گلاب

گلاب

ہمارے گھر میں ایک نوکرانی کام کرتی تھی۔ بہار کے موسم میں وہ صبح ہی صبح باغ میں جاکر ڈھیر سارے گلاب کے پھول لاتی۔ انہیں سکھا کر ململ کے کپڑے کی تھیلیوں میں بھر کر لٹکا دیتی۔ اس وقت تو سب گھر والے نوکرانی کا مذاق اڑاتے، مگر جب کبھی کسی کو ان پھولوں کی ضرورت پڑتی تو اس نوکرانی سے کہہ سن کر خشک پھول لے لیے جاتے۔ عموماً سر درد کے لیے انہیں گلاب کے عرق میں پیس کر پیشانی پر لیپ کیا جاتا۔ خشک کھانسی یا گلے کی خشونت دور کرنے کے لیے تھوڑے سے پھول ایک گلاس پانی میں ابالے جاتے اور اس میں ایک بڑا چمچ شہد ملا کر رات کو غرارے کرائے جاتے۔

اس نوکرانی کو گلاب کے بہت سے ٹوٹکے آتے تھے۔ برسات میں بچوں اور بڑوں کی بغلوں میں خارش ہوتی، پانی بہنے لگتا اور سخت تکلیف ہوتی تو وہ گلاب کی پتیاں پیس کر گاڑھا گاڑھا لیپ دو چار دن لگواتی۔ اس معمولی علاج سے تکلیف دور ہوجاتی۔ بغل سے بو آتی تو بھی وہ پھول پیس کر لگانے کی تاکید کرتی۔ گرمی کے موسم میں کسی کا دل گھبراتا، دل کی دھڑکن بڑھ جاتی اور کمزوری محسوس ہوتی تو وہ فوراً تھوڑی سی گلاب کی پتیاں آدھی پیالی کیوڑے کے عرق میں رگڑ چھان کے ٹھنڈا کرتی اور چینی ملا کر پلا دیتی۔ چار پانچ دن صبح کے وقت وہ یہ عرق پلاتی دل کا گھبرانا اور خفقانی کیفیت دور ہوجاتی۔ کوئی زخم ٹھیک نہ ہوتا تو وہ خشک گلاب کا سفوف چھڑکنے کو دیتی اور زخم چند روز میں درست ہوجاتے۔

دل کی طاقت کے لیے شاہی خاندان میں گلاب کے خالص عرق میں کشمش بھگو کر تمام رات رکھی جاتی تھی اور نہار منہ سونے کی سلائی سے کشمش کے دانے اٹھا کر کھائے جاتے اور عرق پی لیا جاتا۔ اس سے دل و دماغ کو فرحت حاصل ہوتی تھی اور بھوک لگتی تھی۔

روغن گل طب میں مشہور ہے۔ پھول کی تازہ پنکھڑیاں لے کر شیشے کی بوتل میں بھر دیں۔ پھر اس میں روغن زیتون ڈال دیں، منہ بند کر کے دھوپ میں رکھیں۔ جب پتیاں سفید ہوجائیں تو نکال کر دوسری بھر دیں۔ سات روز بند پتیاں رکھنے سے جو روغن گل تیار ہوتا ہے، اس کے بہت فوائد ہیں: سونگھنے سے سر درد دور ہوتا ہے، سر پر مالش کرنے سے دماغ کو قوت ملتی ہے۔ فم معدہ پر مالش کی جائے تو الہتاب معدہ دور ہوتا ہے۔ کان میں ڈالنے سے درد کو آرام ملتا ہے۔

اسی طرح شربت گل سرخ مفرح اور مقری ہے۔ غم کو دور اور پیاس کی شدت ختم کرتا ہے۔ عرق گلاب عام چیز ہے مگر اصلی نہیں ملتا۔ کسی اچھے حکیم یا عطار سے لینا چاہیے۔ یہ عرق پینے سے دل و دماغ اور معدے کو طاقت ملتی ہے۔ گرمی کی وجہ سے سر درد ہو تو دور ہوتا ہے۔ آشوب چشم میں گلاب کا عرق ڈالنے سے آرام آتا ہے۔ اس کے عرق سے غرارے کیے جائیں تو منہ کے چھالے اور زخم ٹھیک ہوجاتے ہیں۔ مسوڑھوں کی سوجن اور ورم دور ہوتا ہے۔ خالص عرق میں اسپغول پیس کر جوڑوں پر لیپ کیا جائے تو جوڑوں کی سوجن دور ہوجاتی ہے۔ حلق میں درد ہو تو گلاب کے عرق میں شہد ملا کر غرارے کرنے سے تکلیف ختم ہوجاتی ہے۔

گلاب سے تیار ہونے والی بے شمار ادویہ ہیں سب سے مشہور گل قند ہے۔ پھول کی تازہ پنکھڑیاں چینی کے برتن میں ڈال کر ان سے دگنی چینی یا مصری ملائیے اور ہاتھ سے خوب ملیے۔ برتن کا منہ بند کر کے دھوپ میں رکھ دیجئے۔ صبح شام چمچ سے ہلائیے۔ تیس چالیس دن میں گل قند تیار ہو جاتا ہے۔ یہ دماغ اور معدہ کو قوت دیتا ہے، ہاضمہ قوی ہوتا ہے، بلغمی، سوداوی بخاروں میں نفع دیتا ہے، آنتوں سے بلغم کو نکالتا اور قبض دور کرتا ہے۔ سل کے مریضوں کے لیے تازہ قل قند بہت مفید ہے۔ اس کی خوراک ایک تولہ سے کم ہے۔ جلاب کے لیے چار پانچ تولہ بھی استعمال کرسکتے ہیں۔ اپنے مزاج کے مطابق حکیم سے مشورہ کر کے کھائیے۔

جو لوگ لمبی بیماری سے اٹھے ہوں وہ خالص گل قند دس تولے میں بادام چھلے ہوئے پانچ تولہ اور بیج نکلا منقی پانچ تولے خوب پیس کر شامل کیجیے۔ ایک چمچ روز صبح کھانے سے قوت حاصل ہوگی۔ گل قند پہلے روز ایک تولہ نیم گرم دودھ سے کھائیے اس سے اجابت صاف نہ ہو تو تھوڑی مقدار بڑھا لیجیے اس طرح نقصان نہیں ہوگا اور پتہ بھی چل جائے گا کہ آپ کو کتنی خوراک کی ضرورت ہے۔

آنکھوں کی بیماری کے لیے گلاب کا عرق استعمال ہوتا ہے۔ گلاب کی خشک پتیوں سے بھرے تکیے استعمال کیے جاتے ہیں۔ گلاب کی پتیاں جھڑ جائیں تو اس کے بیج کا حصہ رہ جاتا ہے۔ اسے عام طور پر گلاب کا پھل کہتے ہیں۔ یہ بھی بہت کام کی چیز ہے۔ اسے پیس کر دانتوں کو ملنے سے مسوڑھے مضبوط ہوتے ہیں اور منہ کی بو دور ہوجاتی ہے۔ اسے کھانے سے دل، معدہ اور جگر کو قوت ملتی ہے۔ گلاب کا پھل پیس کر زخم پر چھڑکا جائے تو وہ خشک ہو جاتا ہے۔ کہیں سے خون نکل رہا ہو تو یہ سفوف لگانے سے خون بند ہو جاتا ہے۔ یہ صفراوی دستوں میں بھی مفید ہے۔ اسے پیس کر لیپ کیا جائے تو سر درد دور ہوتا ہے۔

گلاب کے پھول میں ٹینک ایسڈ، گیلک ایسڈ، روغن اور قبض دور کرنے والے اجزا شامل ہیں۔ آپ کو پڑھ کر حیرت ہوگی سنگترے اور مالٹے سے کہیں زیادہ وٹامن سی گلاب میں موجود ہے۔ کچھ علاقوں میں اس کے پھل کی جائے دم کر کے پی جاتی ہے جو جسمانی قوت کے لیے مفید ہے۔ پہلے گلاب آمیز چائے شرق اوسط میں پی جاتی تھی، مگر اب اس کا رواج نہیں رہا۔

موسم گرما میں طبیب شربت دل بہار، شربت موج، شربت گلاب، شربت مفرح الارواح بناتے ہیں۔ ان سب میں عرق گلاب شامل کیا جاتا ہے تازہ گلاب کا پھول پیس کر پینے سے دل کو قوت ملتی ہے۔

گلاب کے پھول خشک کر کے اس کا سفوف ابٹن میں ملا کر چہرے پر لگانے سے جلد خوشنما اور خوشبودار ہوجاتی ہے۔ گلاب کے عرق میں لیموں ملا کر رکھ لیجیے۔ یہ لوشن جلد کو صاف ستھرا کر کے نکھار دے گا۔ ایک لیموں کا رس ایک گلاس عرق کے لیے بہت ہے۔ برتن کو فرج میں رکھئے، یہ ایک قسم کا بے ضرر کلیزنگ لوشن ہے۔ سردی کے موسم میں اس لوشن کے اندر ایک بڑا چمچ گلیسرین ملا کر رکھ لیجیے ہاتھ پاؤں پھٹنے اور جلد کی خشکی میں اور رنگ صاف کرنے کے لیے اچھی چیز ہے۔ برتن یا کپڑے دھوکر اس کے چند قطرے ہاتھوں پر ملنے سے ہاتھ ملائم اور نرم رہیں گے۔ گلاب کا زیرہ خشک کر کے محفوظ کرلیجیے، منہ کے چھالوں کے لیے اچھی دوا ہے۔ اسے پیس کر منہ میں چھڑکیے۔

گلاب کا تیل ابٹن میں ملا کر چہرے پر ملنے سے نکھار آتا ہے۔ اب تو کولڈ کریم اور دوسری کلینرنگ کریموں میں گلاب کا عرق عام طور پر استعمال کیا جاتا ہے۔ کولڈ کریم لگانے سے جلد میں ملائمیت صرف گلاب کی وجہ سے آتی ہے۔ روز واٹر بھی عام مل جاتا ہے۔ دوسرے رنگوں کے گلاس کی نسبت دواؤں میں سرخ گلاب زیادہ کام آتا ہے۔ اسی کا گلقند، تیل اور عرق بنتا ہے۔lll

شیئر کیجیے
Default image
خدیجہ آفاق

Leave a Reply