سماج میں عورت کتنی بااختیار ہے؟

اختیار کے باوجود بے اختیاری

تمام اختیارات ہونے کے باوجود ہم بے اختیار اپنے ہی ہاتھوں ہیں۔ ہمیں جو اختیار باپ دیتا ہے بیٹی ہونے کے ناتے، ہمیں جو اختیار شوہر دیتا ہے بیوی ہونے کے ناتے، اور ہمیں جو اختیار معاشرہ دیتا ہے ایک خاتون ہونے کے ناتے، وہ حقیقت ہے۔ اب جہاں ہم بے اختیار ہوجاتے ہیں وہ ہے جب ہمارے سامنے ہماری اولاد آجائے یا پھر وہ رشتے جو ہم پر لاگو ہیں۔ ہم ان تمام اختیارات کے باوجود بھی بے اختیار محسوس کرتے ہیں۔ کیونکہ کچھ رشتوں سے چھٹکارا آسان نہیں، ذمہ داری کا احساس ہمیں پیدا ہوتے ہی ہو جاتا ہے۔

میری اپنی مثال ہے کہ میرے پاس وہ تمام اختیارات ہیں جو ایک بیوی، ایک بیٹی اور بہو اور معاشرے کا ذمے دار فرد ہونے کے ناتے ضروری ہیں۔ اگر میں استعمال کرنا چاہوں تو کر سکتی ہوں، لیکن یہ اختیار صرف اس لیے استعمال نہیں کرتی کہ میں صرف ایک بااختیار عورت نہیں، بلکہ ان تمام رشتوں سے جْڑی ایک عورت ہوں جو بااختیار ہونے کے باوجود بھی بے اختیار ہے۔

سلیمہ ہاشمی

معاشرہ خود کو تبدیل کرے

خواتین کی بااختیاری کے باوجود بے اختیار رہنے کی3 وجوہ ہیں۔ پہلی یہ کہ تاریخی اور روایتی طور پہ عورت کو کسی کی ملکیت سمجھا جاتا ہے اور معاشرہ بھی اِس معاملے میں عورت کا ساتھ نہیں دیتا۔ اگر عورت مرضی سے شادی کرنا چاہے یا جائیداد کا تقاضا کرے تو اس کی سنوائی نہیں ہوتی۔ دوسری وجہ یہ ہے کہ پارلیمنٹ اور اسمبلی میں مرد حضرات کا رویہ دیکھیں کہ وہ کس طرح عورتوں کو پیچھے دھکیلنے کی کوشش کرتے ہیں۔ تیسری وجہ سماجی ہے، جب بیٹا پیدا ہوتا ہے تو گھر میں کس قدر خوشی منائی جاتی ہے لیکن بیٹی پیدا ہو تو یہ کہا جاتا ہے کہ اللہ کی یہی مرضی ہے۔ لہٰذا میرے خیال میں جب تک یہ معاشرہ خود کو تبدیل نہیں کرتا، تب تک عورت اپنے آپ کو بااختیار نہیں کرپائے گی۔ (ن۔ الف۔ ب)

معاشرتی دباؤ

سب سے بڑی بات یہ کہ خواتین بااختیار نہیں ہیں، کیونکہ وہ معاشرتی دبائو میں ہیں۔ ان کے کسی بھی عمل کا اثر ان کی گھریلو زندگی یا معاشرتی سیٹ اپ کے حوالے سے دیکھا جاتا ہے۔ ہمارے معاشرے میں وہ اتنی بااختیار نہیں جتنی کہ ان کی ذہنی استطاعت اور قابلیت ہے۔ ہمارے مذہب اسلام نے عورت کو بہت سے حقوق دیے ہیں۔ اسلام کے لحاظ سے بیوہ عورت اور طلاق یافتہ کا فوراً رشتہ ہوجانا چاہیے۔ لیکن ہمارے معاشرے میں اگر کوئی عورت بیوہ یا طلاق یافتہ ہوجائے تو وہ شادی کا نام نہیں لے سکتی۔ وہ اپنا یہ حق اور اختیار استعمال نہیں کر سکتی۔ وہ اسی ذہنی دبائو میں رہتی ہے کہ باپ کیا کہے گا، بچے کیا سوچیں گے۔

نازیہ حسن ملک (لیکچرار)

کاغذی قوانین نہیں عملی

ہمارے پیارے وطن میں اکثر مرد عورت کو کوئی حیثیت نہیں دیتے ہیں۔ عورت چاہے کسی بھی روپ میں ہو، ماں، بہن، بیٹی یا بیوی۔ حالانکہ اسلام میں عورتوں کے بہت سے حقوق ہیں۔ خود نبی کریمؐ کی بہت سی احادیث ہمیں عورت سے مساوات کا درس دیتی ہیں۔ جبکہ عورت کو مردحضرات کی طرف سے گالیوں اور تشدد کا سامنا ہے، جس کی وجہ سے اس کی صلاحیتیں بْری طرح سے متاثر ہوتی ہیں۔ حالانکہ وہ اپنی ان صلاحیتوں کو بروئے کار لا کر معاشرے میں ایک فعال رکن کی طرح اپنا کردار بھی ادا کر سکتی ہیں۔ ملازمت پیشہ خواتین کو شادی کے بعد بہت سے مسائل کا سامنا ہے۔ اس وقت عدالتوں میں عورتوں سے متعلق بہت سے مقدمات چل رہے ہیں۔ حالاںکہ قانون نے عورت کو بہت سے حقوق دینے کے لیے نئے قوانین بھی متعارف کرائے ہیں لیکن اگر عورت اپنے حق کے لیے آواز اٹھائے تو اسے بدکردار ہونے کے الزامات تک کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ عورت کو اس کا مقام دلانے کے لیے صرف کاغذی قوانین کی حد تک نہیں بلکہ عملی شکل دینا ہوگی تاکہ وہ باصلاحیت ہونے کے ساتھ بے اختیار نہ رہے۔ (رخشندہ خالد )

اختیار میں دکھ ہیں

یہ ایک حقیقت ہے کہ عورت کی فطرت ہی کچھ ایسی ہے کہ وہ مرد کی محکوم ہے، اللہ تعالیٰ نے اْسے ایسے ہی پیدا کیا ہے اور ویسے بھی مرد کو تو پروردگارِعالم نے ایک بلند رتبہ عطا کیا ہے۔ جہاں تک بااختیار ہو کر بھی بے اختیار محسوس کرنے والی بات ہے تو اگر ہم سوچیں اور غور کریں تو یہ بات ہمارے سامنے آتی ہے کہ ہمارے صدیوں سے جو معاشرتی رویے رہے ہیں اور عورت کی تربیت میں یہ بات شامل ہے کہ وہ مرد کی حاکمیت کو دل سے قبول کر چکی ہے اور وہ اسی میں ہی خوش اور راضی برضا ہے۔ سچی بات تو یہ ہے کہ اسی میں خیر ہے۔ ہم نے دوسری صورتیں بھی دیکھی ہیں۔ بہت وسائل اور دْکھ ہوتے ہیں اس اختیار میں۔

(ریحانہ ظریف (صدر معلمہ)

جواب-۱: یہ حقیقت ہے کہ مسلم معاشرہ میں تیزی کے ساتھ مغربی تہذیب فروغ پا رہی ہے۔ مسلم خواتین بھی اس کی دلدادہ ہوتی جا رہی ہیں۔ جب کہ مغرب خود اپنی تہذیب سے نالاں ہے۔ ان حالات میں ہمیں مسلم خواتین کی طرف خصوصی توجہ دینی ہوگی۔ انہیں صحیح اسلامی تعلیمات سے روشناس کرانا ہوگا۔ مغربی تہذیب کے بڑے بھیانک نتائج سے واقف کراتے ہوئے انہیں اس تہذیب سے باز رکھنے کی ہر ممکن کوشش کرنی ہوگی۔ آخرت کا یقین اور اس دن کی جواب دی کا یقین پیدا کریں۔ آخرت کے عقیدہ پر ضعف طاری ہونے کے نتیجہ میں یہ ساری خرابیاں جنم لیتی ہیں۔ اس مسئلہ کا حل ہے اسلامی لٹریچر کا مطالعہ،سیرت کا مطالعہ۔ سیرت کا مطالعہ، اطاعت الٰہی اطاعت رسول کی جانب توجہ کرنا۔ سنت رسول سے اپنی زندگی کو آراستہ کرنا۔ خیر امت ہونے کا احساس پیدا کرنا اور برائیوں سے خود بھی بچنا اور دوسروں کو بھی بچانے کی فکر کرنا۔ تعلیم یافتہ خواتین کو اس مشن میں آگے آنا ہوگا اور ان کی اپنی صلاحیتوں کو نکھارتے ہوئے مغربی تہذیب کی دلدادہ خواتین کو متاثر کرنا ہوگا۔ قرآن پاک کو رہ نما بنائیں اس آئینہ میں اپنے آپ کو دیکھیں۔ عام خواتین کو بتائیں کہ عورت اپنے مقام کو سمجھے اور زندگی کو صحیح رخ دینے کی کوشش کرے ایک عورت کا سدھار سارے سماج، معاشرہ، خاندان و نسل کا سدھار ایک عورت کا بگاڑ سارے خاندان، نسل، سماج و معاشرہ کا بگاڑ ہے۔ اس لیے اپنے دل میں ان کی اصلاح کی سچی تڑپ و فکر اپنے اندرپیدا کرنی ہوگی۔

جواب -۲: یہ صحیح ہے کہ آئے دن طلاق یا خلع کا رجحان بڑھتا جا رہا ہے۔ یہ دین سے دوری مذہب سے بیگانگی اور سنت رسول سے لاعلمی کا نتیجہ ہے۔ازدواجی زندگی خوشگوار گزارنے کے لیے ضروری ہے کہ دونوں میں دین کا صحیح علم ہو، سنت رسول سے واقفیت اور آخرت میں جواب دہی کا احساس ہو۔ ہر دو میں ایک دوسرے کے حقوق کا پاس کو لحاظ رکھیں ایک دوسرے کے مزاج کو سمجھنے کی کوشش کریں۔ عورت مرد کی قوامیت کو سمجھ لے اور اس کو عملی طور پر قبول کرلے۔ مرد اپنی بیوی کی تمام تر خوبیوں کو سامنے رکھے اور خرابیوں کو نظر انداز کردے۔ ایک دوسرے کو خندہ پیشانی کے ساتھ برداشت کرلے، حضور پاکؐ کی ازدواجی زندگی کے نمونوں کو سامنے رکھیں۔ نوک جھونک لڑائی جھگڑے، بحث و تکرار سے اپنے آپ کو باز رکھیں اور باہمی ازدواجی زندگی کو خوش اسلوبی کے ساتھ گزار دیں۔ حضورؐ کے اس فرمان کو سامنے رکھیں ، وہ عورت جو ایمان کی سلامتی کے ساتھ اپنے شوہر محترم کی اطاعت گزاری و خدمت بجا لاتی ہے محبت کی حقدار ہے۔ دوسری طرف یہ کہا گیا ہے کہ جس کا شوہر راضی ہو وہ جنت کے جس دروازے سے چاہے داخل ہوجائے۔ شوہر پر دینی و معاشی بوجھ نہ بنیں۔ بے جا خواہشات نہ کریں۔ شوہر کے سامنے دوسروں مردوں کی تعریف نہ کریں، اپنی زبان پر کنٹرول کریں، شوہر کے لیے دعاکریں اور نیکی کی راہ پر لانے اور اس پر قائم رکھنے کی فکر کریں۔ اگر وہ دینی خدمات بجا لاتے ہوں تو اس میں ان کے معاون و مددگار بنیں۔ سسرالی رشتہ داروں سے حسن سلوک کریں انہیں تحفہ تحائف دیں۔ ان کی مخلصانہ خدمت کو انجام دیں اس طرح شوہر کے دل کو جیت لینے کی فکر کریں۔

جواب -۳: عموماً غیر شرعی اور غلط رسومات کا آغاز خواتین ہی سے ہوتاہے۔ دین سے لاعلمی یا پھر نفسانی خواہشات کی پیروی یا پھر اپنے آپ کو خاندان والوں کے درمیان نمایاں کرنے کی فکر۔ غلط رسوم و رواج کا سبب ہیں۔ اور مسلم خواتین کو ان کا خاتمہ کرنا ہے۔ ان رسومات کی خرابیوں کو دلائل کے ساتھ لوگوں کے درمیان رکھا جائے۔ عقیدہ توحید لا الہ الا اللہ کی وضاحت اور عقیدہ آخرت کی تفہیم کے ساتھ ساتھ طرز زندگی کو بدلنے کی فکر کریں۔ گھریلو اجتماعات کا باقاعدہ اہتمام کیا جائے، گھر میں ہونے والی رسوم میں خواتین عملی روک تھام کے لیے خلوص، محبت، حکمت اور دانائی کو پیش نظر رکھیں۔ یہ وہ مضبوط رسومات ہیں جن سے انسان جلد چھٹکارا نہیں پاتا۔ بلکہ اس کے لیے مسلسل جہد درکار ہے۔ تکرار اور ٹکراؤسے پرہیز، دلائل کے ساتھ بات کو سمجھانے کی فکر، اسلامی شریعت کی پاکیزگی کا بیان۔ غیر شرعی رسومات کی حقیقت کو ان پر واضح کرنا بھی لازم ہے۔ یہ سب کام داعیانہ اسپرٹ کے ساتھ کریں۔ ان میں سے کسی پر تنقید دیانت داری کے ساتھ ہو۔ بھونڈا انداز اختیار نہ کریں، تواضع برقرار رکھیں، نمازوں کی پابندی کریںاور خود کو دین کا عملی نمونہ بنائیں تو بے جا رسوم و رواج کا خاتمہ ممکن ہوسکتا ہے۔lll

جوابات: ناصرہ خانم (حیدر آباد)

شیئر کیجیے
Default image
شرکاء

Leave a Reply