ماں اخلاق و کردار کا تشکیلی سانچہ

کسی دیس کے، کسی مذہب و ملت کے پڑھے لکھے آدمی یا جاہل شخص سے بات کریں، اچھے اور برے اخلاق کے بارے میں سب کی رائے ایک ہی سامنے آئے گی۔ اچھے اخلاق کو سبھی سراہیں گے اور برے اخلاق کو برا ہی سمجھیں گے۔ خدا ترس ہونا، سچ بولنا، رحم دل ہونا، وعدے کا پابند ہونا، امانت کی حفاظت کرنا، ادب اور تمیز سے بات کرنا، وغیرہ۔ یہ وہ اچھی باتیں ہیں کہ ان کی قدر کرنے والے ہر جگہ ملیں گے۔ یہ دوسری بات ہے کہ اچھی باتوں کی قدر کرنے والوں میں یہ اچھی باتیں نہ پائی جاتی ہوں۔ ان باتوں کے برخلاف سنگ دل ہونا، زبان قابو میں نہ رکھنا، جھوٹ بولنا، چھچھورا پن، بے صبری، بد دیانتی، بدتمیزی وغیرہ۔ وہ بری باتیں ہیں، جن کو ہر شخص برا کہے گا، چاہے وہ خود بری باتوں میں مبتلا ہو۔

اسی طرح صبر کرنا، بردباری (گمبھیر ہونا) باہمت اور بہادر ہونا، دوسروں کی مدد کرنا غصے کو پی جانا، ہنس مکھ ہونا وغیرہ ایسی باتیں ہیں کہ انہیں ہر شخص پسند کرتا ہے۔ ان کے برخلاف ڈرپوک ہونا، غصہ کرنا، گالی گلوچ کرنا، لالچی ہونا، چوری کرنا، غیبت کرنا اور چغلی کھانا، ایسی باتیں ہیں کہ انہیں ہر شخص ناپسند کرتا ہے۔

آپ نے سنا ہوگا کہ آدمی کو نام نہیں کام پیارا ہوتا ہے یعنی جو شخص اپنا فرض اور ذمہ داری ادا کرتا ہے وہ سب کا پیارا ہو جاتا ہے۔ جو فرض ادا نہیں کرتا، ذمہ داری محسوس نہیں کرتا اسے نکما کہا اور سمجھا جاتا ہے۔ کسی مذہب کا آدمی ہو، اگر وہ مستعدی سے کام کرتا ہے تو دوسرے مذہب کے لوگ بھی اسے اچھی نظر سے دیکھتے ہیں۔

معلوم ہوا کہ جو لوگ یہ کہتے ہیں: ’’یہ سب پرانی باتین ہیں، آج کے زمانے میں ان سے کام نہیں چلے گا تو یہ کہنے والوں کی بات آج بھی ویسی ہی غلط ہے جیسے کل غلط تھی۔ اچھے اخلاق کی قدر ہمیشہ رہے گی اور برے اخلاق کو ہمیشہ ناپسند کیا جائے گا۔ اچھے اخلاق، اچھے کام، اچھی باتیں ان کو سارے ہی لوگ اچھا سمجھتے ہیں۔ قرآن میں ان کے بارے میں ایک لفظ آیا ہے۔ ’’معروف‘‘ یعنی وہ جانی پہچانی بات جسے سب پہچانتے ہیں اور پسند کرتے ہیں۔ رہی وہ بات جسے ساری دنیا ناپسند کرتی ہے۔ قرآن میں اس کے لیے لفظ منکر آیا ہے۔ یعنی جسے پسند کرنے سے سب نے انکار کر دیا ہو اور یہ بات اس لیے ہے کہ اچھی باتوں کو پسند کرنا اور بری باتوں کو ناپسند کرنا آدمی کی فطرت ہے۔ یہ باتیں انسان کے خمیر میں ڈال دی گئی ہیں۔ پہچان یہ ے کہ جب آدمی اچھا کام کرتا ہے، ایک پیسہ خیرات کر دیتا ہے، کسی غریب کا کام کردیتا ہے۔ سچ بول دیتا ہے، چاہے اس کا اپنا ہی نقصان ہو تو اس کے دل اور دماغ میں بیٹھا ہوا ’’کوئی‘‘ بہت خوش ہوتا ہے، لیکن جب آدمی برا کام کرنے چلتا ہے تو وہی ’کوئی‘ ٹوکتا ہے۔ روکتا ہے خبردار! خدا سے ڈر، بھگوان کا بھے کر۔ بری بات! اس ’’کوئی‘‘ کا نام ہے ’’ضمیر‘‘ آتما، آدمی کے اندر کا انسان۔ اس موقع پر قرآن کریم نے بڑی خوب صورتی سے انسان کو دھیان دلایا ہے۔ فالہمہا فجورہا و تقوھا۔ اچھی اور بری باتوں کی پہچان انسان کے دل و دماغ میں ڈال دی گئی ہے۔ اسی کو یوں بھی کہہ سکتے ہیں کہ یہ سب پیدائشی باتیں ہیں۔

بات میں بات نکلتی ہے۔ سوال کیا جاسکتا ہے کہ جب ہر شخص معروف اور منکر کا جانتا ہے تو پھر وہ اچھی باتوں کو کیوں نہیں اپناتا اور بری باتوں سے کیوں نہیں بچتا؟

اس سوال کا جواب ہم کو حدیث سے ملتا ہے۔ ایک حدیث میں آیا ہے کہ انسان اپنی فطرت پر پیدا ہوتا ہے لیکن اس کے ماں باپ اسے یہودی اور نصرانی بنا دیتے ہیں۔

علمائے کرام نے اس حدیث کا یہ مطلب نکالا ہے کہ اسلام آدمی کی فطرت میں ہے۔ پیدا ہونے کے بعد اس کے والدین اسے دوسرے خیالات کا بنا دیتے ہیں، آئیے ہم ’’دوسرے خیال‘‘ کا بنا دینے والوں میں یہ تلاش کریں کہ دوسری قسم کا بنا دینے میں ماں کا پارٹ زیادہ ہوتا ہے یا باپ کا؟

باپ کے بارے میں سبھی جانتے ہیں کہ وہ زیادہ تر گھر سے باہر رہتا ہے۔ کمائی کرنے میں سارا سارا دن باہر لگا دیتا ہے۔ ہاں، وہ ماں ہے جس کی گود میں بچہ پروان چڑھتا ہے۔ ماں اپنے دودھ کے ساتھ، اپنی لوریوں سے اور اپنے اشاروں سے بچے کو وہ کچھ بنا دیتی ہے جو وہ پسند کرتی ہے۔ اس کا مطالعہ کرنے کے بعد تمام دانشوروں نے تسلیم کرلیا کہ آدمی کی پہلی درسگاہ ماں کی گود ہے۔ ایک لطیفہ ملاحظہ ہو:

ایک ماں اپنے بچے کو اسکول میں داخل کرنے گئی۔ پرنسپل نے ماں سے پوچھا: ’’اب تک اسے کیا سکھایا؟‘‘ ماں نے حیران ہوکر کہا کہ ابھی تو یہ چھ برس کا ہے۔ اب سیکھنے کی عمر کو آیا ہے، اسی لیے تو آپ کے پاس لائی ہوں۔‘‘ پرنسپل نے کہا کہ تم نے بچے کے چھ سال گنوا دیے۔ یہی دن اچھی تعلیم کے تھے۔ یہاں اسکول میں لڑکا حروف اور گنتیاں سیکھے گا۔ بس۔ ایک اورلطیفہ ملاحظہ ہو۔

٭ نیپولین بونا پارٹ نے ایک بڑی جنگ جیتی۔ اس جیت کی خوشی میں دربار کیا اور بہادروں کو انعام بانٹنا شروع کیا تو ایک ساتھ تین جوانوں کو اس کے سامنے پیش کیا گیا۔ نیپولین نے دیکھا کہ ان جوانوں کے پیچھے ایک بڑھیا کھڑی ہے۔ نیپولین نے پوچھا: ’’یہ بڑھیا کون ہیَ‘‘ بتایا گیا کہ ان جوانوں کی ماں ہے۔ تو نیپولین تخت سے اترا، اس بوڑھی عورت کو سیلوٹ کیا اور درباریوں سے کہا کہ تم مجھے ایسی مائیں دید و تو میں ساری دنیا فتح کرلوں گا۔

٭ ایک لطیفہ اور بڑا عبرت ناک ہے۔ ایک ڈاکو پکڑا گیا۔ اسے پھانسی دی جانے لگی تو پوچھا گیا کہ تیری آخری خواہش کیا ہے؟ اس نے کہا: ’’ماں سے ملاقات!‘‘ ماں کو اس کے سامنے لایا گیا۔ماں سے گلے ملتے وقت ڈاکو نے دانتوں سے اس کا کان کاٹ لیا اور پھر ناک چبانا چاہی لیکن سپاہیوں نے روکا۔ اس سے پوچھا گیا: ’’تونے ماں کے ساتھ یہ برا برتاؤ کیوں کیا؟ جواب دیا کہ اسی نے مجھے ڈاکو بنایا۔ پہلے پہل میں نے انڈے چرائے تھے۔ اس نے مجھے نہیں بتایا کہ یہ بری بات ہے۔ لہٰذا آج میں ڈاکو ہوکر آپ کے سامنے کھڑا ہوں۔

ہم نے بزرگوں کے بارے میں سنا ہے کہ دادی، نانی اور مائیں بچوں کو سلاتے وقت بزرگوں کی کہانیاں سناتی تھیں۔ لوریاں دیتی تھیں، جنت کے پھول نہ ہو ملوں، مجاہد بنے گا۔ غازی بنے گا۔ جنت کا دولہا بنے گا۔ اللہ اللہ کر کے بچے کے سر پر ہاتھ سے ہولے ہولے تھپکیاں دے کر سلاتی تھیں۔ اسی لیے ان کی گود سے اللہ کے سپاہی بن کر نکلتے تھے۔ رات کے نمازی، دن کے غازی، آج ایسی مائیں کہاں۔ آج تو عورت بچوں سے بیزار ہے۔ وہ اس ذمہ داری کو قبول کرنے کے لیے تیار ہی نہیں تو پھر اگر اولاد بری ہوکر سامنے آتی ہے تو شکایت کا ہے کی؟ مشہور ہے کہ آج کے بچے کل کے معمار قوم ہیں لیکن جب ان بچوں کو معمار قوم بنانے والی ہستی نہ ملے تو وہ ایسا ہی بنے گا، جیسے آج لیڈر بنے پھرتے ہیں اور ملک کو تباہ و برباد کیے دیتے ہیں۔

اے ملک و ملت کا درد رکھنے والوٰ اگر چاہتے ہو کہ دیس کو دیس کے مخلص سپاہی ملیں تو ان کو وہ مائیں دو جن کو تم نے گم کر دیا۔ ورنہ اب وہ دن دور نہیں جب ہمارا دیس بھیڑیوں اور ازدہوں سے بھر جائے گا۔

ایک لڑکی کو اچھی ماں بنانے کے لیے اچھا نصاب تعلیم دینا ہوگا۔ باکردار استانیاں دینی ہوں گی جو طالبات کو بتائیں گی کہ تمہاری تعلیم کا اصل مقصد اچھی ماں بن کر گھر سے سپوت دینا ہے۔ دنیا ایسی ماں کے لیے بڑی بے صبری سے منتظر ہے۔lll

(حجاب نومبر ۱۹۸۹ سے ماخوذ)

شیئر کیجیے
Default image
مائل خیر آبادیؒ

Leave a Reply