دعوتی نقطۂ نظر: اصلاح کی ضرورت

ایک روز پہلے واٹس گروپ پر ہمارے ایک رفیق نے دو تصویریں پوسٹ کیں، جس میں ایک صاحب اپنے کلینک میں بیٹھ کر بعض ہندو خواتین سے راکھی بندھوا رہے تھے۔اس کے نیچے صاحبِ تصویر کی ایک تحریر بھی ہے جس سے اندازہ ہوتا ہے کہ انھوں نے ان تصاویر کو کہیں اور (فیس بُک وغیرہ ) پر بھی شائع کیا ہے۔ اس پر لوگوں کی طرف سے اعتراض کیا گیا ، جس کا دفاع انھوں نے اس انداز میں کیا ہے: ’’راکھی کے تیوہار میں کلائی پر راکھی باندھنا کوئی شرکیہ فعل نہیں۔ ہم لوگ داعی گروہ سے تعلق رکھتے ہیں، دعوتی نقطۂ نظر سے اس میں کوئی ممانعت نہیں ۔ اپنے دل کو کشادہ کیجیے، تنگی مت پیدا کیجیے۔ اللہ کے رسولؐ کشادگی اور آسانی سکھا کر دنیا سے رخصت ہوئے، اسی کی تربیت آپؐ نے صحابہ کرامؓ کو دی ۔۔۔‘‘

کیا ’دعوتی نقطۂ نظر‘نے ہمیں کچھ زیادہ ہی توسع پسندی اور کشادگی اختیار کرنے کا خوگر نہیں کر دیا ہے؟ اس دعوتی نقطۂ نظر نے ہمیں ہر وہ کام کرنے کی آزادی دے دی ہے جسے ہم عام حالات میں نہیں کر سکتے۔ آپ کسی غیر مسلم کے کسی فنکشن، کسی رسم و رواج، کسی تیوہار وغیرہ میں شریک ہونا چاہتے ہیں، تو ہوں، بس شرط یہ ہے کہ اس کے آگے پیچھے دعوتی نقطۂ نظر کا لاحقہ لگا دیجیے۔ پھر آپ کے اس عمل سے دعوت کا کام چاہے رتّی بھر نہ ہوا ہو، بلکہ آئندہ کے لیے دعوتی راہ کا دروازہ کشادہ ہونے کے بجائے تنگ بھی ہو گیا ہو، تب بھی آپ کارِ دعوت کے بڑے خادم قرار پائیں گے۔دعوتی نقطۂ نظر سے ان کے مندروں، چرچوں اور عبادت گاہوں میں جائیے، مورتیوں کے سامنے ہاتھ جوڑ کر، سر جھکا کر کھڑے ہوں،اگر آپ ان کے محلّے میں رہتے ہیں، تو ان کے تیوہاروں پر انھی کی طرح اپنے گھروں کو چراغاں کیجیے، ورنہ کل وہ آپ سے بات بھی نہیں کریں گے اور آپ کے لیے ان سے دعوتی گفتگو کرنا ناممکن ہو جائے گا۔یعنی آپ جو چاہے کریں لیکن وہ عمل دعوتی نقطۂ نظر سے ہونا چاہیے۔ یہ پروا کرنے کی کوئی ضرورت نہیں کہ فی الواقع اس سے دعوتی کام ہوگا یا نہیں۔چنانچہ اب ہم نے یہی روش اختیارکر لی ہے کہ ہم دعوت کا کام کم ، بلکہ نہیں کرتے، لیکن دعوتی نقطۂ نظر سے وہ سارے کام انجام دینے کے لیے تیار رہتے ہیں، جن کا فریضۂ دعوت سے کوئی تعلق نہیں ہے ، یا اگر ہو بھی سکتا ہے تو ایسا نہیں کہ دعوت کا آغاز ہی اسی سے کیا جائے۔

غور کیجیے کیا ہمیں اللہ کے رسولﷺ نے اسی کشادگی کی تعلیم دی ہے؟! آپ غیر مسلموں کی کن مذہبی تقریبات میں شریک ہوئے؟آپؐ کفار و مشرکین کے کن تیوہاروں میں شریک ہونے کے لیے ان کے گھروں کی طرف نکلے؟

ایک اور پہلو سے غور کیجیے۔ جن خواتین نے راکھی باندھی ہے، وہ کوئی باہر کی خواتین نہیں ہوں گی۔ ان کے اپنے محلے اور شہر کی ہی خواتین ہوں گی۔ ان کے ہاتھوں سے راکھی بندھوانے سے پہلے کیا کبھی انھوں نے ان خواتین تک اسلام کی وہ تعلیمات بھی پہنچائی ہیں جو خواتین کے سلسلے میں دی گئی ہیں۔ کیا انھیں یہ بتایا گیا کہ اسلام نے خواتین کے جسم و جان، عزت و عفت کی حفاظت کا جو انتظام کیا ہے، وہ دنیا کا مثالی ترین انتظام ہے؟ اگر انھوں نے واقعی یہ تعلیم ان تک پہنچائی ہوتی، تو شاید خود ان کی طبیعت یہ گوارا نہ کرتی کہ ان سے راکھی بندھوائیں۔

ایک سوال یہ بھی ہے کہ کیا اس طرح غیر محرم عورتوں کے ہاتھوں سے اپنے ہاتھوں کا لمس کرانا جائز ہے؟ اللہ کے رسولﷺ کا تو یہ حال تھا کہ وہ خواتین سے بیعت لیتے تو خاتون کے ہاتھ کو اپنے ہاتھ کی کھال سے مس نہ ہونے دیتے۔ جب ان سے بیعت لیتے تو اپنے ہاتھ پر کوئی کپڑا رکھ لیتے۔

ایک سوال یہ بھی ہے کہ کیا کسی عمل کا محض شرک سے پاک ہونا اس بات کے لیے کافی ہو سکتا ہے کہ اسے اختیار کر لیا جائے؟کیا یہ دیکھنا ضروری نہیں کہ اس عمل کے نتائج کن کن صورتوں میں ظاہر ہو سکتے ہیں، یا اس کے کچھ سائڈ افیکٹ بھی ہو سکتے ہیں۔اللہ کے رسولﷺ کا حکم یہ ہے کہ جس نے دوسری قوم کی مشابہت اختیار کی وہ اسی قوم کے جیسا ہو گیا۔اس حکم کا دائرہ صرف شرکیہ افعال و اعمال تک محدود نہیں ہے، بلکہ اس میں وہ تمام چیزیں شامل ہیں جو کسی قوم کی مذہبی و تہذیبی شناخت کے طور پر معروف ہیں۔

دعوتی نقطۂ نظر کا یہ ’وسیع‘ تصور آیا کہاں سے؟ اس پر غور کیا جائے تو بات سمجھ میں آجاتی ہے ۔ یہ دعوت کو سیاست اور حالات کے تابع کرنے کی دین ہے۔ ہم دعوت کے فوائد بھی اسی نگاہ سے دیکھتے ہیں جس نگاہ سے ایک سیاست داں اپنا سیاسی فائدہ دیکھتا ہے۔دعوت میں سیکولرزم کی آمیزش نے بھی دعوتی نقطۂ نظر کے اس تصور کو جگہ دی ہے۔ ہم کام تو کرتے ہیں سیکولرز م سے متاثر ہو کر، ہم دنیا کو تو یہ دکھانا چاہتے ہیں کہ ہم کوئی داعی واعی گروہ نہیں ہیں، ہم تو تمھاری طرح سیکولر ہیں۔ ہمارے اندر اتنی ہمت نہیں کہ ہم یہ کہہ کر انکار کر سکیں کہ ہم تو اللہ اور اس کے رسول کے چاہنے والے ہیں۔ ہمیں ان سب کاموں سے کیا سروکار۔ اور جب کوئی ہمارے اس رویے پر اعتراض کرتا ہے، فوراً دعوتی نقطۂ نظر کا ٹیگ لگا کر اعتراض کو اپنے پلّو سے جھٹک دیتے ہیں۔

حقیت یہ ہے کہ دعوت کے کام کو کچھ مخصوص حالات و اعمال سے جوڑا نہیں جا سکتا۔ حالات موافق ہوں یا غیر موافق، سازگار ہوں یا ناسازگار، کوئی بات سننے والا ہو یا نہ ہو، دعوت ہر حال میں دینی ہے۔ اس کے لیے یہ قطعی ضروری نہیں ہے کہ پہلے لوگوں کے خوشی و غم کے مواقع میں شریک ہو کر انھیں اپنے سے قریب کیا جائے، انھیں پہلے اس حد پر لایا جائے کہ وہ ہماری بات سن سکیں۔ان کے تیوہاروں ، اور مذہبی و ثقافتی رسوم و رواج میں دعوتی نقطۂ نظر سے حصہ لیا جائے اور جب تک یہ کام مکمل نہ ہو جائے انھیں دعوت دینے کا کام موخر رکھا جائے۔ یعنی دعوت دی ہی نہ جائے۔

اصل میں دعوت تو کچھ اور ہی ہے، یہ تو ایک مطلق عمل ہے جسے ہر حال میں صرف دعوت ہی کے مقصد سے انجام دینا ہے۔ اللہ کے رسولﷺ غارِ خرا سے نکلے تو سیدھے توحید کا اعلان کرتے ہوئے نکلے۔ اور حقیقت یہ ہے کہ آج کے دور میں اس کی ہمت ہم میں سے کسی میں نہیں، نہ آپ میں ، نہ مجھ میں۔lll

شیئر کیجیے
Default image
تنویر آفاقی

Leave a Reply