انتقام

آج مسلمانوں کے خاندانی نظام کو کیا خطرات در پیش ہیں؟

مسلم عورت کے بڑے مسائل کیا کیا ہیں؟ (تین بڑے مسائل کا ڈر)

مدت کے بعد امجد کا خط کیا آیا گھر میں عید ہوگئی۔ بہنوں میں چھینا جھپٹی شروع ہوگئی۔ ایک کہتی پہلے میں پڑھوں گی تو دوسری کہتی نہیں میں پہلے پڑھوں گی۔ ماں نے ڈانٹ پلائی، چلو اپنی جگہ جاکر بیٹھو پہلے مجھے پڑھ لینے دو۔ پتہ نہیں میرے بچے نے کیا لکھا ہے اور کس حال میں ہے۔ میرا دل تو اس کے لیے ہر وقت دھک دھک کرتا رہتاہے۔ اللہ ہی ہے جو اس سے خیریت سے ملائے اور یہی ہوا ماں نے خط پڑھا تو بے چینی اور بڑھ گئی۔ لکھا تھا ’’امی جان جب سے میں یہاں رضیہ کو لے کر آیا ہوں ایک دن بھی سکون سے نہیں گزرا۔ بس کیا بتاؤں غلطی کسی کی نہیں میری ہی ہے۔ آپ رمضانوں کی لڑکی شبو سے میری شادی کرنا چاہتی تھیں، جب کہ میں کہتا تھا کہ امی جان میں نے اتنا پڑھا، اتنی ساری ڈگریاں حاصل کیں کیا اس کے بعد بھی میں ایک ان پڑھ لڑکی سے شادی کرلوں۔ یا یہ کہ میں سروس چھوڑ کر گاؤں چلا آؤں اور کوئی دال آٹے کی دوکان لے کر بیٹھوں۔ بہرحال امی جان اب مجھے بہت افسوس ہو رہا ہے۔ اب ہمارا حال یہ ہے کہ میں نو بجے اپنے دفتر جاتا ہوں اور رضیہ اس کے ایک گھنٹہ بعد، لیکن اسے میری کوئی پرواہ نہیں کہ اس کی میرے تعلق سے بھی کوئی ذمہ داری ہے۔ آج تک ایک رومال بھی اس کے ہاتھ کا دھلا ہوا نصیب نہیں ہوا، البتہ شام کا کھانا کبھی کبھی ضرور مل جاتا ہے اور ہم لوگ اجنبیوں کی طرح ساتھ کھالیتے ہیں۔ مجھ سے وہ اپنی کسی ضرورت کے لیے کوئی پیسہ نہیں مانگتی لیکن یہ بھی آج تک بتا کر نہیں دیا خود کو کتنی سیلری ملتی ہے۔ اپنی تنخواہ بڑی چھپا کر رکھتی ہے۔ پتہ نہیں سروس پیشہ عورتوں کا یہ کیا رویہ ہوتا ہے کہ وہ خاوند یا اس کی تنخواہ کو نظر ہی میں نہیں لاتیں۔ جب کہ میں بہت سوں کو دیکھتا ہوں وہ بڑے سکون سے رہ رہے ہیں اور بچوں کی تعلیم بھی خوب چل رہی ہے۔ سامنے خالد صاحب ہیں، میاں بیوی دونوں سروس میں ہیں لیکن کوئی کشمکش نہیں۔ سلیم صاحب ہیں وہ اور ان کی اہلیہ دونوں کچھ دن تو سروس کرتے رہے جب ایک ڈلیوری ہوگئی تو خاوند نے کہا اللہ کا دیا سب کچھ ہے بیگم اب تم گھر ہی سنبھالو۔ اس لیے کہ اولاد کی پرورش ماں کی بھرپور توجہ کے بغیر نہیں ہوسکتی۔ رہا رزق تو وہ تو ملے گا ہی۔ یہاں ابھی کوئی بچہ بھی نہیں اور زندگی کا سفر ٹرین میں بیٹھے دو اجنبی مسافر کی طرح چل رہا ہے۔ بہرحال میں آرہا ہوں۔ رضیہ اب آپ کے پاس رہے گی۔ رہی کسی خوش خبری کی بات تو وہ وقت آنے پر دیکھا جائے گا۔ اچھا اللہ حافظ۔ آپ کا بیٹا امجد۔

ماں کو افسرہ دیکھ کر بچیوں سے نہ رہا گیا۔ اخر ماں سے خوشامد اور کچھ چھین جھپٹ کر کے بھیا کا خط قبضہ میں کر ہی لیا اور سارا خط پڑھ کر ماں سے بولیں، بھیا کو کہو بس بھابی کو لے کر آجائیں، اتنی اچھی تو بھابی ہیں بس ہمارے بھیا بھی یوں ہی ہیں۔ آنے دو۔ ہم اپنی بھابی کو خود ٹھیک کرلیں گے۔ اور پھر یہی ہوا۔ امجد تین دن بعد آگئے اور کسی کو ایئر پورٹ آنے کی بھی زحمت نہیں دی۔ بھیا بھابی کے آنے سے سب کو بہت خوشی ہوئی، رضیہ میں کوئی تبدیلی نہیں تھی، سوائے ایک تکلفاً مسکراہٹ کے۔

امجد رضیہ کو گھرچھوڑ کر حسب پروگرام واپس کینڈا چلے گئے۔ رضیہ کے لیے یہ ماحول اور بھی زیادہ اجنبی تھا۔ کہاں وہ انگریزی ماحول، وقت کی پابندی، صاف ستھرے لوگ۔ اپنے جس ماحول کو چھوڑ کر وہ کینڈا گئی تھیں اس میں ذرا اپنے آپ کو ڈھالنا شروع کیا ہی تھا کہ امجد کے فیصلہ کے سامنے جھکنا پڑا۔ کنیڈا سے پھر اپنی سرائے میں آجانا ایسا لگا جیسا کہ ایک پودا لگا یا جائے اور جب وہ ذرا جڑ پکڑ جائے تو اس کو اکھاڑ کر دوسری جگہ لگانے کی کوشش کی جائے۔ بہرحال اب رضیہ کے سامنے اس کے علاوہ اور کوئی راستہ نہیں تھا کہ وہ نئے سرے سے پھر اپنا مقام بنائے۔

امجد کے چلے جانے کے بعد رضیہ جو جمع پونجی اپنے ساتھ لائی تھی سب اپنی ساس اماں کے ہاتھ میں دے دی او رصفو اور نمو ں کو بٹھا کر کہا کہ آؤ اپنے گھر کا جائزہ لیں ہمیں کیا کیا کرنا ہے۔ رات دیر تک رضیہ اپنے ذہن میں نقشے بناتی رہی۔ صبح کو دونوں نندوں کے ہاتھ میں ایک ایک پرچہ تھما دیا کہ ہمیں یہ اور یہ کام کرنے ہیں۔ چھوٹے دیور ثاقب کے ہاتھ میں پرچہ دیا کہ تم کو فلاں فلاں سامان لانا ہے۔ اور پھر صبح ہی سے اپنے کام پر لگ گئی۔ ہفتہ بھر نہیں لگا تھا کہ گھر کا نقشہ ہی بدل گیا۔ جو کوئی بھی آتا وہ بڑی پھٹی پھٹی آنکھوں سے گھر کو دیکھتا۔ اب نہ گھر میں کوڑا تھا نہ پھٹے اور میلے کچیلے پردے اور نہ کونوں میں جالوں کا جنگل۔ باورچی خانہ صاف ستھرا اور برتن قرینہ سے سجے ہوئے سب چیزیں بلکہ گھر کا سارا ماحول ایسا لگتا تھا کہ جیسے کوئی شہر سے جنگل میں آکر آباد ہوگیا ہے۔

رضیہ نے گھر میں بنیادی تبدیلیوں کے بعد آس پاس کا جائزہ لیا اور ساس اماں سے کہہ کر ایک ہلکی پھلکی ضیافت کا اہتمام کر ڈالا۔ ضیافت بھی کوئی بڑی نہیں بلکہ عید کے موقع پر جو شیر وغیرہ بناتے ہیں بس وہی بنا ڈالی، کچھ ادھر ادھر پڑوس میں بھی بھیجی اور کچھ آنے جانے والی خواتین کو پیش کی۔ اگر کسی خاتون کے ساتھ کوئی بچہ ہوا تو اس کو اور زیادہ دیتی کیوںکہ بچے میٹھے سے زیادہ رغبت کرتے ہیں۔ ساتھ ہی جو بچے آتے ان کا نام پتہ، اسکول کا نام، کلاس اور مضمون خاص طور سے انگریزی وغیرہ بھی لکھ لیتیں۔ رضیہ کو کنیڈا میں کچھ انگریزی میں زیادہ ہی مہارت حاصل ہوگئی تھی اس وجہ سے انگلش میڈیم کے بچے رضیہ سے کچھ زیادہ ہی رغبت کرنے لگے۔

صبح کے معمولات میں اول وقت پابندی سے فجر کی نماز اور پھر تلاوت کلام پاک کا معمول بنایا اور رات کو بعد نماز عشا سیرتِ پاکؐ کا مطالعہ شروع کیا۔ پہلے پہلے تو خود شروع کیا اور پھر دونوںنندوں سے بھی کبھی کبھی پڑھوانے لگیں۔ ان بچاری انگلش میڈیم کی ماری طالبات کو بھلا ایسی باتوں سے کیا رغبت اورپھر اردو زبان۔ ایسا ہوگیا کہ جیسے شہر بھی نیا اور زبان بھی اجنبی۔ لیکن بھابی کی حکمت عملی نے بہت جلد دونوں کو رام کرلیا۔ اور ساس اماں بھی خوش۔ ان کو ایسا محسوس ہونے لگا جیسے وہ اندھیرے سے روشنی میں آرہی ہوں۔ رضیہ خاموشی کے ساتھ اور اعتماد سے اپنا کام کرتی رہیں اور پھر ایک دن رضیہ نے بچوں کا اجتماع کر ڈالا۔ بازار سے بیت سارے غبارے جھنڈیاں اور چھوٹے چھوٹے کھلونے رنگ برنگی بجانے کی سیٹیاں، بہت اچھا اجتماع بلکہ جلسہ رہا۔ بچوں نے خوب ادھم کاٹا۔ پھر جلسہ ختم ہونے پر سب کو غبارے، سیٹیاں وغیرہ دی گئیں اور بچے خوشی خوشی اپنے گھر کو چلے گئے۔ جلسہ کی وجہ سے بچے تو خوش ہوئے ہی ان کی مائیں بہت زیادہ خوش ہوئیں۔ نتیجتاً اپنے بچوں کی تربیت و ٹیوشن کے لیے کہنے لگیں، رضیہ نے انہیں تسلی دی انشاء اللہ آپ کے بچوں کی تعلیم و تربیت کا بہت اچھا بندوبست کیا جائے گا۔

آہستہ آہستہ وقت گزرتا رہا اور پھر ایک دن رضیہ نے خواتین کا اجتماع کر ڈالا۔ کچھ ابتدائی بات چیت کے بعد خواتین کے سامنے ایک سوال رکھا کہ ایک اچھے گھر میں کیا کیا ہونا چاہیے۔ عورتیں ایک دوسرے کا منہ تکنے لگیں کہ ہم تو رضیہ کا وعظ سننے آئے تھے اس نے تو ہمارے اوپر ہی بات ڈال دی۔ رضیہ نے کہا آپ پریشان نہ ہوں ہم سب ایک ہی سماج کا تو حصہ ہیں۔ اس میں کوئی بڑا چھوٹا نہیں۔ آؤ سب مل جل کر اس پر غور کریں کہ ایک گھر کو اچھا گھر کب کہتے ہیں۔ اب تو سب عورتوں نے جو مشکل سے دس بارہ ہوں گی بات چیت میں حصہ لینا بلکہ اپنی ذہانت کے گل بوٹے بکھیرنا شروع کردیے۔ شنو نے اپنی بات کہی۔ سب سے اچھا گھر وہ ہے جس میں بہت سارے کھلونے ہوں۔ اس کی ماں نے اس کو ڈانٹا نہیں سب سے اچھا گہرہ ہے جس میں صفائی ستھرائی ہو، ہوا دار ہو اور روشنی خوب ہو۔ ترنم نے کہا میری نظر میں سب سے اچھا گھر وہ ہے جہاں سب لوگ نمازی پرہیزگار ہوں اور پیار و محبت سے رہتے ہوں۔ بلقیس بولیں سب سے اچھا گھر وہ ہے جہاں قرآن پڑھا اور سمجھا جاتا ہو، اور سب لوگ پڑھنے لکھنے کے شوقین ہوں۔ سکینہ بولیں آپا سب سے اچھا گھر وہ ہے جس کے پڑوسی اچھے ہوں اور جہاں بڑوں کا ادب اور چھوٹے سے محبت کی جاتی ہو۔ حلیمہ بولیں میری نظر میں تو سب سے اچھا گہر وہ ہے جہاں نہ فضول خرچی ہو اور نہ قرض ہو۔ ایک بڑی بوڑھی نے چٹکی لی سچی بات یہ ہے کہ سب سے اچھا گھر وہ ہے جہاں خوب خاطر داری ہو اور دیکھو بھائی کسی کی چگلی گیبت (چغلی غیبت) نہ ہو۔ یہ اجتماع رضیہ او راس کی نندوں کو تو اچھا لگا ہی اس کی ساس اماں کو بہت اچھا لگا۔ ایک دو خواتین سراپا حیرت بنی بیٹھی رہیں ان کے وہم و گمان میں بھی نہیں تھا کہ اجتماع ایسا بھی ہوسکتا ہے اور اس میں اس طرح کی باتیں بھی سامنے آسکتی ہیں۔ اجتماع تو ختم ہوگیا مگر رضیہ رات بھر سوچتی رہی کہ مجھے کس کس زاویہ سے اور کیا کیا کام کرنا ہے۔ ساتھ ہی چپکے سے اٹھ کر دو رکعت نفل پڑھے اور اللہ تعالیٰ سے اپنے تئیں تائید و نصرت کی بڑی یکسوئی کے ساتھ دعا کی۔

وقت آہستہ آہستہ گزرتا رہا اور ماحول کی اس تبدیلی کی خوشی چہار جانب پھیلنے لگی۔ اب رضیہ کے پاس قرآن شریف اور اردو پڑھنے کے لیے بڑی بچیاں بھی آنے لگیں۔ اردو پڑھانے والا تو کوئی آس پاس کیا دور دور تک نہیں تھا اس لحاظ سے رضیہ کی عزت میں اور اضافہ ہونے لگا کہ وہ اردو کی اچھی سمجھ بوجھ رکھتی ہیں۔ بچیوں کی بڑھتی ہوئی تعداد کے پیش نظر گھر چھوٹا محسوس ہونے لگا۔ حسنِ اتفاق پاس ہی میں ایک بیوہ کا گھر بس ایسے ہی خستہ حالت میں پڑا ہوا تھا۔ رضیہ نے اپنی ساس اماں سے کہا کہ یہ جو حجن کا ٹوٹا پھوٹا مکان پڑا ہے اگر ٹھیک ہوجائے تو یہاں تعلیم کا بڑا اچھا مرکز بن سکتا ہے۔ ساس اماں نے کہا کہ بوا حجن کو تو میں راضی کرلوں گی مگر اس کو ٹھیک کرانا، اس پر ٹین کا شیڈ ڈلوانا یہ تو بڑے خرچ کا معاملہ ہے۔ ہاں اگر ہمارے یہاں کے فرید چیئرمین کی سمجھ میں آجائے تو پھر تو کوئی بات ہی نہیں۔ ان کا ایک دن معائنہ کرا دیا جائے تو بات آسان ہوجائے۔

رضیہ نے بس ایک دن بے دھڑک ہوکر فرید صاحب کا انگریزی میں خط لکھ ڈالا اور اپنے تعلیمی مرکز میں آنے کی دعوت دی۔ فرید صاحب کے سامنے یہ بالکل پہلا موقع تھا کہ کسی مسلم خاتون نے ان کو انگریزی میں پوری بے باکی سے خط لکھا ہو اور اپنے یہاں بچوں کے جلسے میں آنے کی دعوت دی ہو۔ تاریخ مقررہ پر اور دیے گئے وقت پر فرید صاحب اپنے اسٹاف کے ساتھ تشریف لے آئے۔ اُنہیں یہ دیکھ کر حیرت ہوئی کہ شہر کا سب سے گندہ اور پسماندہ علاقہ اتنا صاف ستھرا ہوگیا ہے اور میونسپلٹی کو کانوں کان خبر نہیں ہوئی۔ ہر گھر کا دروازہ صاف ستھرا۔ پردہ پڑا ہوا، دروازے پر کوڑے کا ٹین، گھر کے آگے کی نالیاں صاف، اور سب سے بڑی بات یہ کہ مرکز تعلیم کے آس پاس کے ہر گھر پر مالک مکان کے نام کی پلیٹ لگی ہوئی، جس پر اردو ہندی میں مالک کا نام۔ یہ سب دیکھ کر وہ بہت متاثر ہوئے۔ مرکز میں اندر تشریف لائے تو بچوں نے اہلاً و سہلاً کہہ کر استقبال کیا۔ ایک چھوٹے بچے نے نظامت کے فرائض انجام دیے اور اس سے بھی چھوٹے بچے نے صدارت کی کرسی کو رونق بخشی۔مہمان خصوصی چیئرمین صاحب تھے ہی۔ مختصر سی تلاوت کے بعد اس کا ترجمہ پیش کیا گیا۔ سب بچوں نے مل کر لب پہ آتی ہے دعا کو اتنے ہی احترام کے ساتھ پڑھا جتنا کہ جن گن من۔ راشٹریہ گان پڑھتے ہیں۔ اس کے بعد ’سارے جہاں سے اچھا ہندوستان ہمارا‘ کا کورس پیش کیا۔ بعد ازاں ناظم صاحب نے معلمہ رضیہ صاحبہ سے پس پردہ ’’ہم اور ہمارے مسائل‘‘ کے موضوع پر اظہارِ خیال کی دعوت دی۔ معلمہ صاحبہ نے اپنے علاقے کے صفائی و تعلیمی مسائل پر روشنی ڈالی اور سامنے خستہ حالت میں پڑے ہوئے مکان کی مرمت اور اس پر ایک ٹین شیڈ کی ضرورت کو پیش کیا تاکہ اس علاقے میں بچوں کی تعلیم و تربیت کا معقول بندوبست کیا جاسکے۔ فرید صاحب کے وہم و گمان میں بھی یہ باتیں نہ تھیں اور پھر یہ کہ ایک خاتون نے جس جسارت کے ساتھ ان کو پیش کیا یہ امر خود ان کے لیے حیران کن تھا اور جب ان کو بتایا گیا کہ جو کچھ آپ دیکھ رہے ہیں، سب چھ سات مہینے کی محنت کا نتیجہ ہے اس پر تو ان کو یقین ہی نہیں آرہا تھا۔ ان تمام امور کی فرید صاحب نے اس طرح قدر دانی کی کہ پہلے تو دو ہزار روپے کا چیک کاٹ کر پیش کیا۔ شیڈ کی منظوری دی اور ساتھ ہی گھر کی مرمت کی اور اس جملہ پر تو دیر تک تالیاں بجتی رہیں کہ ’’یہ محلہ اور علاقہ ہمارا نمونے کا محلہ ہے اور ہم سارے شہر کو اس محلے جیسا بنائیں گے۔‘‘

فرید صاحب کی آمد کو میڈیا اور اخبارات نے بھی خوب کوریج دیا اور اس طرح رضیہ سارے محلہ کی آنکھ کا تارا بن گئیں۔ اب جس کی (خاص طور سے خواتین کی) جو ضرورت ہو وہ رضیہ کے پاس چلی آتی۔ رضیہ نے اپنے یہاں میڈیکل کیمپ بھی لگویا۔ اس سے ڈاکٹروں کے حلقے میں بھی وہ کافی معروف ہوگئیں اور کچھ ہی دنوں میں ڈاکٹر ثریا اور ڈاکٹر ببیتا رضیہ کی بہت گہری دوست بن گئیں۔

اب رضیہ کو کنیڈا سے آئے تقریباً آٹھ ماہ ہوچکے تھے۔ غربا و مساکین کی امداد، اجتماعات، سب سلسلے چل ہی رہے تھے ساتھ ہی خواتین رضیہ کی ساس اماں سے دل کی بات بھی کہہ دیتی تھیں۔ اماں جی جی بھر کے مٹھائی کھانہ ہے بس اللہ وہ دن لائے او رایک دن اللہ وہ دن لے ہی آیا۔ پاس پڑوس کی عورتوں نے جب سنا کہ رضیہ کے تو لڑکی ہوئی ہے تو کوئی خاص خوشی نہیں ہوئی وہ تو لڑکے کی آس لگائے بیٹھی تھیں لیکن ان کے سب اندیشہ غلط ثابت ہوئے جب رضیہ کے گھر بھر میں بچی کی آمد پر غیر معمولی خوشی کا اظہا رکیا گیا اور ہر آنے والی خاتون کی خوب تواضع کی گئی۔

امجد کو بہنوں کے ذریعہ چیدہ چیدہ خبریں ملتی رہتی تھیں لیکن اس پورے عرصہ میں رضیہ کا ایک آدھ ہی خط ملا تھا جس میں کوئی تفصیل کسی طرح کی نہ ہوتی۔ البتہ جب امجد کو بیٹی کی پیدائش کی اطلاع ملی تو ایک دم پدرانہ محبت عود کر آئی اور پل بھر میں گھر پہنچنے کے لیے وہ بے چین ہونے لگے۔ چھٹی کے لیے بہت ہاتھ پیر مارے، اپنے سینئر سے شفارش کرائی مگر دس دن سے قبل چھٹی دینے کو جنرل منیجر نے صاف انکار کر دیا۔ اس کی بھی مجبوری تھی۔ کام ہی ایسا تھا۔ امجد ہی اس کے انچارج تھے۔ بہرحال ایک ایک گھڑی گن کے دس دن پورے ہوئے او ردسویں دن چھٹی کا پروانہ امجد کے ہاتھ میں دے دیا گیا۔

امجد پہلی فلائٹ سے دہلی اور دہلی سے صبح آٹھ بجے بابو گڑھ پہنچ گئے۔ اور چند ساعتوں میں اپنے گھر کے دروازے پر ہارن بجا دیا۔ ٹیکسی سے تو گھر کے سامنے جیسے ہی اترے سامنے لکھا پایا کاشانئہ امجد۔ امجد بورڈ پر نظر ڈالتے ہی پانی پانی ہوگئے اسی اثنا میں نموں اور صفوں بھی آگئیں اور پھر والدہ بھی۔ امجد نے گھر میں قدم رکھا۔ ارے اتنی صفائی، یہ رنگ روغن، اے اللہ میں یہ کیا دیکھ رہا ہوں۔ صفو اور نمو نے کہا بھیا کیا دیکھ رہے ہولو یہ سنبھالو۔ حضرت محمدؐ کا سلام اپنی بیٹی صبیحہ کو مگر چھونے جب دیں گے جب پھوپیوں کا حق ادا کروگے۔ امجد کے پاس اس کا کوئی جواب نہیں تھا سوائے بھیکی پلکوں کے۔

ماں نے کہا چلو پہلے کھا پی لو۔ میرا بچہ جانے کب کا چلاہوا ہے پتہ نہیں کچھ کھایا پیا بھی ہے کہ نہیں۔ بہرحال تھوڑی سی چائے پی کر پھر ڈھنگ سے منہ ہاتھ دھویا اتنے میں سارے آس پڑوس میں شور مچ گیا صبیحہ کے ابو آگئے، صبیحہ کے ابو آگئے۔

ناشتہ پانی سے فراغت ہوئی تو ملنے جلنے والے آنے لگے۔ پاس پڑوس کی عورتیں لڑکیاں تو نہ جانے کتنی جمع ہوگئیں۔ شام تک یہی سلسلہ چلتا رہا۔ جو عورت آتی ایک ہی بات کہتی۔ بیٹا امجد تونے بہت ہی اچھا کیا جو اسے رجیہ (رضیہ) کو چھوڑ گیا۔ اس نے تو ہماری کایا ہی پلٹ دی۔ دیکھ ہمارے گھروں میں ہمارے محلے میں کیسی صفائی رہنے لگی۔ ہماری نوجوان بیٹیوں کے سروں پر دو پٹے اور ہاتھ میں قرآن، کاپی قلم آگیا۔ کوئی کہتی بیٹے تیری بوؤ۔ (بہو) نے ہمارے سارے گھروں کے دروازوں پر پردے لٹکوا دیے اور یہی نہیں ناموں کی تختیاں بھی لگو ا دیں۔ کوئی کہتی ہمارے بچوں میں اس نے پڑھنے لکھنے کی لگن پیدا کردی۔ کوئی کہتی میرے پاس کبھی چار پیسے بھی جمع نہیں ہوئے۔ جو آیا کھایا۔ تیری بیوی نے بیت المال والے کو بلوا کر سب کے دس روپے روز کے کھاتے کھلوا دیے۔ اب میری کتاب میں پورے پندرہ سو روپے ہیں۔ اللہ نے چاہا تو میں بس جلد ہی اپنی بیٹی کا منہ لپیٹا کردوں گی۔ کئی بڑی بچیاں مل کر آئیں۔ چچا ہم تو اتنے بڑے ہوگئے تھے کہ کسی اسکول میں داخل ہی نہیں ہوسکتے تھے چودہ پندرہ سال کے ہوکر بھی ہم نے کسی اسکول کا منہ نہیں دیکھا، بس یہ چچی رضیہ فرشتہ بن کر آگئیں۔ اب یہ پڑوس میں اسکول بن گیا ہے۔ یہاں کے چیئرمین نے اس کو بنوا دیا ہے او ریہ چچی ہمیں صبح شام کو پڑھاتی ہیں۔ آپ نے کنیڈا میں چچی پر کیا جادو کر دیا تھا جو ان میں اتنی ساری خوبیاں پیدا ہوگئیں۔ بہرحال شام تک جتنی منہ اتنی بلکہ اس سے زیادہ باتیں ہوتی رہیں۔ امجد نے اپنا کمرہ دیکھا تو دل باغ باغ ہوگیا۔ امجد کی تمام کتب بڑے قرینے سے سجی تھیں۔ ہر کتاب کی جلد پر اچھا موٹا کاغذ چڑھا تھا۔ پرانی کتابوں کے علاوہ نئی کتب بھی تھیں۔

رضیہ نے تفاسیر قرآن، احادیث مبارکہ کا سیٹ، تاریخ اسلام، علامہ اقبال کا پورا کلام وغیرہ وغیرہ بڑی نفاست اور قرینے سے الماریوں میں لگا رکھا تھا۔ اور کنیڈا سے چلتے وقت ایئر پورٹ پر جو تصویر لی تھی وہ بھی بڑے نمایاں انداز میں لگی تھی۔

شام ہونے کو آرہی تھی ابھی تک امجد اور رضیہ بس ایک دوسرے کو دیکھ ہی رہے تھے، بات چیت کا موقع ہی نہیں ملا تھا۔ شام کو جب دونوں اپنے بالا خانے پر گئے تو امجد نے فرطِ مسرت اور بھیگی پلکوں سے رضیہ سے ایک ہی سوال کیا۔ رضیہ یہ اتنی بڑی تبدیلی کیا واقعہ تبدیلی ہے یا انتقام۔lll

شیئر کیجیے
Default image
ڈاکٹر محمد داؤد نگینہ

Leave a Reply