غزل

شہر محبت میں جب تیری چاہت کا دربار لگا

مہر و وفا، ایثار، جوانی ہر شئے کا بازار لگا

جوش جنوں کا پاس اگر ہے عقل و خرد کی فکروں میں

ہاتھوں میں تلوار نہین ہے، لڑنے کو تیار لگا

کھوج ہوئی جب میری مجھ میں مجھ کو پانا مشکل تھا

میری ذات کا اک اک پہلو مجھ سے ہی بیزار لگا

گلشن کی پامالی کی جب کھوج ہوئی تو بھید کھلا

آندھی نے بھی سازش کی تھی، بادل بھی غدار لگا

گھر کا بھیدی لنکا ڈھائے، سچ ہے لیکن کیا کہئے

میرے گھر کی لوٹ میں شامل گھر کا پہرے دار لگا

شیئر کیجیے
Default image
راز سیوانی

Leave a Reply