بے حیائی کا یہ طوفان؟!

اس دنیامیں جتنے بھی مذاہب وادیان ہیں ،ان کی تہذیب الگ الگ اور تمدن جداگانہ ہے ،ان کے یہاں سماجی و معاشرتی مسائل کاحل بھی مختلف ہے لیکن اسلام وہ دین ہے جو خدائے بزرگ و برتر کی جانب سے تمام انسانیت کے لیے بھیجا گیا ہے اور اس میں معاشرتی، سماجی، ازدواجی، خانگی وعائلی، دنیوی واخروی زندگی کے تمام مسائل کا حل موجود وہے۔

انسانی دنیا پر نظر ڈالی جائے تو معلوم ہوگا کہ انسانی حیوانیت کہاں تک پہنچ چکی ہے،عورتوں میں بے حیائی اور بے پردگی دن بدن حیوانیت کے منازل طے کرتے ہوئے عروج وارتقاء پر گامزن ہے،اسلام نے عورت کو باحیاء اور باعزت بنایا اور اسے عفت وعصمت کی چادر عطا کیہر وقت اور ہر جگہ اسلام نے اس کی عصمت اور حیاء کے بقاء کے لئے احکامات عطاکرکے اسے عظمت و تکریم سے نوازا۔ لیکن مغربی دنیا حقوقِ نسواں کے نام سے اسلام جیسے مہذب دین کو بدنام کرنے اور عورت کے ردائے حیاء کو اتار پھینکنے ،قبائے عصمت کو تارتار کرنے میں کوشاں وسرگرداں ہیں،جس سے سماج میں بے حیائی وبے پردگی کی سونامی لہر دوڑ رہی ہے،آئے دن عصمت دری کے واقعات رونما ہورہے ہیں ،عریانیت وفحاشیت کا بول بالا ہے،مغربی تہذیب نے انسانیت کو حیوانیت کے قالب میں ڈھال کر مکمل درندہ صفت انسان بنادیااور اس تہذیب کے متوالے آنکھ بند کرکے اس کے پیچھے پیچھے چل دئیے ہیں اور آج سماج میں اسی کو شریف اور مہذب سمجھا جاتا ہے جو سر سے پیر تک مغربیت میں ڈھلا ہوا ہو،وضع قطع،عادات و اطوار، رہن سہن غرض زندگی کے تمام نشیب وفرازمیں جو جتنا مغربی تہذیب کا نقال ہوگا وہ اتنا ہی مہذب شمارہوگا۔ اسلام نے عریانیت اور بے حیائی کو کسی قیمت پر بھی برداشت نہیںکیا اور اپنے ماننے والوں کو بے حیائی سے دور رہنے کی تاکید کی۔ قرآن میں ارشاد ہے، ترجمہ: ’’بے حیائی کے پاس بھی مت جاؤخواہ وہ علانیہ ہوں یا پوشیدہ۔‘‘(انعام؛۱۵۱) دوسری جگہ فرمایا، ترجمہ:’’خبردار !زنا کے قریب بھی نہ پھٹکنا کیوں کہ وہ بڑی بے حیائی اور بہت بری راہ ہے۔‘‘(بنی اسرائیل۳۲)

اسلام نے اس کے قریب لے جانے والے جتنے بھی ذرائع ہیں ان کو اپنا نے سے سختی کے ساتھ منع کیاہے۔

اسلام نے اس گناہ سے معاشرے کو محفوظ بنانے کے لیے نکاح جیسی معروف خیر کی تعلیم دی ہے مگر دورِ جدید میں زنا ،فحاشی ،بے حیائی ،عریانیت کے مختلف ذرائع ووسائل پیدا ہوچکے ہیں،جس طرح ٹی وی (t.v)موبائل (mobail)اور دوسرے ذرائع ابلاغ میڈیا (media)یہ چیزیں بچوں کی اخلاقی کیفیت کو بدل کررکھ دیتی ہیں۔ حد تو یہ ہے کہ اسپورٹس جو انسان کی صحت و تن درستی کا ضامن ہے اسیبھی دور ِ حاضر میں بے حیائی پھیلانے کا ایک اہم ذریعہ بنا دیا گیا ہے، ریسلنگ (wrestling) ٹینس (tennis) وغیرہ کھیلوں میں عورتیں برائے نام لباس پہن کر عریانیت کا مظاہرہ کرتی ہیں۔ مرور زمانہ کے ساتھ ساتھ مردحضرات کے کھیلوں میں عورتوںکوکھیل کی زینت اور آنکھوںکی لذت کا سامان بنایا جارہا ہے۔عورت کے تقدس کوبحال رکھنے کے خاطر اسلام نے ایک طرف اس کو وہ حقوق مرحمت فرمائے جو اس سے قبل دنیا کے کسی مذہب نے نہیں دئیے تھے،دوسری طرف اسے ایک قیمتی موتی کا مقام عطا فرماکر پردہ کی دولت سے مالامال کیا،انہیں کے تحفظ کے لئے چلنے پھرنے میں ان کوان حرکات وسکنات سے روکا جن سے مردوں کے دل ا ن کی طرف مائل ہوتے ہوںاوروہ کسی بڑے گناہ کا پیش خیمہ بن سکتے ہوں۔ ارشاد ربانی ہے۔ ترجمہ: ’’اور اس طرح زور زور سے پاؤں مار کر نہ چلیںکہ ان کی پوشیدہ زینت معلوم ہوجائے۔‘‘ (النور:۳۱) اسی طرح اس کی عصمت اور پاکدامنی کی بقاء کے لئے اسلام نے اوڑھنیوں اور حجاب کا رواج قائم کیا تاکہ معاشرہ کسی بگاڑ کا شکار نہ ہوسکے، ترجمہ:’’ائے نبی !اپنی بیویوں سے اپنی صاحبزادیوں سے اور مسلمان عورتوں سے کہہ دو کہ وہ اپنے اوپر اپنی چادریں لٹکایا کریں۔‘‘(الاحزاب :۵۹)

اگر عورتیں اپنی زندگی کو صحیح اسلامی تعلیمات کے مطابق گذارنے کی کوشش کریں تو دنیا کی کوئی طاقت ان کو شہوت کی نگاہ سے دیکھنے کی تو دور کی بات ،اپنے تصور میں بھی نہیں لائے گی،اور عورت اپنی تمام تر خوبیوں سے آراستہ وپیراستہ ہوکر اپنے شوہر کے لئے نیک رفیقِ سفر،اپنے والدین کے لئے چشمۂ رحمت ،اپنے بھائی کے لئے گلدستہ ٔ محبت،اپنی اولاد کے لئے گہوارۂ الفت وچاہت اور سارے معاشرہ کے لئے نیک بخت ونیک سیرت کا مجموعہ بن کر ساری دنیا کو جنت نما بنا سکتی ہے اور دنیا میں پھیلنے والے تمام برائیوںکے لئے سدِ باب بن کرانسانیت کوبھولا ہوا سبق یاد دلا سکتی ہے،اور دنیا کی صحیح رہبری ورہنمائی کر نے کے لئے امام بخاریؒاورامام شافعیؒ جیسی اولاد کو جنم دے سکتی ہے اور انسانیت کو جہنم کے دہانے سے نکال کر جنت کی لازوال نعمتوں کی طرف پھیر سکتی ہے۔ lll

شیئر کیجیے
Default image
عبد الکریم ندوی گنگولی

Leave a Reply