ہم اور ہمارا رویہ

عرصہ ہوا ایک مخلص بزرگ اور صحافی کا خط موصول ہوا، جس کا افتتاح انہوں نے اس دعائیہ جملہ پر کیا تھا:

’’اللہ تعالیٰ ہمیں دوسروں کے لیے آسانیاں پیدا کرنے کی توفیق دے۔ آمین!‘‘

میں دیر تک اس دعائیہ جملے کی سادگی اور تاثیر پر غور کرتا رہا۔

آج عرصہ بعد مجھے یہ واقعہ یاد آیا اور میں نے پھر اس پر غور کیا تو اندازہ ہوا کہ یہ دعا تو ہماری اجتماعی اصلاح اور ہمارے عملی رویوں کی اصلاح کے لیے نہایت ضروری ہے۔

ہم آج اگر اپنی انفرادی اور اجتماعی زندگی پر نظر ڈالیں اور بطور مسلمان اپنے رویوں کا جائزہ لیں تو ہمیں سخت شرمندگی ہوگی کیوں کہ انفرادی اور اجتماعی طور پر ہم دوسروں کے لیے آسانیاں نہیں، مشکلات پیدا کرنے کے عادی ہوتے جا رہے ہیں۔ ہمارا یہ رویہ گھر، محلے، بازار، دفاتر، پبلک مقامات، تعلیمی اداروں بلکہ ہر جگہ پر اور ہر سطح پر نظر آرہا ہوتا ہے۔ ہم یہ کام کسی بھی وقت کرلیتے ہیں اور پھر اس پر شرمندہ بھی نہیں ہوتے بلکہ بعض اوقات تو اپنے ایسے کاموں پر جن سے دوسروں کے لیے مشکلات پیدا ہوتی ہیں، فخر بھی کرتے ہیں۔

ہماری خواتین گھروں کی صفائی کرتے وقت انہیں شیشے کی طرح چمکا دیتی ہیں لیکن سارا کوڑا سڑک پر پھینک دیتی ہیں۔ اگر وہ کوڑے کا تھیلا بچے کو دے دیں کہ وہ اسے بلدیہ کے کوڑے دان میں ڈال آئے تو بچہ لوگوں کی نظر بچا کر کسی کے گھر کی دیوار کے ساتھ رکھ دیتا ہے۔ خادمائیں اور ملازمائیں پورے گھر کو دھوکر پانی سڑک پر اکٹھے ہونے دیتی ہیں اور پھر وہاں سے گزرنے والوں کی پریشانی سے لطف اٹھاتی ہیں۔

ہم سڑک پر ہوں اور ٹریفک کی سرخ لائٹ روشن ہوجائے تو ہم اپنی گاڑیاں زیبرا کراسنگ پر لاکر روک دیتے ہیں۔ جس سے سڑک کراس کرنے والے راہ گیروں کو سخت دقت ہوتی ہے۔ دوسری طرف خود راہ گیروں کا یہ حال ہے کہ وہ خالی فٹ پاتھ چھوڑ کر سڑک پر خراماں خراماں چلے جا رہے ہوتے ہیں۔ ہمارے نوجوان موٹر سائیکلیں چلاتے ہوئے اس طرح کی آوازیں نکال رہے ہوتے ہیں جنہیں سن کر بوڑھے اور کمزور دل افراد بری طرح پریشان اور ڈسٹرب ہوتے ہیں۔

کوئی بوڑھا، بچہ، خاتون یا بیمار شخص سڑک عبور کرنے کی کوشش کر رہا ہو تو ہم چند سکنڈ کے لیے رکنے یا اپنی رفتار کم کرنے کی بجائے رفتار مزید بڑھا کر اس کے آگے پیچھے سے گزرنے کی کوششیں شروع کردیتے ہیں جس کی وجہ سے ان لوگوں کے لیے سڑک عبور کرنا ایک عذاب بن جاتا ہے۔

اب تو ہمارا حال یہ ہوگیا ہے کہ ایمبولنس اور ریسکیو کی گاڑیاں ہارن بجاتی رہتی ہیں اور ہم اپنی گاڑی کو سائیڈ میں کر کے اسے راستہ دینے کی زحمت گوارا نہیں کرتے۔ دوسری جانب جب ایمبولنس یا ریسکیو گاڑی معمول کے مطابق کہیں جا رہی ہوتی ہے تب بھی اس کے ڈرائیور ایمرجنسی ہارن اور سائرن بجا کر پوری ٹریفک کو ڈسٹرب کرتے ہیں حالاں کہ اس وقت یہ گاڑی کسی ایمرجنسی ڈیوٹی پر نہیںہوتی۔

ہم پبلک پارکوں میں پھل اور کھانے پینے کی دوسری اشیا لے کر جاتے ہیں لیکن پھلوں کے چھلکے اور بچی ہوئی چیزیں قریبی کوڑے دان میں نہیں ڈالتے، بلکہ انہیں کسی کونے میں رکھ دینے کی زحمت بھی گوارا نہیں کرتے۔ ہم یہ اہتمام کرتے ہیں کہ پورے پارک میں ہمارے کھائے ہوئے کیلوں، گنڈیریوں اور مالٹوں کے چھلکے اور مرغی کی ہڈیاں بکھری نظر آئیں، اس سے شاید ہماری کسی انا کی تسکین تو ہوتی ہو لیکن ہمارا یہ رویہ پارک میں آنے والے دیگر لوگوں، خصوصاً صفائی کے عملے کے لیے تکلیف اور ذہنی اذیت کا باعث بنتا ہے۔

ہم اپنے اپنے گھروں میں بلا روک ٹوک پانی کی موٹریں چلاتے ہیں، گیس کے چولھے کو جلتا چھوڑ دیتے ہیں، بہت سے بلب اور پنکھے بلا وجہ گھنٹوں چلاتے ہیں مگر کبھی نہیں سوچتے کہ پانی، بجلی اور گیس کے اس ضیاع کے باعث کتنے ہی گھر ان نعمتوں سے محروم ہو رہے ہیں۔ ہم لاکھوں بلکہ کروڑوں روپے کی لاگت سے گھر تعمیر کرتے ہیں، سڑک توڑ کر گیس یا پانی کا کنکشن لیتے ہیں لیکن چند سو روپے خرچ کر کے سڑک کے اس حصے کی مرمت نہیں کراتے یا سڑک میں پہلے سے موجود گڑھے میں ایک کڑاہی ریت سیمنٹ کا مسالہ نہیں ڈالتے حالاں کہ وہ دوسرے راہ گیروں کے علاوہ خود ہمارے لیے بھی تکلیف کا باعث ہوتا ہے۔

ہم کروڑوں روپے کا کاروبار کرتے ہیں لیکن اپنی ہی دکان کے سامنے موجود برآمدے فٹ پاتھ بلکہ سڑک کو بھی اپنے استعمال میں لے آتے ہیں، جس کی وجہ سے روزانہ سینکڑوں افراد کو آنے جانے میں دقت ہوتی ہے لیکن ہم اپنے اس کارنامے پر فخر محسوس کرتے ہیں۔

ہم کبھی کسی بچے یا بوڑھے کو سڑک عبور نہیں کراتے بلکہ اس کی پریشانی اور خوف سے لطف اٹھاتے ہیں یا اس کے پاس سے گزرتے ہوئے اسے مزید خوف زدہ کردیتے ہیں۔

ہم شادی بیاہ اور دوسری تقریبات میں کھانا ضائع کرنا اپنا حق سمجھتے ہیں۔ پہلے ہوس کی وجہ سے پلیٹیں اٹا اٹ بھر لیتے ہیں، پھر آدھے سے بھی زیادہ کھانا اسی طرح چھوڑ دیتے ہیں اور کبھی نہیں سوچتے کہ ہمارا یہ عمل ہمارے میزبان کے لیے مالی نقصان اور ذہنی تکلیف کا باعث ہے اور اگر ہم تھوڑا سا احساس کرلیں تو یہ کھانا کسی ضرورت مند کے پیٹ میں جاسکتا ہے۔

ہماری لائبریریوں میں جانے والے طلبہ و طالبات اور بعض دوسرے اہل علم مطالعے اور ریسرچ کے دوران کسی کتاب کے جس حصے کو اپنے لیے ضروری سمجھتے ہیں، اس کی فوٹو کاپی کروانے کے بجائے پھاڑ لیتے ہیں۔ اخبارات میں سے کوئی خبر، مضمون، کالم یا اداریہ درکار ہو تو پورا اخبار یا وہ صفحہ ہی غائب کرلیتے ہیں، اور کبھی یہ نہیں سوچتے کہ بعد میں آنے والے کسی ریسرچر یا طالب علم کو یہ حصہ درکار ہوا تو اس کا کس قدر نقصان ہوگا، اس محرومی کی وجہ سے اسے کس قدر ذہنی اذیت کا سامنا کرنا پڑے گا۔

ہم ہسپتالوں اور تعلیمی اداروں کے سامنے سے گزرتے ہوئے کبھی یہ سوچ کر ہارن بجانے سے نہیں رکتے کہ ہمارے اس عمل سے مریضوں کو تکلیف اور طلبہ کی پڑھائی میں حرج ہوگا۔ گاڑی پارک کرتے ہوئے راہ گیروں اور دوسری گاڑیوں کا خیال نہیں کرتے جنہیں ہماری وجہ سے خاصی پریشانی اٹھانی پڑتی ہے۔

ہم وقت لیے بغیر گھروں اور دفاتر میں پہنچ جاتے ہیں اور وہاں پہنچ کر لمبی لمبی اور غیر ضروری گپ شب شروع کردیتے ہیں، جو گھنٹوں پر محیط ہوتی ہے جس سے اہل خانہ تنگ اور دفاتر میں کام کرنے والے افسر اور اہلکار پریشان ہوتے ہیں اور اس عمل کے دوران نہ جانے کتنے لوگ انتظار کا عذاب اٹھاتے ہیں یا تنگ اور مایوس ہوکر واپس لوٹ جاتے ہیں۔ ہم بسا اوقات کسی کو وقت دے کر اسے گھنٹوں انتظار کراتے ہیں۔ ہمارے سیاسی رہنماؤں نے تو یہ معمول بنا لیا ہے کہ وہ لوگوں سے ملتے ہی نہیں۔ ضرورت مند ملاقات کے لیے چکر لگاتے رہتے ہیں اور بد دعائیں دے کر واپس لوٹ جاتے ہیں۔ ہمارے دفاتر میں سرکاری افسر اپنے دفاتر میں بیٹھے گپیں مارتے ہیں اور ملاقاتیوں کو یہ کہہ کہہ کر ہلکان کر دیا جاتا ہے کہ صاحب میٹنگ میں ہیں، حالاں کہ صاحب صرف دوستوں کے ساتھ گپیں مار رہے ہوتے ہیں اور چائے اور کافی کے دور چل رہے ہوتے ہیں۔ اس دوران انتظار کرنے والوں کی تکلیف اور اذیت کا اندازہ لگانا کوئی مشکل نہیں ہے۔

آج کل شہروں کے کمرشیل علاقوں میں ایک نیا سلسلہ شروع ہوا ہے جو شہریوں کے لیے عذاب جان بن گیا ہے۔ بڑی بڑی دکانوں اور پلازوں کے سامنے زنجیریں اور رسیاں باندھ کر جگہ روک لی جاتی ہے تاکہ وہاں کوئی شخص گاڑی، موٹر سائیکل یا سائیکل کھڑی نہ کرسکے۔ یہ سب کچھ اس سڑک پر ہوتا ہے جو پبلک روڈ ہوتی ہے اور یہ دکان یا پلازے کی حدود میں آتی ہے نہ کہ ان کی ملکیت ہوتی ہے۔ جب کہ باہر بعض دبنگ مالکان گن مین بٹھا دیتے ہیں تاکہ وہاں کوئی شخص گاڑی وغیرہ کھڑی نہ کر سکے۔ اس سے وہاں آنے والے لوگوں کو جو تکلیف ہوتی ہے اس کا اندازہ آپ کرسکتے ہیں۔

ہماری اذیت پسندی کا اندازہ اس بات سے بھی لگایا جاسکتا ہے کہ اگر کبھی ڈاکیا ہمارے گھر پر کسی دوسرے گھر کی ڈاک ڈال جائے تو ہم ہفتوں یا مہینوں اسے اپنے گھر پر ہی پڑا رہنے دیتے ہیں، حالاں کہ اسے یا تو ڈاکیے کو واپس کیا جاسکتا ہے یا تھوڑی سی تکلیف کر کے اس گھر تک پہنچا سکتے ہیں اور کبھی یہ نہیں سوچتے کہ یہ ڈاک کسی کے لیے بہت اہم ہوسکتی ہے۔ یہ کسی طالب علم کا رول نمبر، ڈیٹ شیٹ یا امتحانی شیڈول ہوسکتا ہے، کسی نوجوان کی کال ہوسکتی ہے یا کسی بے روزگار کی نوکری کا تقرر نامہ۔ ہماری اس کوتاہی یا لاپرواہی سے متاثرہ شخص کو جو تکلیف ہوتی ہے اس کے ذمہ دار بہرحال ہم ہی ہیں۔

سب سے زیادہ تکلیف دہ عمل ہمارے ان سرکاری اہل کاروں کا ہوتا ہے جو سالہا سال تک اپنے ساتھ کام کرنے والے ساتھیوں کے پنشن کے کاغذات میں غیر ضروری تاخیر کر کے انہیں اور ان کے اہل خانہ کو شدید تکلیف اور اذیت پہنچاتے ہیں۔

یہ ہیں ہمارے اعمال اور ہمارا رویہ۔ ایسے میں اس بات کی شدید ضرورت ہے کہ ہم اللہ سے یہ دعا کیا کریں کہ اللہ ہمیں دوسروں کے لیے آسانیاں پیدا کرنے والا بنائے۔ اس سے زیادہ اہم بات یہ ہے کہ اس دعا کے ساتھ ہی ہم اپنا احتساب کریں اور اپنے انفرادی اور اجتماعی رویوں کی اصلاح کریں۔ lll

شیئر کیجیے
Default image
سید تاثیر مصطفی

Leave a Reply