مرگی سنگین دماغی مرض

’’ایپی لیپسی (مرگی) دوروں سے زیادہ ہے!‘‘ جی ہاں یہ مرکزی خیال ہے عالمی سطح پر منائے جانے والے ’’عالمی یوم دماغ‘‘ کا جو پوری دنیا میں ۲۲ جولائی کو دماغ کی بیماریوں کے متعلق آگاہی پیدا کرنے کے لیے منایا جاتا ہے۔ یہاں یہ بات انتہائی اہم ہے کہ اس دن کو منانے کا آغاز نیورو لوجی کی عالمی تنظیم ورلڈ فیڈریشن آف نیورو لوجی نے 2014 سے کیا۔ اور اس سال دماغی امراض کی سب سے اہم اور عام بیماری مرگی کے متعلق عوام، فزیشین اور طب سے متعلق افراد میں شعور اجاگر کرنے کے لیے مرگی کو چنا گیا ہے۔

مرگی سب سے عام اور سنگین دماغی مرض ہے جسے ہمارے معاشرے میں جن، آسیب، جادو ٹونا یا محض جھٹکے کے طور پر جانا جاتا ہے۔ سائنسی تحقیق سے یہ بات ثابت ہوچکی ہے کہ دنیا میں تقریباً آدھے سے ایک فیصد انسانوں میں مرگی ہے۔ ایک محتاط اندازے کے مطابق اس وقت دنیا بھر میں پچاس ملین سے زائد افراد دماغ کی اس بیماری سے متاثر ہیں۔ ہمارے ملک میں خواتین اور بچوں کی ایک بہت بڑی تعداد اس مرض میں مبتلا ہے۔

ہندوستان میں صورت حال

انڈین ایپی لیپسی سنٹر نئی دہلی کے مطابق دہلی جو ملک کی راجدھانی اور علاج کی سہولیات کے اعتبار سے ممتاز شہر ہے یہاں ہر سال چھبیس سو سے پینسٹھ سو تک مذکورہ مرض کے کیس سامنے آتے ہیں جب کہ ملک بھر میں دو لاکھ سے پانچ لاکھ کے قریب افراد کا تخمینہ ہے جو ہر سال اس مرض کا شکار ہوتے ہیں۔ اسی طرح اندازہ لگایا جاتا ہے کہ اس وقت صرف دہلی میں ۶۵ ہزار سے ایک لاکھ تیس ہزار افراد اس مرض کی گرفت میں ہیں جب کہ ملک کی سو کروڑ آبادی کے اندازہ پر اس وقت ملک بھر میں پچاس لاکھ سے ایک کروڑ تک کی تعداد ہے جو اس مرض میں مبتلا ہے، جس کا مطلب ہے کہ ملک کی آبادی کا آدھا فیصد سے ایک فیصد تک افراد میں یہ بیماری پائی جاتی ہے۔

قابل ذکر باتیں

٭ ہر بیس افراد میں دس سے ایک زندگی کے کسی بھی مرحلے میں اس مرض کے جھٹکے کا شکار ہوتا ہے۔

٭ ہر سو سے دو سو افراد میں سے ایک زندگی کے کسی بھی اسٹیج میں مرگی کا شکار ہوتا ہے۔

٭اس طرح کے لگ بھگ پچاس سے ستر فیصد افراد میں دورے کے بعد اٹھارہ سال کی عمر کو بچنے سے پہلے باقاعدہ مرگی کا مرض پیدا ہونا شروع ہو جاتا ہے۔

٭ ملک میں تقریبا تین فیصد بچے مختلف اسباب سے ذہنی طور پر معذور قرار دیے جاتے ہیں ان میں نصف کا سبب مرگی ہوتی ہے۔

٭ ستر فیصد افراد میں مرگی کا پتہ چلنے کی صورت میں مکمل علاج ممکن ہوتا ہے۔ ان میں پندرہ سے بیس فیصد افراد کا ایک سے زیادہ دواؤں کے ذریعے علاج کیا جاتا ہے جو قدرے مہنگی ہوتی ہیں جب کہ دس فیصد کے لگ بھگ افراد میں دماغی سرجری کا عمل کرنا پڑتا ہے اور دیگر لوگ عام قسم کے علاج سے ہی شفایاب ہوجاتے ہیں۔ بچوں میں اس کا تناسب تقریبا دو گنا ہے اور شہری آبادی کی نسب دیہی آبادی میں بھی یہ تناسب دو گنا ہے۔

عالمی سطح پر ہر سال مرگی کے تقریبا 2.4 ملین نئے تشخیص شدہ مریضوں میں اضافہ ہو رہا ہے۔ مرگی کے متعلق عالمی سطح پر آگہی کا فقدان ہے۔ بالخصوص ترقی پذیر ممالک میں مرگی کا مرض عجیب و غریب توہمات کا شکار ہے۔ یہی وجہ ہے یہ مرض دیہی علاقوں میں زیادہ ہے کیوں کہ ان علاقوں میں مریض ادویات کا استعمال نہیں کرتے۔

مرگی کی بہت سی اقسام ہیں اور دیکھنے میں یہ آیا ہے کہ ڈاکٹروں تک میں اس کے متعلق آگہی کی شدید کمی ہے، جس کے باعث مریض کو ٹھیک علاج میسر نہیں آپاتا۔ یا تو مریض کو ٹھیک دوا نہیں ملتی یا پھر زیادہ مقدار یا پھر ضرورت سے کم مقدار مریض کو تجویز کردی جاتی ہے۔ بروقت اور ٹھیک علاج سے پچاس فیصد سے زائد مریضوں کو مکمل طور پر مرگی کے دوروں سے نجات دلائی جاسکتی ہے۔ ایک محتاط اندازے کے مطابق دورے/ جھٹکے کی دیگر وجوہات کی شرح اموات سے ہٹ کر، ساٹھ ہزار انسان مرگی کی وجہ سے اچانک موت کا شکار ہوجاتے ہیں۔

ایپی لیپسی کی بہت سی اقسام ہیں۔ یہاں آسانی کی خاطر مرگی کو دو بڑی اقسام میں سمجھا جاسکتا ہے:

(1) بڑی ایپی لیپسی (2 ) چھوٹی ایپی لیپسی۔ بڑی میں مریض بے ہوش ہوکر گر جاتا ہے۔ اس کو جھٹکے لگتے ہیں اور وہ زخمی بھی ہوسکتا ہے۔ اس کی زبان بھی کٹ سکتی ہے اور اس کا بول و براز بھی خطا ہوسکتا ہے جب کہ چھوٹی میں مریض پوری طرح تو بے ہوش نہیں ہوتا مگر گم سم ہو جاتا ہے، یا اس کے جسم کے کسی ایک حصے میں جھٹکے لگ سکتے ہیں۔

ایپی لیپسی کے دورے کے اثرات دماغی متعلقہ خلیوں کے اثرات کی وجہ سے ہوتے ہیں، جس کے نتیجے میں ہوش و رویے کا متاثر ہونا اور دیگر علامات جسم کی حرکات و سکنات کو متاثر کرسکتی ہیں۔ چوں کہ مرگی کے متعلق منفی تاثرات کی بھرمار ہے، لہٰذا اس کی ٹھیک تشخیص اور علاج متعلقہ ماہر امراض دماغ و اعصاب سے کروانا ضروری ہے۔

مرگی ایپی لیپسی کے مرض میں مبتلا لوگ نہ صرف کامیاب زندگی گزار سکتے ہیں بلکہ بہت سے کارہائے نمایاں بھی سر انجام دے سکتے ہیں۔ ایپی لیپسی میں مبتلا تقریبا نوے فیصد انسان ایسے ہیں جن کے دماغ کلی طور پر چاق و چوبند ہوتے ہیں۔ اگر بچپن ہی میں بچوں کی مرگی کو دواؤں سے کنٹرول کرلیا جائے تو یہ بچے بڑے ہوکر اتنے ہی کامیاب اور خود مختار انسان بن سکتے ہیں جیسے کہ باقی لوگ۔

لہٰذا اس کے لیے عوام میں مریضوں میں، طب سے وابستہ افراد میں بہت بڑے پیمانے پر آگہی کو پھیلانا ضروری ہے۔

ضرورت اس بات کی ہے کہ ہر سطح پر اس بیماری کے متعلق شعور بیدار کیا جائے۔ اس کے متعلق توہمات کو ختم کرنے کی کوشش کی جائے۔ اس بیماری کو آج تک وہ اہمیت نہیں ملی جتنا اس بیماری اک عالمی سطح پر بوجھ ہے۔ یہ عجیب بیماری ہے کہ اس میں مبتلا انسان اسے چھپانے میں عافیت جانتا ہے۔ نتیجتاً مسائل ہی مسائل ہوتے ہیں۔ لہٰذا اس بیماری کے متعلق معلومات بہت ضروری ہیں۔ بدقسمتی سے اس بیماری کے متعلق منفی ازدہا مریضوں کو اپنی لپیٹ میں رکھتا ہے۔ مرگی کا علاج آگاہی کے راستے سے گزر کر ہوسکتا ہے۔ ڈاکٹر کو اس بات کو سمجھنا ہوگا کہ مرگی کے مریضوں کو کس طرح علاج کی سہولت پہنچانی ہے۔ مرگی کے نوے فیصد مریض اپنے مرض پر قابو پاسکتے ہیں اور عام انسانوں کی طرح اپنی زندگی گزار سکتے ہیں۔lll

شیئر کیجیے
Default image
ترتیب و پیش کش: ادارہ

Leave a Reply