صالح معاشرہ کی تعمیر میں خواتین کا رول

صالح معاشرہ کی تعمیر میں خواتین کا رول بے حد اہم ہے۔ اس کو سمجھنے کے لیے بہت ضروری ہے کہ پہلے یہ جانیں کہ صالح معاشرہ کیا ہے؟ جہاں توحید رسالت اور آخرت کی بنیاد پر سماج کا ہر فرد ایک دوسرے کا حق ادا کرے، بڑے چھوٹے سے شفقت سے پیش آئے، چھوٹے بڑوں کے ساتھ عزت و احترام کا سلوک کریں، لوگ ایک دوسرے کے دکھ درد میں شریک ہوں، عورتوں اور لڑکیوں کی عزت و ناموس محفوظ ہوں، غریبوں اور مصیبت زدوں کی مدد کر کے انہیں اوپر اٹھایا جائے، دینی و دنیاوی علم سے آراستہ ہوں، فتنہ و فساد، بے حیائی، فحاشی کے اثرات سے سماج کو محفوظ رکھا جائے۔ اگر کسی سماج میںیہ ساری خوبیاں ہوں تو ہم اسے صالح سماج کہیں گے۔

سوال یہ ہے کہ ایسا سماج بنانے میں عورتیں کیا رول ادا کرسکتی ہیں۔ اس رول کو سمجھنے کے لیے عورت کی جو سماج میں اہمیت اور حیثیت ہے پہلے اس کو سمجھ لینا چاہیے۔ اس حساب سے عورت کی کئی سماجی حیثیتیں بنتی ہیں۔ مثلاً وہ کسی کی ماں ہے تو کسی کی بیٹی، کسی کی بہن ہے تو کسی کی بھاوج، کسی کی بیوی ہے تو کسی کی ہمدرد پڑوسن، دوسرے لفظوں میں یوں کہئے کہ سماج عورت ہی کی گود سے پل کے پروان چڑھتا ہے۔ ہماری اصلی دولت عورتوں ہی کے پاس ہے۔ نسلیں انہیں کی تحویل میں ہیں، عورت کے بغیر سماج ہی کا وجود نہیں ہوسکتا چہ جائے کہ صالح سماج۔

عورت کی اس اہمیت کے پیش نظر ضروری ہے کہ ہر لڑکی جو کل عورت اور ماں بننے والی ہے، اس کو شروع سے ایسی تعلیم و تربیت دی جائے جس سے وہ خود کو پہچانے، اپنے خدا اور رسول کے احکامات کو جانے اور قرآن و سنت کی ضروری تفصیلات سے واقف ہو۔ اگر اتنا اہتمام کیا گیا تو ظاہر ہے کہ ایسی عورت اپنی ذات، اپنے خاندان، اور پورے سماج کے لیے رحمت ثابت ہوگی۔ اور اس کی گود میں پلنے والی نسل آگے چل کر ایک صالح سماج اور معاشرہ کی تعمیر کرسکے گی۔ سچ پوچھئے تو اس گندے سماج کو مسلم عورت ہی صاف ستھرا کرسکتی ہے۔ قرآن کا یہ دعوی ہے کہ ’’اللہ کے نزدیک اگر کوئی دین ہے تو صرف اسلام۔‘‘

اب بیسویں صدی سے ہم آگے بڑھ کر اکیسویں صدی میں داخل ہوچکے ہیں۔ جس کے نئے نئے تقاضے اور چیلنج ہمارے سامنے ہیں۔ پوری دنیا کی طرح ہمارے ملک کا ماحول بھی تیزی سے بدل رہا ہے۔ ایک طرف بے حیائی و بے شرمی کا بازار گرم ہے تو دوسری طرف عورتوں کے حقوق و اختیار اور اقتدار میں ساجھے داری کے نام پر انہیں بازاری، اشتہاری اور بکاؤ مال بنایا جا رہا ہے۔ ٹی وی کلچر اور اسکول و کالجوں میں کلچرل پروگرام کے نام پر لڑکے اور لڑکیوں کو یاتو کھلنڈرا بنایا جا رہا ہے یا فحاشی وغنڈہ گردی سکھائی جا رہی ہے۔ فلمی دنیا کے ہیرو ہیروئین نئی نسل کے رول ماڈل بنتے جا رہے ہیں۔ اس کی بڑی بھاری قیمت ملک و ملت کو ہی نہیں بلکہ ہر گھر کو چکانی پڑ رہی ہے۔ چناں چہ ایسے بدتر حالات اور ان مسائل کو ایک چیلنج کے طور پر قبول کرنا ہوگا اور اس کے لیے خواتین کی ایک نئی لیڈر شپ کو آگے لانا ہوگا۔ ان کی صحیح تعلیم و تربیت کا نظم کرنا ہوگا۔ اسلامی تحریکات سے جڑنا ہوگا۔

اسلام کی جو تاریخ ہمارے سامنے ہے وہ کہتی ہے کہ ابتدا سے عورتوں نے اس تحریک میں مردوں کے ساتھ برابر کا حصہ لیا ہے۔ حضرت محمدؐ پر ایمان لانے کی سعادت سب سے پہلے جس کو نصیب ہوئی وہ ایک خاتون تھیں، یعنی ہم سب مسلمانوں کی ماں حضرت خدیجہؓ جنہوں نے بارِ نبوت کو اٹھاتے وقت حضور کے کانپتے ہوئے دل کو تسکین دی تھی۔ وہی تھیں جو دس سال تک ہر قسم کی سختیوں میں حضور کی بہترین رفیق رہیں۔ اور ان ہی کا سرمایہ تھا جس سے مکی دور میں اسلام کا مشن چلتا رہا۔ اسی طرح اس نیک بخت خاتون کا قصہ بھی مشہور ہے کہ جیسے ہی جنگ احد میں ان کے شوہر باپ اور بھائی کی شہادت کی خبر پہنچی تو اس نے پوچھا کہ مجھے یہ بتاؤ کہ رسول اللہﷺ تو خیریت سے ہیں؟ اور جب انہوں نے آپ کو بخیرو عافیت دیکھ لیا تو کہنے لگیں ’’آپ زندہ ہیں تو میری ہر مصیبت ہلکی ہے۔‘‘

یہ چند مثالیں ان خواتین کی ہیں جن کی بدولت ابتدا میں اسلام ساری دنیا میں مقبول و محبوب ہوا۔ اور آج اگر اس دین کو پھر دنیا میں ہر دلعزیز بنانا ہے تو ان ہی جاں نثار خواتین اسلام کے نقش قدم پر چلنا ہوگا۔

اس وقت عورتوں کے کرنے کا اصل کام یہ ہے کہ وہ اپنے گھروں کو اور اپنے خاندان، اپنے ہم سایے اور اپنے ملنے جلنے والوں کے گھروں کو شرک و جاہلیت سے پاک کرنے کی کوشش کریں۔ اپنے گھر کی فضا کو درست کریں اور ان اثرات اور تصورات کا خاتمہ کریں جو فرنگی تعلیم و تہذیب کی اندھی تقلید اور کافرانہ و مشرکانہ رسم و رواج کی بدولت گھروں میں گھس آئے ہیں۔

مسلم بچوں کی اسلامی نہج پر تربیت کی جائے۔ کوئی ماں اپنے بچے کے منہ میں صرف دودھ ہی نہیں ڈالتی بلکہ اس کے ساتھ اپنے اخلاق کی روح بھی اس کی رگ رگ کے اندر اتارتی ہے۔ اگر کسی ماں کے اندر دین کی روح کمزور ہے، اخلاق اور ایمان کی حس مردہ ہے تو اس بچے کے اندر زہریلے جراثیم اس طرح پیوست ہوجائیں گے جس طرح ایک بیمار ماں کا دودھ پینے سے بچہ بیمار ہوسکتا ہے۔ مسلم عورتیں اپنے گھر کے مردوں پر اثر ڈالیں۔ اپنے شوہروں، باپوں، بھائیوں اور بیٹوں کو، اگر وہ بے دینی میں مبتلا ہوں تو، راہ راست پر لانے کی کوشش کریں اور اگر وہ اسلام کی راہ میں کوئی خدمت کر رہے ہوں تو ان کا ہاتھ بٹائیں۔ عورتوں کو نہ معلوم یہ غلط فہمی کہاں سے ہوگئی ہے کہ وہ مردوں کو متاثر نہیں کرسکتیں۔ حالاں کہ واقعہ یہ ہے کہ عورتیں مردوں پر بہت گہرے اثرات ڈال سکتی ہیں۔lll

شیئر کیجیے
Default image
غزالہ پرورین

Leave a Reply