیکن تم جیسے آدمی سے یہ روپیہ لینے کا من نہیں کر رہا۔‘‘lll

شیئر کیجیے
Default image
خرم سعید

Leave a Reply