2020 :دنیا کی 100 با اثر خواتین

برطانوی نشریاتی ادارے بی بی سی نے رواں برس دنیا کی 100 بااثر خواتین کی درجہ بندی کی ہے، اس میں جہاں دنیا بھر کی نامور خواتین کے نام دکھائی دیتے ہیں۔ وہیں ہندوستان کی بلقیس دادی بھی شامل ہیں۔ 24 نومبر 2020ء کو جاری کی گئی اس فہرست میں ایسی خواتین کو شامل کیا گیا ہے جو پریشان کن اور دشوار ترین حالات میں رہتے ہوئے بھی تبدیلی لانے کے لیے راہ نمائی کے ساتھ ساتھ اپنا مؤثر کردار ادا کرتی رہیں۔ اس فہرست میں پہلا نمبر ایسی عورتوں کے اعزاز میں خالی چھوڑا گیا ہے، جنھوں نے تبدیلی کی کاوش میں اپنی جانیں قربان کردیں۔

100 با اثر خواتین میں پڑوسی ملک پاکستان کی بھی دو خواتین شامل ہیں۔ ان میں ایک اداکارہ ماہرہ خان ہیں اور دوسری وزیر اعظم کی معاون خصوصی ڈاکٹر نشتر ثانیہ ہیں۔ ماہرہ خان کو خواتین پر تشدد اور رنگ گورا کرنے والی کریموں کے خلاف بولنے اور ان کے نقصانات کے لیے آگاہی پیدا کرنے پر اس کا حصہ بنایا گیا۔ وہ جنسی ہراسانی کے خلاف بھی آواز اٹھاتی ہیں اور اقوام متحدہ کی ’نیشنل گڈ ول ایمبیسڈر‘ بھی ہیں، جو وہاں افغان مہاجرین کو امداد اور آگاہی فراہم کررہی ہے جبکہ ڈاکٹر ثانیہ نشتر نے بطورِ خصوصی معاون برائے انسداد غربت وہ اقدام کیے ہیں، جن سے پاکستان ایک فلاحی ریاست بن سکے۔

ہندوستان کی 82 سالہ بلقیس نے، جنھیں ’بلقیس دادی‘ کے نام سے جانا جاتا ہے، متنازعہ شہریت بل CAAکے خلاف معروف زمانہ شاہین باغ کے طویل احتجاج میں فعال حصہ لیا۔’دادی‘ کے نام سے مشہور ہونے والی بلقیس کہتی ہیں کہ عورتوں کو اپنے حق کے لیے اپنے گھرسے باہر نکلنا چاہیے، وہ اگر آواز نہیں اٹھائیں گی تو اپنے آپ کو مضبوط کیسے ثابت کریں گی۔

اس فہرست میں ایک چینی مصنفہ فینگ فینگ (Fang Fang)بھی شامل ہیں، جنھوں نے لاک ڈاؤن کے دوران ’’ووہان‘‘ میں ہونے والے واقعات کو قلم بند کیا، جسے عالمی سطح پر بہت زیادہ پذیرائی ملی۔ جنوبی افریقہ کی ایک گلوکارہ بولیلوا میکو ٹوکانا (Bulelwa Mkutukana) بھی شمار کی گئی ہیں، جنھوں نے خواتین پر تشدد کے حوالے سے آواز اٹھائی۔

اس فہرست کا ایک نمایاں نام فن لینڈ کی کی وزیر اعظم سنامرین (Sanna Marin)کا ہے، جو ’آل فی میل کوالیشن گورنمنٹ‘ کی سربراہی کرتی ہیں۔ وہ سوشل ڈیموکریٹک پارٹی سے تعلق رکھتی ہیں۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ ان کی حکومت میں جتنی سیاسی جماعتیں ہیں وہ سب خواتین ہی چلارہی ہیں اور اس ’کورونا‘ کی وبا میں فن لینڈ دنیا کے سب سے کم متاثرہ ممالک میں شمار ہوا۔ اس حوالے سے ان کا کہنا ہے کہ ’’ہم عورتوں کی حکومت یہ دکھاسکتی ہے کہ اس وبا سے لڑنا اور ساتھ ہی ماحول کی آلودگی کو دور کرنا، تعلیم کو صحیح کرنا، سب ممکن ہے۔‘‘

ایتھوپیا کے چھوٹے شہر سے تعلق رکھنے والی لوزا ابیرا جنیور(Loze Abera Geinore) ك کو بھی اس ’عالمی قطار‘ میں شامل کیا گیا ہے، جنھوں نے ’ایتھوپین ویمن پریمیئر لیگ‘ کھیلا، جس کی وجہ سے وہ کلب کی ٹاپ گول بنانے والی بنیں اوراب وہ ایک پیشہ ور فٹ بالر اور ساتھ ساتھ ایتھوپین ویمن نیشنل ٹیم کی رکن بھی ہیں، وہ کہتی ہیں کہ ’ہر عورت دنیا کی ہر چیز حاصل کرسکتی ہے، جو اس نے سوچا ہو۔‘

اس فہرست کا ایک اور اہم نام ہودا ابوض (Houda Abouz) ہے، جو ایک مراکشی ریپر (Rapper)ه ہیں، وہ اپنے انوکھے انداز کے سبب زیادہ جانی جاتی ہیں اور وہ عورتوں کے حقوق اور برابری کے لیے کوشاں رہتی ہیں۔اس مردوں کی دنیا میں وہ موسیقی کو بدلاؤ کا ذریعہ سمجھتی ہیں اور کہتی ہیں کہ ’’عورتوں کی جدوجہد ابھی صرف شروع ہوئی ہے اور ہم عورتیں وہ سب کچھ ہیں، جو اس دنیا کی ضرورت ہے۔‘‘

اس فہرست میں کرسٹینا اڈین (Christina)بھی شامل ہیں، جو یوکے میں اس مہم کی روح رواں تھیںجس کا مقصد یہ تھا کہ ہر بچے کو مفت کھانا ملنا چاہیے اور کوئی بچہ بھوکا نہیں سونا چاہیے۔اس جدوجہد میں ان کا ساتھ ایک معروف فٹ بالر مارکس ریش فرڈ نے دیا۔

سیرالیون(Sierra Leone) كکی میئر یووان آکی سویرا(Yvonne Aki-Sawyerr) بھی دنیا کی با اثر خواتین کا ایک نام ہیں، انھوںنے دو بہت اچھے کام کیے پہلا بدلاؤ وہ یہ لائیں کہ انھوںنے ماحول کی آلودگی دور کرنے کے لیے درخت لگانے کی مہم شروع کی اور وہ اس میں کامیاب ہوئیں اور انھوں نے ان درختوں کو لگانے میں بے روزگار لوگوں کی مدد لی، ان کا کہنا ہے کہ ’ہم کبھی کبھار الجھن اور ناخوش گواری کا شکار ہوتے ہیں، لیکن اس کا مطلب یہ نہیں کہ ہم اسے ہر بار برائی تصور کریں، بلکہ ہم اسے ایک اچھائی میں بھی تبدیل کرسکتے ہیں، اس طرح کہ ہم اپنی ناخوشگواری کو استعمال کرتے ہوئے، ایک ایسی تبدیلی لائیں جس کا ہم نے سوچا ہو۔‘‘

ایک اور بااثر نام سارہ الامیری(Sarah Al-Amiri)ہے، جو متحدہ عرب امارات کی ٹیکنالوجی کی وزیر ہیں اور ’امارات‘ کی خلائی ایجنسی میں بھی ہیں۔ اس کے ساتھ ساتھ وہ امارات کے خلائی مشن کی ڈپٹی پروجیکٹ منیجر بھی رہ چکی ہیں، جو عرب دنیا کا پہلا خلائی مشن ہوگا۔

شام کی صحافی اور ایوارڈ یافتہ فلم ساز وعد الخطیب (Waadal-Kateab)بھی دنیا کی ان 100 خواتین کی فہرست کا حصہ ہیں، رواں برس ان کی دستاویزی فلم کو بہترین فلم کا ایوارڈ بھی ملا اور یہ ’اکیڈمی ایوارڈ‘ کے لیے نام زد بھی کی گئی، وہ کہتی ہیں کہ ’’ہم تب ہارتے ہیں جب ہم امید چھوڑدیتے ہیں۔ ہر عورت کے لیے چاہے کچھ بھی ہوجائے، ہر اس چیز کے لیے لڑنا ہے، جس پر ہمیں یقین ہو۔ خواتین خواب دیکھتی رہیں اور ان سب سے زیادہ ضروری یہ ہے کہ کبھی بھی حوصلہ نہ ہاریں۔‘‘

صومالی ماہر تعلیم اُباہ علی (Ubah Ali)کا نام بھی اس شما ر میں جگمگا رہا ہے، وہ بچیوں کی تعلیم کے لیے سرگرم ہیں۔وہ امریکن یونیورسٹی آف بیروت کی طالبہ ہیں اور لبنان میں تارکین وطن کے حقوق کے لیے بھی آواز اٹھاتی رہتی ہیں، ان کا کہنا ہے کہ ’’2020 میں دنیا بہت بدل گئی ہے اور اس میں عورتوں کی یک جہتی کی بہت ضرورت ہے۔‘‘

نصرین علوان(Nisreen Alwan)ایک ڈاکٹر، محقق اور معلّمہ ہیں ، وہ برطانیہ میں عورتوں کی صحت پر تحقیق کرتی ہیں، خاص طور پر ماں بننے والی خواتین کے حوالے سے ان کا خاصا کام ہے۔ کورونا کی وبا کے دوران انھوںنے خاطر خواہ کام کیا، ان کا کہنا ہے کہ ’’اس سال میں نے تین چیزیں کیں، اپنے دماغ کی سنی، اور وہ کیا جس سے ڈر لگتا تھا اور اپنے آپ کو معاف کیا، میں نے اور تین چیزیں یہ کیں کہ اس پر دھیان نہیں دیا کہ لوگ میرے بارے میں کیا سوچتے ہیں، اپنے آپ کو کم قصور وار ٹھہرایا اور یہ سوچا کہ میں دوسروں سے کم تر نہیں ہوں۔‘‘

افغانستان سے تعلق رکھنے والی لالہ عثمانی نے رواں برس عورتوں کو ایک خاص حق دلانے کی مہم میں کامیابی حاصل کی، جس کا نام تھا ’’میرا نام کہاں ہے؟‘‘ کیوں کہ افغانستان میں جب کوئی بیٹی پیدا ہوتی تھی تو ’’پیدائشی سرٹیفکیٹ‘‘ میں اس کا نام نہیں آتا تھا، صرف والد کا نام لکھا ہوا ہوتا تھا، اس طرح عورت کا نام ’شادی کارڈ‘ پر درج نہیں ہوتا تھا اور یہاں تک کہ جب وہ بیمار ہوتی تھی، تب بھی اس کا نام اسپتال کی رسید پر نہیں ہوتا تھا۔ ان سب چیزوں کی وجہ سے لالہ عثمانی نے یہ مہم شروع کی۔ تین سال لگاتار جدوجہد کے بعد 2020 ء میں افغان حکومت نے سرکاری دستاویز میں لڑکیوں کے نام کو درج کرنے کی اجازت دے دی، ان کا کہنا ہے کہ ’’ہر انسان کی ذمے داری ہوتی ہے کہ وہ دنیا کو ایک بہتر جگہ بنانے کی کوشش کرے۔ تبدیلی لانا مشکل ہے، لیکن ناممکن نہیں۔ اس کی مثال ہم عورتیں ہیں، جنھوں نے افغانستان جیسے ملک میں اپنی شناخت کے لیے لڑائی لڑی۔‘‘

جن خواتین کے بارے میں ہم نے آپ کو بتایا، ان کے علاوہ بھی بہت سے نام اس فہرست کا حصہ ہیں، ان عورتوں کی وجہ سے آج 90فیصد عورتیں اپنے حق کے لیے آواز اٹھاتی ہیں، لوگ غلط بات کے خلاف آواز اٹھانے سے کتراتے نہیں اور ان عورتوں کی وجہ سے دنیا میں لوگ یہ ماننے پر مجبور ہیں کہ عورتیں کسی سے کم نہیں۔ اور وہ بھی اپنے خوابوں کو حقیقت میں تبدیل کرنے کی اہل ہیں۔

 

معروف اقتصادی جریدے ’فوربز‘ کی جانب سے جاری کی گئی ’30 انڈر 30‘ فہرست میں امریکہ کی پہلی نقابی مصنفہ حفصہ فیضل بھی شامل ہیں۔

فوربز نے آئسی ڈیزائنسیز (آئسی ڈیزائز) کمپنی کی بانی 27 سالہ حفصہ فیضل کو کارکردگی کی بنیاد پر 30 بہترین نوجوانوں کی فہرست میں شامل کیا ہے۔ میگزین نے حفصہ کی کمپنی کو آرٹ اینڈ اسٹائل کی کیٹگری میں منتخب کیا ہے۔ حفصہ فیضل امریکی مصنفہ ہیں اور ان کا فکشن ناول ‏’وی ہنٹ دی فلیم‘ نیویارک ٹائمز میگزین کی 10 سب سے زیادہ فروخت ہونے والی بہترین کتابوں میں شامل ہوچکا ہے۔ ان کا یہ ناول مئی ۲۰۱۹ء میں شائع ہوا تھا۔ اس سے قبل وہ اپنی ایک اور کتاب ’وی فری دی اسٹارز‘ کے لیے ایوارڈ بھی جیت چکی ہیں۔

حفصہ فیضل امریکی شہر ٹیکساس کی رہائشی ہیں، ان کے والدین کا تعلق سری لنکا سے ہے، حفصہ فیضل امریکہ کی ریاست فلوریڈا میں پیدا ہوئیں۔ حفصہ نے 17 سال کی عمر میں نے قلم سے دوستی اور بلاگ رائٹنگ کے زریعے باقاعدہ رائٹر کی حیثیت سے اپنے کیریئر کا آغاز کیا۔انہیں ناول نگار لیگ بارڈگو، روشہنی چوکشی اور رینی اہدی نے متاثر کیا، جب کہ گریسلنگ بائی کرسٹن کیشوران کی زندگی کی وہ کتاب ثابت ہوئی جس نے ان میں کتابیں پڑھنےکا شوق پیدا کیا۔

ان کی اس فہرست میں آنے سے بہت سی مسلم خواتین کو حوصلہ ملے گا اور وہ یہ ثابت کرنے میں کامیاب ہوسکیں گی کہ اسلامی سوچ اور فکر کے ساتھ دنیا کو متاثر کرنا دشوار کام نہیں ہے۔

شیئر کیجیے
Default image
ہبہ رحمٰن