خواتین اور امراضِ قلب

مرد ہو یا عورت دونوں کو دل کی بیماریاں ہوسکتی ہیں۔ چاہے ان کی نوعیت کچھ بھی ہو۔بہرحال مردوں کو عورتوں کی بہ نسبت زیادہ اوائل عمری میں اس سانحے سے گزرنا پڑتا ہے۔ جب کہ خواتین کو ہارٹ اٹیک خاص عمر میں ہوا کرتا ہے۔ لیکن ہوتا ضرور ہے۔ ’’ہارٹ اٹیک خواتین میں دیر سے کیوں ہوتا ہے؟‘‘ یہ ایک اہم سوال ہے۔

اس کا جواب عورت اور مرد کے ہارمونز کی افزائش میں پوشیدہ ہے۔ خاص طور پر اویسٹروجن۔ جب ایام کی بندش پینتالیس سے پچاس سال کی عمر تک ہوجاتی ہے تو پھر اویسٹروجن کا لیول بہت کم ہو جاتا ہے اور دل کے عارضوں سے بچاؤ کا مدافعاتی نظام کمزور پڑ جاتا ہے۔ پینسٹھ سال کی عمر میں مرد اور عورت دونوں یکساں طور پر اس خطرے سے دو چار ہوتے ہیں۔

تو کیا نوجوان خواتین کو دل کی طرف سے مطمئن ہو جانا چاہیے؟ ہرگز نہیں۔

یہ مشاہدہ کیا گیا ہے کہ پچاس برس تک کی ایسی خواتین جن کو دل کا دورہ پڑ چکا ہے اور وہ اس عمر کے مردوں سے زیادہ موت کے خطرے سے دو چار ہوجاتی ہیں یعنی ان میں موت کے امکانات اس عمر کے مردوں سے کہیں زیادہ ہوجاتے ہیں۔ اس کی وجہ یہ ہوسکتی ہے کہ عورت کا جسم مرد کے جسم کی نسبت کچھ کم اور گھٹا ہوا ہوتا ہے۔ اس لیے دل کا دورہ ان کے لیے جان لیوا ہو جاتا ہے۔ اور ایک بڑی وجہ یہ بھی ہوسکتی ہے کہ ڈاکٹرز کو یقین نہیں آتا کہ نوجوان عورت بھی دل کے عارضے میں مبتلا ہوسکتی ہے۔ اس لیے وہ ہر وقت اس کے علاج اور احتیاط وغیرہ کی طرف توجہ نہیں دیتے۔

ایک عورت دل کے عارضوں سے کس طرح بچ سکتی ہیں؟

پہلا قدم تو یہی ہے کہ فوری طور پر اپنے دل کی طرف توجہ دیں۔ احتیاطی تدابیر اختیار کر کے اس خطرے کو کم سے کم کر دیں۔ اس خطرے کی علامات ان خواتین کے یہاں زیادہ ملتی ہیں جو اپنی لائف اسٹائل میں مثبت تبدیلیاں نہیں لاتیں۔

اس کے بے شمار عوامل ہیں اور ہر ایک پر دھیان دینا ضروری ہے۔ جیسے ہائی بلڈ کولیسٹرول، ہائی بلڈ پریشر اور زیابیطس وغیرہ۔ اس کے بعد زندگی کے ضمنی رجحانات، جیسے ورزش کی کمی، زیادہ وزن، تمباکو نوشی اور بہت زیادہ تفکرات۔ یہ سب مل کر دل کو کمزور کرتے چلے جاتے ہیں اور جان کی بازی لگ جاتی ہے۔

دل کے عارضے کے سلسلے میں بعض ایسی ہی چیزیں یا حقائق ہیں جن پر کنٹرول نہیں ہوسکتا۔ مثال کے طور پر بڑھتی ہوئی عمر۔ خواتین میں پچپن سے اور مردوں میں پینتالیس سے زیادہ۔

نسلی یا موروثی عناصر کے علاوہ دل کے عوارض کا خاندانی پس منظر بھی اہم ہے۔ مثال کے طور پر خاندان میں سے کسی کا ۶۵ برس سے قبل دل کے مرض میں مبتلا ہونا یا انجائنا کی شکایت یا ہائی بلڈ پریشر اور ہائی بلڈ کولیسٹرول کا رجحان۔

یہ وہ عوامل ہیں جن پر کنٹرول بس سے باہر ہے۔

ہر عورت کو انتہائی سنجیدگی کے ساتھ دل کی طرف دھیان دینا چاہیے۔

اس کے لیے پھر وہی کہا جائے گا کہ اپنے لائف اسٹائل میں بھی تبدیلی لائیں۔ مثبت سرگرمیاں اختیار کریں۔ یہ بات ثابت ہوچکی ہے کہ ذرا سی آسان کوششوں سے آپ اپنے طرزِ زندگی کو تبدیل کرکے دل کے دورے کے امکانات سے دور ہوسکتی ہیں اور یہ بھی مشاہدہ کیا گیا ہے کہ پچاس فیصد خواتین اس طرح ممکنہ خطروں سے محفوظ رہ گئی ہیں۔

طرزِ زندگی میں تبدیلی کے لیے ہم پانچ رہ نما اصول درج کرتے ہیں جنہیں اپنا کر خواتین دل کی صحت کو یقینی بنا سکتی ہیں۔

صحیح غذا

آپ کھانے کے معاملے میں ہوسکتا ہے کہ کسی قسم کی احتیاط کی قائل نہ ہوں۔ لیکن اگر آپ صحت مند تبدیلی کی خواہش مند ہیں تو پھر آپ کو اپنے دل پر جبر کر کے اپنی من پسند بہت سی چیزیں ترک کرنی پڑیں گی۔

من پسند پر اصرار کے بجائے صحت مند کھانوں پر توجہ آپ کو اس خطرہ سے محفوظ کرتی ہے۔

مکھن کے بجائے زیتون کا تیل استعمال کریں۔ بکری اور گائے کے گوشت کے بجائے مچھلی اور چکن پر زور دیں۔ ایسے پھلوں کا انتخاب کریں جن میں مٹھاس کم ہو اور خالص اناج کا استعمال کریں۔

محنت کے کام اور ورزش

جسمانی سرگرمیاں جادو کا اثر رکھتی ہیں۔ ورزش ہائی بلڈ پریشر کو کنٹرول کرتی ہے اور اس کے علاوہ آپ کے جسم میں صحت مند کولیسٹرول کی شرح بڑھا دیتی ہے۔ ایسی وورزش یا تفریح اختیار کریں جس سے آپ کی ٹانگوں اور پشت کی ورزش ہو جاتی ہو۔

سائکلنگ اور جاگنگ کے علاوہ پیدل چلنا بہترین ورزش ہے۔ تقریباً آدھا گھنٹہ تیز رفتار سے چلنا ضروری ہے۔ ہفتے میں تین چار بار یہی عمل کرلیا کریں۔

ایک طبی تحقیق کے ادارے نے چوہتر ہزار ایسی خواتین کا جائزہ لیا جن کے ایام رک چکے تھے اور ان میں سے تقریبا تہائی کے تجزئیے سے یہ بات سامنے آئی کہ پیدل چلنے کے بعد ان خواتین کو دل کی بیماریوں کے خطرے سے نجات مل گئی ہے۔

وزن کم کریں

زیادہ وزن ایک عذاب ہے۔ کسی طرح بھی ہو اس عذاب سے جان چھڑائیں۔

وزن کے زیادہ ہونے کا مطلب یہ ہے کہ آپ بہت آسانی سے ہائی بلڈ پریشر ہائی کولیسٹرول اور زیا بیطس کا شکار ہوسکتی ہیں۔ آپ نے اگر محنت کر کے پانچ سے دس پونڈ وزن بھی کم کرلیا تب بھی آپ اس خطرے سے بہت حد تک محفوظ ہوچکی ہیں۔ خاص طور پر کمر کے ارد گرد کے موٹاپے کو ختم کر کے۔

نرم مزاجی

اپنے غصے اور مزاج پر کنٹرول کریں۔

یہ بات ثابت ہوچکی ہے کہ وہ لوگ جو ذرا سی بات پر بھڑک اٹھتے ہیں، یعنی غصہ جن کی ناک پر دھرا رہتا ہے۔ وہ ٹھنڈے مزاج کے لوگوں کی نسبت کہیں زیادہ دل کے خطرے میں گھرے رہتے ہیں اور ان میں ہارٹ اٹیک کے امکانات دوسروں کی نسبت تین گنا زیادہ ہوا کرتے ہیں۔ یہ بات درمیانی عمر کے تیرہ ہزار لوگوں پر ریسرچ کر کے ثابت کی جاچکی ہے۔

آپ غصے پر قابو پانے کی کوشش کریں۔

جب غصہ آنے لگے تو ٹہلنے نکل جائیں، پانی پی لیں یا فوری طور پر مراقبے میں چلے جائیں۔ مثبت رویہ اپنائیں، خوب اچھی نیند لیں، آرام کریں اور اپنے وقت کا استعمال بہتر سے بہتر طور پر کریں۔

تمباکو نوشی

تمباکو نوشی دل کے عارضے کا بہت بڑا سبب ہے۔ سگریٹ نوشی کرنے والوں میں دل کے عارضے سے ہلاک ہونے کا خطرہ ستر فیصد زیادہ ہوتا ہے۔ لہٰذا سگریٹ نوشی ترک کرنے کی کوشش کریں۔

زندگی میں تبدیلیاں آسان نہیں۔اس کے لیے آپ کو جدوجہد اور محنت کرنی ہوگی اور طریقہ یہ ہے کہ پہلے ایک تبدیلی لائیں ایک مثبت قدم۔ اس کے بعد دوسرا۔ ان پانچ رہ نما اصولوں میں سے کسی ایک سے بھی شروعات کی جاسکتی ہے۔

ابھی دیر نہیں ہوئی ہے۔ لہٰذا ابھی سے ان ہدایات پر عمل کرنا شروع کردیں۔lll

شیئر کیجیے
Default image
ڈاکٹر حرا تمکین

Leave a Reply