مغربی تہذیب کے اثرات مسلم سماج میں

یہ تو سچ ہے کہ مغربی تہذیب کی رنگا رنگی، دلکشی اور پرفریب نعروں سے مسلم سماج بھی، خصوصًاصنف نازک، بہت متائثر ہوگئی ہے ۔ کیونکہ حقیقت کا تو بعد میں اندازہ ہوتا ہے اور خمیازہ بھگتنا پڑتا ہے۔ پہلے پہل تو ۔۔۔ نظر کو خیرہ کرتی ہے۔ چمک تہذیب حاضر کی یہ صناعی مگر جھوٹے نگوں کی ریزہ کاری ہے ۔

کمزور طبقہ کیوںسب سے پہلے مائل ہوتاہے؟ اس کی وجہ یہ ہے کہ وہ کمزور ہوتا ہے، مظلوم ہوتا ہے، اس کا حق مارا جارہا ہوتا ہے ۔نئی تہذیب، نئی آواز ، نئی دعوت اپنے کو معروف اور مشہور کرنے کے لئے خوشنما نعروں، وعدوں اور فائدوں کا سہارا لیتی ہے۔ دین اسلام میں ایسا کچھ نہیں تھا۔ کیونکہ وہ تو دین فطری تھا۔ اسلام کو اللہ تعالیٰ نے ہمارے لئے پسند فرمایا تھا مگر بدقسمتی سے عالم اسلام اور خصوصا ًہندوستانی مسلمان دوسروں سے مرعوب ہوگئے ۔

ایسے میں ہندوستانی مسلمانوں خصوصاً عورتوں نے غیر مسلم طبقہ کے رسم ورواج کو خوب اپنایااور اس کا اثر نئی نسل پر پڑا۔جلتی پر تیل کا کام جس چیز نے کیا وہ ہمارے مسلم مرد حضرات کا نازیبا رویہ تھا ۔ انہوں نے بھی آپؐ کے طرز زندگی، طور طریقوں اور خدا ترسی کو چھوڑ کر غیر اسلامی طور طریقوں، رسم ورواج کو اپنایا اور افراط وتفریط کا شکا ر ہوگئے ۔ عورتوں کو ان کا جائز حق نہیں دیا ۔ جو حقوق اسلام نے عورتوں کو دئے تھے و ہ مردوں کی خود غرضی اور خود پرستی کی نظر ہوگئے ۔ اب مسلم سماج میں ایک طرف حسینہ واجد اور خالدہ ضیاء قوموں کا بیڑا غرق کررہی ہیں تو دوسری طرف مزدور عورت، کسان عورت یا پھر وہ جو مرد کو بھی کما کر کھلائے تو جینے کا حق پاتی ہے ورنہ نہیں ۔

بیٹی کو وراثت میں حصہ دینا ، شادی کے وقت لڑکی سے اجازت لینا، عورتوں کا ادب واحترام ، ماں کی خدمت ، بہن کی دلجوئی، بیویوں کو آبگینہ سمجھنا ، مہر ادا کرنا ، عورتوں کی کفالت کو اپنا فرض سمجھنا مسلم سماج میں بھی کم ہوگیابلکہ ختم ہوگیاہے۔تونتیجتاً عورت مظلوم، مجبور اور کمزور ہوگئی۔ اس سے نسلوں پر اثر پڑا اور نتیجہ ہمارے سامنے ہے کہ مسلم عورتوں کو بھی مغربی تہذیب میں کشش محسوس ہوتی ہے۔

جس علم کی تاثیر سے زن ہوتی ہے نازن

کہتے ہیں اسی علم کو ارباب ِنظر موت

آجکل پڑھے لکھے (جاہل) نوجوان عورتیں اور مرد بڑے بڑے گھنونے کاموں اور بے حیائی کے گناہوں میں ملوّث ہیں ۔کم سے کم ہم مسلمانوں کو یہ کرنا چاہیے کہ باشعور مسلمانوں کو جمع کریں ،ان کی کمزروریوں اور غلطیوں سے صرف نظر کریں، ایک دوسرے کو معاف کرنا اور ایک دوسرے کی کوتاہیوں کو نظر انداز کرنا سکھیں، پھر نفع بخش علم یعنی قرآن حدیث کا علم دین اسلام کی ابتدائی تعلیم سے لیکر ہوسکے تو اعلیٰ پایہ تک کی تعلیم سے مرد خواتین کو بحرہ مند کریں ۔ کم از کم بنیاد میں یعنی بچے کے ذہن میں توحید ، رسالت ، آخرت پر پختہ یقین پیوست کردیا جائے ۔ ابتدائی تعلیم خالص دینی ہو۔ویسے حقیقت یہ ہے کہ ہر وہ علم جو نفع بخش ہو، ناصرف ضروری بلکہ اس کا حاصل کرنا عین لازم ہے۔ طَلَبُ الْعِلْمِ فریضۃعَلیٰ کُلِّ مُسْلِم۔ خواہ وہ سائنسی علم ہو یا طبّی یا جغرافیائی یا تاریخی، کیمیاوی یا علمِ نجوم، علمِ فلکیات، علمِ نباتات، علم حیاتیات یا کوئی بھی۔

علم اگر اس ہدایت ربانی سے خالی ہو تو وہ شیطانی اور غیر نفع بخش بلکہ انتہائی مضر اور تکلیف دہ بن جائے گا۔پھر اس علم سے انسان وہ ایٹم بم بنائیگا جو ہیرو شیما اور ناگا ساکی کی بربادی اور انسانیت کی تباہی کا پیش خیمہ ثابت ہوگا۔

لہٰذا غور اس بات پر کرنا ہے کہ کس طرح اپنے معاشرے کو مغربی تہذیب کے اثرات سے بچایا جائے۔ اس کے لئے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے اسو ہ حسنہ کو دیکھنا ہوگا کیونکہ آپؐ کی بعثت کے وقت کا دور ہمارے حالیہ پر آشوب دور سے کہیں زیادہ بدتر تھا ۔مُوحِّد اور شرک سے پاک زندگی گزارنے والے ا ِکَّادُکّاَ تھے، شراب سے پرہیز کرنے والے بھی نہایت قلیل، عورتوں کی عزت کرنے والے اس بھی زیادہ قلیل، حیا کو اختیار کرنے والے اور فحاشی سے اجتناب کرنے والے بہت ہی کم تھے ۔ خواندہ لوگوں کی تعداد نہ ہونے کے برابر تھی ۔یہ ٹھیک ہے کام مشکل ہے اور راہ کٹھن، مگر آخرت کے طلبگار اور رضائے الٰہی کے متلاشی ہر اس کا م کوکرنے کی سعی کرتے ہیں جو ان کو رب العزت کے قریب کردے۔

دین اسلام نصیحت وخیر خواہی کا دین ہے۔ اگر معاشرے میں خیر خواہی اور خلوص قائم ہوگیا تو مانو فسادات کی جڑیں ہی اکھڑ گئیں۔ جس دین میں بتایا گیا ہوکہ عورتوں کے ساتھ معروف طریقے سے رہو اور ان کی نافرمانیوں پر بھی ان کو سمجھائو،وعظ ونصیحت کرواور جو یہ فرمائے کہ قوْ انفُسکم و اھلیکم نارا ’’خود اپنے آپ کو اور اپنے اہل وعیال کو آگ سے بچائو۔‘‘ اس کا مطلب گھروالوں یعنی بیوی بچوں سے ہے اور بیوی یعنی عورت کے بغیر بچوں یا گھر کا تصور ہی نہیں ۔بیوی بچوں کو جنت کا حق داربنا نا اور جہنم سے خلاصی دلانا ،محبت اورخلوص سے ہی ممکن ہے۔ آپؐ سے اللہ تعالیٰ نے فرمایا لَسْتَ عَلَیْھِمْ بِمُصَیْطِرْ یعنی آپ ؐ ان پر داروغہ نہیں ہیں ۔ ایک طرف تو حکیمانہ انداز میں مشفقانہ طریقے سے ان کو سمجھانا ہوگا کہ ۔۔۔

دوسری طرف پیارومحبت سے ان کو انکے جائز حقوق دیکر ان کوخود اعتمادی عطا کی جائے اور عقل و دانش بڑھائی جائے۔ یعنی سوناہی اتنا پہنادیا جائے کہ وہ کسی چمکتی ہوئی چیز کی طرف دیکھیں بھی نہیں۔خوف ِخدا، خیالِ آخرت اور مسلم امت کا اتحاد ہر مسئلہ کا حل ہے۔

اس ضمن میں اورنگ زیب کی کہانی مشعل راہ بن سکتی ہے۔ اورنگ زیب عالمگیر بڑا خدا ترس تھا۔ بادشاہِ وقت کا خوفِ خدا اور خیال آخرت سے یوں لرزاں ترساں رہنا لوگوں کو ہضم نہ ہوتا تھا ۔ایک بار کسی غیرملکی مہمان نے پوچھ ہی لیا ،’’عالم پناہ۔۔۔ یہ آگ اور پانی کی یکجائی ’’چہ معنی دارد‘‘؟جواب سب کو معلوم ہے۔ اورنگ زیب نے حکم دیا کہ آج بازار خصوصی طور پر سجائے جائیںاور اعلان کردیاکہ آج ہمارے ایک مہمان بازار کی سیر کو آرہے ہیں ۔شام کو جب بازار پوری طریقے سے سج سنور گئے تو اورنگیزب نے اپنے اس مہمان کے ہاتھ میں پانی سے لبالب بھرا پیالہ دے دیا اور ان کے ساتھ میں فوجیوں، سپاہیوں اور درباریوں کو لگا دیااور حکم دیاکہ ہمارے مہمان کو بازار کی رونق کی سیر کرائواور خیال رہے کہ پیالے میں سے ذرا سا بھی پانی ناگرے۔ اوراگر ایک قطرہ پانی بھی گرے تو وہیں اس کی گردن ماردی جائے۔

مہمان ہاتھ میںپانی سے لبا لب پیالہ لیکر بازار کی رونق دیکھنے کے لئے نکلا۔اس کے پیچھے ہاتھ میں ننگی تلوار لئے جلاد چل رہا تھا۔ خوف سے مہمان کی پیشانی پر پسینہ چھلک رہا تھا اور نگاہیں پانی سے بھرے پیالے پر جمی ہوئی تھیں۔ کیونکہ اسکو اس بات کا احساس تھا کہ ایک بھی قطرہ پانی چھلکنے کی صورت میں جلاد اس کی گردن ماردے گا۔اس عالم میں بازار کی رونق دیکھنے کے بعد جب مہمان واپس آیا توبادشاہ پوچھتا ہے،” کہئے جناب ہمارے بازار اوراسکی رونق و سج دھج کیسی لگی ” ؟ مہمان لرزتی ہوئی آواز میں کہنے لگا ، ” اے بادشاہ ایک لمحہ کے لئے بھی میری نظر پیالے پر سے نہیں ہٹی تو میں سجے سنورے بازار کیا دیکھتا "؟ ۔بادشاہ نے کہا، ” یہ ہے آگ اور پانی کی یکجائی” ۔ یعنی اس دنیا میں رہتے ہوئے بھی اپنے خالق کی یاد سے ایک لمحے کو بھی بے خبر نہ ہونا اور معاً اس کی سمجھ میں آجاتاہے کہ کیا چیز بادشاہ کو عیاشی اور لہو لعب سے دور کئے ہوئے ہے۔ یعنی فکر آخرت اور اللہ کی پکڑ کا خوف ۔۔۔ہمیں بھی خوف خدا پیدا کرنا ہوگا۔ آخرت کی فکر ذہنوں پر طاری کرنی ہوگی ، اصلی کا میابی کی طرف چلنا ہوگا۔

ہمیں عورتوں کوحقوق دینے ہونگے، انکی صحیح تعلیم و تربیت کرنی ہوگی ،ننھی کلیوں کو جن کی گود میں نسلیں پلتیں ہیں ،علم دین کے زیور سے آراستہ کرنا ہوگا۔

تبھی مغربی تہذیب ہویاشیطانی وسوسے یا دجّالی فتنے ،ہر خرابی پریشانی اور ناگہانی آفات سے بچ پائیں گے ۔lll

شیئر کیجیے
Default image
عارفہ محسنہ

Leave a Reply