3

آپ کے طبی مسائل کاحل

س: میرا بچہ تین ماہ کا ہے، اس کے کان میں درد ہے، روتے ہوئے ہاتھ کان کی طرف لے جاتا ہے۔

ج: لگتا ہے آپ کو بچوں کو پالنے کا تجربہ ہے۔ آپ نے صحیح اندازہ لگایا کہ بچے کے کان میں درد ہے۔ آپ کھانوں میں لہسن تو ڈالتی ہوں گی، لہسن کی دوگلیاں تل کے تیل میں جلا کر بچے کے کان میں ہلکا گرم ڈالیں، آرام آجائے گا۔

س: میرے منہ کا مزا خراب ہے، کچھ کھانے کو جی نہیں چاہتا، کمزوری بڑھ رہی ہے، پیشاب پیلا آتا ہے قبض بھی ہوتا ہے۔

ج:آپ بازار کے کھانوں کے شوقین ہیں۔ آپ کا جگر صحیح کام نہیں کر رہا اور معدہ بھی کچھ سست چل رہا ہے۔ سونف، پودینہ، منقی کو جوش دے کر لیموں کا رس ڈال کر دن میں تین مرتبہ استعمال کریں۔ کھانے کے بعد جوارش انارین کھایا کریں۔ سوتے وقت گل قند ماہتابی دو چمچے کھایا کریں۔ ثقیل بادی، تلی ہوئی اشیاء سے پرہیز کریں، سبزیاں ترکاریاں استعمال کریں۔

س: میرے منہ میں چھالے ہیں، منہ سے بدبو بھی آتی ہے، پیٹ میں درد بھی رہتا ہے۔

ج: منہ میں چھالوں کے دو بڑے اسباب ہوتے ہیں: (۱) خون اور وٹامن سی کی کمی، جگر کے فعل کا ناقص ہونا، (۲) پیٹ کی خرابی، مستقل قبض کا رہنا، غذا کا صحیح ہضم نہ ہونا۔

آپ کا معدہ خراب ہے، آپ کو کھانوں میں احتیاط کرنی چاہیے۔ زیادہ مرچ مسالے والے اور بازار کے کھانوں سے اجتناب کریں۔ ناشتے میں جو کا دلیہ اور سبزیوں کا استعمال کریں۔ کھانے کے بعد قرص پودینہ دو دو عدد، رات کو سوتے وقت جوارش کمونی چھ گرام استعمال کریں۔ چھالوں پر طباشیر، کتھا سفید، چھوٹی الائچی پیس کر لگائیں۔ قبض نہ ہونے دیں۔ کھانے کے بعد چھاچھ کا استعمال کریں۔

س: میری نکسیر اکثر پھوٹ جاتی ہے، اچانک ناک سے خون آنے لگتا ہے۔

ج: نکسیر آنے کے متعدد اسباب ہیں۔ اگر کسی کو مستقل بخار رہتا ہو اور اس کے بعد اس کو نکسیر آجائے تو اس کا مطلب ہے وہ صحت یاب ہوگیا۔ دھوپ میں زیادہ رہنے، سریا ناک پر چوٹ لگنے، دماغ کی طرف خون کا زیادہ دباؤ اور پیٹ میں کیڑے ہونے کی وجہ سے بھی نکسیر آجاتی ہے۔

اسباب کو دور کریں۔ نکسیر آئے تو مریض کی ناک بند کر کے منہ آسمان کی طرف کردیں۔ سر پر پانی ڈالیں۔ پاؤں پر بھی ٹھنڈا پانی ڈالیں۔ مربہ آملہ، شربت انار، شربت فالسہ، شربت نیلوفر کا استعمال مفید ہوتا ہے۔

س: کھانا کھانے کے بعد پیٹ پھول جاتا ہے۔ پیٹ میں درد بھی ہوتا ہے، کھٹی ڈکاریں بھی آتی ہیں، محفل میں شرم آتی ہے۔

ج: غذا کی بے اعتدالی کی وجہ سے یہ تکلیف ہے۔ صبح ناشتے میں پراٹھے اور مرغن کھانے چھوڑ دیں۔ سادہ غذا استعمال کریں۔ سونف، پودینہ، بڑی الائچی کو جوش دے کر یہ جو شاندہ پی لیں۔ کلونجی اور سونف کا سفوف کھانے کے بعد کھائیں۔ معجون نانخواہ رات کو سوتے وقت کھائیں۔

س: اکثر آدھے سر میں درد ہوتا ہے۔ ایسے میں کچھ کھایا پیا نہیں جاتا۔ الٹی اور متلی بھی ہوتی ہے۔

ج: آدھے سر کے دردکو درد شقیقہ کہتے ہیں۔ یہ صبح سے شروع ہوتا ہے اور سورج کے ساتھ ساتھ بڑھتا ہے۔ اس کے اسباب کو دور کریں۔ پیٹ کی طرف توجہ دیں۔ سادہ غذا استعمال کریں۔ کھانا کھانے کے بعد جوارش انارین چھ چھ کرام کھالیا کریں۔ رات کو بادام سات دانے، کشمش سات دانے پانی میں بھگو دیا کریں اور صبح خوب چبا کر کھالیں۔

س: میں حفظ کر رہا ہوں۔ حافظہ کو مضبوط کرنے والا نسخہ بتا دیں۔

ج: بہت خوشی کی بات ہے کہ آپ دنیا کی سب سے عظیم کتاب جو ہم سب کے لیے رہنما اور ہدایت ہے، کو اپنے سینے میں محفوظ کر رہے ہیں۔ حافظ صاحب قرآن حفظ کرنے کے ساتھ ساتھ اس کا اردو ترجمہ بھی پڑھیں اور اس کی آیتوں پر غور کریں کہ اس میں آج کی دنیا کے لیے کیا پیغام ہے۔ بادام سات دانے رات کو پانی میں بھگو دیا کریں اور صبح چبا کر کھالیں۔ خمیرہ گاؤ زبان عنبری قرص مرجان کے ساتھ صبح کھایا کریں۔ سونف اور دھنیا توے پر بھون کر رکھ لیں، چلتے پھرتے کھا لیا کریں۔ حافظہ تیز ہوجائے گا۔

س: مجھے گزشتہ کئی ہفتوں سے پیشاب میں جلن ہے۔ کوئی آسان علاج بتائیں۔

ج: خوب پانی میں پیا کریں۔ کل منڈی پانچ گرام، ریوند چینی تین گرام، سر پھوکہ پانچ گرام پانی میں جوش دے کر پی لیا کریں۔ جو کا ستو دیسی شکر ملا کر پیا کریں۔

س: میں نزلہ کا پرانا مریض ہوں۔ سر بھاری رہتا ہے، ناک سے پانی بہتا ہے، کمزوری بھی بہت ہے۔

ج: نزلہ کا بروقت علاج اور احتیاط نہ کرنے سے نزلہ مستقل طور پر جکڑ لیتا ہے۔ دماغ اور اعصاب کی مستقل کمزوری کی وجہ سے بھی یہ بار بار ہوتا ہے۔ جب نزلہ ہوتو مکمل آرام کریں۔ نرم اور سیال غذائیں استعمال کریں۔ قبض نہ ہونے دیں، ناک بند ہو تو عرق گلاب میں کھانے کا نمک ملا کر ناک میں ٹپکائیں۔ ناک ٹشو پیپیر سے صاف کریں اور یہ ٹشو پیپر پھینک دیں۔ عناب، سپستاں، بیدانہ، خاکسی شربت بنفشہ کے ساتھ اور رات کو اطریفل اسطو خدوس استعمال کریں۔

س: مجھے اکثر بے چینی اور بے قراری کی کیفیت رہتی ہے، رونا آتا ہے، منہ خشک رہتا ہے، دل کی دھڑکن تیز ہو جاتی ہے۔ ایسا لگتا ہے کہ سانس رک جائے گا۔

ج: آپ کسی پریشانی کا شکار ہیں۔ اپنے حالات کا جائزہ لیں۔ دوا کھانے سے کام نہیں چلے گا، جب تک آپ اپنی پریشانی کا کھوج نہیں لگائیں گی۔ نماز پڑھنا شروع کریں۔ سجدہ طویل کریں۔ تخم ریحاں اور عرق گلاب برف میں ڈال کر دیسی کھانڈ ملا کر صبح و شام پیا کریں۔ صبح قرص جواہر مہرہ مفرج شیخ الرئیس استعمال کریں۔ رات کو روغن لبوب سبعہ کی مالش کریں۔

س: حکیم صاحب! ماں کے دودھ کی اہمیت کیا ہے؟ کیا دوسرا دودھ ماں کے دودھ کا نعم البدل ہوسکتا ہے؟

ج: آپ نے بہت اہم سوال کیا ہے۔ ماں کے دودھ کا کوئی نعم البدل نہیں۔ آج آپ جو نئی نسل میں بغاوت کے جذبات دیکھ رہی ہیں۔ یہ اسی کا نتیجہ ہے۔ دوسرے یہ کہ مائیں بہت سہل پسند ہوگئی ہیں۔ بہت سی مائیں ملازمت بھی کرتی ہیں اور فیشن ایبل خواتین کی سوشل سرگرمیاں بھی ہیں۔ ماں بچے کو چھاتی سے لگا کر صرف دودھ نہیں پلاتی بلکہ وہ بچے میں خاندانی روایت منتقل کرتی ہے۔ ماں اور بچے کا رشتہ مضبوط ہوتا ہے۔ دودھ کے ساتھ اس کے جذبات اور احساسات بچے میں سرایت کرتے ہیں۔ اسلام دین فطرت ہے، شریعت نے بچے کو دو سال دودھ پلانے کا حکم دیا ہے اور جب تک ماں بچے کو دودھ پلاتی ہے دوسرے بچے کی پیدائش نہیں ہوتی۔ یہ عام مشاہدہ ہے کہ جن بچوں نے ماں کا دودھ پیا ہوتا ہے وہ ماں باپ کی عزت کرتے ہیں اور ان میں خاندانی روایات کا پاس ہوتا ہے۔

عالمی ادارہ صحت کے جائزہ کے مطابق اوپر کا دودھ پینے والے بچوں کی شرح اموات میں اضافہ ہوا ہے۔

اب ہم ماں کے دودھ کی موٹی موٹی خصوصیات بتاتے ہیں:

* ماں کے دودھ میں پروٹین، حیاتین کے علاوہ نشاستہ مناسب مقدار میں ہوتا ہے جو بچے کی نشو و نماز کرتا ہے۔

* ماں کا دودھ جو ابتدائی تین ایام تک آتا ہے وہ دست آور ہوتا ہے، جس سے بچے کی آنتیں اور معدہ فضلات سے صاف ہوجاتا ہے۔

* ماں کے دودھ میں نمکیات کم ہوتے ہیں جس سے گردوں پر بوجھ نہیں پڑتا۔

* ماں کا دودھ جراثیم سے پاک ہوتا ہے۔ ماں کے دودھ میں بیماریوں سے مقابلہ کرنے کے لیے قوت مدافعت ہوتی ہے۔

* ماں کا دودھ پینے والے بچوں میں خون کی کمی نہیں ہوتی۔ ایک سال تک ماں کا دودھ ہی غذا کے لیے کافی ہوتا ہے۔

* ماں کے دودھ میں جو چکنائی ہوتی ہے وہ بچے کو طاقت دیتی ہے، ہڈیاں مضبوط کرتی ہے۔

* ماں کے دودھ کا کوئی پیمانہ نہیں ہوتا۔ بچے کو جتنی بھوک ہوتی ہے وہ اتنا ہی پی لیتا ہے۔

س: میرا بچہ بہت لاغر ہے، بہت مشکل سے کھانا کھاتا ہے، شریر بھی بہت ہے۔

ج: آپ کا بچہ اگر فعال ہے، کھیلتا کودتاہے تو دبلا ہونا کوئی مرض نہیں ہے۔ اگر اسے کوئی تکلیف نہیں ہے تو پھر فکر کی بات نہیں ہے۔ بیٹے کی خواہش کے مطابق کھانا بدل بدل کر دیا کریں۔ کھانے سے پہلے بسکٹ، چاکلیٹ ، الا بلا نہ دیا کریں۔ بچے کو بھوک ہوگی تو وہ خود کھانا کھائے گا۔ بچے کی غذا میں دودھ لازما شامل کریں۔ طاقت کے لیے شربت خوباں کے دو دو چمچے صبح و شام دیں۔

س: حکیم صاحب! میرے چہرے پر تل ہیں۔ تل اور مسے کیوں بنتے ہیں؟ کیا ان کا انسان کی شخصیت پر اثر بھی پڑتا ہے؟

ج: بی بی! چہرے پر تل کو خوش قسمتی کی علامت کہتے ہیں۔ بعض تل حسن میں اضافہ کرتے ہیں، جاذب نظر ہوتے ہیں۔ مگر ان باتوں کی کوئی سائنسی حقیقت نہیں ہے۔ تل اور مسے ایک چیز ہیں جو دراصل خون کی نالی کی چھوٹی چھوٹی رسولیاں ہیں، جن میں ایک قدرتی رنگین مادے کا اجتماع ہوتا ہے، جس کی وجہ سے یہ کالی نظر آتی ہیں۔ یہ گول اور چپٹی اور مختلف شکل کی ہوتی ہیں۔ کبھی کبھی ان پر بال بھی ہوتے ہیں۔ یہ زیادہ تر چہرے پر ہوتے ہیں، مگر دوسری جگہ بھی ہوتے ہیں۔ یہ جلدی بیماری ہے، خون کی کمی بھی اس کا ایک سبب ہے۔ کسی ماہر امراض جلد سے رجوع کریں۔

س: مجھے اعصابی کمزوری کی وجہ سے تھکن ہوجاتی ہے، بھوک بھی نہیں لگتی۔

ج: اعصابی کمزوری کے بہت سارے علاج ہیں۔ آپ کو بہت آسان اور سستا علاج بتاتے ہیں۔ اس علاج سے جوڑوں کے درد کی شکایت بھی دور ہوجائے گی۔ آپ نے بیری کا درخت تو دیکھا ہوگا۔ اس کی جڑ دھوکر چھوٹے چھوٹے ٹکڑے کرلیں۔ جڑ کے ٹکڑے سو گرام، پون لیٹر پانی میں رات کو بھگو دیں اور صبح ہلکی آنچ پر اتنا پکائیں کہ ایک پیالی رہ جائے۔ اب اس میں دودھ اور شکر ڈال کر چائے کی طرح پی لیں۔ کچھ دن کے استعمال سے اعصابی تھکن اور جوڑوں کا درد ٹھیک ہوجائے گا۔

س: مجھے خارش کی شکایت ہے۔ ہاتھ پیروں میں دانے نکل آئے ہیں، ان میں مواد بھی ہے۔ رات کو بہت پریشانی ہوتی ہے۔

ج: آج کل گرمی بہت ہے۔ آپ صبح شام غسل کیا کریں اور ہلکا لباس زیب تن کریں۔ میٹھا کم کھایا کریں، سادہ غذا استعمال کریں۔ چائے کے بجائے دودھ اور چھاچھ استعمال کریں۔ نیم کے پتوں کو جوش دے کر اس پانی سے غسل کریں۔ مہندی کے پتے، چنے کے چھلکے اور منڈی تینوں کو جوش دے کر صبح و شام استعمال کریں۔ حب رسوت دودو عدد کھانے کے بعد کھایا کریں۔

س: سنا ہے لوہے اور تانبے کے برتن میں کھانا نہیں پکانا چاہیے؟

ج: لوہے اور تانبے میں پکانے سے وٹامن سی ضائع ہوجاتا ہے۔ ہمارے یہاں پہلے تانبے کے برتن استعمال ہوتے تھے جہیز میں بھی دیے جاتے تھے، مگر ان پر باقاعدگی سے قلعی کروائی جاتی تھی۔ اب تو اسٹین لیس اسٹیل کا زمانہ ہے اچھا ہے اس میں پکایا جائے۔ ویسے بھی تانبہ انسان کے لیے ضروری ہے اس کی ضرورت خون کے سرخ ذرات کی ساخت و نشو ونما کے لیے پڑتی ہے مگر اس کی قلیل مقدار ہونی چاہیے۔ بکثرت تانبہ نقصان دہ ہوسکتا ہے۔ لوہے کے برتن میں کھانا بنایا نہیں جاتا۔ لوہے کے توے پر روٹی بنائی جاتی ہے۔ وہ بنائی جا سکتی ہے کھانا بھی بنایا جاسکتا ہے۔ مٹی کے برتن میں پکی آنچ پر پکانا سب سے بہتر ہے۔

س: میں بچے کو دودھ پلاتی ہوں، لیکن یہ بھی چاہتی ہوں کہ فیگر خراب نہ ہو۔ اگر میں بغیر چکنائی والا دودھ استعمال کروں تو بچے کو کیلشیم کی کمی تو نہیں ہوگی؟

ج:بغیر چکنائی والے دودھ کے ساتھ اگر آپ وٹامن ڈی بھی کھا رہی ہیں یا روزانہ دس منٹ دھوپ میں بیٹھتی ہیں تو وٹامن ڈی اور کیلشیم کی کمی پوری ہوجائے گی۔ اگر حمل کے زمانے میں مناسب مقدار میں کیلشیم نہیں استعمال کیا تو پیٹ میں بچے کی نشو و نما کے لیے آپ کی ہڈیوں اور دانتوں کا کیلشیم کھینچ کر بچے کی نشو و نما کرے گا۔ اگر ماں بچے کو دودھ پلا رہی ہے اور پلانا بھی چاہیے اور اس زمانے میں ماں خود دودھ اور پنیر استعمال نہیں کرے گی تو ماں کی صحت کو ناقابل تلافی نقصان ہوگا۔ دودھ پلانے والی ماں کو صبح ناشتے میں جو کا دلیہ خوب دودھ میں پکاکر کھجور یا شہد سے میٹھا کر کے کھاناچاہیے۔ سفید زیرہ پیس کر ہر کھانے میں چھڑک کر کھانا بہتر ہے۔ کچے شلجم اور چقندر سلاد کے طور پر کھائیں۔

س: مجھے قبض رہتا ہے۔ مسے بھی ہیں، اجابت سے پہلے دھار کی شکل میں خون ٹپکتا ہے۔ اجابت کے بعد جلن اور تکلیف ہوتی ہے۔

ج: آپ کو بواسیر کی تکلیف ہے۔ ثقیل، بادی، مرچ مسالے والی اور تلی ہوئی غذاؤں سے پرہیز کریں۔ موٹے آٹے والی روٹی، سبزیاں، ساگ، پھلیاں کھائیں۔ رات کو انجیر کے تین سے پانچ دانے کھایا کریں۔ اجابت کھل کر آجائے تو بواسیر کی تکلیف میں آرام آجاتا ہے۔ حب بواسیر دو دو عدد صبح و شام، حب رسوت تین تین عدد کھانے کے بعد کھائیں۔ مرہم کافور مقامی طور پر لگائیں۔ آج کل آڑو آرہا ہے، یہ آپ کے لیے اکسیر ہے۔***

شیئر کیجیے
Default image
پروفیسر حکیم سید مجاہد محمود برکاتی

تبصرہ کیجیے