نیکی کے کاموں میں سبقت

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک مرتبہ ارشاد فرمایا کہ پانچ باتوں کو پانچ باتوں سے پہلے غنیمت سمجھو۔ تندرستی کو بیماری سے پہلے غنیمت سمجھو۔ انسان آج تندرست اور توانا ہے، اپنی اچھی صحت کے سبب وہ بہت کچھ کرنے کی طاقت رکھتا ہے، لیکن اس کو کچھ معلوم نہیں کہ اس کی یہ صحت اور تندرستی کب اس سے چھین لی جائے گی اور پھر یہی توانا انسان ناتواں بن کر رہ جائے گا۔ اب اس میں کوئی طاقت اور ہمت نہیں رہے گی کہ وہ اپنی آخرت کے لیے کچھ کرسکے۔ وہ نیکی کرنا چاہے گا، لیکن نقاہت و کمزوری کے سبب وہ کچھ بھی نہ کرسکے گا۔

اسی طرح جوانی اللہ تعالیٰ کی بہت بڑی نعمت ہے۔ قبل اس سے کہ انسان پر بڑھاپا آجائے، جوانی کو غنیمت سمجھنا چاہیے، انسان جوانی کے گھمنڈ میں نیکی کرنے کو موخر کرتا رہتا ہے کہ ابھی تو بہت عمر پڑی ہے۔ ابھی کرتے ہیں، کل کرتے ہیں لیکن یہ سب کو معلوم ہے کہ انسان پر بالآخر بڑھاپا آجاتا ہے اور پھر وہ کچھ بھی نہیں کر پاتا۔ سعادت مند ہیں وہ لوگ جو بلا تاخیر اپنی جوانی میں نیکی کے کام سر انجام دیتے ہیں اور اپنے لیے جوانی میں ہی آخرت کا سرمایہ اکٹھا کرلیتے ہیں۔

اسی طرح دولت مند انسان کو غربت و افلاس آنے سے دولت کو پہلے غنیمت سمجھ لینا چاہیے۔ انسان آج خوش حال و تونگر ہے لیکن کسی کو کیا معلوم کہ کب اس کی دولت اس سے چھن جائے۔ وہ انفاق فی سبیل اللہ کے کاموں میں تاخیر کرتا ہے۔ دولت پر سانپ بن کر بیٹھ جاتا ہے، مال و دولت کو دگنا، تگنا کرنے کی دھن اس پر سوار ہوجاتی ہے، لیکن شاید وہ یہ بات بھول جاتا ہے کہ یہ مال و دولت جو آج اس کے پاس ہے، اس سے واپس بھی لی جاسکتی ہے اور یہ دولت مند انسان مفلس و کنگال بھی بن سکتا ہے۔

اسی طرح مصروفیت سے پہلے فراغت کو غنیمت سمجھنا چاہیے۔ آج انسان کو وقت میسر ہے، فراغت حاصل ہے، لیکن کل وہ اتنا مصروف ہوسکتا ہے کہ وہ دین کے لیے وقت لگانے سے قاصر رہ جائے۔ انسان کے لیے اس کا مال اور اولاد آزمائش کا سبب بن جاتی ہے۔ وہ بہت کچھ چاہتے ہوئے بھی نیکی کے کاموں کے لیے کوئی وقت نہیں دے پاتا۔

اسی طرح موت واقع ہونے سے پہلے اپنی زندگی کے لمحات کو غنیمت سمجھنا چاہیے۔

رسول اللہﷺ کے فرمان کی روشنی میں انسان کو اللہ تعالیٰ کی طرف سے جو بھی نعمت میسر ہے اس کو غنیمت تصور کرتے ہوئے نیکی کے تمام امور میں سبقت کرنی چاہیے اور جلد از جلد نیکی کے کام بر وقت انجام دینا چاہیے۔ آگے انسان کو کن حوادث سے دوچار ہونا ہے کسی کو کچھ معلوم نہیں۔ اس لیے بندہ مومن کی بھلائی اسی میں ہے کہ اس کو نیکی ہی کا خوگر ہے۔

نیکی کے کاموں میں سبقت اختیار کرنا ہی بندہ مومن کے شایان شان ہے اور ہمارے اسلاف کی بے مثال تاریخ بھی۔ من ذا الذی یقرض اللہ قرضا حسنا فیضعفہ لہ ولہ اجر کریم ترجمہ: ’’کون ہے جو اللہ کو قرض حسن دے کہ وہ اسے اس کے لیے کئی گنا بڑھا دے اور اس کے لیے بہترین اجر ہے‘‘ کی صدا جب حضرت ابو دحداج کے کانوں تک پہنچتی ہے تو اس کے جواب میں انہوں نے اپنا عزیز ترین باغ اللہ اور اس کے رسول کے حوالے کرنے کا وعدہ کرلیا۔ اسی وقت یہ محبوب صحابی اپنے باغ میں پہنچتے ہیں، اسی باغ میں ان کا گھر بھی تھا، دور ہی سے اپنی زوجہ کو پکارتے ہیں: ’’اے ام دحداح تم جلد از جلد اس باغ سے باہر ہوجاؤ کہ میں نے یہ باغ جنت کے عوض اللہ اور اس کے رسولؐ کے حوالے کر دیا ہے۔ تسلیم و رضا کی پیکر زوجہ فوراً باغ خالی کردیتی ہے۔ اپنے میاں کے اس فیصلے پر سراپا شاداں و فرحاں نظر آتی ہے۔ اتنی بڑی قربانی پر وہ چیں بجبیں نہیں ہوتی، بلکہ راضی برضا کی تصویر بن جاتی ہے اور کہتی ہے تم نے نفع کا سودا کیا، اے دحداح کے باپ۔ بندہ مومن کو سابق بالخیرات ہی ہونا چاہیے۔

اللہ تعالیٰ فرماتا ہے: ’’جلدی کرو اپنے رب کی مغفرت اور اس جنت کو حاصل کرنے کے لیے جس کی وسعت آسمانوں اور زمین جتنی ہے۔‘‘ حضرت ابو ہریرہؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہﷺ نے فرمایا کہ نیکیاں کرنے میں جلدی کرو، اس سے پہلے کہ فتنے رات کی تاریکیوں کی مانند پھیل جائیں، اس وقت آدمی دن کو مومن اور شام کو کافر اور شام کو مومن اور صبح و کافر ہوگا اور اپنے دین کو دنیا کے تھوڑے فائدوں کی خاطر فروخت کردے گا۔‘‘

نیکی کے کام میں سبقت کرنے کی فضیلت مندرجہ ذیل حدیث سے بھی واضح ہوتی ہے ’’حضرت عقبہ بن حارثؓ سے روایت ہے کہ میں نے مدینہ میں عصر کی نماز رسول اللہﷺکے پیچھے پڑھی۔ آپؐ نماز پڑھا کر فوراً اٹھ کھڑے ہوئے اور لوگوں کے اوپر سے گزرتے ہوئے ایک زوجہ مطہرہ کے کمرے میں گئے۔ لوگوں کو اس سے تعجب ہوا اور گھبرا گئے۔ واپس آئے تو فرمایا کہ گھر میں کچھ سونا پڑا ہوا تھا اور یہ مجھے نماز ہی میں یاد آگیا۔ مجھے اس سونے کو روکے رکھنا پسند نہ تھا۔ اس لیے بلا تاخیر اس کو تقسیم کردینے کا حکم دے آیا ہوں۔ ایک دوسری حدیث میں یہ زائد الفاظ روایت کیے گئے ہیں کہ مجھے یہ بات سخت ناگوار گزری کہ یہ سونا رات بھر میرے گھر میں موجود ہو اور تقسیم ہونے سے رہ جائے۔

غرض کہ قرآن و حدیث میں نیکی کے کاموں میں سبقت کرنے اور بلا تاخیر سر انجام دینے کی بہت بڑی تاکید ملتی ہے۔ بندہ مومن کے لیے زندگی کے ایک ایک لمحہ کی قدر و اہمیت جاننا ازحد ضروری ہے کہ دینی امور کے بروقت ادا کرنے میں ہم کسی لاپرواہی کے مرتکب تو نہیں ہو رہے ہیں۔lll

شیئر کیجیے
Default image
بشیر احمد

Leave a Reply