بچہ کیسے سیکھتا ہے؟

چار سال کا بچہ اچھا خاصا سمجھ دار ہوتا ہے۔

جی ہاں! چار سال کا بچہ اچھا خاصا تعلیم یافتہ ہوتا ہے۔ بادی النظری میں یہ بات شاید آ کو عجیب لگے لیکن اگر آپ بچے کی زبان سیکھنے اور جسمانی مہارتیں حاصل کرنے کے عمل پر غور کرلیں تو آپ اس دعوے کی سچائی پر دل و جان سے ایمان لے آئیں گے۔

زبان سیکھنا

دنیا کے مشکل کاموں میں ایک کام کوئی زبان سیکھنا ہے۔ ہم میں کتنے افراد ہیں جو ایک زبان سیکھنے میں کئی برس لگا دیتے ہیں اور پھر بھی زبان پر پوری طرح قادر نہیں ہو پاتے۔ لیکن بچہ یہ مشکل کام ابتدائی تین سے چار سالوں میں مکمل کرلیتا ہے۔ یقینا یہ حیرت زدہ کردینے والا کام ہے۔ لیکن چوں کہ یہ ہمارے سامنے ایک معمول کے مطابق ہوتا ہے۔ اس لیے ہم زیادہ حیران نہیں ہوتے۔

دنیا میں اس وقت تقریباً ساڑھے چھے ہزار زبانیں بولی جاتی ہیں۔ دنیا بھر کی ان زبانوں کی کل آوازوں کی تعداد کا تعین کرنا مشکل ہے کیوں کہ ہم مختلف زبانوں کی آوازوں کا ایک دوسرے سے تقابل پوری صحت کے ساتھ نہیں کرسکتے۔ ان آوازوں کی تعداد جتنی بھی ہو ایک بات البتہ طے شدہ ہے کہ ہر زبان کی آواز کی تعداد دوسری زبان کی آوازوں کی تعداد سے مختلف ہوتی ہے۔ مثال کے طور پر انگریزی میں کل چوالیس آوازیں استعمال ہوتی ہیں۔ اس طرح اردو میں (بہ قول ڈاکٹر گوپی چند نارنگ) اکتالیس آوازیں استعمال ہوتی ہیں۔ بچہ دنیا کی ہر زبان کی ہر آواز بولنے کی صلاحیت رکھتا ہے لیکن چوں کہ وہ ایک خاص زبان کے ماحول میں موجود ہوتا ہے۔ اس لیے اس زبان کی مخصوص آواز کو ہی بروئے کار لاتا ہے۔

زبان سیکھنے کے مراحل

زبان سیکھتے وقت بچے کے سامنے بہت سی مشکلات اور چیلنج ہوتے ہیں۔ وہ دنیا میں نووارد ہوتا ہے اور اس کے کانوں میں بہت سی آوازیں پڑ رہی ہوتی ہیں۔ کچھ زبان کی آوازیں اور کچھ ماحول کی دیگر آوازیں مثلاً شور، تالی وغیرہ کی آواز۔سب سے پہلے بچے کو زبان اور دیگر آوازوں میں امتیاز کرنا ہوتا ہے۔ پھر زبان کی اپنی آوازوں میں بھی فرق ہوتا ہے۔ یہ فرق آسان بھی ہوتا ہے اور مشکل بھی۔ لفظ پہنچاننے سے پہلے بچے کو یہ فرق سمجھنا پڑتا ہے۔ اگلے مرحلے میں اسے آوازوں کے ملاپ سے بننے والی اکائیاں یعنی لفظ جاننے ہوتے ہیں۔ لفظ جان لینے کے بعد اسے لفظوں کی حدود کو پہچاننا ہوتا ہے کہ گفتگو میں ایک لفظ کہاں پر ختم ہوتا ہے اور دوسرا لفظ کہاں سے شروع ہوتا ہے۔ اس کے بعد الفاظ کے معانی سمجھنے، لفظوں کے ملاپ سے بامعنی جملہ بنانے اور گرامر کا درست استعمال کرنے کے مراحل آتے ہیں۔ بچہ ان تمام مراحل سے کمال خوش اسلوبی سے گزرتا ہے۔

زبان کے ماڈل کو پانا

بچہ جب زبان سیکھ رہا ہوتا ہے تو اسے اس بات کا علم ہوتا ہے کہ اس کے ماحول میں زبان کا ایک ماڈل موجود ہے، جس تک اسے رسائی حاصل کرنی ہے۔ اس کے لیے وہ مسلسل کوشش میں لگا رہتا ہے۔ اس کوشش میں وہ غلطیاں کرتا ہے اور ان غلطیوں سے سبق سیکھتا ہے۔ سیکھتے سیکھتے بالآخر وہ ماڈل کو پالیتا ہے۔ اس ماڈل کو پانے کے لیے بچے کے ہاں ایک ترتیب، تنظیم، تدریج، عقل مندی اور مسلسل کوشش کا حسین امتزاج نظر آتا ہے۔

بچہ بولنے کی مہارت سے پہلے سننے کی مہارت حاصل کرتا ہے۔ بچہ ابھی پوری طرح بول نہیں سکتا۔ آپ کہتے ہیں بیٹا مجھے کتاب دے دو۔ بچے کے سامنے بہت سے کھلونے اور ایک کتاب پڑی ہے۔ بچہ ان میں سے کتاب اٹھاتا ہے اور آپ کو دے دیتا ہے۔ آپ اچانک کہتے ہیں کہ پنکھا چل رہا ہے۔بچہ فوراً چھت پر لگے پنکھے کی طرف دیکھنے لگ جاتا ہے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ بچے نے بولنے سے پہلے سننے کی مہارت حاصل کرلی ہے۔

بچے کے ہاں زبان کی آوازوں کے استعمال میں ایک فطری تدریج پائی جاتی ہے۔ سب سے پہلے وہ ان آوازوں کو استعمال کرتا ہے جو آسان ہوتی ہیں۔ اس لیے کسی لفظ میں مشکل آواز آئے تو وہ اس کو آسان آواز سے تبدیل کر دیتا ہے یا بعض اوقات مشکل آواز کو حذف کر دیتا ہے۔ مثلاً گوشت کو گوش کہے گا، چڑیا کو چیّایا چریا، بھائی کو بائی اور تھری کو تھی کہے گا۔

زبان سیکھتے وقت بچہ ماضی کے تجربے سے بھی سبق سیکھتا ہے۔ مثلاً آپ بچے کو امرود دکھاتے ہیں اور پوچھتے ہیں کہ یہ کیا ہے۔ بچہ اس کو ’’مود‘‘ کہے گا یا ممکن ہے ’’امود‘‘ کہہ دے یہ بھی ممکن ہے کہ وہ اس کو ’’گے‘‘ کہے۔ آپ حیران ہوکر سوچیں گے کہ اس نے یہ کیا کہا؟ آپ اس بات کو بھول گئے کہ ایک دو روز پہلے ہی آپ نے بچے کو گیند دکھائی تھی، جس کو اس نے ’’گے‘‘ کہا تھا۔ چوں کہ امرود کی شکل گیند سے ملتی ہے اس لیے ماضی کے تجربے کے مطابق اس نے امرود کو بھی ’’گے‘‘ کہا۔

گرامر بچہ لاشعوری طور پر سیکھتا ہے۔ آپ بچے کی زبان میں گرامر کی غلطی دیکھتے ہیں اور اسے درست کرانے کی کوشش کرتے ہیں۔ آپ کی کوشش کے باوجود بچہ غلطی کو درست نہیں کر پاتا۔ لیکن ایک وقت آتا ہے جب بچہ گرامر کی یہ غلطی خود بخود درست کرلیتا ہے۔

بچہ زبان بولتے وقت بڑوں کی نقالی ضرور کرتا ہے لیکن وہ صرف نقالی نہیں کرتا، بلکہ وہ لفظ اور جملے بھی استعمال کرتا ہے، جو اس نے ماضی میں کسی وقت دیکھے ہوتے ہیں اور جنہیں حال میں دورانِ گفتگو اس کے بڑے یا والدین استعمال نہیں کر رہے ہوتے۔

جسمانی مہارتیں

بچہ صرف زبان ہی نہیں سیکھتا بلکہ وہ جسمانی مہارتوں میں بھی کمال حاصل کرتا ہے۔ چیزوں کو پکڑنا، دوٹانگوں پر کھڑا ہونا، چلنا اور بھاگنا اور ہاتھ پاؤں سے کئی ایک پیچیدہ کام کرنا، ہمیں آسان لگتا ہے کیوں کہ ہم اس کے عادی ہیں۔ لیکن بچہ تو اس سے واقف نہیں ہوتا۔ وہ تو صفر سے شروع کرتا ہے۔ اس لیے یہ مہارتیں اس کی بہت بڑی کامیابی ہوتی ہیں۔

بچے کی جسمانی مہارتوں کا آغاز اس کے ہاتھ پاؤں بلانے سے ہوتا ہے۔ پیدائش کے بعد ابتدائی چند ہفتوں میں وہ آپ کے چھونے کا نوٹس لینا شروع کر دیتا ہے۔

پہلے وہ ہتھیلی کھولنا اور بند کرنا تین ماہ کی عمر میں سیکھتا ہے۔ اس کے بعد چار ماہ سے سات ماہ کی عمر میں چیزوں کو پکڑنے اور ایک ہاتھ سے دوسرے ہاتھ میں منتقل کرنے اور اگلے مرحلے(اٹھ ماہ سے بارہ ماہ کی عمر) میں انگلی اور انگوٹھے سے کھانے کی چیز کو پکڑنے کی مہارت حاصل کرتا ہے۔

بچہ چلنے کی تعلیم کی ابتدا (آٹھ ماہ سے بارہ ماہ کی عمر میں) بیٹھنے سے کرتا ہے۔ اس کے بعد وہ ایک سال سے دو سال کی عمر میں لڑکھڑا کر چلنے لگتا ہے۔ اس پر سیکھنے کا ایک جنون طاری ہوتا ہے۔ ایک تحقیق کے مطابق جب بچہ چلنا سیکھ رہا ہوتا ہے تو وہ روزانہ تقریبا نو ہزار قدم (اکیس فٹ بال گراؤنڈ کے برابر) اٹھاتا ہے۔

اسی عمر (ایک سال سے دو سال تک کی عمر) میں وہ ہر کام خود کرنے کی کوشش کرتا ہے۔ مثلاً گاڑی چلانے کی نقل کرنا، گڑیا کو کھانا کھلانا، کپڑے پہننے کی کوشش کرنا وغیرہ۔

اگلے سال (دو سے تین سال کی عمر میں) وہ سائیکل کے پیڈل چلانا، سیڑھیوں سے اترنا، اور چڑھنا، جمپ لگانا، دروازہ کھولنا اور بند کرنا سیکھ لیتا ہے۔

سیکھنے کا یہ عمل بچے کی پیدائش کے ساتھ ہی قدرتی طور پرجاری ہو جاتا ہے۔ بچے کے اندر سیکھنے کی ایک لگن اور جوش ہوتا ہے جس کے زور پر وہ سیکھتا چلا جاتا ہے اور آگے بڑھتا چلا جاتا ہے۔ بچے کو اس بات کا علم نہیں ہوتا کہ کوئی اس کے سیکھنے سے پریشان ہے یا اس سے کوئی توقع کی جا رہی ہے۔

بچے کے سیکھنے کا پیٹرن

اگر ہم (رسمی وغیر رسمی) تعلیم کا وسیع تر مفہوم لیں تو بچوں کی ان سرگرمیوں کا سادہ سا مطلب اس کے سو ا کچھ نہیں کہ بچہ تعلیم حاصل کر رہا ہوتا ہے اور چار سال تک یعنی اسکول جانے سے پہلے وہ اچھا خاصا تعلیم یافتہ ہوچکا ہوتا ہے۔

تعلیم کا یہ عمل یقینا منفرد نوعیت کا حامل ہوتا ہے، جس کی اپنی خصوصیات ہوتی ہیں۔ ان خصوصیات کا مطالعہ بچے کے سیکھنے کے منفرد پیٹرن کو سمجھنے میں مدد دے گا:

بچوں کے سیکھنے کی سب سے پہلی خصوصیت یہ ہوتی ہے کہ بچہ خود سیکھتا ہے اور اپنے آپ کو تعلیم یافتہ بناتا ہے۔ سیکھنے کے اس عمل میں بڑوں کا کام ایک سہولت کار کا ہوتا ہے۔ وہ بچوں کو ایک ماحول مہیا کرتے ہیں۔ یقینا اس ماحول کی اپنی اہمیت ہے لیکن بچے کا خود سیکھنا اس عمل میں کلیدی حیثیت رکھتا ہے۔ فرض کریں کہ ایک نارمل بچہ کسی خاص وجہ سے زبان یا جسمانی حرکات نہیں سیکھ پا رہا، آپ پریشان ہیں۔ آپ اسے کسی ماہر نفسیات کے پاس لے جاتے ہیں تو وہ بھی بچے کے اندر خود سیکھنے کے اس عمل کو متحرک کرنے کی کوشش کرے گا۔

سیکھنے کے اس عمل کی دوسری خصوصیت یہ ہے کہ بچہ سیکھنے کا عمل خود کنڑول کرتا ہے۔ وہ بیک وقت زبان، جسمانی تعلیم اور کئی ایک معاشرتی مہارتیں سیکھ رہا ہوتا ہے۔ لیکن سیکھنے کے ان کاموں کا کنٹرول وہ اپنی ذات کے علاوہ کسی کو بھی نہیں دیتا۔ اگر بڑوں کا بس چلے تو وہ اس کے لیے پیریڈ بنا دیں۔ صبح اٹھ کر پہلے تین گھنٹے زبان سیکھنی ہے، اس کے بعد چار گھنٹے جسمانی تعلیم، اگلے دو گھنٹے معاشرتی مہارتیں اور پھر چند گھنٹوں کا وقفہ، اس کے بعد اعادہ اور پھر ٹیسٹ۔

بچے کے سیکھنے کی تیسری اہم خصوصیت یہ ہے کہ سیکھنے کا عمل ’’آزادی‘‘ سے بروئے کار لاتا ہے۔ وہ سب کچھ اپنی مرضی اور آزادی سے سیکھتا ہے۔ مثلاً بچہ بیٹھا ہے، آپ چاہتے ہیں کہ وہ اس وقت اٹھے اور چلنے کی مشق کرے تاکہ وہ جلدی جلدی چلنا سیکھ جائے۔ لیکن اس وقت بچے کا جی نہیں چاہ رہا۔ ممکن ہے بچہ اس وقت تھکا ہوا ہو یا اسے کوئی تکلیف ہو یا اس کی دلچسپی کہیں اور ہو۔ آپ اسے کھڑا کرتے ہیں۔ وہ بیٹھ جاتا ہے۔ آپ پھر کھڑا کرتے ہیں بچہ پھر بیٹھ جاتا ہے۔آپ اسے پچکارتے ہیں، ترغیب دیتے ہیں لیکن بچہ ہے کہ آپ کی ترغیب میں بالکل بھی نہیں آرہا۔ آپ تنگ آکر تھوڑی سختی کرلیتے ہیں تو کیا خیال ہے کہ اس سختی کی وجہ سے بچہ چلنے لگ جائے گا۔ چلے گا تو خیر کیا وہ رونے ضرور لگ جائے گا۔ یہ رونا دراصل اس کا احتجاج ہے، جو وہ اپنی آزادی میں مداخلت پر کرتا ہے۔ باہر کی سختی یا بے ڈھنگی ترغیب اس کے سیکھنے کے عمل کے لیے بالکل غیر فطری ہے۔

اس عمل کی چوتھی خصوصیت یہ ہے کہ بچہ سیکھنے کی ترغیب اپنے تجسس سے حاصل کرتا ہے۔ تجسس ہی توانائی کا وہ منبع ہے، جس کے زور پر وہ نئی نئی باتیں دریافت کرتا چلا جاتا ہے۔ ایک نئی چیز کے بعد دوسری نئی چیز۔ سیکھتے سیکھتے وہ درجہ کمال تک جا پہنچتا ہے۔

اس عمل کی پانچویں خصوصیت یہ ہے کہ بچہ سیکھنے کے عمل کو کل کے طور پر لیتا ہے وہ سیکھنے کو ٹکڑوں میں تقسیم نہیں کرتا۔ اگرچہ بچہ بیک وقت زبان، جسمانی حرکات اور معاشرتی مہارتیں سیکھ رہا ہوتا ہے لیکن بچے کے ہاں سیکھنے میں یہ نہیں ہوتا کہ ایک وقت میں چوں کہ وہ جسمانی حرکات سیکھ رہا ہے اس لیے زبان سیکھنے کو موخر کردے گا۔ اس کی سیکھنے کی ساری ڈومین ایک ساتھ متحرک ہوتی ہیں۔

مندرجہ بالا مطالعے سے ہم اس بات کو جان گئے کہ اسکول جانے سے پہلے بچے کی تعلیم کا ایک خاص پیٹرن ہوتا ہے، جس کے اہم عناصر خود سیکھنا آزادی سے سیکھنا، سیکھنے کے عمل پر اپنا کنٹرول برقرار رکھنا، تجسس اور سیکھنے کے عمل کو کل کے طور پر لینا شامل ہے۔ سیکھنے کا یہی پیٹرن در حقیقت فطری پیٹرن ہے۔ والدین کو چاہیے کہ وہ ان باتوں کو سمجھیں اور اس کی آزادی میں مداخلت کے بجائے سیکھنے کے فطری عمل میں معاونت کریں۔lll

شیئر کیجیے
Default image
ناصر محمود اعوان

Leave a Reply