کتاب کائنات پڑھئے!

یہ کائنات کے عجائب و غرائب پڑھئے، عجائبات عالم کا نظارہ کیجیے ان سے نفس کو تسکین ملے گی اور آپ کے غم و فکر ختم ہوجائیںگے۔ بخاری و مسلم نے جابر بن عبد اللہ سے روایت کی ہے فرماتے ہیں۔ ہمیں ابو عبیدہ کی کمان میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے روانہ فرمایا۔ مقصد قریش کے قافلہ کا پیچھا تھا۔ زاد راہ میں کھجو رکی ایک تھیلی دی ، ابو عبیدہ اسی میں سے ایک ایک کھجور ہمیں دیتے تھے۔ راوی نے جابر سے سوال کیا کہ اس سے کیسے کام چلاتے تھے؟ فرمایا ہم اسے بچوں کی طرح چوستے تھے پھر اوپر سے پانی پی لیتے تو وہ پورے دن کے لیے کافی ہوتا رات تک، ہم ڈنڈوں سے درخت کے پتے جھاڑتے ان کو ترکر کے کھالیتے، جابرؓ نے آگے کہا: ہم ساحل کے کنارے چلے توکیا دیکھتے ہیں کہ بڑے ٹیلہ کی مانند کوئی چیز ہے۔ اس کے پاس پہنچے تو معلو ہوا کہ وہ وھیل مچھلی ہے۔ کہتے ہیں: ابو عبیدہؓ نے اسے دیکھ کر کہا یہ تو مردہ ہے پھر فرمایا نہیں۔ ہم اللہ کے رسول کے بھیجے ہوئے ہیں اللہ کے راستے میں نکلے ہیں اور اضطرار کی حالت میں ہیں لہٰذا اسے کھالو۔ جابر کہتے ہیں کہ ہم تین سو آدمی ایک ماہ تک اس کے پاس مقیم رہے اور اس میں سے کھاتے رہے حتی کہ موٹے ہوگئے۔ جابر کہتے ہیں کہ ہم اس کی آنکھ کے اندرون سے چلو بھر بھر کے لیتے، اوراس کی چکنائی بڑے بڑے گھڑوں میں بھر لیتے اس کے ٹکڑے کاٹتے جو بیل برابر ہوتے۔ ابوعبیدہؓ نے ہم میں کے تیرہ آدمیوں کو اس کی آنکھ کے حلقہ میں بٹھایا۔ اس کی ایک پسلی کھڑی کی سب سے بڑے اونٹ پر سب سے لمبے آدمی کو بٹھا کر اس کے نیچے سے نکالا تو وہ بھی اس کے نیچے سے نکل گیا۔ اس کے گوشت کے کچھ ٹکڑے ہم لے کر آئے۔ اور جب مدینہ آئے تو اس کا ذکر رسول اکرمؐ سے کیا آپ نے فرمایا: یہ اللہ کی طرف سے عطا کردہ رزق تھا پھر فرمایا اس کا کچھ گوشت لے کر آئے ہو۔ جابر کہتے ہیں: ہم نے رسول اللہؐ کو بھی اس کا گوشت بھیجا آپؐ نے اس سے کھایا۔

’’وہی ذات ہے، جس نے ہر چیز کو اس کی صورت عطا کی پھر ہدایت دی۔‘‘ (۲۰-۵۰)

ابوداؤدؒ نے اپنی سنن کے باب زکوۃ الزرع میں لکھا ہے کہ مصر میں ایک ککڑی میں نے ۱۳ بالشت کی ناپی، اور یاک اونٹ پر لدا ہوا ترنج دیکھا جس کے کاٹ کر دو ٹکڑے کیے گئے ’’وہی ذات ہے جس نے ہرچیز کو اس کی صورت عطا کی پھر راستہ بتایا۔‘‘

ڈاکٹر زغلول نجار جنہوں نے آیات کونیہ کا مطالعہ کیا ہے، نے اپنے ایک لکچر میں کہا کہ بہت سے ستارے ایسے ہیں جو روشنی کی رفتار سے ہزاروں سال سے زمین کی طرف چل رہے ہیں اور ابھی تک یہاں نہیں پہنچ سکے ان کے صرف مواقع ہی رہ گئے ہیں۔‘‘

’’پس نہیں میں قسم کھاتا ہوں ستاروں کے مواقع کی۔‘‘ (۵۶-۷۵)

’’وہی ذات ہے، جس نے ہر چیز کو اس کی صورت دی پھر راستہ بتایا۔‘‘

جریدہ الاخبار الجدید شمارہ نمبر ۳۹۶ مورخہ ۷/۹ ۱۹۵۳ء صفحہ کی سرخی تھی۔

’’آج اونا کا پیرس میں فاتحوں کی طرح داخلہ ہوا، جسے دسیوں پیدل اور سوار پولیس والے جلو میں لیے ہوئے تھے۔‘‘

یہ اونا دریائے نرویگ سے نکلی ایک مچھلی تھی۔ جو حنوط شدہ تھی اور اس کا وزن آٹھ ہزار کلو گرام تھا۔ ایک بہت بڑی گاڑی پر ۱۰ بڑے گھڑے استادہ تھے، جن میں اسے رکھا گیا تھا۔ اس مچھلی کی ایک ماہ تک نمائش ہوگی۔ لوگوں کو اس کے اوجھ میں داخل ہونے کی اجازت ہوگی جسے بجلی سے روشن کیا گیا تھا۔ اس کے پیٹ میں بیک وقت دس آدمی داخل ہوسکتے تھے لیکن اونا کی نمائش کے منتظمین اور پولیس میں جائے نمائش پر اتفاق نہ ہوسکا، گراؤنڈ ریل کے اسٹیشن پر اسے اس خوف سے نہیں رکھا جاسکا کہ کہیں بوجھ سے سڑک ٹوٹ نہ جائے۔ یہ مچھلی صرف ۱۸ مہینے کی ہے پھر بھی اس کا طول ۲۰ میٹر ہے یہ نرویگ سے گزشتہ سال ستمبر میں پکڑی گئی تھی اس کی نمائش پورے یوروپ میں کرنے کے لیے ریل کا ایک ڈبہ خاص کیا گیا تھا۔ جس پر رکھی گئی تو وہ ٹوٹ گیا پھر ایک خاص ۳۰ میٹر لمبا ٹرک اس کے لیے بنایا گیا۔‘‘

’’وہی ذات ہے، جس نے ہر چیز کو اس کی صورت دی پھر راستہ دکھایا۔‘‘

چیونٹی گرمی سے جاڑے تک کی روزی جمع کرلیتی ہے، کیوں کہ سردیوں میں وہ باہر نہیں نکلتی جب دانہ میں کونپل نکلنے کا ڈر ہوتا ہے تو اسے دوٹکڑے کردیتی ہے۔ صحراء میں سانپ کو جب غذا نہیں ملتی تو وہ اپنے آپ کو لکڑی کی طرح نصب کرلیتا ہے جس پر پرندہ آکر بیٹھ جاتا ہے تو وہ اسے کھا لیتا ہے۔

’’وہی ذات ہے، جس نے ہر چیز کو اس کی صورت دی پھر راستہ دکھایا۔‘‘

عبد الرزاق الصنعانی فرماتے ہیں میں نے معمر بن راشد البصری کو کہتے سنا کہ میں نے یمن میں انگور کا ایک گچھا دیکھا جس کا وزن ایک گدھے کے برابر تھا۔

’’اونچے اونچے کھجور کے پیڑ بنائے جن میں پکے پھل لدے ہیں۔‘‘ (۵۰-۱۰)

تمام درختوں اور نباتات کو ایک ہی پانی دیا جاتا ہے لیکن ’’کھانے میں ہم نے ایک کو ایک پر فضیلت دے دی ہے۔‘‘ (۱۳-۴)

بعض خود مضبوط ہوتے ہیں، بعض کی حفاظت کانٹا کرتا ہے، بعض سخت کھٹے اور ترش ہوتے ہیں۔

’’وہی ذات ہے، جس نے ہر چیز کو اس کی صورت دی پھر راستہ دکھایا۔‘‘

کمال الدین الافودی المصری اپنی کتاب الطالع السعید الجامع لنجباء ابناء الصعید میں کہتے ہیں میں نے ایک خوشہ انگور دیکھا جس کا وزن آٹھ لیثی رطل تھا۔ اس کے ایک دانہ کا وزن ہمارے شہر اوفو کے دس درہموں کے برابر نکلا۔

’’وہی ذات ہے، جس نے ہر چیز کو اس کی صورت دی پھر راستہ دکھایا۔‘‘

ماہر فلکیات کہتے ہیں کہ کائنات آہستہ آہستہ وسیع ہو رہی ہے جیسے ربرپھیلتی ہے ’’اورآسمان ہم نے بنایا ہم ہی اسے وسعت دینے والے ہیں۔‘‘ (۵۱-۴۷)

ان کا یہ بھی کہنا ہے کہ خشکی گھٹ رہی اور سمندر پھیل رہے ہیں۔

’’کیا انہوںنے نہیں دیکھا کہ ہم زمین کو اس کے اطراف سے گھٹاتے جا رہے ہیں۔‘‘ (۱۳-۴۱)

’’وہی ذات ہے، جس نے ہر چیز کو اس کی صورت دی پھر راستہ دکھایا۔‘‘

مجلہ فیصل شمارہ ۱۴۰۲ھ ۱۱۲ میں ایک رتالو پھل کی تصویر شائع ہوئی ہے۔ جس کا وزن خول کے ساتھ ۲۲ کلو گرام تھا اس کا قطر ایک میٹر تھا، ایک سوکھی پیاز کی تصویر بھی تھی جس کا وزن ۲ء۳ کلو گرام تھا، اس کا قطر ۳۰ سینٹی میٹر تھا۔ اس کے بعد مجلہ نے لکھا ہے کہ ایک ٹماٹر کا طول و عرض ۶۰ سینٹی میٹر سے زیادہ نکلا اور یہ کہ یہ غیر معمولی اشیاء میکسیکو کے ایک کسان جوزف کارمن کے کھیت میں پیدا ہوئیں۔ جوزف کو زراعت اور زمین پر کام کا طویل تجربہ ہے جس کی وجہ سے وہ میکسیکو میں فرسٹ فارمر قرار دیا گیا۔

’’وہی ذات ہے، جس نے ہر چیز کو اس کی صورت دی پھر راستہ دکھایا۔‘‘

سر میں چار رقیق مادے ہیں، منہ میں میٹھا، جس سے کھانا پینا حلق سے اترتا ہے، ناک میں لیس دار جس سے گردو غبار رک جاتے ہیں، آنکھ میں نمکین جو آنکھ کو خشکی سے روکتی ہے،کانوں میں کڑوا جو کیڑوں کو اس میں جانے نہیں دیتا۔

’’تمہارے نفسوں میں بھی نشانیاں ہیں کیا تم دیکھتے نہیں۔‘‘ (۵۱-۲۱)

مورخ ابو الفضل عبد الرزاق بن الفوطی اپنی کتاب الحوادث الجامعۃ والتجارب النافعۃ فی المۃ السابعۃ‘‘ میں ۶۳۷ کے حالات میں لکھتے ہیں: اس سال امیر جمال الدین قشمر کی خدمت میں ایک عجمی درزی تھا۔ اس نے اپنی قینچی سے ایک پڑوسی کو زخمی کر دیا جو مرگیا یہ درزی بہترین فن کار تھا اس نے کئی عجیب و غریب چیزیں بنائی تھیں۔ اس نے اپنے آپ کو ایک صندوق میں بند کر دیا اس کے پاس بغیر کٹنگ کا کپڑا تھا صندوق نیچے رکھا گیا اور اسے کھولا گیا تولوگوں نے دیکھا کہ اس نے کپڑے کی کٹنگ کردی ہے اور کپڑا سی کر لپیٹ دیا ہے اس کے بعد اور لوگوں نے بھی ایسا کرنا چاہا لیکن نہ کرسکے یہ درزی بوڑھا، پست قدر اور لنگڑا تھا لیکن اپنے پیشہ میں بے نظیر تھا۔

’’اس نے تمہیں وہ سکھایا جو تم جانتے نہ تھے۔‘‘ (۴-۱۱۳) ’’اس نے انسان کو وہ کچھ سکھایا جو وہ جانتا نہ تھا۔‘‘ (۹۶-۵) ’’اللہ نے تمہیں تمہاری ماؤں کے پیٹ سے نکالا تم کچھ نہیں جانتے تھے۔ اس نے تمہیں کان، آنکھ اور دل دیے۔‘‘ (۱۶-۷۸) ’’ہم نے انسان کو سکھایا کپڑے بنانا۔‘‘ (۲۱-۸۰) ’’بلکہ انہوں نے جھٹلایا اس کو جسے جانتے نہ تھے اور جس کے مفہوم سے آشنا نہ تھے۔‘‘ (۱۰-۳۹)

شیخ شہاب الدین احمد بن ادریس القرافی المصری کہتے ہیں: مجھے معلوم ہوا کہ الملک الکامل کے لیے پیتل کا ایک شمع دان بنوایا گیا جس میں روشنی کے لیے کئی مقامات تھے۔ جب بھی رات کا ایک گھنٹہ ہوتا ایک مقام کھلتا اور ایک آدمی گھنٹی بجاتا اور جب دس گھنٹے گزر جاتے تو شمع کے اوپری حصہ میں سے ایک آدمی نکلتا اور کہتا اللہ تعالیٰ سلطان کی صبح بخیر و عافیت کرے،اس سے سلطان کو پتہ چلتا کہ فجرکا وقت ہوگیا ہے۔ قرافی کہتے ہیں میں نے بھی یہ شمع دان بنایااوراس میں یہ اضافہ کر دیا کہ ہر گھنٹہ میں شمع کا رنگ بدل جاتا ہے۔ اس میں ایک شیر ہوتا جس کی آنکھیں شدید سیاہ ہوتیں پھر شدید سفید پھر شدید سرخ، ہر گھنٹہ کا الگ الگ رنگ ہوتا دو پرندے کنکری گراتے، ایک شخص داخل ہوتا ایک نکلتا، ایک دروازہ بند ہوتا دوسرا کھلتا۔ جب فجرکا وقت ہوجاتا ایک شخص شمع دان کے اوپری حصہ میں آکر انگلی اپنے کان پر رکھ کر یہ بتاتا کہ اذان ہوگئی ہے۔لیکن مجھ سے یہ نہیں ہوسکا کہ وہ کلام بھی کرے۔ پھر میں نے ایک جانور کی تصویر بنائی جو چلتا اور دائیں بائیں مڑتا۔ سیٹی بجاتا لیکن بولتا نہیں تھا۔

’’وہی ذات ہے، جس نے ہر چیز کو اس کی صورت دی پھر راستہ دکھایا۔‘‘lll

شیئر کیجیے
Default image
عائض القرنی ترجمہ: غطریف شہباز ندوی

Leave a Reply