ذمہ داری

ڈاکٹر نے سخت تاکیدی انداز میں اسے کہا ’’صبح کی سیر آپ کے لیے بہت ضروری ہے، ورنہ کچھ بھی ہو سکتا ہے۔‘‘

اس نے فکرمندی سے پوچھا ’’کیا ہوسکتا ہے؟‘‘

ڈاکٹر نے دیواری گھڑی پر سرسری نظر ڈالتے ہوئے جواب دیا ’’تفصیل بتانے کے لیے میرے پاس وقت نہیں، ابھی مجھے بہت سے دوسرے مریض دیکھنے ہیں۔ آپ میرے معاون سے اس بارے میں پوچھ لیں۔‘‘

وہ خجالت آمیز مسکراہٹ کے ساتھ اٹھا اور باہر آ کر متلاشی نظروں سے چاروں جانب دیکھنے لگا۔ ڈاکٹر کا معاون ایکسرے روم کے باہر کھڑی ایک خوش شکل نرس سے مصروف کلام تھا۔ وہ ان کے پاس جا کھڑا ہوا کہ شاید اس کی جانب متوجہ ہو۔ اچانک نرس کو اس کی موجودگی کا احساس ہوا۔ اس نے آنکھوں ہی آنکھوں میںکوئی ریڈیائی پیغام معاون کو بھیجا۔ موصول ہوتے ہی یک دم پلٹ کر اس کی طرف دیکھا اور پھرناگوار لہجے میں پوچھا ’’کہیے کیا مسئلہ ہے؟‘‘

اس نے خشک ہونٹوں پر زبان پھیرتے ہوئے جواب دیا ’’دراصل ڈاکٹر صاحب نے آپ سے ملنے کو کہا ہے۔‘‘

معاون سنی ان سنی کرتے ہوئے بولا ’’اچھا اچھا، ٹھیک ہے، آپ ادھر بیٹھ کر انتظار کریں۔‘‘

وہ انہی قدموں پہ پیچھے پلٹا اور مریضوں کے لیے الگ سے پڑی پلاسٹک کی کرسیوں میں سے ایک خالی کرسی پر بیٹھ گیا۔ کچھ دیر بعد ڈاکٹرکا معاون سفید کوٹ کی جیبوں میں ہاتھ ڈالے بے فکری سے ٹہلتا اپنی نشست پر آ بیٹھا۔ اس کے بیٹھتے ہی وہ فوراً اٹھا اور معاون کے پاس جا کھڑا ہوا۔ قدرے توقف کے بعد اس نے سفید رنگ کے دبیز کاغذ پر لکھا ڈاکٹر کا نسخہ سامنے رکھی میز پر پھیلا دیا۔ نسخے پر اچٹتی نگاہ ڈالتے ہوئے معاون نے پوچھا ’’کیا مسئلہ ہے؟‘‘

’’صرف یہ پوچھنا تھا کہ وزن بڑھ جانے سے کیا ہو سکتا ہے؟‘‘

معاون نے طنزیہ لہجے میں جواب دیا ’’مثلاً بلڈپریشر، ہارٹ ٹربل، کڈنی ٹربل، جوڑوں کا درد اور شوگر وغیرہ۔ آپ چکنی اور میٹھی اشیا کا استعمال کم کر دیں۔ صبح کی سیر باقاعدگی سے کریں، تجویز کردہ دوا وقت پر لیجیے، صورت حال بہتر ہو جائے گی۔‘‘ اس نے خاموشی سے نسخہ اٹھایا اور باہر آ گیا۔ واپسی پر تمام راستے یہی سوچتا رہا کہ یہ وزن بڑھنا بھی عجیب مصیبت ہے۔ معلوم نہیں موٹاپا غم کھانے سے زیادہ ہوتا ہے یا زیادہ کھانا کھانے سے؟پچھلے دنوں اخبار یا شاید کسی رسالے میں پڑھا تھا کہ موٹاپا وبا کی صورت ساری دنیا میں پھیل رہا ہے۔ کہتے ہیں ڈائینوسار زیادہ خوراک کھانے سے اتنے بھاری بھر کم ہو گئے تھے کہ بالآخر اپنے ہی بوجھ تلے دب کر مرکھپ گئے۔ یہ بھی ان کے نیست و نابود ہونے کا ایک نظریہ ہے۔ شاید نسل انسانی بھی کسی دن اپنے ہی بوجھ تلے دب کر دم توڑ دے۔ خیر جو بھی ہو، صبح کی سیر کرنا بہت ضروری ہے۔

سویرے ہی اٹھے گا جو آدمی

رہے گا وہ دن بھر ہنسی اور خوشی

یہ کہنا فقط خوشی فہمی ہے۔ اگر کوئی وقت پر سوئے تبھی سویرے اٹھے گا۔ اب تو دن اور رات کی تفریق بھی معدوم ہو رہی ہے۔ ایک خلقت دن میں کام کرتی اور دوسری رات بھر جاگتی ہے۔ اگرجلد سو جانے کی عادت ڈال لیں تو کیبل کے ذریعے دکھائے جانے والے رنگا رنگ پروگراموں سے محرومی لازمی ہے۔ تاہم صحت کو بحال رکھنے کے لیے یہ کڑوا گھونٹ پینا ہی پڑے گا۔ اگر دماغ میں پریشانیوں کی کھچڑی پکتی ہے، تو نیند کب آئے گی! نیند نہ آئی تو خواب آورگولی کھانا پڑے گی۔ گولی کھا لی، تو صبح وقت پر آنکھ نہیں کھلے گی اور آنکھ نہ کھلی، تو صبح کی سیر کیسے ہو گی؟

شب کا ایک بجا ہے۔ ٹریفک کا دبائو کافی کم ہو چکا۔البتہ وقفے وقفے سے گزرنے والی گاڑیوں کے پہیوں کی گڑگڑاہٹ شیشے کی کھڑکیوں کو تھر تھرا دیتی ہے۔ کھڑکیوں پر مضبوط گرل لگانا ضروری ہے۔ شہر میں ڈاکے کی وارداتوں میں اضافہ ہو چکا۔ کاریں چھین لینا بھی معمول ہے۔ اگر یہی روش برقرار رہی تو شاید کسی دن گھر سے باہر قدم رکھنا بھی خطرناک قرار دے دیا جائے۔ ٹی وی اور ریڈیو پر یہ اعلان نشر ہونے لگیں گے، سوچ سمجھ کر گھر سے باہر نکلیں۔ موبائل فون پر اہل خانہ سے رابطہ قائم رکھیں، ضروری اشیائے صرف کی خریداری مکمل کرتے ہی جلد از جلد گھر پہنچنے کی کوشش کیجیے۔ کسی اجنبی سے جان پہچان پیدا کرنے سے اجتناب کریں۔ دوسروں پر بھروسا کرنا چھوڑ دیں۔ بصورت دیگر نتائج کے ذمے دار آپ خود ہوں گے۔

خیالات کے تھپیڑوں سے بچنے کے لیے گنتی گننا چاہیے، ایک۔۔۔۔دو۔۔۔تین! گھڑی کے الارم کی تیز آواز سنتے ہی وہ ہڑبڑا کر اٹھ بیٹھا۔ شب بھر دل و دماغ میں طرح طرح کے خیالات کا رَت جگا رہا تھا۔ مگر کیا وہ سویا ہوا تھا یا جاگ رہا تھا؟ غالباً سو ہی رہا تھا، ورنہ گھڑی کا الارم نیند سے نہ جگاتا۔ کچھ دیر وہ بستر پر گم صم سا ہو کر بیٹھا رہا، جیسے کسی پْرخطر مہم پر روانہ ہونے والا ہو، پھر اٹھ کر غسل خانے کو چل دیا۔

فارغ ہوکرآیا، تو اسے جوتے اور ٹریک سوٹ پہننے کا مرحلہ ایک جوکھم سے کم نہ لگا۔ اب تو صبح کی سیر میں بھی پہلے وقتوں جیسی بے ساختگی نہیں رہی۔ سیر پر نکلنے سے پہلے ٹریک سوٹ اور جوگر پہننا گویا ایک طرح وردی پہننے کے مترادف ہے۔ وہ عام لوگوں کو بتاتی ہے کہ اسے زیب تن کر کے باہر نکلنے والا کون سا کارنامہ انجام دینے جا رہا ہے۔ جب وہ گھر کا آہنی دروازہ بند کر کے نکلا، تو اسے اِکا دْکا اپنے قبیلے کے یعنی ہم لباس افراد سیرگاہ کی جانب جاتے دکھائی دیے۔ اس کی گھبراہٹ میں کچھ کمی آئی۔ یہ سوچ کر قدرے تشفی ہوئی کہ وہ تنہا نہیں، دوسرے بھی اس کے ہمرکاب ہیں۔ ہو سکتاہے سیرگاہ تک پہنچتے پہنچتے کارواں بن جائے۔

ہر چند شہر کی معروف سیرگاہ گھر سے کچھ زیادہ فاصلے پر نہیں تھی، لیکن اسے روز کے مقابلے میں قدرے دور محسوس ہوئی۔ یا پھر وجہ یہ تھی کہ پہلے وہ ہمیشہ کار پر سوار وہاں سے گزرتا تھا۔ اسی لیے وہ گھر کے نزدیک معلوم ہوتی۔ آج اسے بہت سی ایسی چیزیں نظر آئیں جو پہلے نظروں سے اوجھل تھیں۔ شاید ’’رفتار‘‘ ہی اس کی اصل وجہ تھی۔ رفتار زیادہ ہو، تو انسانی ذہن اردگرد کی اشیا، مناظر اور ماحول کا فقط مجموعی تاثر ہی قبول کر پاتا ہے۔تاہم رفتار کے زیر پا آتے ہی اشیا، مناظر بلکہ جزئیات تک سراٹھانے لگتی ہیں۔

سیرگاہ کا مرکزی دروازہ آنے والوں کا استقبال کرنے بازو وا کیے کھڑا تھا۔ آنے والے وہاں سے گزرتے سیرگاہ کے سرسبز و شاداب، کشادہ دامن میں اترتے چلے جا رہے تھے۔ آخر اس کے قدم بھی سیرگاہ کے اندر داخل ہوئے۔ سرسبز مخملیں گھاس کے لمبے چوڑے قطعات، فوارے، مختلف النوع پھولوں کے تختے یوں بکھرے دکھائی دیے جیسے کسی نے دیوہیکل قالین اور غالیچے چاروں طرف بچھا دیے ہوں۔

کنکریٹ عمارتوں اور تارکول کی سڑکوں تلے دبے شہر میں دن بھر سرگرداں رہنے کے بعد ایسے مناظر واقعی کچھ دیر کے لیے سہی، مشینی زندگی کی تکان اور بوریت میں کمی ضرور کر دیتے ہیں۔ سیر پرنکلنا دو گھڑی اکیلے وقت گزارنے کے مترادف ہے۔ اس بات کا اندازہ بھی اسے پہلی مرتبہ ہوا۔ البتہ یہ دیکھ کر اسے کوفت ہوئی کہ چہل قدمی یا جوگنگ کرنے والے تقریباً ہر فرد کے ہاتھ میں سیل فون موجود تھا۔ وہ ان جونکوں کو کانوں سے چمٹائے باتیں کیے چلے جا رہے تھے۔

دنیا پہلے ہی زیادہ سوچنے، منصوبے بنانے اور بولنے کی وجہ سے خطرناک موڑ پر پہنچ چکی۔ رہی سہی کسر اس سائنسی عجوبے نے پوری کر دی۔ اب خیر سے آپس میں ہمکلام افراد سیل فون کی اسکرین پر اپنے رخ زیبا کا دیدار بھی کرنے لگے ہیں۔ آواز جو ایک ’’پردہ‘‘ تھی اور کئی بھرم قائم رکھنے میں مدد دیتی، اپنی یہ حیثیت کھو بیٹھے گی۔ جبکہ تصویر ایک طرح کی ’’بے پردگی‘‘ ہے، وہ بہت کچھ نا چاہتے ہوئے بھی آشکار کر دیتی ہے۔ گویا سیر کرتے ہوئے بھی مواصلاتی رابطہ ہمہ وقت ہمیں ایک دوسرے کے سر پرسوار رکھنے لگا ہے۔ چند ساعتوں کی تنہائی بھی بتدریج جنس نایاب بنتی جا رہی ہے۔

اسے قطعاً اندازہ نہیں تھا کہ جن باتوں اور پہلوئوں پر اس نے کبھی غور نہیں کیا تھا، آج یوں یکایک نئے زاویے سے اس کے سامنے عریاں ہوں گے۔ اس نے چہل قدمی کے لیے سیرگاہ کی قدرے الگ تھلگ روش کا انتخاب کیا۔ تراشیدہ پتھروں سے بنی روش پر اس کے قدم رواں دواں ہو گئے۔ پہلے ہی دن تیز تیز چلنے سے جسم پر منفی اثر پڑ سکتا ہے اور یہی ہوا، پندرہ منٹ تک مسلسل چلتے رہنے سے اس کا سانس پھولنے لگا، دونوں ٹانگیں شل ہونے لگیں۔ اسے پتھر سے بنا بینچ نظر آیا، تو وہ اپنی ناہموار سانسیں سنبھالتا ہوا اس پر بیٹھ گیا۔

جب سانس اور اوسان ذرا بحال ہوئے، تو چاروں طرف ایک طائرانہ نگاہ دوڑائی۔ کافی تعداد میں لوگ سیرگاہ میں داخل ہو چکے تھے۔ وہ انھیں اطمینان سے دیکھنے لگا۔ مگر اس منظر کا ٹھہرائو اور سکون زیادہ دیر تک برقرار نہ رہ پایا۔ اچانک سیرگاہ کے ایک دور افتادہ گوشے سے جہاں یوکلپٹس کے درختوں کا ایک جھنڈ تھا، تڑتڑ، تڑاتڑ گولیاں چلنے کی آوازیں ابھریں۔ دوسرے ہی لمحے پرندے ڈر کے مارے پرپھڑپھڑاتے پرواز کر گئے۔ گولیاں چلنے کی آوازیں چند ساعتوں بعد خاموش ہو گئیں، مگرکوئوںکا شور مسلسل جاری رہا۔ کوے واویلا تو بہت کرتے ہیں، لیکن ان کی کوئی نہیں سنتا۔

سیرگاہ کی صورت حال تیزی سے تبدیل ہونے لگی۔ سیر کرنے والے بوکھلائے بوکھلائے بہ سرعت قدم اٹھاتے جانے لگے۔ دیکھتے ہی دیکھتے وہاں ہو کا عالم چھا گیا۔ حفظ ماتقدم کے طور پر اس نے بھی کوچ کرنے کا قصد کیا۔ ابھی تھوڑی دور ہی گیا تھا کہ سیرگاہ کے صدر دروازے کی جانب سے ہوٹر بجنے کی آوازیں سنائی دیں۔ اس نے اپنی رفتار بڑھا دی کیونکہ وہ چشم دید گواہ بن جانے کے چکر میں پھنسنا نہیںچاہتا تھا۔ ایسا کئی بار ہو چکا تھا کہ قاتل باعزت بری ہو کر گھر چلے گئے اور سارا الزام چشم دید گواہ کے کھاتے میں ڈال دیا گیا۔ شاید چشم دید گواہ کو یہ سزا ملتی ہے کہ اس نے وہ سب کچھ جو اسے نہیں دیکھنا چاہیے تھا، دیکھنے کی جسارت کیوںکی! سیرگاہ کے صدر دروازے پر افراتفری کا عالم تھا، مگر وہ جیسے تیسے پہنچا اور پھر دھڑکتے دل سے جدھر سے آیا تھا، ادھر کو چل دیا۔ شام کو شائع ہونے والا اخبار دیکھا، تو صبح کے وقوعے کا راز کھلا۔

اخبار کے صفحہ اوّل پر جلی سرخی میں یہ خبر چھپی تھی! ’’شہر کی ایک مشہور شخصیت کو چند نامعلوم افراد نے معروف سیرگاہ میں گولیوں کی بوچھاڑ کر کے موقع ہی پر ہلاک کر دیا اور فرار ہو گئے۔ ابھی تک کسی گروپ یا تنظیم نے اس قتل کی ذمے داری قبول نہیں کی۔‘‘ یہ ذمے داری قبول کرنا بھی عجیب چیز ہے! کسی کو جان سے مارنا اور بے قصوروں کی زندگیوں کو آگ و بارود کی بھٹی میںجھونک دینا گویا کوئی ذمے داری ہے جسے اگر قبول کر لیا جائے، تو کیا دوسرے کے خون سے ہاتھ رنگنے کا جواز نکل آتا ہے؟ لفظوں کی کتھا ہی نرالی ہے۔ یہ خود ہی اپنے مطالب و مفاہیم منہدم کرتے رہتے ہیں۔ لفظ سے زیادہ جان لیوا ہتھیار آج تک ایجاد نہیں ہوا۔ اخبار کی مزید ورق گردانی کرنا اسے کارِ عبث لگا۔

صبح کی سیر کا ’’مزہ‘‘ تو وہ لے ہی چکا تھا، ظاہر ہے اب صبح سویرے کسی سیرگاہ میں جانے کی ہمت کرنا اس کے بس میں نہیں رہا تھا۔ چند روز یہی سوچتے گزر گئے کہ اب کدھر جانا چاہیے؟ آخر ایک کرم فرمانے اسے مشورہ دیاکہ سیر کرنے کے لیے کیا ضروری ہے، کسی سیرگاہ ہی کا انتخاب کیا جائے! اس کام کے لیے فٹ پاتھ یا سڑک بھی استعمال ہو سکتی ہے۔ اسے یہ مشورہ قابل قبول لگا۔

چناںچہ اگلے اتوار کی شام اس نے ٹریک سوٹ پہنا اور باہر آ کر فٹ پاتھپر نپے تلے قدموں سے چل پڑا۔ اسے پہلی بار فٹ پاتھ کی اہمیت کا احساس ہوا۔ یہ تصور پیش کرنے والا یقینا انسانی نفسیات کا بہت بڑا نباض ہو گا۔ ابھی وہ ان خیالات کی دہلیز ہی پر کھڑا تھا کہ ایک اندھے شیشوں (Tainted Glass) والی گاڑی نے پیادہ راہ کے بالکل قریب آ کر زور سے بریک لگائی۔ اگلے ہی لمحے دو نوجوان لپک کر باہر آئے۔ ان کے ہاتھوںمیں مائوزر تھے۔ انھوں نے پندرہ بیس قدم آگے جاتے ایک خوش پوش ادھیڑ عمر شخص کی کنپٹی پر مائوزر رکھا۔ پھر اسے تقریباً کھینچتے ہوئے گاڑی میں ڈالا اور ہوا ہو گئے۔

یہ سب کچھ اس قدر آناً فاناً ہوا کہ اسے یہی لگا، یہ کسی ماردھاڑ والی فلم کا کوئی منظر تھا جسے ریکارڈ کر لیا گیا۔ مگر نہیں، یہ ایک کھلی حقیقت تھی جس کی طرف سے آنکھیں چرانا ممکن نہ تھا۔ اس کے پائوں کے اسی مقام پر آ کر ٹھٹک گئے جہاں چند لحظے پہلے اغوا کاواقعہ رونما ہوا تھا۔ معاً خوف نے اسے اپنے پنجوںمیں دبوچ لیا، اس پر عجیب سی کیفیت طاری ہو گئی۔

وہ ہر اس گاڑی سے بدک کرفٹ پاتھ کی دوسری جانب کچی زمین پر اتر جاتا، جو اس کے قریب سے گزرتی۔ لوگ اپنی رو میں بڑھے چلے جا رہے تھے۔ ٹریفک بھی اپنے شور میں ڈوبا رواں دواں تھا۔ واقعی زندگی کی رفتار بہت بڑھ چکی۔ کسی کے پاس دو گھڑی رک کر دوسرے کے بارے میں سوچنے کا وقت ہی نہیں رہا۔ ہر شخص خود کو بچانے کی فکر میں بھاگ رہا ہے۔ اس کا سارا بدن پسینے کی نمی کے باعث بھیگنے لگا تھا۔

اس نے قدم گھر کی طرف موڑ دیے، مگر پائوں من من کے ہو گئے تھے۔ بمشکل تمام وہ گھر پہنچا اور سیدھا بستر پر ڈھیر ہو گیا۔ اگلی صبح بظاہر طبیعت کافی سنبھل چکی تھی، تاہم اس واقعے کا اثر پوری طرح زائل نہ ہوا۔ حالانکہ اس نوع کے واقعات کی خبریں اخبارات میں آئے دن چھپتی رہتی ہیں۔ دراصل کسی واقعے کی خبر پڑھنا اور اسے آنکھوں کے سامنے وقوع پذیر ہوتا دیکھنا دو بالکل مختلف نوعیت کے تجربات ہیں۔ یہی سبب تھا کہ اس کے اعصاب تنائو کا شکار تھے۔ اس نے دفتر فون کر کے اپنی چھٹی منظور کرا لی۔

اس کی اپنی زندگی ایک دوراہے پر آ کھڑی ہوئی تھی۔ اس کی بیٹی ڈنمارک میں سکونت اختیار کر چکی تھی۔ داماد وہاں ایک ریستوران کا مالک تھا۔ وہ دونوں میاںبیوی مل جل کر کاروبار بخوبی چلا رہے تھے۔ دوسری طرف اس کا بیٹا ایم بی اے کرنے کے بعد آسٹریلیا چلا گیا تھا۔ اس نے وہیں ایک انگریز لڑکی سے شادی کر لی۔ وہ ایک پرائیویٹ تجارتی کمپنی میں ملازم تھا۔ اس کی ازدواجی زندگی کچھ زیادہ خوشگوار نہیں تھی۔ بچوں کی ماں سال کا زیادہ تر حصہ باری باری دونوں کے ہاں گزارتی۔

چند سال تک یہ سلسلہ یوں ہی چلتا رہا۔ پھر ایک رات ٹیلی فون پر اسے یہ اندوہناک اطلاع ملی کہ بیوی کا اچانک حرکت قلب بند ہونے سے انتقال ہو گیا۔ اس وقت وہ ڈنمارک میں اپنی بیٹی کے پاس تھی۔ وہ بیگم کی ناگہانی موت کا غم اٹھائے ان تمام مراحل سے گزرا جن کا شادی شدہ مرد یا عورت کو زندگی کے کسی نہ کسی موڑ پر سامنا کرنا پڑتا ہے۔ تقریباً ڈیڑھ ماہ تک ڈنمارک میں رہا۔ بیٹی نے بہت اصرار کیا کہ وہ واپس نہ جائے،مگر اسے کلچر شاک اور شدید سردی کچھ زیادہ ہی محسوس ہونے لگی۔ لہٰذا اس نے ڈنمارک میں مستقل طور پر آ بسنے کے سلسلے میں سنجیدگی سے سوچنے کا وعدہ بیٹی سے کیا اوروطن لوٹ آیا۔

زندگی پرانی ڈگر پر دوبارہ چل پڑی۔ وہی صبح کا ناشتا، دفتر وقت پر پہنچنے کی کوشش کرنا، باس کی ہاں میں ہاں ملانا، میٹنگوں میں شرکت کرنا، دفتر آنے والے ملاقاتیوں کے مسائل سننا،انھیں چائے اور بسکٹ پیش کرنا، کھانے کے وقفے کے دوران چند ساتھیوں کے ہمراہ قریبی ریستوران میں کھانا اور ترقیوں تبادلوں کے معاملات پر تبصرہ کرنا۔

کبھی کبھی اس کے جی میں آتا کہ کیا یہی وہ مثالی زندگی ہے جس کے لیے معاشرے کا ہر فرد اتنی تگ و دو کرتا ہے؟ تب اس کا ملازمت سے استعفا دے کر بیٹی کے پاس جانے کو جی بے قرار ہو جاتا۔ مگر سوچ کا یہ ریلا جلد گزرتا اور وہ دوبارہ پرسکون ہو جاتا۔ صبح کی سیر کا جو سلسلہ منقطع ہو چکا تھا، اسے دوبارہ بحال کرنے کا حوصلہ مانند پڑ گیا۔ مگر صحت کی درستی کے لیے اْسے شروع کرنا بھی ضروری تھا۔

ایک روز دفتر سے گھر آتے ہوئے اس کی کار اچانک خراب ہوگئی۔ کوشش کے باوجود اس نے دوبارہ چلنے سے انکار کر دیا۔ مکینک کو بلایا۔ اس نے کار کے چند ایک کل پرزوں کا سرسری معائنہ کرنے کے بعد فیصلہ صادر کیا، اسے ٹھیک کرنے میں تین چار دن لگ جائیں گے۔ اس نے مکینک کو ملتجی انداز میں بتایا کہ کار کے بغیر وہ بیکار ہو کر رہ جائے گا۔ مکینک نے اس کی التجا ٹھکراتے ہوئے جواب دیا ’’صاحب جی! معاف کرنا، آپ کی کار جس کمپنی نے تیار کی تھی، اسے بند ہوئے ایک زمانہ گزر چکا۔ شکر کرنا، اگر یہ دو چار دن ہی میں ٹھیک ہو جائے۔‘‘

اس نے مکینک سے مزید بحث مباحثہ کرنا مناسب نہ سمجھا۔ بطور پیشگی ہزار کا نوٹ اس کے ہاتھ میں تھمایا اور خود پیدل چل دیا۔ اتفاق سے اس روز جو بھی، آٹو رکشا یا بس اس کے پاس سے گزرتی، سواریوں سے ٹھنسی ہوتی، لہٰذا اسے مجبوراً پیدل ہی چلنا پڑا۔ یوں ہی چلتے چلتے وہ گھر پہنچ گیا۔ تھکاوٹ کے مارے اس کا بْرا حال تھا۔ شام دیر تک اسے بستر سے اٹھنے کی ہمت نہ ہوئی۔

آئندہ چند روز کے لیے اس کے معمولات میں کار خراب ہونے کی وجہ سے تبدیلی کا آجانا قدرتی امر تھا۔ وہ سوچتا، صبح دفتر تو وہ کسی نہ کسی صورت پہنچ جائے گا، مگر واپسی کا معاملہ بڑا گڑبڑ تھا۔ اتفاق سے دفتر کے کسی ساتھی یا ماتحت کا گھر شہر کے اس علاقے کی طرف نہیں تھا، جہاں اس کی رہائش تھی۔ لہٰذا لفٹ مانگنے کا سوال ہی نہ تھا۔ شومئی قسمت سے کوئی بس بھی براہ راست اس روٹ پر نہیں چلتی تھی۔ آخر اس نے یہی فیصلہ کیا کہدفتر سے چھٹی کے بعد پیدل ہی گھر کو چل پڑے۔ راستے میں اگر اسے کوئی آٹو رکشا مل گیا، تو ٹھیک ورنہ اللہ مالک ہے۔

پہلے روز اسے دفتر سے چند فرلانگ کے فاصلے ایک آٹو رکشا ملا۔ کافی بحث مباحثے کے بعد تقریباً ڈیڑھ سو روپے میں رکشا ڈرائیور چلنے پر آمادہ ہوا۔ دوسرے دن خوش قسمتی سے موسم ابرآلود تھا اور ہلکی ہلکی ہوا بھی چل رہی تھی۔ چناںچہ اس نے کچھ دیر اندرون شہر کے مشہور و معروف بازار کا چکر لگانے کا ارادہ کیا۔ ضرورت کی ایک آدھ چیز خریدنا بھی تھی۔ ابھی اسے بازار میں داخل ہوئے چند ساعتیں ہی گزری ہوں گی کہ چند دکانیں آگے زورکا دھماکا ہوا۔ اسے لگا جیسے کسی جنگی جہاز نے بھرے بازار میں بم پھینک دیا ہو۔

شیشوں اور جسموں کے ٹکڑے ایک ساتھ فضا میں بکھر گئے۔ آگ، دھوئیں، خون اور دل دوز چیخوں کی وجہ سے بازار کا وہ حصہ میدان کارزار معلوم ہونے لگا۔ ٹوٹے شیشوں کے چند نکیلے ٹکڑے اسے بھی اڑ کر لگے۔ مگر اتفاق سے معمولی خراشوں کے سوا اسے کوئی گہرا زخم نہ آیا۔ اسے تادیر اپنی آنکھوں پر یقین نہ آیا کہ جو کچھ اس کے سامنے ہوا ، کیا وہ واقعی حقیقت تھی؟ اس کا زندہ بچ جانا کسی معجزے سے کم نہیں تھا۔

بازار میں کہرام مچا ہوا تھا۔ کچھ پتا نہیں چل رہا تھا کہ کیا ہو رہا ہے! چیخوں، آگ، دھوئیں اور بھگدر کے سوا کچھ دکھائی نہ دیتا۔ وہ ششدر سا ہو کر دیر تک ایک دکان کی دیوار سے لگ کر کھڑا رہا۔ بم دھماکے اور اس کے بعد کی تباہی و بربادی کا دہشت ناک منظر اس کے سامنے تھا۔ کہتے ہیں، کائنات ایک عظیم دھماکے کے بعد معرض وجود میں آئی تھی اور شاید دوسرے عظیم دھماکے سے معدوم ہو جائے گی۔ مگر نسل انسانی کس بات پر یہ خوفناک دھماکے کرتی اور اپنے ہی ہم نسلوں کے خون سے ہاتھ رنگ رہی ہے؟ جو اب کم از کم اس کی سمجھ سے باہر تھا۔

واقعے کا اثر اس پر بہت گہرا ہوا۔ کئی راتیں اس نے آنکھوں میں کاٹ دیں۔ سونے کی کوشش کرتا یا اس پر غنودگی طاری ہوتی، تو اچانک آگ، دھوئیں، خوفناک چیخوں اور کٹے پھٹے انسانی اعضا کی تصویریں آنکھوں کے پردے پر متحرک ہو جاتیں۔ یوں لگتا جیسے اس واقعے نے اسے اندر سے توڑ پھوڑ دیا ہو۔ اس کی صحت اکثر خراب رہنے لگی، کسی کام میں جی نہ لگتا۔ کسی سے بات وات کرنا بھی اسے تکلیف دہ محسوس ہوتا۔ دفتری امور میں عدم دلچسپی بڑھنے لگی۔ ایک عجیب طرح کی منتشر خیالی، بیزاری اور مردہ دلی اس پر ہمہ وقت چھائی رہتی۔ ہر بات کا مختصر اور تشنہ جواب دیتا۔ آخر ایک دن اسے خود ہی اپنی بگڑتی ہوئی حالت کا احساس ہوا، چناںچہ اس نے ڈاکٹر کے پاس جانے کا ارادہ کر لیا۔

اس شام جب وہ ڈاکٹر کے کلینک میں داخل ہوا، تو اس کے سینے پر منوں بوجھ تھا۔ بوجھ کی وجہ ہی سے اس پر نقاہت اور اضمحلال نے کچھ زیادہ غلبہ پا لیا تھا۔ قدم یوں اٹھاتا جیسے پیروںمیں بیڑیاں پڑی ہوں۔ باری آنے پر اٹھ کر تھکے تھکے قدموں سے ڈاکٹر کے کمرے میں چلا گیا۔ ڈاکٹر نے سابقہ نسخے پر سرسری نظر ڈالنے کے بعد اس کا معائنہ کیا، ایک آدھ سوال پوچھا اور پھر قدرے توقف سے کہا ’’دیکھیے! صرف دوا کھانے سے کچھ ہونے والا نہیں۔ آپ زیادہ سوچا نہ کریں، بس صبح کی سیر باقاعدگی سے کیجیے۔‘‘

تب اس سے برداشت نہ ہو سکا اور وہ بے اختیار بول پڑا ’’ڈاکٹر ایسی کوئی جگہ ہے، جہاں سیر کی جائے؟‘‘

ڈاکٹر حیران سا ہو کر اس کی جانب دیکھنے لگا۔ وہ نسخہ ہاتھ میں پکڑے کلینک سے باہر چلا آیا۔ سڑک کنارے کھڑے کچھ دیر خالی خالی نظروں سے ہر آنے جانے والے کو دیکھتا رہا۔ پھر نہ جانے اسے کیا ہوا، ڈاکٹر کا لکھا نسخہ پھاڑ کر پرزے پرزے فضا میں بکھیرے اور چیخ چیخ کر کہنے لگا ’’میں نے ڈاکٹر کا نسخہ پھاڑ کر ہوا میں اڑا دیا، میں اس کی ذمے داری قبول کرتا ہوں، قبول کرتا ہوں، قبول کرتا ہوں؟‘‘ مگر اس کی آواز ٹریفک کے شور میں دب کر رہ گئی۔lll

شیئر کیجیے
Default image
سلیم آغا قزلباش

Leave a Reply