نرس

رات بھر ماں باپ اور بیٹے کے درمیان بحث ہوتی رہی تھی۔ آخر طے پا گیا کہ زبیدہ کے پاس جاکر حقیقت معلوم کی جائے۔ اس وقت وہ تینوں زبیدہ کے گھر آئے بیٹھے تھے لیکن وہ ابھی اسپتال سے واپس نہیں آئی تھی۔ حسن کو یقین تھا کہ اس کے چچا اصغر اور ان کی بیٹی جو کہہ رہی ہے، وہ غلط نہیں ہوسکتا۔ چچی چچا اور ان کی تینوں بیٹیاں باکردار ہیں، بس یہ کہ بے روزگاری نے چچا کو بری طرح مقروض کر دیا اور بڑی بیٹی نے باپ کا ساتھ دینے کی غرض سے نرس کا پیشہ اختیار کرلیا۔

حسن کا باپ اکبر شاہ بیٹھا بس گھلتا رہا کہ بھتیجی نے نرس بن کر سادات خاندان کی ناک کٹوادی اور پھر ملازمت کے دوسرے مہینے میں ہی اتنی رقم کہاں سے لے آئی۔ پچاس ہزار تایا کے ادا کردیے اور تقریباً تیس ہزار روپے دکانوں کا قرض بھی چکا دیا۔ وہ غلط بیانی کرتی ہے کہ اسپتال کے عملے نے مل کر کمیٹی ڈالی اور پہلی اس کو دے دی۔ بھلا نئی نئی ملازمت والے پر کون اعتبار کرتا ہے۔ بس یہ کہ لڑکی جوان ہے اور خوب صورت۔ سیدھی سی بات ہے مگر احمق بیٹے کو عقل نہیں آرہی ورنہ میں چھوٹے بھائی اور اس کی اولاد کا دشمن نہیں۔ بہو سے میری اگلی نسل پیدا ہونی ہے، بیٹے کے دماغ پر سوار عشق کا بھوت اتر ہی نہیں رہا۔ گدھا اگلے سال ڈاکٹر بن جائے گا۔ ایک سے ایک بڑے گھرانے کی حسین لڑکی شادی کرنے کے لیے مری جا رہی ہوگی۔ یہی بہترین موقع ہے اونچی اڑان بھرنے کا۔ بھلا کسی دیو ٹائپ سول یا فوجی افسر کو سسر بناؤ۔ ہماری بھی شان بنے۔ کل کو سینہ تان کے کسی سے بات کر سکیں کہ فلاں کمشنریا جنرل ہمارا سمدھی ہے۔ سید بختیار احمد نے ابھی سے برھ بڑھ کر بغل گیر ہونا شروع کر دیا۔ اچھا بھلا صنعت کار ہے، میں خوب سمجھتا ہوں۔ جب اتفاقاً مجھ سے معلوم ہوا کہ میرا بیٹا میڈیکل کے آخری سال میں ہے تو رویہ دوستانہ ہوگیا ورنہ پہلے کبھی لفٹ نہ دی۔ واجبی سی علیک سلیک کیا کرتا تھا۔

ماں بیٹے کے مابین جاری گفتگو قدرے بلند آہنگ ہونے پر اکبر کی سوچوں کا سلسلہ منقطع ہوگیا۔ حسن ماں سے مخاطب ہوا: ’’امی! نرس کا پیشہ بہت مقدس ہے، اتنا ہی جتنا ڈاکٹر کا، بلکہ اس سے بھی زیادہ۔ زبیدہ بھی اسٹاف نرس ہے، اس کو ابا جی نے سگی بیٹی کی سی عزت کیوں دے رکھی ہے…؟‘‘

اکبر شاہ نے ہاتھ جھلا کر بیٹے کو آواز دھیمی رکھنے کا اشارہ دیا اور بولا: ’’کچن میں اس کی ماں سن رہی ہوگی۔ زبیدہ واقعی میری بیٹی ہے۔ اس نے بیماری میں جس طرح میری خدمت کی، وہ احسان میں ساری زندگی نہیں بھلا سکتا۔ ایسی نیک عورت اس شعبے میں خال خال ہی ہوگی ورنہ یہ پیشہ یوں ہی بدنام نہ ہوتا… اور تم ہوش کے ناخن لو۔ سیلف فنانس کے تحت تم پر بوری بھر کے نوٹ خرچ کیے ہیں، ہمارے ارمانوں کا خون نہ کرو…‘‘

بیوی نے میاں کو ٹوکتے ہوئے رازدارانہ لہجے میں کہا: ’’ہم آپس میں خفگی نہ کریں، زبیدہ آنے والی ہے، اس کو بتانے کی ضرورت ہی نہیں کہ ارم سے ہماری قریبی رشتہ داری ہے، اس سے صرف اتنا پوچھیں کہ عملے نے مل کر جو کمیٹی ڈال رکھی ہے، وہ اس ماہ کس کو ملی … بس، دودھ کا دودھ اور پانی کا پانی ہوجائے گا۔‘‘

حسن کے چہرے پر سخت مایوسی او ربے زاری کا تاثر ابھرا۔ اسی لمحے زبیدہ آن پہنچی۔ مہمانوں کو دیکھ کر اس کا چہرہ دمک اٹھا۔ گرم جوشی سے خیر مقدمی کلمات کہے۔ میاں بیوی نے شفقت سے سر پر ہاتھ پھیرا۔ اتنے میں کچن سے بوڑھی خاتون ٹرے میں چائے اور لوازمات کے برتن سجائے ڈرائنگ روم میں داخل ہوئی۔

تقریباً دس منٹ تک عام نوعیت کی گفتگو ہوئی ہوگی کہ اکبر نے بات گھما پھرا کر موجودہ حالات، مہنگائی اور سفید پوش طبقے کے مسائل پر بولنا شروع کر دیا: ’’بیٹی زبیدہ!ہم اچھے بھلے کاروباری لوگوں نے بھی بازار میں کمیٹیاں ڈال رکھی ہیں، سچی بات ہے، اس کے بغیر گزارہ ہی نہیں ہوتا۔ سنا ہے آپ کا تنخواہ دار طبقہ بھی اسی طرح کمیٹیاں ڈال کر موٹے خرچے پورے کرتا ہے…‘‘ زبیدہ لحظہ بھر خاموش رہ کر بولی: ’’انکل، مشورے ہی ہوتے رہتے ہیں زیادہ تر… بے چاروں کی پوری نہیں پڑتی، اس لیے ہر مرتبہ کمیٹی ڈالنے کا پروگرام آئندہ پر ٹال دیتے ہیں… ہر کوئی پہلی یا حد دوسری کمیٹی لینے پر اصرار کرنے لگتاہے لہٰذا بات نہیں بنتی…‘‘

میاںبیوی کے چہرے کھل اٹھے جب کہ بیٹے پر اوس پڑ گئی۔ اس کا ذہن دل کی گواہی تسلیم کر رہا تھا کہ ارم غلط نہیں ہوسکتی۔ ماں کو آس بھری نظروں سے دیکھا۔ فتح مندی کا احساس غالب آنے پر خاتون پرجوش ہوئی بیٹھی تھی۔ بیٹے سے نگاہیں ملتے ہی بے صبری ہوگئی اور بول پڑی: ’’لو جی! دودھ کا دودھ اور پانی کا پانی ہوگیا…‘‘ حسن کو سخت صدمہ پہنچا اور ارم سے قریبی رشتہ داری کے حوالے سے راز داری قائم رکھنے کی تجویز یکسر نظر انداز کردی۔ جل بھن کے ماں سے مخاطب ہوا ’’دودھ پھٹ کر بُس گیا ہے، جیسے معدے نے الٹ دیا ہو۔ بات صاف ہونی چاہیے…‘‘ ذرا توقف کر کے زبیدہ کی طرف متوجہ ہوا اور بولا: ’’سسٹر! آپ کی نئی کولیگ آئی ہے، دو ماہ پہلے، ارم نام کی۔ وہ اس ماہ کی تنخواہ کے علاوہ تقریباً اسی ہزار روپے کہاں سے لے گئی؟… کہتی ہے کمیٹی ڈالی تھی…‘‘

ارم کا نام سنتے ہی زبیدہ نے ہونٹ سکوڑ لیے اور ’’اوہ‘‘ کے سے انداز میں لمبی سانس خارج کر کے بول اٹھی ’’وہٹ اے نائس گرل…‘‘ کچھ زیادہ ہی نیک اور فرماں بردار بیٹی ہے۔ باپ کے لیے سخت پریشان تھی۔ مجھے Confidence میں لیا۔ میں نے ہی ڈاکٹر پرویز سے بات کی۔ انسانی ہمدردی کا سمبل ہیں ڈاکٹر صاحب۔ میں نے لڑکی کی مجبوری بتائی تو مان گئے۔ انہوں نے خود ہی ایک مال دار فیملی سے معاملہ طے کروا کے ارم کو لاکھ روپے دلوایا…‘‘

حسن نے بے چینی سے کرسی پر پہلو بدلا۔ باپ کے لبوں سے بے اختیار نکل گیا: چل لو وووجی! (چلو جی) اور پوچھو…‘‘ حسن پھٹ پڑا: ’’سسٹر! بات کلیئر ہونی چاہیے… کس بات کے لاکھ روپے؟؟…‘‘ زبیدہ کو گویا ہوش آگیا اور چونک اٹھی۔ مہمانوں کو ایک نظر دیکھا اور حسن سے مخاطب ہوئی: ’’کس بات کے دینے تھے!!! امیر عورت کا کڈنی ٹرانسپلانٹ ہونا تھا۔ ڈاکٹر پرویز، مریضوں کے لواحقین کو اپنا اپنا ڈونر لانے کا کہتے ہیں، خود اس معاملے میں Involve ہونا پسند نہیں کرتے۔

زبیدہ کو جیسے اچانک کوئی خیال آگیا اور حسن کو بغور دیکھ کر بولی: ’’اصل بات کیا ہے؟ ارم کو آپ لوگ کیسے جانتے ہیں؟ مجھے اس نے یہی کہا تھا کہ وہ گھر والوں کو اپنا گردہ ڈونیٹ کرنے کے بارے میں بالکل نہیں بتائے گی، ورنہ انہیں بہت دکھ ہوگا…‘‘lll

شیئر کیجیے
Default image
محمد الیاس

Leave a Reply