اسلام کا اندازِ اصلاح

قرآن حکیم میں اللہ تبارک و تعالیٰ، دین اسلام کی جو خوبی بیان کرتا ہے اس کے مطابق اسلام، عالمگیر اصلاح کا انقلابی منصوبہ ہے۔ اسی منصوبے کو نافذ کروانے کے مقصد سے انبیاء و رسل کو مبعوث فرمایا گیا۔ سورہ توبہ میں اس منصوبے کے خط و خال زیادہ واضح طور پر بیان ہوئے ہیں۔ اور فرد کی اصلاح، اسلامی معاشرے کی اصلاح اور دنیائے انسانیت کی اصلاح کے لیے اہل ایمان کو ایک جامع حکمت عملی سے نوازا گیا ہے۔

انسانیت کی سب سے بڑی خیر خواہی اس کی اصلاح میں ہی مضمر ہے۔ قرآن کریم میں ارشاد باری تعالیٰ ہے: ’’اگر یہ اہل کتاب، کتاب کو مضبوطی سے تھامے رکھتے، تو ان کے لیے رزق آسمان سے برستا اور زمین سے ابلتا۔‘‘ یعنی اصلاح کے ثمرات انسانیت کو زمین پر بھی ملتے ہیں اور نتیجے میں رزق (جس میں تمام قسم کی نعمتیں شامل ہیں) کی فراوانی سے لوگ آسودگی حاصل کرتے۔

فلاح کے تمام منصوبے اس وقت ناکام ہوجاتے ہیں جب ان منصوبوں سے فائدے اٹھانے والے لوگ اخلاقی اقدار سے محروم، الٰہی قواعد و ضوابط سے آزاد اور انسانیت کے معروف اصولوں سے ناواقف رہتے ہوں۔ آپ عوام الناس کی فلاح کی نیت سے کسی چوراہے پر پانی کا نلکا لگوا کر دیکھئے، اس نلکے کے پانی کو استعمال کرنے اور اس سے زیادہ سے زیادہ فائدے اٹھانے کے لیے صبح و شام لوگوں کی بھیڑ لگی رہے گی۔ کچھ لوگ جو زیادہ ’’زور آور‘‘ ہوں گے ان کی موجودگی میں دوسرے لوگ کم ہی اس سہولت سے فائدہ اٹھا پائیں گے اور کچھ لوگ ’’مالِ مفت دلِ بے رحم‘‘ کے مصداق پانی کا بے جا تصرف کرتے نظر آئیں گے۔ اور پانی جیسی بنیادی ضرورت سے محروم لوگ جب تک اس فی سبیل اللہ سہولت تک پہنچ پائیں گے اس وقت تک اس پر یا تو زور آور قبضہ کرچکے ہوں گے یا یہ سہولت ضائع ہوچکی ہوگی۔

’’ظلم رہے اور امن بھی ہو‘‘ یہ دونوں صورتیں ایک ساتھ ممکن نہیں ہیں۔ زور آوروں اور سرکشوں کو روئے زمین پر ظلم و فساد سے روکنے کے لیے، ان کو لگام ڈال کر رکھنا ازحد ضروری ہو جاتا ہے۔ فتح مکہ کے بعد سرزمین عرب میں اسلام کا مشن پایہ تکمیل کو پہنچ چکا تھا۔ نبی برحق حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم نے جس اسلامی معاشرے کی تشکیل فرمائی تھی، اب اس کو بیرونی دنیا کی غیر مسلم تہذیب و تمدن اور نظریات باطلہ کے غلبے سے بچانا بھی ضروری تھا۔ شام اور ایران کی عیسائی ریاستوں کی طرف دعوت دین کے لیے اہل ایمان کے وفود بھیجے گئے لیکن قبول حق کی بجائے انکارِ حق کا جواب موصول ہوا اور وہ بھی اپنی سرکشی کے ساتھ کہ بعض لوگوں نے اہل ایمان کے وفود کے اراکین اور رؤسا کو قتل کروادیا گیا۔ حضورمحمد صلی اللہ علیہ وسلم نے بصری کے رئیس شرجیل بن عمرو کے نام بھی دعوت اسلام کا پیغام بھیجا تھا مگر اس نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے ایلچی حارث بن عمیرؓ کو قتل کروا دیا۔ یہ رئیس بھی عیسائی تھا اور براہ راست قیصر روم کے احکامات کا تابع تھا۔ ایسے واقعات کی سرکوبی کے لیے تین ہزار سرفروشان اسلام کا لشکر موتہ کے مقام پر شرجیل بن عمرو کی ایک لاکھ فوج سے جا ٹکرایا اور پورا عرب اور شرق اوسط یہ دیکھ کر حیران و ششدر رہ گیا کہ ایک اور تینتیس کے مقابلے میں بھی کفار مسلمانوں پر غالب نہ آسکے۔ یہی چیز تھی جس نے شام اور اس سے متصل رہنے والے نیم آزاد عربی قبائل بلکہ عراق کے قریب رہنے والے نجدی قبائل کو بھی جو کسریٰ کے زیر اثر تھے، اسلام کی طرف متوجہ کر دیا اور وہ ہزاروں کی تعداد میں مسلمان ہوگئے۔ اور اس کے بعد عالمگیر اصلاحی مشن (دین اسلام) کے لیے کامیابی کے نئے باب کھلتے چلے گئے۔ اس اصلاحی مشن کی بنیاد یہ فکر تھی کہ دنیا سے ظلم کا خاتمہ ہو۔ طاقتور کمزوروں پر کمزوری کے سبب اپنی گمراہیاں مسلط نہ کریں اور انسان کو ذمہ دار اور انسانیت کے حق میں سوچنے کی فکر دی جائے اور اسی ظلم کے خاتمے کے لیے جہاد کا بھی حکم دیا گیا۔ قرآن میں اللہ تعالیٰ فرماتا ہے: کیا بات ہے کہ تم اللہ کی راہ میں جہاد نہیں کرتے اور حالت یہ ہے کہ کمزور بنا کر رکھے گئے مرد و عورتیں اور بچے پکار رہے ہیں کہ اے ہمارے رب ہمیں ان ظالم لوگوں کی سلطنت سے نکال۔‘‘

یہ جہاد حکمرانوں کی اصلاح اور عوام کو ان کے ظلم سے نکالنے کا واحد راستہ تھا اور اسی نے عوام کے ذہن و فکر کو بدل کر نیک، صالح اور خدائی ہدایات کے مطابق بنا دیا۔ انفرادی اصلاح کے ضمن میں جہاں انسانوں کو معروفات اختیار کرنے اور ان کے فروغ کے لیے جد و جہد کا حکم دیا گیا وہیں اہل ایمان کے ضعف ایمان کو بھی نظر انداز نہیں کیا گیا بلکہ ضعف ایمان اور ادائے فرض میں تساہل کو بھی نظر انداز نہیں کیا گیا بلکہ انہیں بھی مجرم ٹھہرا کر موقت سماجی بائیکاٹ کی سزا دی گئی۔ سورہ توبہ ہی میں حضرت کعب بن مالک، بلال بن امیہ، مرارہ بن ربیعؓ کا واقعہ امت مسلمہ کی اصلاح کے ضمن میں مشعل راہ ہے۔

حضرت کعب بن مالکؓ نے یہ واقعہ پوری تفصیل کے ساتھ بیان کیا ہے جس کا ذکر احادیث مبارکہ میں ملتا ہے۔ وہ کہتے ہیں کہ غزوۂ تبوک کی تیاری کے موقع پر جب نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے مسلمانوں سے شرکت جنگ کی اپیل کی تو میں دل میں ارادہ کرلیتا تھا کہ چلنے کی تیاری کروں گا مگر واپس آکر سستی کر جاتا تھا، یہاں تک کہ وقت نکل گیا۔ جب نبی صلی اللہ علیہ وسلم غزوہ سے واپس آئے تو مجھ سے پوچھا کہ تمہیں کس چیز نے شرکت جنگ سے روکا؟ تو میں نے کہا کہ میرے پاس کوئی عذر نہیں ہے (جب کہ منافقین اس وقت اپنے اپنے عذرات پیش کر رہے تھے) جسے پیش کرسکوں۔ میں جانے پر پوری طرح قادر تھا۔‘‘ اس پر حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ’’یہ شخص ہے جس نے سچی بات کہی، اچھا اٹھ جاؤ اور انتظار کرو یہاں تک کہ اللہ تمہارے معاملے میں کوئی فیصلہ کرے۔ اس کے بعد نبیؒ نے عام حکم دے دیا کہ ہم تینوں آدمیوں سے کوئی سلام کلام نہ کرے۔ ایسا معلوم ہوتا تھا کہ یہ سرزمین بالکل بدل گئی ہے میں یہاں اجنبی ہوں اور اس بستی میں میرا کوئی واقف نہیں۔ مسجد میں نماز کے لیے جاتا تو حسب معمول نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو سلام کرتا مگر بس انتظار ہی کرتا رہ جاتا کہ جواب کے لیے آپ کے ہونٹ جنبش کریں۔ چالیس دن کے بعد نبی محمد صلی اللہ علیہ وسلم نے حکم دیا کہ اپنی بیوی سے بھی علیحدہ رہو، میں نے پوچھا کیا طلاق دے دوں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلمنے فرمایا: نہیں، بس علیحدہ رہو۔ میں نے بیوی کو میکے بھیج دیا۔ پچاسویں دن صبح کی نماز کے بعد جب میں اپنے گھر کی چھت پر بیٹھا اپنی جان سے بیزار ہو رہا تھا کہ یکایک ایک شخص نے پکار کر کہا مبارک ہو کعب بن مالک! میں سنتے ہی سجدے میں گر گیا اور میں نے جان لیا کہ میری معافی کا حکم ہوگیا ہے۔ پھر تو فوج در فوج لوگ بھاگے چلے آرہے تھے اور مجھے مبارک باد دے رہے تھے۔

یہ واقعہ اس اسلامی معاشرے کی روح کو عیاں کرتا ہے جس میں ادائے فرض میں تساہل کو بھی سنگین جرم قرار دے کر اصلاحی سزا دی گئی۔ اہل ایمان کی جماعت نے اپنے لیڈر کے حکم کی تعمیل میں ایسی فضا قائم کردی کہ مجرمین ’’اپنی جانوں سے بیزار ہونے لگے‘‘ اور ان کے دلوں میں یہ احساس جاگزیں کروا دیا گیا کہ ’’اللہ سے بچنے کے لیے کوئی جائے پناہ خود اللہ کے دامن کے سوا نہیں ہے۔‘‘ (التوبہ:۱۱۸)

نہی عن المنکر کی یہ اسپرٹ آج کے اسلامی معاشروں میں کہیں دیکھنے یا سننے کو نہیں ملتی کیوں کہ ہمارے اسلامی معاشرے اصلاحی معاشرے نہیں ہیں۔ مجرموں کو توبہ اور رجوع الی للہ کی طرف لے جانے کی بجائے آج ہمارا اسلامی معاشرہ ’’نیکی برباد گناہ لازم‘‘ کر دینے والا معاشرہ بن چکا ہے۔ یہاں تک کہ بہت سی دینی جماعتیں اور اصلاحی تحریکیں بھی اس امر پر کاربند نظر آتی ہیں کہ دین اسلام کے معروفات کی اشاعت و تبلیغ کرتے رہیے، معروفات جان کر لوگ منکرات سے خود ہی تائب ہوجائیں گے۔

زیر نظر واقعے پر غور فرمائیے۔ مومنین صادقین نے ہر غزوے میں نبیؐ کا ساتھ دیا تھا۔ ادائے فرض میں تساہل کے جرم میں، اسلامی معاشرے کی طرف سے مقاطعہ بندی کی صورت میں سخت مذمت کا سامنا کرتے ہوئے نظر آتے ہیں۔ یہاں تک کہ کوئی ان کے سلام کا جواب تک دینا گوارا نہیں کرتا ہے۔

آج ہمارے معاشرے میں حرام خوروں، سود خوروں، شرابیوں اور زانیوں کو سزا دینا تو درکنار، ان کے جرائم سے چشم پوشی کی جاتی ہے۔ ملامت کی نگاہ، مذمت کا کوئی لفظ مجرمین کو احساس گناہ دلانے کے لیے ادا نہیں کیا جاتا۔ نبی برحق حضرت محمدؐ کی حدیث مبارکہ ہے کہ بنی اسرائیل میں جو اولین نقص پیدا ہوا وہ یہ تھا کہ ایک دوسرے کو برائیوں کے ارتکاب سے نہیں روکتے تھے۔

سورہ مائدہ میں بھی بنی اسرائیل کی اسی حالت کی نشاندہی کرتے ہوئے اللہ تعالیٰ فرماتا ہے ’’ہم نے ان کے دلوں کو ایک دوسرے کے مشابہ کر دیا۔‘‘ اور ان پر لعنت فرمائی۔

سورہ مائدہ کی ان آیاتِ مبارکہ کے حوالے سے نبی رحمت حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم نے مسلمانوں کو تاکید کی اور فرمایا:

’’خدا کی قسم! تمہیں لازماً نیکی کا حکم دینا ہوگا اور تمہیں لازما بدی سے روکنا ہوگا اور تمہیں لازما اس کو حق کی طرف جبراً موڑنا ہوگا اور اسے حق کے اوپر قائم رکھنا ہوگا۔‘‘ یا پھر اللہ تعالیٰ تمہارے دل بھی ایک دوسرے کے مشابہ کردے گا۔‘‘ یعنی تمہارے دلوں پر بھی وہی فاسقانہ رنگ چڑھ جائے گا۔lll

شیئر کیجیے
Default image
بینا حسین ایڈوکیٹ

Leave a Reply