آسٹیو پوروسس (یعنی ہڈیوں کی کمزوروی)

ماہرین کے مطابق آسٹیوپوروسس ہڈیوں کے باریک مہین اور ناپختہ ہونے اور کمزور پڑنے کا عمل ہے۔ اس کی بدولت ہلکے سے جھٹکے یا دباؤ سے بھی یہ ٹوٹ سکتی ہیں۔

عالمی ادارہ صحت (WHO) کے مطابق ’’ہڈیوں کی معدنی کثافت میں کمی کی وجہ سے ایسے حالات پیدا ہوتے ہیں جو آسٹیوپوروسس کے مرض کے آغاز اور پیش رفت کے لیے انتہائی سازگار ہیں۔‘‘

ایک تحقیق اور سروے کے مطابق بھارت میں اس وقت بھی تقریباً تیس کروڑ افراد آسٹیوپوروسس یا ہڈیوں کے بھُر بھُرے پن کے مرض کا شکار ہیں۔ لیکن بدقسمتی یہ ہے کہ ان میں سے اکثریت اس حقیقت سے بے خبر ہے کہ وہ اس مرض کا شکار ہیں اور ہڈیوں کے ٹوٹنے کا امکان ان میں سب سے زیادہ ہے۔ ادھیڑ عمر کے مرد خواتین (زیادہ تر خواتین) اس مرض کا زیادہ شکار ہوتی ہیں۔ لیکن اس کا یہ مطلب نہیں ہے کہ جوان عمر لوگ اپنی بھرپور جوانی میں آسٹیوپوروسس کے حملے سے محفوظ ہیں۔ عام طور سے لوگ آسٹیوپوروسس کے مرض میں مبتلا ہوجانے سے اس وقت تک بے خبر رہتے ہیں جب تک ان کی کسی ہڈی کے ٹوٹ جانے کا مسئلہ نہیں ہوتا ہے۔ طبی ماہرین کا خیال ہے کہ جیسے جیسے افراد میں عمر رسیدگی بڑھتی ہے آسٹیوپوروسس ہونے اور ہڈیوں کے شکستہ ہونے کا امکان بھی بڑھتا جاتا ہے۔

جدید عہد اور تہذیب کا ایک تحفہ آرام دہ اور پرتعیش (بلکہ حقیقتاً کاہلاہ اور تسابل پسندانہ) طرزِ زندگی ہے۔ جس کا لازمی نتیجہ یہ ہے کہ جسمانی ورزش اور حرکت میں کمی آگئی ہے۔ اس کے علاوہ (شراب نوشی) تمباکو نوشی، خاندانی روایات اور خورد و نوش کی عادتیں سب مل کر مشترکہ طور پر اور علیحدہ علیحدہ اپنی جگہ بھی آسٹیوپوروسس (مسام دار اور بھربھری ہڈیوں) کے مرض کو پیدا کرنے اور اس کے بڑھنے میں اپنا اپنا حصہ ڈالتے ہیں۔ اس سلسلے میں ساری دنیا میں جو تحقیقات کی گئی ہیں، ان سے یہ حقیقت واضح ہوتی ہے کہ ادھیڑ عمر افراد میں مضبوط طاقتور اور پختہ ہڈیاں اور ناپختہ اور کمزور ہڈیوں کے مابین فرق صرف جسمانی ورزش کا ہے۔ جو لوگ زیادہ ورزش کرتے ہیں۔ ان کی ہڈیاں زیادہ مضبوط اور پختہ ہوتی ہیں جب کہ کم ورزش کرنے والے یا ورزش نہ کرنے والے افراد کی ہڈیاں کمزور اور ناپختہ رہ جاتی ہیں۔ نیز یہ بات بھی پایہ ثبوت کو پہنچ گئی ہے کہ ایسے معمر افراد جو آسٹیوپوروسس کے مرض کا شکار ہوچکے ہوں وہ بھی ایسے اقدام اٹھا سکتے ہیں کہ ان کی ہڈیاں دوبارہ مضبوط، توانا اور پختہ ہوجائیں۔ ہڈیوں کی آہستہ آہستہ بتدریج شکست و ریخت پر نگاہ رکھی جاسکے اور ہڈیوں کے ٹوٹنے کے امکان اور خطرات کو کم سے کم کیا جاسکے۔ یہ بات بہت اہم اور معنی خیز ہے کہ آسٹیوپوروسس کے شکار کسی مریض کی ہڈیاں انتہائی معمولی جسمانی دباؤ سے بھی ٹوٹ سکتی ہیں۔ (پھسلنے کی صورت میں یہی ہوتا ہے کہ اچانک کولہے یا ران یا بازو پر انسان سہارا لینا چاہتا ہے۔ اس سے ضرب لگتی ہے اور ہڈی تڑخ جاتی ہے)۔ پچاس سال سے زائد عمر کی تقریباً نصف خواتین اور تقریباً ایک تہائی مردوں میں بھربھرے پن ناپختگی اور کمزوری کی وجہ سے ہڈیوں کی شکستگی کا امکان بڑھ جاتا ہے۔

آسٹیوپوروسس کے شکار مریضوں میں کیلشیم کی کمی واقع ہوجاتی ہے۔ اس کو پورا کرنے کے لیے انہیں یہ مشورہ دیا جاتا ہے کہ وہ اپنی غذا میں کیلشیم کی مقدار بڑھائیں۔ اس کے علاوہ کیلشیم کی گولیاں (چوسنے والی بھی ملتی ہیں)۔ شربت اور اگر زیادہ اور فوری ضرورت ہو تو کیلشیم کے انجکشن بھی استعمال کیے جاسکتے ہیں۔ اس کی بدولت ہڈیوں کے ضیاع کا عمل سست پڑ جاتا ہے۔ کیلشیم کے ذرائع دودھ سے تیار کردہ اشیاء یعنی خود دودھ، دہی، پنیر کے علاوہ انڈے کی سفیدی اور سبزیاں شامل ہیں۔ تاہم جسم میں کیلشیم کے جذب ہونے کے لیے وٹامن ڈی بھی انتہائی ضروری اور اہم ہے۔

وٹامن ڈی ایسا وٹامن ہے جو ہماری ہڈیاں از خود دھوپ کی موجودگی میں تیار کرتی ہیں۔ اس لیے صبح کے وقت دھوپ میں بیٹھنے سے اور مچھلی، انڈے اور دودھ وغیرہ کے باقاعدہ استعمال سے بھی وٹامن ڈی کی کثیر مقدار حاصل ہوسکتی ہے۔

چہل قدمی اور ورزش

مزید یہ کہ چہل قدمی اور ورزش سے ہڈیوں کی نوساختگی کے چکر اور دائرے کو تقویت حاصل ہوتی ہے، جس کی بدولت ہڈیوں میں بھربھرے پن کا عمل سست پڑ جاتا ہے۔ بلکہ حقیقتاً اس میں کمی آجاتی ہے۔ تیز رفتار چہل قدمی کرنے سے ہڈیوں کو خاص طور سے یہ اہم پیغامات دماغ کی جانب سے ملتے ہیں کہ خود کو مضبوط اور توانا رکھنے کے لیے زیادہ سے زیادہ معدنیات اکٹھا کی جائیں۔ اس طرح سن یاس کے بعد اور اس کی وجہ سے آسٹیوپوروسس کی شکار خواتین کے لیے صنفی ہارمون اوسٹروجن سے بھی مدد ملتی ہے اور تقویت حاصل ہوتی ہے کہ ہڈیاں اپنی کثافت اور وزن کو برقرار رکھ سکیں۔

عام طور سے لوگوں میں تیس سال کی عمر کے لگ بھگ یا اس سے کچھ زیادہ عمر میں ہڈیوں کی سب سے زیادہ کثافت اور وزن حاصل ہوتا ہے۔ اس کے بعد ان کا انحطاط شروع ہو جاتا ہے۔ لیکن اگر زیادہ سے زیادہ کثافت اور وزن زیادہ بڑی عمر میں حاصل ہو تو ہڈیوں میں انحطاط کا امکان بھی اتنا ہی کم ہوتا جاتا ہے۔ ہڈیوں کی کثافت اور وزن کے عروج کو آپ بنک میں جمع شدہ ’’سیف ڈپازٹ‘‘ کے مماثل قرار دے سکتی ہیں کہ یہی رقم ریٹائرمنٹ کے بعد بڑھاپے میں آپ کی ’’ضروریات‘‘ پوری کرنے کے کام آتی ہے۔

جب خون میں کیلشیم کی سطح کم ہونا شروع ہوتی ہے تو ہمارا جسم ہڈیوں سے کیلشیم مستعار لے کر اس کی کمی کو پورا کر دیتا ہے۔ لیکن ہڈیاں کوئی مردہ اور جامد شے نہیں ہیں۔ یہ جیتی جاگتی اور زندہ وجود رکھتی ہیں کہ جن کی نشو و نما اور افزائش بھی ہو رہی ہے۔ ہڈیاں ایسا ٹشو ہیں جو کولاجن (Collajen) ریشوں (الحاقی بافتوں کو قوت اور لچک دینے والا خامرہ) کے نیٹ ورک پر مشتمل ہوتا ہے۔ جس میں کیلشیم کی استرکاری کی ہوئی ہوتی ہے اور انجذاب کا عمل ہوتا ہیجس میں ہڈیوں سے کیلشیم خارج ہو کے خون میں شامل ہوتا ہے۔ یہ ہڈیوں کو نرم اور پختہ رکھنے کا ایک قدرتی طریقہ ہے لیکن اگر اس کی شرح اوسط سے بڑھ جاتی ہے تو پھر ہڈیوں کی شکستگی اور کمزوری شروع ہوجاتی ہے اور انسان اس اذیت ناک مگر پوشیدہ اور مخفی مرض آسٹیوپوروسس کا شکار ہو جاتا ہے۔

یہ سمجھا جاتا ہے کہ ہڈیوں کا سب سے زیادہ انحطاط (یا ضیاع) خواتین میں سن یاس شروع ہوتے وقت ہوتا ہے لیکن اب بے شمار معالجاتی نسخے اور دوائیں دستیاب ہیں، جن سے آسٹیوپوروسس کے عمل کو روکا جاسکتا ہے۔ لیکن ان کے موثر ہونے کے لیے ضروری ہے کہ کیلشیم اور وٹامن ڈی مناسب مقدار میں جسم کو مہیا کیے جائیں۔ کیلشیم کی روزانہ کی مجوزہ خوراک 1200ملی گرام ہے اور یہ خوراک دودھ سے بنی اشیاء (دودھ، دہی، پنیر وغیرہ) کے علاوہ سبزیوں ، مچھلی، انڈے اور گوشت سے پوری کی جاسکتی ہے۔ وزن کم کرنے والی ورزشیں بھی بہت ضروری ہیں۔ ان ورزشوں سے عضلات مضبوط ہوتے ہیں اور آسٹیوپوروسس کی پیش رفت پر پابندی لگ جاتی ہے۔ وٹامن ڈی کی روزانہ خوراک تقریباً ۴۰ انٹرنیشنل اکائیاں (40iu/Day)ہے۔

ہم پہلے بھی اشارہ کرچکے ہیں کہ آسٹیوپوروسس یا ہڈیوں کے بھربھرے پن اور خستگی سے متعلق سب سے اہم مسئلہ ہڈی کا ٹوٹنا ہے۔ یوں تو جسم کی کوئی بھی ہڈی متاثر ہوسکتی ہے۔ لیکن سب سے زیادہ پریشان کن صورتِ حال کولہے اور ریڑھ کی ہڈی کا ٹوٹنا ہے۔ کولھے کی ٹوٹی ہوئی ہڈی کے مریض بوجہ دیگر پیچیدگیوں کا شکار ہوجاتے ہیں جن کی وجہ سے تقریباً بیس فیصد مریض جاں بحق ہوجاتے ہیں۔ جانبر رہ جانے والے افراد میں سے بھی تقریباً پچاس فیصد افراد ہمیشہ مختلف انداز کی معذوریوں کا شکار رہتے ہیں۔ آسٹیوپوروسس کی وجہ سے خواتین میں جاں بحق ہونے کی شرح مردوں سے بھی زیادہ ہے۔

ہمارے جدید عہد کا یہ المیہ ہی ہے کہ مالدار حضرات اپنی زندگیوں کا زیادہ وقت ایئر کنڈیشنڈ ماحول میں گزارتے ہیں۔ اپنے گھروں کی ایئر کنڈیشنڈ خواب گاہوں اور کمروں سے برآمد ہوکے ایئر کنڈیشنڈ گاڑی میں بیٹھ کر اپنے ایئر کنڈیشنڈ دفتر پہنچ جاتے ہیں… اور پھر بعد از دوپہر یا شام یا رات کو واپسی میں بھی یہی ہوتا ہے۔ لنچ او رڈنر کے لیے باہر جانا ہو تو ایئر کنڈیشنڈ ہوٹل اور ریستوران منتخب کیے جاتے ہیں اور پھر راتیں ایئر کنڈیشنڈ خواب گاہوں میں بسر ہوجاتی ہیں۔ اس پورے طرزِ حیات میں نہ کہیں ورزش شامل ہے اور نہ جسمانی مشقت چہرہ اور جسم بھی دھوپ کی آلودگی سے محفوظ رہتے ہیں۔ یہ سب کچھ آسٹیوپوروسس کے مرض کو دعوت دینے اور ’’مہمان خصوصی‘‘ بننے کے لیے انتہائی سازگار ہیں۔

بین الاقوامی آسٹیوپوروسس فاؤنڈیشن کا کہنا ہے کہ دفاتر میں ہونے والے آسٹیوپوروسس کے حملوں سے جانی کے علاوہ مالی اور معاشی نقصان بھی ہوتا ہے۔ شاید یہ ہم جیسے انسانوں کے لیے زیادہ اہم ہے یعنی آسٹیوپوروسس طبی مسئلہ تو ہے ہی اب یہ معاشی اور سماجی مسئلہ بھی بنتا جا رہا ہے۔lll

شیئر کیجیے
Default image
ڈاکٹر قرۃ العین بدر

Leave a Reply