3

قصہ بقرعید کے گوشت کا

یہ گزشتہ سال کی بات ہے۔ بقرعید کا موقع تھا۔ ریاست میں بیف پر پابندی کے بعد یہ غالباً پہلی عید تھی جب’’چھوٹے میاں‘‘ اتنی وافر مقدار میں میسر آئے تھے۔ گوشت آرہا تھا اور آتا ہی چلا جارہا تھا۔

تیسرے دن کی سنہری شام تک، جب عصر ڈھل رہی تھی، سارا گوشت فریج میں’’ٹھکانے‘‘ لگایا جاچکا تھا۔ تبھی محلہ کا ایک بچہ اچھلتا کودتا مزید حصہ لے آیا۔ اب اسے کہاں رکھا جائے۔اسماء باجی اس شاپر کو دیکھ کر سوچ میں پڑ گئیں۔از سر نو فریزر کا جائزہ لیا گیا۔ شاید انہیں امید تھی کہ گوشت کی تھیلی دیکھ کر فریزر بانہیں پھیلائے گنگنانے لگے گا۔

’’خوش آمدید، و ھل من مزید؟‘‘

لیکن دروازہ کھولنے پر وہ ننھا سا فریزر کرب سے چیخ اٹھا۔’’رحم ۔۔ ربا میں کی کراں۔۔‘‘ (یارب، میں کیا کروں)

معلوم ہوا کہ اب تو اس میں ایک پیکٹ کی بھی گنجائش نہیں۔لیکن ہم اپنی بہن کو بخوبی جانتے ہیں اسماء تزئین رضا مایوس ہونے والوں میں سے نہیں۔ دفعتاً انہیں یاد آگیا تھا کہ بھائی صاحب کے یارِغار و جگری دوست کی بیگم آج کل اپنی ڈیلیوری کے سلسلے میں مائیکے دوسرے شہر گئ ہوئی ہیں، اس لیے ڈیڑھ دو ماہ ان کے واپس آنے کا کوئی امکان، بلکہ اندیشہ تک نہیں ۔ یہ خیال اسماء باجی کے اندر بجلی بھر گیا انہوں نے پرجوش انداز میں شوہرِنامدار کا نمبر ڈائل کیا۔

میں بیڈ پہ ٹانگ پر ٹانگ چڑھائے بیٹھی پوری فرصت سے ان کی بےقراری ملاحظہ فرما رہی تھی بلکہ لطف اندوز ہو رہی تھی بھی کہہ سکتے ہیں ،کیونکہ بھائی صاحب کا متوقع جواب معلوم تھا۔پھر بھی انہیں باز رکھنے کی کوشش بالکل نہیں کی کیونکہ اندر سے خود کی بھی خواہش یہی تھی کیونکہ تروتازہ گوشت سے لبریز اس شاپر سے میں بھی دستبردار نہیں ہونا چاہتی تھی۔

خیر تو ہم کہاں تھے۔

ہاں ، موبائل کال پر۔

تو شوہر و بیگم کے مابین گفتگو کے ابتدائی مراحل خوشگواریت کے ساتھ طے ہوئے۔پھر اسماء باجی سہج سہج کر اصل موضوع کی طرف آئیں جس کے لیے فون کیا تھا۔

’’دیکھیں، سمیہ میکے گئی ہوئی ہے۔اس کا فریزر خالی ہوگا۔ پائے کا ایک پیکٹ ہے اور آٹھ دس دنوں تک اس کا کام بھی نہیں ہے،سو آپ کو لانے کی زحمت بھی نہیں دی جائے گی تو کیا یہ ان کے فریج میں پہنچادیں گے پلیز۔‘‘

ادھر سے بھائی صاحب کا وہ حتمی و تاریخی جواب آیا :

’’جتنا اپنے فریزر میں سماتا ہے ، رکھو۔ باقی سے غریبوں کی دعائیں لو۔۔۔۔۔‘‘

اسماء باجی نے زور سے فون کاٹا ، لال بھبھوکا چہرے کے ساتھ میری طرف مڑیں۔

دیکھا۔۔؟ دیکھا تم نے اپنے بھائی صاحب کو۔۔”

اور قارئین، میں؟

میں نے فوراً طوطا چشمی کی اور بے نیازی برتتے ہوئے کندھے اچکائے۔

’’مجھے کیا دکھارہی ہیں۔۔میں تو بھائی صاحب کی سائیڈ پر ہوں۔‘‘ اور اس طرح انہیں ایک زور کا جھٹکا دھیرے سے لگا۔

اور پھر میں نے اس سے یہ سبق حاصل کرلیا کہ انسان کو اتنے ہی پیر پھیلانے چاہیے جتنا اس کا فریزر ہے۔دوسروں کے فریج پر نظر رکھنا ہرگز اچھی بات نہیں۔

شیئر کیجیے
Default image
سلمہ نسرین

تبصرہ کیجیے