فارن سِک اینٹومولوجی

اگر اس کائنات کے مہربان مالک کی نشانیوںپر توجہ دی جائے اور انسانی مشاہدے کو بہتر بنایا جائے تو یہ ہمارے لیے نت نئے علوم کے دروازے کھولتی رہے گی۔ ان علوم کے بہتر استعمال سے ہم اپنی زندگی کے لیے بے شمار آسانیاں پیدا کر سکتے ہیں۔

زندگی کی الجھنوں میں مدد کرنے والا ایسا ہی ایک دل چسپ علم فارن سِک اینٹومولوجی (Forensic Entomology) ہے۔ اس علم میں تفتیشِ جرم کے سلسلے میں کیڑے مکوڑوں کی ساخت اور عادات کا مطالعہ کیا جاتا ہے۔

خودکشی یا موت کا سبب بننے والے حادثے کی صورت میں موت کا صحیح تعین اور جگہ کا تعین بہت ضروری ہوتا ہے۔ موت کے بعد مختلف قسم کے کیڑے مکوڑے انسانی جسم کا رخ کرتے ہیں اور گوشت، خون، ہڈیاں، بال اور دیگر حصوں کو اپنی خوراک بنانے لگتے ہیں۔ گلنے سڑنے کے مختلف مراحل میں مختلف کیڑے مردہ جسم پہ موجود ہوتے ہیں۔ ان کیڑے مکوڑوں سے جرم کی تفتیش میں معاون بننے والی اہم معلومات حاصل کی جا سکتی ہیں۔ مثلاً موت کو کتنا وقت گزر چکا ہے؟ کیا موت کے بعد انسانی جسم کو ایک جگہ سے دوسری جگہ منتقل کیا گیا ہے؟

اس علم کی ابتدائی کتابوں میں سے ایک (Washing away of waoags) ہے جو 1235میں چین میں لکھی گئی۔ اس میں ایک دلچسپ قصے کا ذکر ملتا ہے۔ چین کے ایک چھوٹے گائوں میں قتل کا ایک واقعہ ہوا۔ اس میں چاول کاٹنے والی درانتی سے ایک شخص کو مارا گیا تھا۔ اس گائوں میں چاول اگائے جاتے تھے اور ہر شخص کے پاس درانتی موجود تھی۔ اس لیے قتل کی تفتیش مشکل تھی۔ تفتیش کرنے والے اہلکار نے تمام کسانوں سے کہا کہ وہ اپنی اپنی درانتی ہاتھ میں پکڑے قطار میں کھڑے ہو جائیں۔ اہلکار نے اس قطار میں کھڑے کسانوں کا بہ غور جائزہ لیا اور قاتل کی نشاندہی کر دی۔ قاتل نے بعدازاں اپنے جرم کا اقرار بھی کرلیا۔ اہلکار کو ثبوت اس بات سے ملا کہ ایک خاص طرح کی مکھیاں(Green Bottle Flies) صرف اس ایک کسان کی درانتی کی طرف جا رہی تھیں۔ اس کا خیال تھا کہ درانتی کو چاہے جتنی بھی اچھی طرح صاف کیا جائے مکھیاں خون کی باقیات کا سراغ لگا لیتی ہیں۔

موجودہ دور میں یہ علم بہت ترقی کر چکا ہے۔ کمپیوٹر ٹیکنالوجی اور ڈی این اے تحقیق سے اس علم میں اضافہ ہو رہا ہے۔ ٹی وی چینلز پہ اس سائنس سے تعلق رکھنے والے مختلف مقبول شوز سے عام لوگوں کی بھی اس علم سے آگاہی میں اضافہ ہو رہا ہے۔ پچھلے چند سالوں سے اس علم کو جرم کی تحقیق میں اہم مقام مل رہا ہے۔ اس کی مدد سے جرم کے کئی معموں کو حل کیا جا چکا ہے۔

اس علم کے استعمال کے لیے موت کے بعد کا پہلا مہینہ بہت اہم ہوتا ہے۔ جب موت واقع ہوتی ہے تو اس کے چند منٹوں کے بعد ہی کیڑے مکوڑے انسانی جسم پہ پہنچ جاتے ہیں۔ اگر ان کی آمد، ساخت اور عادات کو سامنے رکھا جائے تو اس علم کی روشنی سے اہم شواہد ملنے کے امکانات بڑھ جاتے ہیں۔ اس علم کا سب سے اہم پہلو یہ ہے کہ یہ اندازہ لگایا جا سکتا ہے کہ موت کو کتنا عرصہ گزر چکا ہے۔ اس علم کی مدد سے قتل کی صحیح جگہ کا تعین بھی کیا جا سکتا ہے۔ بعض اوقات قاتل ثبوت کو مٹانے کے لیے مردہ جسم کو ایک جگہ سے دوسری جگہ منتقل کر دیتا ہے۔ مثلاً اگر ایک شخص کو مارنے کے بعد میدانی علاقے سے بلندی والے مقام پہ منتقل کیا گیا ہے تو اس علم کا ماہر جانتا ہے کہ مختلف کیڑے مختلف جغرافیائی حالتوں میں پائے جاتے ہیں۔ اس طرح وہ تفتیشِ جرم میں اہم معلومات مہیا کر سکتا ہے۔

موت کس سبب سے ہوئی، اس حوالے سے بھی یہ علم قانون نافذ کرنے والوں کی راہنمائی کر سکتا ہے۔ مثلاً اگر موت کو ایک لمبا عرصہ گزر چکا ہو تو پولیس کے لیے موت کا سبب جاننا مشکل بن جاتا ہے۔ عام حالت میں کیڑے مخصوص جگہوں پہ انڈے دیتے ہیں لیکن اگر جسم پہ کھلے زخم ہوں تو وہ ان میں بھی انڈے دیتے ہیں۔ معمول سے ہٹ کر دیگر جگہوں پہ انڈوں کی موجودگی زخموں کی نشاندہی کرتی ہے۔

اگر اندیشہ ہو کہ قتل یا خودکشی زہر کے باعث ہوئی ہے اور موت کو ایک لمبا عرصہ گزر چکا ہو تو جسم پہ موجود کیڑوں پر مختلف تجربات کرکے اہم معلومات حاصل کی جا سکتی ہیں۔

پیرس کے قریب رہنے والے برجیرٹ (Bergeret) (1855) کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ وہ اس علم کا پہلا مغربی ماہر تھا۔ اس کے زمانے میں ایک گھر سے چھوٹے بچے کا مردہ جسم ملا جسے آتش دان کے اوپر بنے چھجے میں چھپایا گیا تھا۔ تفتیش شروع ہوئی۔ اس ماہر نے مخصوص کیڑوں کی موجودگی سے اندازہ لگایا کہ اس موت کو کئی سال گزر چکے ہیں اور اس مکان کے موجودہ مکینوں کے بجائے پرانے مکینوں کے اس قتل میں ملوث ہونے کے امکانات زیادہ ہیں۔

ہنگری کے ایک کشتی چلانے والے شخص کو ایک ڈاکیے کے قتل کے واقعے میں عمرقید کی سزا دی گئی۔ اس ڈاکیے کی لاش ستمبر کی ایک شام کشتی پر پائی گئی۔ اس دن یہ کشتی چلانے والا شام ۶ بجے اپنی کشتی پہ پہنچا تھا اور ڈاکیے کی لاش اس کی آمد کے کچھ گھنٹوں کے بعد وہاں دیکھی گئی تھی۔ لاش کا طبی معاینہ اگلے دن ۴بجے ہوا۔ طبی رپورٹ میں مخصوص قسم کے کیڑوں کے انڈوں اور لارووں کی موجودگی کا ذکر بھی کیا گیا۔ لیکن مقدمے کی کارروائی میں اس پر کوئی خاص توجہ نہ دی گئی۔ مقدمے میں کشتی چلانے والے کو عمرقید کی سزا سنا دی گئی۔ ۸ سال بعد مقدمہ دوبارہ سنا گیا۔ حشرات کا علم رکھنے والے ماہر نے ثابت کیا کہ طبی رپورٹ میں جن لارووں کا ذکر کیا گیا ہے ان کے انڈے قتل والے دن شام ۶ بجے سے پہلے دیے گئے ہیں۔ اس ثبوت سے کشتی چلانے والے کو قید سے رہائی ملی۔

کچھ عرصہ قبل شمالی انگلینڈ کے علاقے میں موسم سرما کے آخری دنوں میں ایک مردہ جسم ملا۔ جسم کم درجہ حرارت کے باعث محفوظ حالت میں تھا۔ عام طبی معلومات کی مدد سے کہا گیا کہ اس شخص کی ہلاکت 2 یا 3 ہفتے پہلے ہوئی ہے۔ اس کے برعکس مردہ جسم پر موجود کیڑوں کی مدد سے ملنے والی معلومات سے پتا چلا کہ اس شخص کو مرے 2 ماہ سے زائد عرصہ گزر چکا ہے۔ یہ انکشاف دیگر شواہد سے زیادہ مطابقت رکھتا تھا لہٰذا عدالت نے اسے تسلیم کرلیا-lll

شیئر کیجیے
Default image
ڈاکٹر رضوان احمد

Leave a Reply