وقت کا جواب

اوہو… بابا جانی! آپ ابھی تک جاگ رہے ہیں۔ کتنی مرتبہ کہا ہے کہ آپ یوں میرے انتظار میں مت جاگا کریں۔ اب میں بچہ تو نہیں ہوں جو کہیں گم ہوجاؤں گا! بلکہ اب تو میں خود کئی بچوں کا باپ بن چکا ہوں۔ بابا جانی! میٹنگز اور بزنس پارٹیوں میں دیر سویر تو ہو ہی جاتی ہے۔ اس لیے آپ میرا انتظار مت کیا کریں اور سو جایا کریں۔ ویسے بھی اس عمر میں آپ کے لیے یوں اتنی رات گئے تک جاگتے رہنا ٹھیک نہیں ہے۔‘‘

الجھن، ناپسندیدگی، جھنجلاہٹ، غصہ ایسا کچھ بھی تو نہیں تھا میرے بیٹے کے لہجے میں … بلکہ اس کا لہجہ تو ایک پیار بھری خفگی لیے ہوئے تھا، لیکن پھر بھی اس کے یہ الفاط سن کر مجھے ایک جھٹکا سا لگا، کیوں کہ مجھے اپنے سوال کا جواب مل گیا تھا۔ بیٹے نے محبت سے میرا سر اپنی گود میں رکھا اور آہستہ آہستہ دبانے لگا۔ کچھ دیر بعد میں نے اپنی آنکھیں موند لیں۔ بیٹا سمجھا کہ میں سوگیا ہوں۔ وہ ہ آہستہ سے میری چارپائی پر سے اٹھا۔ میری پیشانی پر محبت سے بوسہ دیا اور اپنے کمرے کی طرف چلا گیا۔ میں نے اس لیے آنکھیں موند لی تھیں تاکہ میرا بیٹا جاکر سوجائے، کیوں کہ مجھے معلوم تھا جب تک میں سو نہ جاتا، اس وقت تک فرماں بردار بیٹا میرا سر دباتا رہتا۔ مجھے اپنے بیٹے پر فخر تھا۔

بیٹا تو چلا گیا لیکن نیند میری آنکھوں سے دور تھی، اس لیے کہ مجھے اپنے اس سوال کا جواب مل گیا تھا جو برسوں سے میرے ذہن میں کلبلا رہا تھا۔ میں نے اس سوال کے جواب کے لیے بہت غور کیا، گھنٹوں سوچ کے سمندر میں غوطہ زن رہا، مگر مجھے جواب نہ مل سکا تھا، لیکن آج وقت نے مجھے میرے سوال کا جواب دے دیا تھا۔ کسی نے سچ کہا ہے:

’’ہم بہت جلد باز ہیں۔ اپنے ذہن میں پیدا ہونے والے ہر سوال اور ہر بات کا جواب فوری چاہتے ہیں، حالاں کہ بہت سے سوالات ایسے ہوتے ہیں، جن کا جواب صرف اور صرف وقت کے پاس ہوتا ہے۔‘‘

میرے سوال کا جواب بھی وقت ہی کے پاس تھا، جب کہ میں اس کے لیے ادھر ادھر ٹامک ٹوئیاں مار رہا تھا۔ یہ سوال میرے ذہن میں اپنے ابا جان کو دیکھ کر آیا تھا۔ میرے ابا جان ایک سیدھے سادے سے دیہاتی آدمی تھے۔ میرا بچپن بھی ابا جان کے ساتھ شہر کے مضافات میں واقع ایک گاؤں میں گزرا تھا۔ میں اپنے ابا جان کی اکلوتی اولاد تھا، اس لیے میرا بچپن بڑا شاہانہ سا گزرا۔

میں بہت چھوٹا تھا کہ میری اماں جی مجھے اور ابا جان کو اس دنیا میں تنہا چھوڑ کر چلی گئی تھیں۔ گاؤں میں ہماری تھوڑی سی زمین تھی، ابا جان روزانہ صبح سویرے پھاوڑا پر رکھے کھیتوں میں چلے جاتے، دن بھر کام کرتے اور شام کو تھکے ہارے گھر واپس آتے۔ ہم نے گھر میں کچھ بھینسیں اور بکریاں پال رکھی تھیں۔ کھیتوں سے واپس آکر ابا جان ان کی دیکھ بھال کرتے۔ میں رات کو صحن میں لالٹین کی زرد روشنی میں اسکول کا کام کیا کرتا تھا۔ کام سے فارغ ہوتا تو چپکے سے ابا جان کی چارپائی پر بیٹھ کر آہستہ آہستہ ان کے پاؤں دبانے لگ جاتا تھا۔ کسانوں، دہقانوں کی نیند ویسے بھی بہت گہری اور پرسکون ہوتی ہے۔ ابا جان بے خبر سوئے رہتے۔ میں گھنٹوں ان کے پاؤں دباتا رہتا اور محبت سے ان کے چہرے کو تکتا رہتا۔ مجھے اپنے ابا جان سے بے حد محبت تھی۔ ماں جی کی وفات کے بعد میرے لیے ماں بھی وہی تھے اور باپ بھی۔ بعض اوقات یوں ہوتا کہ مجھے پاؤں دباتے ابھی کچھ ہی دیر گزرتی کہ ابا جان اپنے پاؤں سمیٹ لیتے اور کہتے ’’نہیں کاشف بیٹے! تو اسکول کا کام کرتے ہوئے تھک گیا ہوگا… اب تو سوجا! سویرے تجھے اسکول بھی جانا ہے۔‘‘

’’کوئی بات نہیں ابا جان! میں تھوڑی دیر میں سوجاؤں گا۔‘‘ میرے اس جملے میں محبت بھری التجا ہوتی۔ وہ دوبارہ پاؤں پھیلا دیتے اور میں ان کے پاؤں دبانے لگتا۔ کچھ ہی دیر بعد نیند کی دیوی پھر ان کو اپنی آغوش میں لے لیتی۔ نیند سے آنکھیں تو میری بھی بند ہو رہی ہوتی تھیں لیکن میں پھر بھی اُن کے پاؤں دباتا رہتا، کیوں کہ مجھے معلوم تھا کہ دن بھر اکیلے کام کرنے کی وجہ سے وہ خاصے تھک جاتے تھے۔ ابا جان نے مجھے کبھی کوئی کام نہیں کرنے دیا تھا۔ اکثر ان کی زبان پر بس ایک ہی جملہ ہوتا: ’’ناں بیٹا! تو کام نہ کیا کر‘‘ تو اسکول میں پڑھتا ہے… اپنی توجہ بس پڑھائی پر لگا۔‘‘

ہمارے گاؤں کا اسکول صرف مڈل تک تھا۔ مزید پڑھنے کے لیے شہر جانا پڑتا تھا۔ مڈل پاس کرنے کے بعد میرا مزید پڑھنے کا ارادہ بالکل بھی نہیں تھا، کیوں کہ اپنے گھر کے حالات مجھے معلوم تھے۔ دال روتی بڑی مشکل سے پوری ہو رہی تھی۔ ایک دن ابا جان کھیتوں سے جلدی واپس آگئے اور میرے ہاتھ میں روپے تھماتے ہوئے بولے:

’’یہ لے بیٹا! یہ پیسے کرمو دکان دار کو دے آ! وہ تیرے لیے شہر سے وردی اور کتابیں لے آئے گا۔ داخلہ فیس کا انتطام بھی میںکل تک کردوں گا۔‘‘

’’ابا جان! میں مزید پڑھ کر کیا کروں گا؟ میں یہاں رہ کر کام میں آپ کا ہاتھ بٹایا کروں گا؟‘‘ میں نے ڈرتے ڈرتے کہا۔

’’تو نہیں سمجھ سکتا میرے لال!‘‘ انہوں نے پگڑی اتار کر کھچڑی بالوں میں انگلیاں پھیرتے ہوئے کہا: ’’انسان کے کچھ خواب ہوتے ہیں۔ میری خواہش ہے کہ تو پڑھ لکھ کر بڑا آدمی بنے، تیر اشہر میں بڑا سا بنگلہ ہو، تیری بیوی کوئی پڑھی لکھی میم سی عورت ہو۔ فصل کے آنے پر میں تمہارے لیے کبھی پیاز اور کبھی لہسن کی بوری یا گنوں کی گٹھڑی لے کر آیا کروں گا اور باغیچے میں کھیلتے ہوئے گول مٹول پوتے پوتیاں شو رمچایا کریں گے ’’دادا جی آگئے… دادا جی آگئے…!‘‘ پھر وہ دوڑ کر میری ٹانگوں سے لپٹ جایا کریں گے۔‘‘

ابا جان کے چہرے پر اس مسرت آگیں تصور سے سرخی ہی آگئی۔ ان کی آنکھیں دور خلا میں نہ جانے کیا دیکھ رہی تھیں!

’’ابا جان…! اگر میں بڑا اور امیر آدمی بن گیا اور شہر میں ایک بڑا بنگلہ بھی ہوا تب آپ بھی تو میرے ساتھ شہر میں رہا کریں گے۔ پھر بھلا آپ کس طرح لہسن، پیاز کی بوریاں یا گنوں کا گٹھڑی لے کر آیا کریں گے؟‘‘ میں نے دھیمی سی آواز میں کہا۔

’’نہیں…!‘‘ ابا جان نے سر کھجاتے ہوئے کہا ’’میںتو سیدھا سادہ سا دیہاتی آدمی ہوں، میں بھلا بنگلے میں رہتا کہاں اچھا لگوں کا؟ میں تو یہیں اپنے گاؤں میں رہوں گا۔ ہاں کے کھیت کھلیانوں کو مجھ سے اور مجھے ان سے بڑی محبت ہے! ہاں…! مہینے دو مہینے بعد جب ملنے آؤں تو اپنے دوستوں سے یہ مت کہا کرنا کہ یہ بڈھا ہمارا نوکر ہے جیسا کہ کئی پڑھے لکھے اور دولت مند بیٹے اپنے دیہاتی والدین کے بارے میں کہنے لگتے ہیں۔ کاشف بیٹے تم مجھے ابا ہی کہنا! اکیلے میں بھی اور سب کے سامنے بھی تاکہ میں بھی جی بھر کے اس خوشی کو محسوس کرسکوں کہ میں ایک لائق، مشہور اور سعادت مند بیٹے کا باپ ہوں۔‘‘

میں ایک ٹک ابا جان کی طرف دیکھتا رہا۔ اب میرا قد ان سے اونچا ہوچکا تھا لیکن اس وقت وہ مجھے بلند قامت لگ رہے تھے، بہت ہی اونچے۔ وہ بہت کم باتیں کرتے تھے، لیکن جو بھی کہتے تھے دل میں کھب کر رہ جاتا تھا۔ میرا جی چاہا کہ اٹھ کر ان کے سینے سے چمٹ جاؤں اور کسی ننھے بچے کی طرح زور زور سے رونے لگوں، لیکن ایک عجیب سی جھجک مانع تھی۔

ابا جان کی خواہش پر میں نے شہر میں داخلہ لے لیا۔ جس دن میرا میٹرک کا رزلٹ آنا تھا، اس دن ابا جان مجھ سے زیادہ بے تاب تھے۔ اس زمانے میں رزلٹ اخبارات میں آیا کرتا تھا۔ ہمارے پورے گاؤں میں اخبار صرف ماجو کے چائے خانے پر آتا تھا۔ ابا جان ایک ہاتھ سے پگڑی اور دوسرے سے دھوتی سنبھالے، مجھ سے آگے آگے ماجو کے چائے خانے کی طرف دوڑ رہے تھے۔ میں ان کا انداز آج تک نہیں بھولا۔ ماں باپ کے سوا کون کسی کی کامیابی و ناکامی کے بارے میں جاننے کے لیے اتنا مشتاق و مضطرب ہوسکتا ہے؟ ماجو کے چائے خانے پر میرا کلاس فیلو شیدا اخبار پر جھکا ہوا تھا۔ وہ بھی رزلٹ ہی دیکھ رہا تھا۔

’’رزلٹ کیسا رہا؟‘‘ میں نے سوال کیا۔

’’میں تھرڈ ڈویژن اور تم فرسٹ ڈویژن میں پاس ہوگئے ہو۔‘‘ شیدا بولا۔

’’اللہ! تیرا شکر ہے۔‘‘ ابا جان نے دونوں ہاتھ اٹھا کر کہا: ’’تونے آج ہمیں یہ عزت اور کامیابی بخشی، تیرا بڑا کرم ہے کہ ہمارے خاندان میں بھی کوئی لڑکا میٹرک پاس ہوا۔‘‘ انہوں نے کئی مرتبہ میری پیشانی کو چوما۔ ان کی آنکھوں سے تشکر کے آنسو چھلک کر ان کی ڈاڑھی میں جذب ہو رہے تھے۔ پھر انہوں نے قمیص کی جیبیں ٹٹولیں، ان میں سے ایک ایک روپے کے دو نوٹ اور چند آنے برآمد ہوئے۔ اس وقت ان کی جیب میں بس یہی کچھ موجود تھا۔ وہ مجھے دیتے ہوئے بولے: ’’سراج حلوائی کے پاس سے کچھ لڈو لے کر اپنے دوستوں کا منہ میٹھا کرا دینا، میں کھیتوں میں جا رہا ہوں، آج بڑی دیر ہوگئی ہے مجھے۔‘‘

میٹرک کے بعد میں نے کالج میں داخلہ لے لیا۔ ابا جی کی دعائیں اور میری شب و روز کی محنت رنگ لائی اور میں پڑھ لکھ کر ایک بڑا سرکاری افسر بن گیا۔ محکمہ کی طرف سے مجھے رہنے کے لیے ایک بڑا سرکاری بنگلہ بھی ملا تھا۔ ابا جان گاؤں میں رہنے کے خواہش مند تھے لیکن میں انہیں شہر لے آیا۔ جس دن میں ابا جان کو گاؤں سے شہر لے کر اایا تھا، اس دن میں نے اپنے گھر میں دوستوں کی پارٹی کی تھی، اور سب سے ابا جان کا تعارف کروایا تھا۔ اس دن ابا جان بے حد خوش تھے۔ مارے خوشی کے ان کی آنکھوں میں آنسوؤں کے موتی جھلملا اٹھے تھے۔ پھر میری شادی ہوگئی۔ میری بیوی بھی میری طرح ابا جان کی خدمت میں کوئی کسر اٹھا نہ رکھتی تھی۔ میری ہر ممکن کوشش یہ ہوتی کہ وہ مجھ سے خوش رہیں۔ راضی رہیں۔ میں ان کی رضا میں رب کی رضا کو تلاش کرتا تھا۔ ہمارے پیارے نبیﷺ کا مبارک ارشاد ہے: ’’اللہ تعالیٰ کی رضا مندی والدین کی رضا مندی میں ہے۔‘‘

شہر میں آکر میرے بہت سے دوست بن گئے تھے۔ ویسے بھی میں ایک سرکاری افسر تھا۔ بہت سے لوگوں کے کام میرے بغیر نہیں ہوتے تھے۔ اکثر ایسا ہوتا کہ کسی دوست کے ہاں پارٹی پرجانا ہوتا، مجھے رات کو واپس آتے ہوئے دیر ہوجاتی۔ ابا جی میرے انتظار میں جاگتے رہتے۔ بس اسی دوران میرے ذہن میں یہ سوال پیدا ہوا کہ…

’’ابا جان میرے انتظار میں کیوں جاگتے ہیں…؟‘‘ میں نے اس سوال کے جواب پر بہت غور کیا لیکن مجھے جواب نہیں ملا… اور ملتا بھی کیسے؟ اس کا جواب تو وقت کے پاس تھا اور آج وقت نے مجھے میرے سوال کا جواب دے دیا تھا۔ آج جب میں خود جوان بیٹے کا باپ بنا تو مجھے معلوم ہوگیا کہ ایک باپ اپنے بیٹے کے انتظار میں کیوں جاگتا ہے؟ جب تک بیٹا گھر واپس نہیں آجاتا، اس وقت تک اس کی آنکھوں سے نیند کوسوں دور کیوں رہتی ہے…؟ وہ بے چینی سے کروٹیں کیوں بدلتا رہتا ہے۔ کیوں بدلتا رہتا ہے…؟lll

شیئر کیجیے
Default image
فہیم عالم

Leave a Reply