BOOST

بچوں کے ساتھ کھانا پکانا پرلطف تعمیری سرگرمی

زیادہ پرانی بات نہیں ہے جب مائیں خاص طور پر لڑکیوں کو ایک مخصوص اور لگے بندھے طریقہ کار کے تحت کھانے بنانا سکھایا کرتی تھیں۔

ان کی تربیت چھوٹے موٹے کاموں سے شروع ہوتی۔ پہلے کچن کے ہلکے پھلکے کام کروائے جاتے۔ اکثر مائیں تربیت کی ابتداء اس انداز میں کرتیں کہ بچوں سے کہا جاتا کہ یہ برتن سمیٹ لو برتن دھودو، کپ اٹھا کر وہاں رکھ دو یا تھوڑا مصالحہ نکال دو، وغیرہ وغیرہ۔

اس کے بعد روٹیاں بیلنے کی تربیت ہوتی۔ پھر چائے بنوائی جاتی۔ اس طرح بچیوں میں آہستہ آہستہ گھریلو کام کرنے کا شوق بڑھتا جاتا۔ پھر وہ اپنی پسند کی کوئی سوئیٹ ڈش تیار کرتیں۔ اس کے بعد خاص پکوان پرہاتھ آزماتیں۔

لڑکیوں کی طرح کچھ لڑکے بھی اپنے شوق کی بنا پر کھانے بنانا سیکھ لیا کرتے تھے۔ خاص طور پر وہ لڑکے جو اپنے گھر میں بڑے ہوا کرتے یا وہ جن کی مائیں بیمار ہوا کرتیں اور وہ اپنی ماؤں کی مدد کے پیش نظر ان کا ہاتھ بٹانے لگتے تھے۔

لیکن اب زمانہ بدل گیا ہے۔

اب بہت سے والدین یہ نہیں چاہتے کہ ان کی اولاد کچن میں جاکر کھانے بنانا سیکھے یا ابتدائی عمر سے گھر کے کام کاج میں حصہ لے۔

ا سکی ایک وجہ یہ بھی ہے کہ خاندان بہت مختصر ہوگیا ہے۔ کھانے کا زیادہ جھنجھٹ کرنے کی ضرورت نہیں ہوتی اور دنیا بھر کی ایسی چیزیں بہ آسانی دستیاب ہیں جنہوں نے کوکنگ کے مرحلوں کو بہت آسان کر دیا ہے، اسی لیے مائیں اب بچیوں سے زیادہ مدد نہیں لیا کرتیں۔

بچپن سے شروع کریں

آپ جتنی جلدی اس کام کی ابتدا کریں گی، آپ کے بچے کے لیے سیکھنا اسی قدر آسان ہوگا۔ یاد رکھیں کہ چھوٹے بچے ممی کی مدد کرتے ہوئے بہت خوشی اور فخر محسوس کرتے ہیں۔ انہیں چھوٹے چھوٹے دوسرے کام بتاتی جائیں، تاکہ وہ آپ کی مدد بھی کرتے رہیں اور ان کی تربیت بھی ہوتی رہے۔

اس تربیت کے دوران بچے کے ساتھ ڈانٹ ڈپٹ نہ کریں بلکہ ہنستا کھیلتا ہوا ماحول رکھیں تاکہ وہ بھی اس کام سے لطف اندوز ہوتے رہیں۔

افراتفری کی توقع رکھیں

بچے جب کچن میں کام کریں تو پھیلاوا تو نظر ہی آئے گا جیسے چیزیں پھیلی ہوئی، بغیر دھلے ہوئے برتن وغیرہ۔ یہ سب بہت عام باتیں ہیں اور خاص طور پر جب کوئی بچہ آپ کی مدد کر رہا ہو۔

اس وقت برتن بھی ٹوٹ سکتے ہیں، سالن بھی گر سکتا ہے، کچھ اور بھی ہوسکتا ہے، لہٰذا اپنے آپ کو ذہنی طور پر ایسی پریشانی کے لیے ہر وقت تیار رکھیں۔ لیکن اس کے ساتھ ساتھ بچے کو سمجھانے کا عمل بھی جاری رکھیں۔ اسے اس طرح سمجھائیں کہ دیکھو جب ایک کام ختم ہوجائے تو پھر دوسرا کام شروع کرو اور فلاں چیز اس طرح احتیاط سے سنبھال کر رکھی جاتی ہے وغیرہ وغیرہ۔

یقین کریں کہ بچے اسی طرح سمجھانے سے سمجھ جایا کریں گے اور آئندہ ان سے بے احتیاطی بھی نہیں ہوگی لیکن یہ سب کچھ رفتہ رفتہ ہی آئے گا۔

اصول مرتب کریں اور ان پر سختی سے قائم رہیں

آپ نے بچے کو تربیت دینی شروع کر دی ہے۔ اس لیے آپ کو اور بھی زیادہ احتیاط کی ضرورت ہے۔

آپ کو اصول مرتب کرلینے چاہیے۔ فلاں چیز کہاں رکھنی ہے۔ تیز دھار والی چیزیں کہاں رکھی جائیں۔ چولھے کی گیس کو ضائع نہ ہونے دیا جائے۔ ماچس یا لائیٹر کہاں پر ہو وغیرہ یہ سب احتیاطی تدابیر ہیں۔

کیوں کہ آپ کا بچہ ابھی اتنا بڑا نہیں ہوا ہے کہ خود ہی ہر بات کو سمجھنے لگے۔ یعنی پہلے اصول بنائے جائیں، اس کے بعد اس پر سختی سے قائم رہیں۔ مثال کے طور پر آپ کے دس برس کے بچے کو گیس کے چولھے سے ابلتے ہوئے پانی کے برتن سے ڈھکن ہٹانا نہیں آتا اور اس کی جگہ وہ ابلتی ہوئی کیتلی کو آسانی سے ہینڈل کرسکتا ہے تو اس سے وہی کام لیں۔

اور اگر بچے نے کسی دن آپ سے چھپ کر کیتلی کے بجائے کھلے ہوئے برتن میں چائے بنا کر آپ کو پیش کردی تو فوراً اس کی تعریف نہ کریں۔ بلکہ اس بات پر اسے نرمی سے تنبیہ کریں کہ ایک اصول بنایا گیا تھا کہ وہ ابلتے ہوئے برتن کو ہاتھ نہیں لگائے گا۔ پھر اس نے ایسا کیوں کیا اور اس نے ایک اصول توڑا ہے۔

بازار لے جائیں

آپ سودا لینے بازار جا رہی ہیں تو بچے کو بھی اپنے ساتھ لے جائیں اور اسے مختلف برانڈ، اشیاء اور ان کی قیمتوں وغیرہ کے بارے میں بتاتی رہیں۔ اسے سمجھائیں کہ کون سی چیز خریدنے کا کیا طریقہ ہے اور اسے کیسے جانچا اور پرکھا جائے۔

کن چیزوں سے شروعات کریں:

آپ بچے کو تربیت دے رہی ہیں۔ اس لیے ابتدا ہی میں اسے چولھے کی پاس نہ کھڑا کردیں بلکہ اس کی تربیت ان چیزوں سے کریں جنہیںپکانے کی ضرورت نہیں ہوتی۔ مثال کے طور پر سلاد کی تیاری۔

اسے یہ بتائیں کہ مختلف چیزوں کو کس طرح دھوکر، تراش کر پلیٹ یا ٹرے میں سجایا جاتا ہے۔ اسے انڈے پھینٹنے اور کیک بنانے کا ابتدائی طریقہ سمجھاتی رہیں۔ گندھا ہوا آٹا اس کے حوالے کر کے اسے روٹی بیلنے کی ترکیبیں بتائیں، پریکٹس کروائیں اور ساتھ ساتھ ہدایت دیتی رہیں کہ روٹیاں کس طرح گول بنائی جاتی ہیں۔ غرض کہ امورِ خانہ داری کے حوالے سے بچوں کی ابتدائی تربیت چولھے سے الگ ہٹ کر ہونی چاہیے تاکہ وہ آہستہ آہستہ مختلف چیزوں سے آشنا ہوتے جائیں۔

کوکنگ کے سبق میں حساب اور کیمسٹری بھی شامل کردیں۔

کھانے پکانے کے عمل کو بچوں کے لیے دلچسپ بنانے کا ایک طریقہ یہ بھی ہے کہ ایسی باتیں کرتی جائیں کے آپ کے بچے کے حساب کے سبق کا اعادہ بھی ہوتا رہے۔ یعنی وہ سیکھتا بھی رہے۔

مثال کے طور پر آپ چاول پکانے جا رہی ہیں۔ اب اس سے یہ پوچھیں کہ آپ آدھا کپ چاول کھاتی ہیں۔ ڈیڈی آدھا کپ کھاتے ہیں۔ بھائی تہائی کپ لیتا ہے تو اس طرح کتنے کپ چاول پکنا چاہیے؟

اس طرح بچے کی تربیت بھی ہوتی جائے گی اور چھوٹے چھوٹے حساب کے سوالات بھی اس کے ذہن میں آتے جائیں گے۔

کھانا پکانے کے دوران اگر کھانا جل جائے یا حد سے زیادہ پک جائے تو آپ بچے کو سمجھا سکیں کہ اب اس کھانے میں بڑی مقدار میں کاربن پیدا ہوگیا ہے اور یہ کس طرح پیدا ہوا ہے، اب اس کھانے کو کھانا کیوں نقصان دہ ہے یا کھانے میں کون سے زہریلی اجزاء پیدا ہوگئے ہیں وغیرہ وغیرہ۔ آپ ان تمام معلومات کو ہلکے پھلکے انداز میں بچوں کو سمجھا سکتی ہیں۔ غرض کہ آپ کھانے کے سبق کو کیمسٹری کا سبق بھی بنا سکتی ہیں۔

کچھ پیسے خرچ کریں

آج کل بازار میں ایسی کتابیں دستیاب ہیں جو بچوں کے کھانے بنانے کے حوالے سے ہیں۔ کچھ پیسے خرچ کر کے ایسی کتابیں خریدیں۔ ان کتابوں میں قدم بہ قدم آسان ترکیبیں سمجھائی گئی ہیں اور اس کے ساتھ ہی رنگین تصویریں بھی دی گئی ہیں تاکہ بچوں کو اور دلچسپی ہو اور بچے ان کتابوں میں لکھی ہوئی ترکیبوں پر عمل کر کے بہت خوش ہوتے ہیں۔

اس کے علاوہ آپ بچوں کے لیے کھانے بنانے کے لیے چھوٹے سائز کے برتن وغیرہ بھی خرید سکتے ہیں۔ (یہاں چھوٹے سائز سے مراد کھلونے والے برتن نہیں ہیں)۔

ذمے داریاں

جیسے جیسے آپ کا بچہ یا بچی بڑی ہوتی جاتی ہے اس میں شعور آتا جارہا ہے، تو اس کی عمر کے ساتھ ساتھ اسے ذمے داریاں بھی دیں۔ جیسے مینو کیا بنایا جائے۔کچن کا بجٹ کیا ہو اور شاپنگ کیسے کی جائے وغیرہ۔ اس کے بعد اسے کسی ایک کھانے کی پوری ذمے داریاں دے دیں۔ ایک مخصوص بجٹ اس کے حوالے کردیں کہ دیکھو اسی میں ہمیں یہ کھانا تیار کرلینا ہے۔ اس کے بعد اس کی کارکردگی کا جائزء لیتی رہیں اور درمیان میں مداخلت نہ کریں۔lll

شیئر کیجیے
Default image
اسریٰ جبین

One comment

تبصرہ کیجیے

%d bloggers like this: