تعویذ کا اثر

آفس سے واپس آنے کے بعد معمول کے مطابق آج بھی اس کے شوہر نے چائے کی پیالیاں پھینک دیں، طشتری اٹھا کر نیچے گرادی، میز کو ایسے زور سے ٹھوکر ماری کہ الٹ کر دور جا پڑی اس کے بعد بیوی کو لعن طعن کیا اور روز کی طرح چبھتے فقرے کسے اور ساتھ میں کچھ گالیاں بھی دیں اور پھر اپنے کمرے کی طرف چلے گئے۔

شبیہہ اپنا سا منہ لے کر رہ گئی وہ بے چاری کر بھی کیا سکتی تھی یہ تو اس کا نصیب بن گیا تھا۔ اس نے میز سیدھی کی چائے کی پیالیاں اور طشتری اٹھا کر ایک طرف رکھیں اور سوچنے لگی۔ ’’معلوم نہیں انہیں کیا ہوگیا ہے کتنی ہی خدمت کرو مگر یہ ہیں کہ ہر وقت منہ بسورے ہی رہتے ہیں۔ مجھ میں کیا کمی ہے۔‘‘ وہ سوچتی اور روتی بھی جاتی۔ سوچتے سوچتے آخر کار وہ ایک نتیجہ پر پہنچی اور پھر اگلے دن کا انتظار کرنے لگی۔

صبح ہونے کے بعد شبیہہ نے روز کی طرح اپنے شوہر کو دفتر کے لیے الوداع کہا ان کے جانے کے بعد شبیہہ نے نہا دھوکر کپڑے بدلے اور گھر میں تالا لگا کر ایک طرف کو روانہ ہوگئی۔

ایک گھر کے دروازے کے سامنے رک کر کچھ سوچنے لگی پھر کنڈی کھٹ کھٹائی، اندر سے ایک بوڑھے شخص کی آواز آئی۔ ’’کون؟‘‘ اور بغیر جواب سنے اس نے دروازہ کھول دیا۔

’’السلام علیکم! مولوی صاحب۔‘‘

’’وعلیکم السلام آؤ آؤ اندر آؤ۔ بیٹھ جاؤ بیٹی۔‘‘ مولوی صاحب نے چارپائی کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا۔

شبیہہ نے کچھ کہنا چاہا مگر الفاظ اس کے ہونٹوں پرکپکپا کر رہ گئے۔

’’کہو بیٹی کیا بات ہے؟‘‘ مولوی صحب نے ڈھارس بندھاتے ہوئے کہا۔

شبیہہ کی زبان بڑی مشکل سے کھلی۔ ’’مولوی صاحب آپ سے کچھ کہنا چاہتی ہوں۔‘‘

’’ہاں ہاں کہو بیٹی شرماؤ مت۔‘‘

’’ایک تعویذ مجھے دے دیجئے۔‘‘

’’تعویذ؟ یہ کس لیے؟‘‘

’’مولوی صاحب ! وہ ۔۔۔۔ میرے شوہر شام کو جب دفتر سے آتے ہیں اور میں ان کے سامنے ناشتہ پیش کرتی ہوں تو وہ تھوڑا تناول کر کے چائے کی پیالیاں وغیرہ پھینک دیتے ہیں۔ مجھے لعن طعن کرتے ہیں اور اپنے کمرے کی جانب چلے جاتے ہیں۔ ہر وقت ڈانٹ پھٹکار، بستر دیکھ کر آنکھیں نکالتے ہیں، کپڑے پہنتے وقت غصہ دکھاتے ہیں، فرش کو دیکھ کر ایک کونے میں تھوکتے ہیں۔ بس یہ کہ مجھ پر وہ ایک آفت بنے ہوئے ہیں۔ مولوی صاحب آپ ہی کچھ کیجئے کہ وہ ٹھیک ہوجائیں۔ میرا خیال ہے کہ ان کو کسی نے کچھ کرا دیا ہے۔‘‘

مولوی صاحب اس کی باتیں سن کر معاملے کی تہہ تک پہنچ گئے۔ ان کی سمجھ میں سب کچھ آگیا۔ کچھ دیر تو وہ خاموش رہے، پھر شبیہہ سے کہا۔ ’’اچھا بیٹی تم بیٹھو میں ابھی آتا ہوں۔‘‘

کچھ دیر بعد جب مولوی صاحب واپس آئے تو ان کے ہاتھ میں ایک تعویذ تھا۔ تعویذ دیتے ہوئے مولوی صاحب نے کہا: ’’بیٹی اسے اپنے گلے میں باندھ لو۔ اپنے شوہر کو اسے مت دکھانا، اور کبھی اسے کھول کر مت دیکھنا اور دس دن کے بعد پھر میرے پاس آنا۔‘‘

وہ خوشی سے پھولی نہ سمائی۔ ارمانوں کا خزانہ دل میں لیے گھر کی طرف چل دی۔

دفتر سے واپسی کا وقت قریب ہو رہا تھا۔ شبیہہ ناشتہ کی تیاری میں منہمک تھی آج وہ بہت خوش تھی۔ اس کو یقین تھا کہ تعویذ کا اثر ضرور ہوگا ااور آج اس کے شوہر کا رویہ بدلا ہوا ہوگا۔ شوہر نے گھر میں قدم رکھا۔ شبیہہ نے خوب صورت ارمانوں آرزوؤں کے ساتھ ناشتہ لگایا۔ مگر یہ کیا! آج ان کا پارہ اور زیادہ چڑھ گیا۔ پہلے سے زیادہ غضب ناک ہوگئے اور دن بہ دن ان کے غصہ میں اضافہ ہی ہوتا چلا گیا۔ اب شبیہہ پر جھنجھلاہٹ طاری ہوئی۔ اسے یقین ہوگیا کہ تعویذ کا اثر الٹا ہو رہا ہے۔ اس نے نہایت حقارت و نفرت کے ساتھ گلے سے تعویذ اتار کر پھینکنا چاہا ہی تھا مگر معاً مولوی صاحب کی بات یاد آگئی کہ یہ تعویذ نہ کبھی شوہر کو دکھانا اور نہ اسے کھول کر دیکھنا۔ وہ ٹھٹھکی اور کچھ سوچنے کے بعد تعویذ کو ڈرتے ڈرتے کھولا۔ اس کی سمجھ میں کچھ نہیں آیا۔ تعویذ میں ایک پرچہ تھا جس میں لکھا تھا۔۔۔۔

’’پیاری بیٹی تم بہت نادان ہو تمہاری باتوں سے مجھے اندازہ ہوا کہ تم بہت لاپروا ہو۔ تمہارے شوہر میں کوئی کمی نہیں ہے۔ شوہر کی خدمت تو کرتی ہو لیکن ذریعہ خدمت کو تو سنوار لیا کرو۔ تمہارے شوہر بہت نفاست پسند ہیں۔ ہر چیز قرینے سے دیکھنا چاہتے ہیں، صفائی ستھرائی سے انہیں رغبت ہے۔ میری تمہیں نصیحت ہے کہ اب تم ان کی نہیں اپنی فکر کرو یعنی اپنی کمی دور کرو۔ سامان صاف ستھرا رکھو۔ بستر وغیرہ قرینے سے لگایا کرو۔‘‘ فقط

خط پڑھ کر شبیہہ سوچ میں ڈوب گئی۔ اس کی آنکھیں شرمساری سے ڈبڈبا آئیں۔ پھر ایک لمبی سانس لے کر اٹھی اور جلدی جلدی سبھی سامان کو ترتیب سے سجانا شروع کر دیا۔ تمام برتن اور کپڑے وغیرہ صاف کر کے قرینے سے رکھے اور گھر کے سامان کو ترتیب و قاعدگی سے لگا دیا۔ اس طرح گھر کو سجا کر اور خود بھی بناؤ سنگار کر کے شوہر کا انتظار کرنے لگی۔

شوہر داخل ہوا تو گھر کا منظر دیکھ کر ششدر رہ گیا۔

’’گھر میں کوئی آنے والا ہے کیا؟‘‘ شوہر نے پوچھا۔

’’نہیں‘‘ شبیہہ نے جواب دیا۔

’’تب آج یہ گھر خوب صورت کیسے لگ رہا ہے؟‘‘

’’بس یوں ہی۔‘‘

شوہر کو دیکھ کر شبیہہ بہت خوش ہوئی صاف ستھرے برتنوں میں قرینے سے عمدہ ناشتہ لگایا اور دونوں خوب لطف لے کر تناول کرنے لگے۔

آج شوہر کی زبان پر شبیہہ کے لیے بس تعریفی کلمات تھے۔ شوہر کی باتیں سن کر شبیہہ کی نس نس سے خوشی پھوٹ رہی تھی۔

اب اس نے دھیرے دھیرے اپنی تمام کمیاں دور کرنا شروع کردیں اور گھر جنت نشان بن گیا۔

ایک دن شوہر کے جانے کے بعد شبیہہ مولوی صاحب کے گھر کی طرف ہاتھ میں مٹھائی کا ڈبہ اور کچھ روپے لے کر روانہ ہوئی۔ مولوی صاحب کے گھر پر پہنچنے کے بعد۔۔۔۔

’’السلام علیکم۔‘‘

’’وعلیکم السلام‘‘ کہو بیٹی کیا حال ہے؟‘‘

’’مولوی صاحب آپ بہت اچھے ہیں یہ دیکھئے میں آپ کے لیے کیا لائی ہوں۔‘‘

’’ارے بیٹی اس کی کیا ضرورت تھی۔‘‘ مولوی صاحب نے ہاتھ میں ڈبہ لیتے ہوئے کہا۔

’’مولوی صاحب رکھ بھی لیجئے۔

’’کچھ سناؤ بھی تمہارے شوہر کا اب کیسا رویہ ہے؟‘‘

’’وہ اب پہلے سے بہت اچھے ہوگئے ہیں اور اب بہت زیادہ خوش رہنے لگے ہیں وہ اب بالکل بدل گئے۔‘‘

’’آخر یہ ہوا کیسے؟ کیا تعویذ کھولا تھا؟‘‘

’’جی ہاں آپ کے منع کرنے پر بھی میں نے تعویذ کھولا تھا اس میں آپ کا لکھا ہوا پرچہ ملا تھا۔‘‘

’’اے بیٹی شوہر بیوی کے درمیان یہ تعویذ وغیرہ تو بالکل بے کار چیز ہے ان سے کچھ نہیں ہوتا، آدمی کو اپنی اصلاح کرنی اور اللہ پر بھروسہ کرنا چاہیے۔ جو لوگ اپنی اصلاح اور اپنے معاملات کو درست کیے بنا تعویذوں پر مسرت ازدواجی زندگی ڈھونڈتے ہیں ان کے ہاتھوں میں صرف ناکامی آتی ہے۔

اگر کبھی تمہیں مصیبت آگھیرے تو تم اللہ سے دعا مانگا کرو۔ وہ ہر مصیبت کو دور کرنے والا ہے یہ میری آخری نصیحت ہے۔ اب جاؤ اور میری نصیحت یاد رکھنا۔

شیئر کیجیے
Default image
ظفر عالم گیاوی

Leave a Reply