سب سے برا آدمی!

اس بوڑھے مصور نے بتایا کہ اس کا نام صادق احمد المصباح شامی ہے۔ ’’مجھے اپنی صحیح تاریخ پیدائش تو یاد نہیں البتہ میں نے اپنی ماں سے سنا ہے کہ جس دن میں پیدا ہوا تھا اس دن ریڈیم جیسی عظیم دریافت کر کے دنیائے سائنس میں انقلاب برپا کرنے والی عورت مادام ماری کیوری نے ملک شام کا دورہ کیا تھا اور اس روز میرا باپ جو طبیعات کا استاد بھی تھا، اس کے استقبال کے لیے گیا ہوا تھا۔‘‘

اس نے گفتگو جاری رکھتے ہوئے کہا: ’’میرے ماں باپ مجھے سائنس داں بنانا چاہتے تھے لیکن میں اپنے آپ کو تجربہ گاہوں میں مقید ہونے کے بجائے کھلی فضاؤں میں دیکھنا چاہتا تھا۔ مجھے نیلے آسمان پر سفید اور نارنجی رنگ کے پرندے بہت اچھے لگتے تھے۔ فطرت کے مشاہدے نے ہی مجھے مصور بنا دیا۔ میں نے پھولوں کی پتیوں اور ریشم کے ریشوں سے بھی تصاویر بنائی ہیں۔ رنگوں سے ہاتھ رنگتے رنگتے بوڑھا ہوگیا ہوں۔ میرے باپ نے میری شادی ایک مصری خاندان میں کر دی۔ میرے ایک ہی بیٹا ہوا جو ان دنوں اپنی بیوی بچوں کے ساتھ کیلیفورنیا میں آباد ہے۔ جب کہ میری بیوی کو فوت ہوئے گیارہ برس ہوچکے ہیں۔‘‘

میں اس بوڑھے مصورکی باتوں میں کھویا ہوا تھا۔ میں نے اسے بتایا کہ میں کل مراکش کے لیے روانہ ہو جاں گا اس لیے آج رات میں آپ کے پاس رہ کر وہ تصویریں دیکھنا چاہتا ہوں جو آپ نے نہایت محنت اور لگن سے تیار کی ہوں گی۔ بوڑھے مصور نے بہ خوشی میری درخواست منظور کرتے ہوئے کہا : ’’کیوں نہیں! بلکہ میں آج رات کا کھانا تمہارے ساتھ کھانے میں خوشی محسوس کروں گا۔‘‘

صادق احمد المصباح شامی کے جاتے ہی میں نے اپنا سامان باندھا۔ اپنے چند دوستوں کو خطوط لکھے اور جامعہ عربیہ مراکش کے پرنسپل کو اپنی آمد کی اطلاع کے لیے خط لکھا۔ جنہیں میری رہائش کا انتظام کرنا تھا۔ پھر اپنے مالک مکان کو کرایہ ادا کر کے اس بوڑھے مصورکے پاس جا پہنچا جو اپنے ایک فرانسیسی دوست کے پاس اس کے کارخانے میں ٹھہرا ہوا تھا۔ جہاں ریشمی و سوتی کپڑے، صابن، سیمنٹ چینی اور گوشت ڈبوں میں بند کر کے مختلف ممالک میں بھیجے جاتے تھے۔ اس کا کمرہ نہایت خوب صورت تھا۔ کھڑکی سے جزیرے کا تمام ترحسن نظر آرہا تھا۔ بوڑھا مصور مجھ سے بہت تپاک سے ملا۔ ادھر ادھر کی باتوں کے بعد کھانے کا وقت آپہنچا، کھانے سے فارغ ہوکر وہ اخروٹ کی لکڑی سے بنے ہوئے ایک منقش پیالے میں خشک شہتوت رکھتے ہوئے بولا۔ یہ لذیذ شہتوت ملک شام کے ایک زرخیز میدانی علاقے نطکیہ میں بکثرت پائے جاتے ہیں اور یہ پھل ہر ملک میں میرا ہم سفر رہتا ہے۔ پھر ہم دیر تک تصویروں سے لطف اندوز ہوتے رہے۔ شاعر لفظوں سے اورمصور رنگوں سے شاعری کرتا ہے۔ اس بوڑھے مصور کا ہر ایک فن پارہ رنگوں کی بہترین شاعری کہا جاسکتا تھا۔

اس نے تصویروں کو سمیٹتے ہوئے کہا کہ ایک دن میرے ذہن میں خیال ابھرا کہ کیوں نہ دنیا کے سب سے اچھے اور سب سے برے شخص کی تصویریں بناؤں۔ یہ واقعی ایک اچھا خیال تھا۔ جسے مجھے عملی جامہ پہنانا تھا۔ میںاس دن سے دنیا کے سب سے اچھے اور برے شخص کی تلاش میں رہنے لگا۔ چھ برس بیت گئے مگر مجھے ہر برے شخص میں کوئی اچھائی اور ہر اچھے شخص میں کوئی نہ کوئی عیب نظر آہی جایا کرتا تھا اور یوں ایک مرتبہ پھر میرا فن پارہ ادھورا رہ جاتا۔

آخر ایک دو پہر میں نے دنیا کا سب سے اچھا انسان تلاش کر ہی لیا۔ میں بیروت کے گلیوں سے گزر رہا تھا کہ مجھے ایک بوڑھا سا شخص نظر آیا۔ جس نے پیوند لگے کپڑے پہن رکھے تھے۔ وہ زمین پر بیٹھا تھا اور سترہ لڑکوں نے اس کے گرد دائرہ بنا رکھا تھا۔ مجھے وہ بوڑھا شخص کوئی استاد لگ رہا تھا۔ لڑکوں کی رنگت اور لباس سے معلوم ہو رہا تھا کہ ان کا تعلق مختلف ملکوں اور مذاہب سے ہے۔ مگر شفیق انسان سب کے ساتھ مہربانی کے ساتھ پیش آرہا تھا اس کی زبان عربی تھی وہ اپنے شاگردوں سے کہہ رہا تھا۔ انسان اور جانور میں بنیادی فرق تعلیم کا ہے۔ محبت خدا کی طرف سے عطیہ ہے، جو انسان کو خاص طور پر بخشا گیا ہے۔ میرے بچو! میرے بعد ایک دوسرے کو عیسائی، یہودی، مجوسی اور مسلمان کہہ کر آپس میں نفرت کی دیواریں کھڑی نہ کرنا، بلکہ تمہاری مثال بارش کے اس پاکیزہ قطروں جیسی ہونی چاہیے جو ہر شخص کی کھیتی پر برستے ہیں۔ محبت علم سے حاصل ہوتی ہے اور علم خدا کی پہچان ہے۔ میں اپنی زندگی کے سال اور مہینے پورے کر چکاہوں۔ مجھ سے وعدہ کرو کہ تم تمام انسانیت سے پیار کروگے۔ تاکہ تمہارے دل اور تمہاری آنکھیں محبت کی روشنی سے چمک اٹھیں۔

بوڑھے مصور نے اپنی گفتگو کو سمیٹتے ہوئے کہا کہ یقینا علم کے حصول کا درس دینے والااور محبتوں کا پرچار کرنے ولا ہی سب سے اچھا انسان ہوسکتا ہے۔ اس نے مجھے ایک تصویر دکھائی، ایک باوقار بوڑھا پیوند لگے کپڑے پہنے تھا۔ اس کے نرم و ملائم سفید بال تیز ہوا میں بکھر رہے تھے۔ چند لڑکے اس کے گرد آلتی پالتی مارے سبق پڑھ رہے تھے۔

جزیرہ مڈغاسکر کی راتیں کافی ٹھنڈی ہوتی ہیں۔ اب دن کی گرمی اور لوکا اثر ختم ہوچکا تھا۔ باہر چودھویں کا پورا چاند پانیوں میں نہا رہا تھا۔ کبھی کبھار سمندری پرندوں کی آوازیں ماحول کو مزید خوش گوار بنادیتیں۔ بوڑھے مصور نے وہ تصویر ایک طرف رکھتے ہوئے کہا اور پھر میں نے دنیا کا سب سے برا آدمی بھی ڈھونڈ لیا۔

میرا دل بے ترتیبی سے ڈھڑک رہا تھا۔ میں سوچنے لگا کہ وہ بر اشخص جانے کہاں رہتا ہوگا جسے یہ تجربہ کار اور عمر رسیدہ شخص بھی برا سمجھنے پر مجبور ہوگیا تھا۔

میں بے اختیار بول اٹھا! ’’لیکن وہ آپ کو کہاں ملا؟ وہ کس ملک کا رہنے والا تھا؟ اور کیا کر رہا تھا؟ کیا آپ مجھے اس کی تصویر نہیں دکھائیں گے؟‘‘

وہ بوڑھا مصور مسکراتے ہوئے بولا ’’صبر کرو نوجوان! میں تمہیں وہ تصویر بھی ضرور دکھاؤں گا۔ وہ اٹھا اور بریف کیس سے ایک تصویر اٹھا لایا۔ میرا دل پورے زور سے دھڑک رہا تھا۔ اور آنکھیں انتظار کی اذیت میں مبتلا ہوتی جا رہی تھیں۔‘‘

پھر اس نے تصویر سے پردہ اٹھا کر تصویر میرے سامنے کردی۔ میرے منہ سے چیخ نکل گئی۔ یہ تو اس بوڑھے مصور کی اپنی ہی تصویر تھی۔ الفاظ میرا ساتھ نہیں دے رہے تھے۔ ’’مگر آپ ۔۔۔ آپ تو نہایت اچھے اور مہربان آدمی ہیں۔ آپ دنیا کے سب سے برے انسان کیسے ہوسکتے ہیں؟‘‘

بوڑھے مصور نے مسکراتے ہوئے کہا: ’’بیٹا! میں ہی وہ شخص تھا جو انسانوں کی اچھائیوں پر نظر رکھنے کی بجائے برائیاں تلاش کرتا رہا۔ ہمیشہ یادرکھنا دنیا کا سب سے برا انسان وہ ہے جو اپنی خامیوں کو نظر انداز کر کے دوسروں کی برائیاں تلاش کرتا ہے اور میں ہی ایسا شخص تھا اس لیے اپنی تصویر بنا ڈالی۔

اس واقعے کو آج تیس سال گزر چکے ہیں، مگر جب بھی کہیں تصویروں کی نمائش ہوتی ہے یا میں کسی مصور سے ملتا ہوں تو مجھے شام کا وہ بوڑھا مصور یاد آتا ہے جومجھے افریقی جزیرے مڈغاسکر میں ملا تھا۔lll

شیئر کیجیے
Default image
محمد محمود احمد

Leave a Reply