حب رسولؐ اور اس کے عملی تقاضے

قرآن میں اللہ تعالیٰ فرماتا ہے: کہہ دو اے نبی! اگر تمہارے باپ اور تمہارے بیٹے اور تمہارے بھائی اور تمہارے جوڑے اور تمہارے رشتہ دار اور تمہارے وہ مال جو تم نے کمائے ہیں اور وہ تجارت جس کے ماند پڑ جانے کا تم کو ڈر ہے، اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول سے زیادہ محبوب ہیں اور جہاد فی سبیل اللہ سے زیادہ پیارے ہیں تو انتظار کرو یہاں تک کہ اللہ کا فیصلہ آجائے اور اللہ فاسق لوگوں کو ہدایت نہیںدیتا۔‘‘ (توبہ:24)

یہ آیت ہم پر واضح کرتی ہے کہ اللہ اور اس کے رسولؐ سے محبت کا عملی تقاضا کیا ہے؟ اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ اپنے مال و رشتہ دار اور تجارت سب سے بڑھ کر ہم کو اللہ اور اس کے رسول سے محبت ہو اور اس کے دین سے محبت ہو۔ ذرا بتائیے تو سہی کیا ہم کو اپنی زندگی میں اللہ کا دین اور نبیؐ کا طریقہ اچھا لگتا ہے۔ ہمارا دعویٰ تو مسلمان ہونے کا ہے لیکن اللہ و رسولٖؐ سے ہماری وابستگی زبانی ہے۔ ہم سب سے زیادہ مرعوب مغرب سے ہیں۔ ہم سب سے زیادہ مرعوب فحش اور بری باتوں سے ہیں۔ ہمارا رہن سہن اور طرزِ زندگی، ہماری جوانیاں اور ہمارا معاشرہ اور ہمارا سماج سب مغربی رنگ میں رنگے ہوئے ہیں۔ ہمارا لباس مغربی اور ہماری تہذیب غیر اسلامی ہے۔

اللہ کے نبی نے فرمایا: لا یومن احدکم حتی اکون احب الیہ من والدہ و ولدہ والناس اجمعین۔ مطلب یہ ہے کہ تم میں کوئی شخص مومن ہو ہی نہیں سکتا جب تک کہ میں اس کو اس کے والد اس کی اولاد اور سب لوگوں سے زیادہ محبوب نہ بن جاؤں۔

اس حدیث مبارکہ پر غور کریں اور خود کا جائزہ لیں کہ کیا بات اس حدیث میں بتلائی گئی ہے۔ حب رسولؐ کا عملی تقاضہ ہے کہ ہم کو نبی اکرمؐ کی ذات تمام لوگوں سے بڑھ کر محبوب ہونی چاہیے۔ ہمارا حال یہ ہے کہ ایک طرف نبی اکرمؐ نے فرمایا ’’نماز میری آنکھوں کی ٹھنڈک ہے‘‘ اور ہمارا حال یہ ہے کہ ہم سب سے زیادہ نماز کو برباد کرنے والے ہیں۔ آپﷺ نے فرمایا: ’’اپنے پڑوسی کو تکلیف نہ دو‘‘ صورتِ حال یہ ہے کہ ہمارا پڑوسی ہم سے پریشان ہے۔

صحابہ اور صحابیات میں حب رسولؐ کتنی شدید تھی اس کا نمونہ ملاحظہ فرمائیں۔ جنگ احد میں مسلمانوں کی شکست کی افواہ مدینہ پہنچ گئی۔ جب کہ اس جنگ میں مسلمانوں خاصی بڑی تعداد شہید ہوئی، یہ خبر مدینہ پہنچی تو ہر طرف کہرام مچ گیا۔ ایک خاتون میدان احد کی طرف دوڑی۔ اس کو راستے میں اطلاع دی گئی کہ اس کا باپ اور بھائی شہید ہوگئے ہیں۔ اس خاتون کے گھر کے تین افراد شہید ہوئے تھے۔ خاتون نے کہا کہ سب سے پہلے یہ بتاؤ رسول اللہﷺ تو یہ چیزیں؟ جب ان کو اطمینان ہواکہ رسول ﷺ کو کوئی تکلیف نہیں پہنچی تو کہا کہ اب مجھے کوئی غم نہیں ۔

اسی طرح ایک صحابیہ ہیں ام عمارہ۔ انہوں نے جنگ احد میں اللہ کے نبیﷺ کی حفاظت کے لیے اپنی جان کی بازی لگا دی اور بڑے زخم کھائے۔ اس واقعہ سے یہ ثابت ہوتا ہے کہ صحابہ کرام میںجاں نثاری کا کتنا بڑا حوصلہ تھا۔ یہی چیز ہماری میراث ہے اور ہم کو اتباع کی دعوت دیتی ہے۔ کیا ہم اپنی زندگی کا کچھ حصہ اللہ کے نبیﷺ کی محبت میں گزارنے کے لیے تیار ہیں؟ یہ ہر فرد کا سوال ہے اور اس کا جواب بھی اس کو ذاتی طور پر دینا ہوگا اور اسی بنیاد پر کل قیامت میں ہماری نجات ممکن ہوگی۔ کیوں کہ اللہ کے نبیؐ نے فرمایا، آدمی کا انجام اسی کے ساتھ ہوگا جس سے وہ محبت کرتا ہے۔

آئیے ذرا غور کریں اور معلوم کریں کہ مسلمان ہونے کی حیثیت سے ہم پر حب رسولؐ کے حوالہ سے کیا ذمہ داری عائد ہوتی ہے۔

اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ کہہ دو اے نبی اگر تم اللہ سے محبت کرتے، ہو تو میری پیروی اختیار کرو۔ سورہ آل عمران) حب رسولؐ کے عملی تقاضے یہ ہیں:

٭ رسولﷺ کی اطاعت اور پیروی کرنا

٭ رسول ﷺ کی تعظیم و توقیر کرنا

یعنی زندگی کے معاملات میں نبی کریمؐ کے طریقہ کو عمل میں لایا جائے۔ آپؐ کے طریقے پر چلا جائے اور آپؐ کی سنتوں کو اختیار کیا جائے۔

سنت پر عمل کے حوالے سے اگر بات کی جائے تو سوال یہ ہے کہ نبی کریمؐ کی وہ کون سی سنت ہے کہ جس کو آپؐ نے کبھی ترک نہیں فرمایا: وہ دعوت کی سنت ہے، جس کو آپﷺ نے کبھی نہیں چھوڑا۔ جگہ کی سخت اور مخالفت سے بھری زندگی میں آپ ہر طریقے سے دین کی دعوت کا کام کرتے رہے۔ جب وہاں زندگی تنگ اور رہنا ناممکن ہوگیا تو مدینہ ہجرت فرمائی وہاں بھی یہی تگ و دو جاری رہی۔ آس پاس کے قبائل میں دعوتی گروپ بھیجے جاتے، آپ خود جاتے اور ساتھیوں کو اس کام کے لیے باہر بھیجتے۔ آپؐ نے مدنی زندگی میں قبائل کے سرداروں اور حکمرانوں کو اسلام کی دعوت کے لیے خطوط لکھے اور اس کے پاس اپنے نمائندے بھیجے جنہوں نے ان کے سامنے اسلام پیش کیا۔ اس وقت اس سنت رسولؐ کو اجاگر کرنے کی ضرورت ہے۔ کیوں کہ گھر واپسی کے نام سے باطل نے دین اسلام کو مٹانے کے لیے کمر کس لی ہے۔ کیا ہم میں کوئی ہے جو اس سنت کو بھی زندہ کرنے کے لیے تیار ہو؟lll

شیئر کیجیے
Default image
حافظ خلیل شمسی (پوسد)

Leave a Reply