ہدف طے ہونا ضروری ہے!

آج موبائل، کمپیوٹر اور انٹرنیٹ ضرورت زندگی بن گئے ہیں۔ سب سے زیادہ اس کا استعمال کاروبار میں ہوا ہے۔ اس کی وجہ بھی یہ ہے کہ کاروباری لوگوں کے سامنے ہدف طے ہوتا ہے، زیادہ سے زیادہ دولت کمانے کا ہدف۔ وہ دن، رات اسی فکر میں ہوتے ہیں کہ دنیا کی ہر چیز کا استعمال وہ صرف دولت کمانے کے لیے کیسے کرسکتے ہیں۔ اور وہ اس مقصد میں کامیاب بھی ہیں۔

آدمی کو ایسا ہی ہونا چاہیے کہ وہ ہر وقت یہ سوچتا رہے کہ ہر چیز کا استعمال وہ اپنے مقصد کے لیے کیسے کر سکتا ہے، اور جس چیز سے اس کے مقصد کو نقصان ہو اس چیز کو کیسے چھوڑ سکتا ہے۔

مقاصد الگ الگ ہوسکتے ہیں

لیکن ہر آدی کا اپنا ہدف طے ہونا لازمی ہے ورنہ زندگی تو گزرنے والی شئے ہے گزر ہی جائے گی

لیکن بعد میں جب معلوم ہوگا کہ ہماری زندگی کسی اور کے ہدف میں استعمال ہوگئی تو پھر افسوس ہی افسوس کرے گا۔

ہر کام کا ہدف طے ہونا لازمی ہے تاکہ کام کرنے میں آسانی ہو، اور اٹھنے والا ہر قدم منزل کی طرف ہی اٹھے۔جن کا ہدف طے ہوتا ہے وہ کبھی رستہ نہیں بھٹکتے۔ ہدف طے ہو تو مقصد کے سامنے جان جیسی بیش قیمت چیز بھی حقیر معلوم ہوتی ہے۔

تاریخ میں اہداف کے لیے جان دینے والوں کی تعداد آسمان کے تاروں سے کم نہیں، ان کا شمار بھی ممکن نہیں… ہدف طے ہو تو یہ شعور آہی جاتا ہے کہ اپنے مقصد کے لیے مٹی کا استعمال کیا ہے اور سونے کا کیا… گویا دنیا کی ہر شے کو اپنے مقصد کے لیے استعمال کرنا آجاتا ہے… لیکن اگر مقصد طے نہ ہو… ہدف معلوم نہ ہو تو دنیا کی سلطنت کے تاج بھی کسی رقاصہ کی پازیب کے گھونگرو سے باندھ دیے جاتے ہیں…

آئیے غور کریں کہ ہم معلم کیوں بنے ہیں…؟

ہمارا مقصد کیا ہے…؟

ہمارا ہدف کیا ہے؟

کچھ اساتذہ اس بات پر نالاں ہیں کہ انہیں گھر والوں نے زبردستی ٹیچر بنا دیا۔ کچھ اس بات سے ناراض کہ میرا نمبر MBBS میں لگتا تو کتنا اچھا ہوتا۔ کچھ کہتے ہیں جانے دو اپنا نصیب ہی خراب ہے جو ٹیچر بن گئے۔ حقیقت تو یہ ہے کہ دنیا میں صرف نصیب والے ہی معلم بنتے ہیں۔میرے آقا صلی اللہ علیہ وسلمنے فرمایا:

’’میں معلم بنا کر بھیجا گیا ہوں۔‘‘

اس دنیا میں صرف معلم ہی پیارے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے اصل وارث ہیں۔ حضور پاک صلی اللہ علیہ وسلم نے انجینئر اور ڈاکٹر کو اپنا وارث نہیں کیا… یہاں حضرت علی رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی ایک بات یاد آرہی ہے، وہ کہتے ہیں کہ ’’خوش نصیب وہ نہیں ہوتا جس کا نصیب اچھا ہو خوش نصیب وہ ہوتا ہے جو اپنے نصیب سے خوش ہو۔‘‘

آؤ کہ آج ہم اپنے نصیب سے خوش ہوکر دیکھیں

اللہ کا شکر ادا کریں، کہ اس نے ہم کو

معلم بنایا۔صرف ایک بار ہم احساس کرلیں

کہ ہم معلم ہیں تو جینا آسان ہو جاتا ہے۔

دنیا کی اشیاء پر سے پردے اٹھنے لگتے ہیں،

مخفی چیزیں سر نکال کر اپنا تعارف خود پیش کرتی ہے، مشکل سوالات کے جواب ظاہر ہونے لگتے ہیں اور دنیا اور آخرت کی عزت مقدر بن جاتی ہے۔

اگر ہم یہ طے کرلیں کہ ہم کلاس کے ہر بچے کو محبت سے پڑھائیں گے۔

اس کے سوالات کو نعمت سمجھ کر ان کا شفقت سے جواب دیں گے۔ اگر اپنی کلاس کے ہر بچے کو دنیا کی بلندی پرپہنچانے ہی کو اپنا ہدف بنالیں تو پھر ہم دنیا کی ہر شے کو تدریس کے لیے استعمال کرسکتے ہیں، پھر اس موبائل کو اگر دنیا تفریح کا سامان سمجھے تو سمجھا کرے، معلم اس کو بھی تعلیم و تدریس کا آلہ سمجھ کر استعمال کرے گا۔ دنیا اگر انٹرنیٹ کا غلط استعمال کر رہی ہے تو کرتی رہے… معلم اس انٹرنیٹ اور کمپیوٹر کو بھی تعلیمی توضیحات بنادے گا۔

اور یہ بھی حقیقت ہے کہ ایک معلم سے اچھا، مفید اور صحیح ان چیزوں کا استعمال کوئی نہیں کرسکتا۔

صرف دیکھنے کا زاویہ تبدیل کرنے کی دیر ہے۔

جب زاویہ نگاہ بدل جائے

تو زندگی بدل جاتی ہے۔

جب زندگی بدل جاتی ہے…

تو پھر بے چینی بھی قرار لگتی ہے

اور پریشانی میں سکون ملتا ہے۔

دنیا اسے کھلونا سمجھ رہی ہے، وہ جانتی نہیں کہ ان کے ہاتھوں میں کیا ہے…

یہ موبائل، یہ کمپیوٹر، یہ انٹرنیٹ، کسی قوم کی تقدیر بدلنے کو کافی ہیں…

ایک کلاس کو، ایک اسکول کو بدلنا تو اس کے لیے معمولی کام ہے۔lll

(کتاب ’’ٹیچنگ اور ای ٹیچنگ‘‘ سے ماخوذ)

شیئر کیجیے
Default image
محمد شکیل انجینئر

Leave a Reply