بچوں کو وقت دیجئے

بچوں کے اولین حقوق میں سے ایک اہم حق یہ ہے کہ ان کی دینی واخلاقی تربیت کیلئے ان کے ساتھ وقت گزار جائے انہیں وقت دیا جائے ان کے جذبات وخیالات کو محسوس کیا جائے اور

بچوں کے اولین حقوق میں سے ایک اہم حق یہ ہے کہ ان کی دینی واخلاقی تربیت کیلئے ان کے ساتھ وقت گزار جائے انہیں وقت دیا جائے ان کے جذبات وخیالات کو محسوس کیا جائے اور خود کو ان کا ہم عمر خیال کرتے ہوئے ان سے گفتگو کی جائے۔ آج کل کے والدین نے خود کو کاروباری ودیگر مشاغل میں بے پناہ مصروف کر لیا ہے۔ اگر کہا جائے کہ بچوں کو بھی وقت دیا جائے تو کہا جاتا ہے کہ میں یہ سب کچھ بچوں کیلئے ہی تو کر رہا ہوں۔یادرکھیے بچوں کیلئے بہت سا بینک بیلنس ذاتی مکان لاکھوں کی پراپرٹی اور نفع بخش کاروبار چھوڑ جانا بھی قابل ستائش ہے لیکن یہ سب چیزیں اس وقت بیکار ہو کر رہ جاتی ہیں جب بچوں کی تربیت نہ کی ہو۔ اس ضمن میں ایک سچا واقعہ میں نے پرھا ہے جو ہمارے لیے بھی باعث عبرت ہے۔ ایک نو عمر بچہ اپنے والد سے پوچھتا ہے: پاپا آپ دن میں کتنے ڈالر کماتے ہیں۔ والد نے بتایا کہ وہ روزانہ اتنے ڈالر کماتے ہیں۔ لڑکا اپنے کمرے میں گیا۔ کچھ جوڑ گھٹا کرنے کے بعد واپس آیا اور اپنے باپ کو دس ڈالر تھماتے ہوئے درخواست کی۔ پاپا کیا کل آپ میرے ساتھ گھر پر ڈنر کرسکتے ہیں۔ اگر آپ ایسا کریں تو آپ کا اتنا وقت میرے ساتھ صرف ہوگا اور اس کی قیمت یہ لیجئے ایڈوانس مگر مجھے مایوس نہ کیجیے۔

بچوں اور والدین کے درمیان حجابات کی اس خلیج کو اسکول اور ہاسٹل کا نظام تعلیم بھینہیں مٹا سکتا۔ بچے اپنے بچپن میں والدین اور دیگر رشتہ داروں سے مانوس ہوتے ہیں اور انہیں اپنا سمجھتے ہیں اور زندگی گزارنے کا سلیقہ اور زندگی کی قدریں بھی انہی سے سیکھتے ہیں۔ اس لیے اپنے بچوں کو وقت دیجئے اور ان کی تربیت میں اپنا کردارادا کیجئے جس طرح سکول کالج کے امتحانات میں والدین اور اساتذہ محنت کر کے بچے کی کامیابی کیلئے ہمہ تن مصروف دکھائی دیتے ہیں اسی طرح بچوں کے ذہن میں یہ بات بٹھائی جائے کہ ہمارا اس دنیا میں قیام عارضی ہے۔ ہمارے بابا آدم جنت ہی سے آئے تھے اور ہمیں بھی لوٹ کر جنت میں جانا ہے۔ جنت میں کیسی کیسی نعمتیں ہوں گی ہم کیا جانیں ان کے تصور بھی ہمارے خواب وخیال میں نہیں آسکتے۔

آج میٹرک پاس بچے کے سامنے بھی جنت کی نعمتوں کا تذکرہ کیا جائے تو وہ حیرت زدہ ہو کر رہ جاتا ہے۔ کیوں؟ اس لئے کہ اس نے کبھی ان نعمتوں کا تذکرہ سنا ہی نہیں ہوتا۔ اس حوالہ سے بچوں کی ذہن سازی کی جائے ان کے سامنے آخرت اور اس کی نعمتوں کا اس ذوق وشوق سے تذکرہ کیا جائے کہ دنیا اور اس کی فانی نعمتیں خودبخود دل ودماغ سے اتر جائیں کہ انہیں پتہ ہو کہ دنیا تو وہ گزاررہے ہیں ہماری اصل منزل تو آخرت اور جنت ہے۔ اللہ تعالیٰ کی نعمتوں کا دل آویزانداز میں تذکرہ کیا جائے خواہ ان نعمتوں کا تعلق انسانی جسم سے ہو یا اللہ کی نعمتوں سے ہو۔ بچوں کو وقت دیجئے۔ انہیں بتایئے کہ اخلاق کا دائرہ وسیع ہے اور بداخلاقی کا میدان بھی بہت بڑا ہے۔ اللہ تعالیٰ کی ہر نافرمانی بداخلاقی ہے۔ صرف مسکراکر بول لینا ہی اخلاق نہیں بلکہ غصہ جھوٹ حسد تکبر اور بخل جیسے گناہوں کی پہچان کرائی جائے اور قول وعمل میں نگرانی کی جائے۔ اللہ تعالیٰ ہمیں اپنے بچوں کے حقوق ادا کرنے کی توفیق عطا فرمائے۔ آمین۔lll

شیئر کیجیے
Default image
سدرہ امین الدین

Leave a Reply