فیاضی- ایک مسلم کے اخلاق کا لازمہ

اسلام ایک ایسا دین ہے جس کی بنیاد انفاق، سخاوت اور دریا دلی پر رکھی گئی ہے، تنگ دلی، حرص اور بخل یہ وہ آفات ہیں جو اس کی عمارت کو متزلزل کر دیتے ہیں۔ اسی وجہ سے اسلام کو محبوب یہ ہے کہ اس کے پیروکار سخی و دریا دل ہوں اور ان کے ہاتھ کھلے ہوئے ہوں۔ اس نے انہیں حسن سلوک، صلہ رحمی، نیکی و بھلائی اور احسان کی تمام شکلوں کی طرف لپکنے کی وصیت کی اور خیر و معروف کو اپنا دائمی وظیفۂ حیات بنانے پر زور دیا جس سے وہ صبح و شام کے کسی وقت میں جدا نہ ہوں۔ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے:

ترجمہ:’’جو لوگ اپنے مال شب و روزکھلے اور چھپے خرچ کرتے ہیں ان کا اجر ان کے رب کے پاس ہے اور ان کے لیے کسی خوف اور رنج کا مقام نہیں۔‘‘ (بقرہ:۲۷۴)

یہ ہر مسلمان کی ذمہ داری ہے کہ وہ اپنی ضروریات کی تکمیل میں میانہ روی اور توازن سے کام لے تاکہ اپنا پورا مال صرف اپنے اوپر نہ خرچ کر ڈالے، بلکہ اس کا فرض ہے کہ جس فضل سے اللہ نے اس کو نواز رکھا ہے اس میں دوسروں کو بھی شریک کرے اور اپنی دولت میں مظلومین کے امداد اور مستحقین و پریشان حال لوگوں کی اعانت کا بھی ایک حصہ متعین کرے۔

اللہ کے رسولؐ نے فرمایا: ’’اے آدم کے بیٹے! تم اپنی دولت کو خرچ کرو۔ یہ تمہارے لیے خیر کا باعث ہے اور تم اسے روک نہ رکھو کہ یہ تمہارے لیے شر کا موجب ہے اور بقدر ضرورت مال پر ملامت نہیں کی جاسکتی۔ اپنے اہل و عیال پر سب سے پہلے خرچ کرو اور بلند ہاتھ پست ہاتھ سے بہتر ہے۔‘‘ (مسلم)

قرآن نے اس مفہوم کی طرف اس وقت نہایت وضاحت سے اشارہ کیا جب اس نے رشتہ داروں اور مسکینوں پر خرچ کرنے کا حکم دے کر فضول خرچی سے روک دیا۔ فضول خرچ اپنی دولت برباد کرتا اور محض حماقت کا مظاہرہ کرتا ہے۔ اپنی نجی خواہشوں کی تکمیل میں اپنا زائد مال خرچ کر ڈالتا ہے پھر اس کے بعد حقوق کی ادائیگی اور واجبی امداد و تعاون کے لیے اس کے پاس کیا بچ سکتا ہے؟

اللہ تعالیٰ نے فرمایا۔ ترجمہ:

’’رشتہ دارو کو اس کا حق دو اور مسکین اور مسافر کو اس کا حق، فضول خرچی نہ کرو، فضول خرچ لوگ شیطان کے بھائی ہیں اور شیطان اپنے رب کا ناشکرا ہے۔ ‘‘ (الاسراء:۲۶-۲۷)

اس کے بعد وصیت کی گئی کہ محتاجوں اور ضرورت مندوں کی عزت نفس کا خیال رکھا جائے ان کی غیرت کو ٹھیس نہ پہنچائی جائے، اگر انہیں دینے کے لیے پاس میں کچھ نہ ہو تو نرمی و خوش اخلاقی سے انہیں واپس کر دیا جائے۔

’’اور اگر ان سے تمہیں کترانا ہو اس بناء پر کہ ابھی تم اللہ کی اس رحمت کو جس کے تم امیدوار ہو، تلاش کر رہے ہو تو انہیں نرم جواب دے دو۔‘‘ (الاسراء:۲۸)

انفاق و سخاوت کی طرف اسلام کی دعوت مشہور و معروف ہے اسی طرح بخل و کنجوسی اور حرص و تنگ دلی سے اس کی جنگ روز روشن کی طرح عیاں ہے۔

حدیث میں ہے ’’سخی اللہ سے قریب ہوتا ہے، انسانوں سے قریب ہوتا ہے اور جنت سے قریب ہوتا ہے اور جہنم سے دور ہوتا ہے اور بخیل اللہ سے دور رہتا ہے، انسانوں سے دور رہتا ہے، جنت سے دور رہتا ہے اور جہنم سے قریب ہوتا ہے۔ ایک جاہل سخی اللہ کو بخیل عابد سے زیادہ محبوب ہے۔‘‘ (ترمذی)

دنیا میں کسی ایسے نظام کا وجود نہیں اور نہ اس کا امکان ہے، جس میں تمام انسان باہمی تعاون اور ہمدردی سے بے نیاز ہوں بلکہ انسانی سوسائٹی میں جب تک قوت و ضعف اور دولت مندی و مفلسی پہلو بہ پہلو موجود ہیں اطمینان و سکون کے حصول اور ان کے استحکام اور سعادت و کامرانی کو ضمانت دینے کے لیے یہ ضروری ہے کہ طاقت ور کمزور پر شفقت و رحم کرے اور دولت مند غریبوں اور مفلسوں کو عطیات اور بخششوں سے نوازے۔

اگر مال و دولت کی فراوانی لوگوں کی اپنی صلاحیتوں اور خوبیوں کی وجہ سے ہوتی ہے اور بعض لوگ مالِ کثیر جمع کرلیتے ہیں جب کہ کچھ لوگ کفاف پر ہی گزارہ کرتے ہیں تو اس پر اعتراض نہیں کیا جاسکتا۔ بدبختی اور ناشکری کا سوال تو اس وقت اٹھتا ہے جب یہ لوگ معاشرے سے کٹ کر زندگی گزارتے ہیں۔ انہیں صرف اپنی ضرورتوں کی تکمل اور اپنے لیے اسبابِ تعیش کی فراہمی کی فکر ہوتی ہے جب کہ اللہ تعالیٰ نے لوگوں کو ایک دوسرے سے ملا جلا کر رکھا ہے اور ان کے اس اختلاط کو ان کے حالات کے اختلاف کے باوجود ان کے لے سخت آزمائش قرار دیا ہے، جس میں ایمان کی جانچ ہوتی ہے اور فضل کا استحقاق ثابت ہوتا ہے۔

’’اور ہم نے تم لوگوں کو ایک دوسرے کے لیے آزمائش کا ذریعہ بنا دیا ہے، کیا تم صبر کرتے ہو؟ تمہارا رب سب کچھ دیکھتا ہے۔‘‘ (الفرقان:۲)

کوئی بھی امت زندگی کے اس میدان میں اسی وقت کامیاب ہوسکتی ہے جب کہ اس کے افراد کے مابین تعلقات مضبوط و مستحکم ہوں، اس کا کوئی فرد محروم نہ رہ جائے کہ فقر و محتاجی کی سختیاں اس پر قہر بن کر ٹوٹ پڑیں اور اس کا کوئی مالدار فرد ایسا حریص نہ ہو کہ بس سامان تعیشات ہی جمع کرتا پھرے۔

اسلام نے اس بلند مقاصد کی تحصیل کے لیے مضبوط قوانین بنائے۔ دلوں کو نیکی اور بھلائی پر آمادہ کیا اور امداد و تعاون اور معروف کے کاموں میں ہاتھ بٹانے کی رغبت دلائی اور یہ واضح کیا کہ اس کا فائدہ صرف کمزوروں اور محتاجوں ہی کو نہیں پہنچتا بلکہ خود خرچ کرنے والے بھی امن و سکون اور اطمینان کی دولت بیش بہا سے ہم کنار ہوتے ہیں۔ ان کے دل کینہ و حسد کے زلزلوں سے محفوظ رہتے اور خود غرضی و تنگ دلی کے انجامِ بد سے بچ جاتے ہیں۔ اللہ تعالیٰ نے فرمایا:

’’دیکھو تم لوگوں کو دعوت دی جاتی ہے کہ اللہ کی راہ میں مال خرچ کرو، اس پر تم میں سے کچھ لوگ ہیں جو بخل کر رہے ہیں، حالاں کہ جو بخل کرتا ہے وہ در حقیقت اپنے آپ ہی سے بخل کر رہا ہے۔ اللہ تو غنی ہے تم ہی اس کے محتاج ہو۔‘‘ (محمد:۳۸)lll

شیئر کیجیے
Default image
عبد الرحیم قاسمی

Leave a Reply