ادھوری کہانیاں

سنو! جب احساسات کھوکھلے، جذبات ادھورے اور الفاظ بے معنی ہوں تو کہانیاں مکمل ہو جاتی ہیں؟ اس کے چہرے پر معصومیت تھی یا طنز، میں سمجھ نہ سکی لیکن اس سوال پر چونکی ضروری۔

’’میں نے ایک نئی کہانی لکھی ہے‘‘ اس کے سوال کو یکسر نظر انداز کر کے میں نے اس کو معلومات دیں۔

’’جسکو بہترین کہانی کا اعزاز حاصل ہوگاہے نا؟‘‘

اب اس کے چہرے پر واضح طنز کا عنصر موجود تھا۔ ’’میں چاہتی ہوں کہ میں معاشرے کی عکاسی کروں، میرے الفاظ ہر دل کی صدا بن جائیں اور سسکتی ہوئی انسانیت کے دکھوں کا مداوا ہو۔‘‘ میں نے ایک بار پھر اس کی باتوں کا برا منائے بغیر اپنی بات کہہ دی۔

’’جب بہار میں بھی کسی دیمک زدہ درخت پر نئی کونپلیں نہیں پھوٹتیں تو اس پیڑ کی حسرت کو لفظوں کا روپ دے سکتی ہو؟ ایک پَر کٹا پرندہ پنجرے میں سے نکل کر جب فضاؤں میں محو پرواز طیور کو دیکھتاہے تو اس کی مایوسی کو لفظوں کا پہناوا پہنا سکتی ہو؟ تم اپنے لفظوں کا جال بچھا کر کسی بے گناہ قیدی کی سزا معاف کروا سکتی ہو؟ تم اپنے خیالات کا انجکشن لگا کر کسی غریب و بے بس بیمار کو تندرستی کی نوید سنا سکتی ہو؟ اپنے لفظوں کے ہیر پھیر سے معصوم لوگوں کا استحصال ہونے سے روک سکتی ہو؟

چلو اور کچھ نہیں تو بس اتنا کرو کہ اپنے قلم کی جادوگری سے ہر سال چند قابل اور ذہین طالب علموں کو ملک کی نامور یونیورسٹیوں میں داخلہ دلا دیا کرو۔ کہو! کیا کرسکتی ہو ایسا؟؟‘‘اس کا لہجہ اب سفاک ہوچکا تھا۔

’’لیکن…‘‘ میں نے اپنے دفاع میں کچھ کہنا چاہا، لیکن یہ کہ تمہارے الفاظ تمہارے ہونے کی گواہی تو دے سکتے ہیں تمہیں اعزازات اور انعامات تو عطا کروا سکتے ہیں، تمہاری عزت، طاقت، دولت اور شہرت کا سبب تو بن سکتے ہیں لیکن اس دہاڑی دار مزدور کو پھر بھی اسی دھوپ کی شدت میں چند روپیوں کے عوض کام کرنا پڑے گا، جس کی مجبوریوں کو اپنی کہانیوں کا عنوان بنا کر حلقہ اہل دانش میں تم اپنا مقام بناؤگی۔ وہ کم عمر بچے پھر بھی جھڑکیاں ہی سنیں گے اور اسکول جاتے بچوں کو حسرت سے دیکھیں گے، جن کے ’’چائلڈ لیبر قوانین‘‘ جب ان کے والدین کو بتائے جاتے ہیں تو وہ بے ھسی یا پھر شاید بے حسی سے پوچھتے ہیں کہ ان کو اسکول بیھیج دیں تو پیٹ کا جہنم کیسے بجھائیں؟ چلو یہ سب باتیں بھی چھوڑو صرف اتنا بتاؤ کہ ایک ان پڑھ، مزدور اور تعلیم سے بے بہرہ ایک بچے کو کیا معلوم کہ کوئی اس کے دکھوں سے کیسے کیسے قصر تعمیر کر رہا ہے؟‘‘

’’میں یہ سب اس لیے لکھتی ہوں تاکہ بااختیار لوگوں کو احساس ہو اور ان معصوم لوگوں کو ان کے حقوق مل سکیں۔‘‘ میں نے اسے سمجھانا چاہا۔

’’تو مل گئے ان کو ان کے حقوق؟‘‘ اس کے لہجے میں درشتی کو میں نے واضح محسوس کیا۔ ’’میں اپنے حصے کا کردار ادا کر رہی ہوں۔ اب اگلا کردار ان لوگوں کا ہے جو ذمہ دار ہیں۔‘‘ میں نے وضاحت کی۔

’’جو ذمہ دار اور بااختیار ہیں، وہ ان عہدوں پر متمکن ہونے سے پہلے حلف لیتے ہیں کہ وہ یہ ذمہ داریاں پوری کریں گے۔ انہیں رہ نمائی یا مشورے کی نہیں بلکہ دعا اور ہدایت کی ضرورت ہے۔‘‘ اس کے پاس ٹھوس دلائل موجود ہیں۔

’’پھر میں کیا کروں؟ کیا میں لکھنا چھوڑ دوں؟‘‘ میں نے بالآخر ہتھیار پھینک دیے۔

’’نہیں لکھنا نہ چھوڑو۔ لیکن جہاں تم معاشرے کی منفی تصویریں دکھا کر حساس قارئین کو آنسو بہانے پر مجبور کرتی ہو وہاں عمل کی رنگینی سے پڑھنے والے کی سوچ کو ایک نئی جہت عطا کرسکتی ہو۔‘‘’’مثلاً؟‘‘ میں نے پوچھا۔

’’مثلاً‘‘ …! اس کے چہرے پر مسکراہٹ پھیل گئی۔‘‘ بہت آسان سی بات ہے۔ اپنی تحریروں کے ذریعے تمہارا رابطہ ملک کے طول و عرض میں پھیلے ہر پڑھے لکھے شخص سے ہے۔ تم چائلڈ لیبر کی مذمت کرتے ہوئے ایسے لوگوں کو متحرک کرسکتی ہو کہ فارغ اوقات میں ان بچوں کو پڑھا دیا کریں۔پھر پرائیویٹ داخلے بھجوا کر ان بچوں کو بھی تعلیم کی روشنی سے بہرہ ور کریں تاکہ وہ باعزت روزگار حاصل کرسکیں۔ تم چلچلاتی دھوپ اور جاڑے کی ٹھنڈ میں کام کرنے والے غریب مزدوروں کی کسمپرسی بیان کرتے ہوئے تمام باروزگار افراد پر زور دو کہ وہ ہر ماہ اپنی تنخواہ میں سے زیادہ نہ سہی کچھ حصہ ان لوگوں کی مدد کے لیے ضرور وقف کریں۔

ہمارے ملک کے پسماندہ علاقوں میں آج بھی کسان روایتی طریقوں سے فصلیں اگانے پر مجبور ہیں۔ تم زرعی یونیورسٹیوں کے طالب علموں کو یہ چیلنج دے سکتی ہو کہ وہ ان علاقوں کا دورہ کریں اور ایسے کسانوں کو جدید طریقوں سے آگاہ کریں تاکہ ان کی استعداد کار میں اضافہ ہو اور اس اطرح ملک کے روزگار میں اضافہ ہو۔

معاشرے کا ناسور دریافت کر کے مختصراً میں یہ کہنا چاہوں گی کہ تم اپنے قارئین کو رونے اور ہاتھ پہ ہاتھ رکھ کر کڑھنے کی بجائے مثبت علم کے ذریعے کچھ کرنے اور بہتری لانے کی ترغیب دو اور یقین کرو کہ اگر تمہاری کسی تحریر سے کسی ایک فرد کی زندگی میں بھی تبدیلی آگئی تو یہ تمہارے لیے کسی نوبل انعام سے بھی بڑا اعزاز ہوگا۔‘‘ اس نے پُر یقین لہجے میں کہا:

اور میرے چہرے پر مسکراہٹ پھیل گئی۔ اس نے مجھے سوچنے کا ایک نیا انداز دے دیا تھا اور اب مجھے یقین تھا کہ میری کہانیاں ادھوری نہیں رہیں گی۔lll

شیئر کیجیے
Default image
عائشہ حنا

Leave a Reply