ہاتھ

ہاتھ اللہ تعالی کی بہترین نعمت ہے۔ہاتھ اگر نہ ہوتے تو ہم کسی سے نہ ہاتھ ملا سکتے، نہ کسی کو ’ہاتھ دے سکتے۔‘ ہاتھ دینا ایک محاورہ ہےجس کے معنی دھوکہ دینے کے ہیں۔ مجھے علم نہیں ہے کہ یہ محاورہ لغت میں اپنی جگہ بنا پایا ہے یا نہیں لیکن عام بول چال میں ہمارے علاقہ میں خوب استعمال ہوتا ہے ۔اکثر وبیشتر ہم لوگوں کو ہاتھ دیتے رہتے ہیں ۔بعض لوگ ہاتھ ملاکر ہاتھ دیتے ہیں بعض ہاتھ ہلاکر اور کچھ لوگ توہاتھ جوڑ کر ہاتھ دیتے ہیں۔

ہاتھ کے کئی استعمال ہیں جیسے پکڑنے، کھانے، دبانے، ہلانے، دکھانے، اشارہ کرنے، اٹھانے، چلانے وغیرہ وغیرہ ۔اس کے علاوہ بھی بہت سے استعمال ہیں تقاضہ ادب کے چلتے وضاحت غیر ضروری ہے ۔

دعوتوں میں مہمانوں کے لیے ہاتھ دھونے کی ایک خاص جگہ ہوتی ہے لیکن اکثر لوگ دستر خوان پر مناسب جگہ، جہاں کھانا آسانی سے اور بدل بدل کر آنے کی امید ہوتی ہے بیٹھنے کی عجلت میں ہاتھ دھونے کے عمل کو موخر کردیتے ہیں اور بعد از طعام دونوں ہاتھوں کو دھوتے نظر آتے ہیں ۔یہی ہاتھ دوران طعام اپنی ڈکاروں کو چھپانے ، شکم سیری کے بعد پیٹ سہلانے اور بد ہضمی کے باوجودپیٹ کی ہمت افزائی کرنے کے لیے استعمال ہوتے ہیں ۔

ماں کا ہاتھ بچپن میں روتے بچے کو تھپک کر سلانے اور باپ کا ہاتھ بچے کو چلنا سکھانے کے کام آتا ہے لیکن یہی بچہ جب جوانی میں اپنا ہاتھ اپنی بیوی کے ہاتھ میں دے دیتا ہے تو اپنے والدین سے کچھ ہاتھ ہٹا لیتا ہے ۔

کرونا کی وبا کا تعلق بھی ہاتھ ملانے سے ہے۔اگر زیادہ ہاتھ ملاؤ گے تو آپ زندگی سے ہاتھ دھو بیٹھو گے لیکن یہ عجیب بات ہے کہ زندگی بچانے کے لیے آپ کو روزانہ کئی بار ہاتھ دھونا پڑ رہا ہے ۔ لوگ بار بار ہاتھ دھوکر ہاتھ کی لکیروں میں اپنی زندگی کی بقا تلاش کررہے ہیں۔

ہاتھ کا تعلق سخاوت سے بھی ہے۔ احسن یہ ہے کہ آپ کھلے ہاتھ سے دیں اورایک ہاتھ سے دیں تو دوسرے کو خبرنہ ہو لیکن اکثر غلطی سے دو چار ہاتھوں کو پتہ چل ہی جاتا ہے۔

ہمارے یہاں ہاتھ کا استعمال ہاتھ پاؤں توڑنے اور منہ پھوڑنے کے کام بھی آتا ہے ۔لیکن اکثر لوگ اس کا استعمال مسجد کے صحن میں ،مدرسے کے آفس میں ،پانی کے نل پر،اپنے بھائی کے گھر پر اور قرضدار کے در پر کرتے ہیں ۔اقبال بلا وجہ ہی کہہ گئے

ہو حلقہ یاراں تو بریشم کی طرح نرم

ہاتھ واعظ کے لیے ایک بہترین سہارا ہے۔اپنے دونوں ہاتھوں کو الفاظ کے اتار چڑھاؤ سے جوڑتے ہوئے سامعین پر غیر معمولی اثرات ڈالنے لگتا ہے ،لیکن اثر پذیری کی کمی میں اس کے کردار کا بہت بڑا ہاتھ ہوتا ہے ۔

شاعر بھی ہاتھ کے اشاروں کی مدد سے شعر سناتا ہے اور سامعین ہاتھ اٹھا اٹھا کر داد تحسین دیتے ہیں،لیکن جب سے ایک ہاتھ کے خالی رہ جانے کا احساس ہوا ہے، لوگ مشاعروں میں دونوں ہاتھوں کے استعمال سے تالی بجانے لگے ہیں کیونکہ ایک ہاتھ سے تالی نہیں بجتی ہے۔ بعض شعرا شعر کہتے وقت اپنے ہاتھ کو اتنا اٹھاتے ہیں گویا مصرع اولی کو دور کہیں آسمان میں پھینک آے ہیں تاکہ مصرع ثانی کی کم وزنی محسوس نہ ہو اورلوگ مصرع اولی کو گردن اٹھائے آسمان میں ہی تلاش کرتے رہ جائیں ۔

ہاتھ کنگن کو آرسی کیا ۔عورتیں اپنے ہاتھوں میں کنگن اور چوڑیاں پہنتی ہیں اور مرد گھڑی ۔شادی میں سالے صاحب بڑے پیار سے دولہے کو گولڈن رنگ کی گھڑی پہناتے ہیں اور ساتھ ہی یہ باور کراتے ہیں کہ اب آپ اور آپ کی اوقات اس گھڑی سے وابستہ ہے جیسے اکثر مسجدوں میں یہ لکھا ہوتا ہے کہ جماعت کا وقت اس مسجد کی گھڑی سے وابستہ ہے ۔

ہمارے ملک کی سیاست میں طویل عرصے تک ہاتھ کا ہاتھ رہا ہے ۔اس ہاتھ نے مسلمانوں کو سہارا تو نہیں دیا لیکن دلاسہ ضرور دیا ہے۔اسی دلاسہ کی نرم آغوش میں پوری قوم شتر مرغ کی طرح منہ دبائے پڑی رہی۔ جب معاملہ ہاتھ سے نکل گیا تو ہماری حیثیت اس کمزور زر خرید غلام کی سی ہو گئی جو آقا کے لٹ جانے کے بعد بھی ا پنے دونوں ہاتھ جوڑے کھڑا ہے۔اس ذلت میں بھی اس کو دوسروں کا ہاتھ صاف دکھائی دیتا ہے جیسے اس کے اپنے ہاتھ تو کبھی تھے ہی نہیں۔

کس معاملے میں کس کا ہاتھ ہے یہ ڈھونڈنے میں ہماری میڈیا کو دنیا میں سب سے زیادہ مہارت حاصل ہے۔ جیسے کرونا پھیلانے میں تبلیغی جماعت کا ہاتھ ،ٹڈی دل کو بھیجنے میں پاکستان کا ہاتھ،کسانوں کے نئے زراعتی قانون کے خلاف تحریک میں چین اور پاکستان اور ماؤ وادیوں کا ہاتھ وغیرہ ۔کھلے عام فائرنگ کرنے والوں کے ہاتھوں کی پستول اسے پھول نظر آتی ہے جبکہ صفورا زرگر کے ہاتھ کا قلم بندوق ۔

ہر مرشد کا ایک ہاتھ ہوتا ہے جو مریدوں کے چومنے کے لیے مختص کیا جاتا ہے ۔اب تو بلالحاظ جنس و عمر ہر کوئی اس کو چوم سکتا ہے ۔ہاتھ چومنے کے بعد ہر مرید کے لیے لازم ہے کہ مرشد اگر رنگے ہاتھوں پکڑا بھی جائے تو اس کا ہاتھ نہیں پکڑا جاسکتا البتہ اپنے ہاتھ بھی اسی رنگ میں رنگنے کی پوری اجازت ہوتی ہے ۔

‘نے ہاتھ میرا ہاتھ ہے نہ جیب میری جیب

کہا جاتا ہے کہ بیوی کے ہاتھ شوہر کے ہاتھ سے خوبصورت ہوتے ہیں،لیکن اس وقت تک جب تک کہ بیوی کے ہاتھ شوہر کی جیب تک نہ پہنچیں۔جب بیوی ایک ہاتھ میں پیسے اور دوسرے میں تھیلی دے کر بازار بھیجتی ہے اور واپس آنے پر تھیلی اور پیسوں کا پورا حساب لیتی ہے تب شوہر بڑی حسرت سے اپنے دونوں خالی ہاتھوں کو دیکھتا ہے تو اسے اپنی حالت اس ٹھاکر جیسی محسوس ہوتی ہےکہ سامنے بندوق پڑی ہوئی ہے لیکن گبّر سنگھ کو گولی نہیں مارسکتا ۔

بچپن سے سکندر اعظم کے مرنے کے بعد ’رہ گئے خالی ہاتھوں‘ کی داستان سنا سنا کر واعظوں اور قوالوں نے دنیا کی بے ثباتی کا درس تو دیا لیکن قوم کا جذبہ جہانگیری کب ہاتھ سے چلا گیا پتہ ہی نہ چلا۔ زاہد کے ہاتھ میں تسبیح آگئی اور مجاہد کے ہاتھ میں موبائل ۔ایک بندگی کا حساب رکھتا ہے دوسرا زندگی کا ۔

جب دنیا کو علم کی ترقی اور اجتہاد ی فکر کی ضرورت تھی تو ہمارے علماء ہاتھ سینے پر باندھنا چاہیے یا ناف پر، نمازمیںہاتھ اٹھاناچاہیےکہ نہیں جیسے موضوعات پر ہزاروں صفحات لکھ رہے تھے ۔

ہاتھ ،ہاتھوں کی کمائی کھانے کے لیے ہوتے ہیں جبکہ اس سے رشوت کی کمائی بھی کھائی جاسکتی ہے۔ پروفیشنل فقیر ، نیتا اور دولہا بے شرمی سے ہاتھ پھیلاتے ہیں جبکہ مجبور اور ضعیف مجبوری میں ،لیکن اکثر لوگ مجبور اوربے شرم ہاتھوں کو پہچاننے میں غلطی کرتے ہیں ۔

ہمارے یہاں ’ہاتھ پیلے کرنا‘ ایک محاورہ ہے جس کا مطلب لڑکیوں کی شادی ہوجانا سمجھا جاتا ہے ۔ہر ماں باپ کی اولین خواہش ہوتی ہے کہ ان کے بچیوں کے ہاتھ پیلے ہوجائیں ۔روزانہ صبح چائے دیتے وقت باپ کے ہاتھوں میں کانپتی پیالی کو دیکھ کر نہ جانے کتنی لڑکیاں اپنے ہاتھوں سے سر کے آنچل کو لمبا کرلیتی ہیں تاکہ باپ کو سر میں ابھرتی چاندی نظر نہ آسکے ۔

ہاتھ پر ہاتھ دھرے بیٹھنا ہمارا نیشنل ٹایم پاس ہے۔ مصیبت ،غربت اور بدحالی کتنی بھی ہو ہم ہاتھ پر ہاتھ دھرے بیٹھے رہتے ہیں کیونکہ ہمارے ہاتھ بالکل بھی خالی نہیں ہوتے ہیں بلکہ انتظار میں ہوتے ہیں ۔

اللہ رے صفائے تن نازنین یار

موتی ہیں کوٹ کوٹ کے گویا بھرے ہوئے

دو دن سے پاؤں جو نہیں دبوائے یار نے

بیٹھے ہیں’’ہاتھ ہاتھ‘‘ کے اوپر دھرےہوئے

اب تو سارے بھکت بھی ہاتھ پر ہاتھ دھرے بیٹھے ہیں کیونکہ بہت سارے چین کے موبائل ایپ بند کردیے گئے ہیں ۔کرونا میں کس کا ہاتھ ہے اس کا سراغ ابھی ڈھونڈا جارہا ہے۔امریکہ سمجھتا ہے کہ اس میں چین کا ہاتھ ہے ۔چین کا الزام امریکہ پر ہے۔امریکہ اور چین کا ہاتھ ہو نہ ہو دنیا میں یہ مشہور ہوگیا کہ اس میں بل گیٹس کا ہاتھ ضرورہے ۔ہاتھ ڈھونڈنے والے ساتھ میں اگر دوائی بھی ڈھونڈلیں تو دوچار کے علاج کے کام آجائے گی ۔

ہاتھ کی قدر کا اندازہ اس وقت ہوتا ہے جب سب کچھ ہاتھ سے چلا جاتا ہے۔ہاتھ کی عظمت کا احساس ہوجائے تو اس میں عصا پکڑنے کی قوت پیدا ہوجاتی ہے، اس کی چمک سے فرعون کے ایوان دہل جاتے ہیں۔ وہی ہاتھ کعبہ کی تعمیر کرتا ہے تو وہی ہاتھ اپنی متاع عزیز کو اللہ کی راہ میں قربان کرتے ہوئے ذرا برابر نہیں کانپتا۔وہی ہاتھ خالد ،قاسم اور ایوبی کا ہاتھ بن جاتا ہے۔

ہاتھ معصوم بھی ہوتے ہیں اور نازک بھی لیکن جب عزم و ہمت جوان ہوجاتی ہے تو وہی ہاتھ فلسطین کے معصوم بچے کا ہاتھ بن جاتا ہے جو بم کا جواب پتھر سے دینے لگتا ہے ۔ جن ہاتھوں کو محض حنا کے رنگ اور چوڑیوں کی کھنک کے لیے سمجھا گیا تھا وہی ہاتھ لدیدہ اور عائشہ کے ہاتھ بن جاتے ہیں ۔ دنیا کی تعمیر اور تسخیر ان ہی ہاتھوں کی مرہون منت ہے ۔خدا کرے کچھ ایسا ہو کہ روز محشر نامہ اعمال داہنے ہاتھ میں آجائے۔ہمارا ہاتھ مومن کا ہاتھ بن جائے ۔

ہاتھ ہے اللہ کا بندہ مومن کا ہاتھ

غالب و کا ر آفریں، کارکشا، کارساز

شیئر کیجیے
Default image
محمد انور حسین(ناندیڑ)