اسلامی آداب کی پابند خاتون

ایک مرتبہ دفتر کے کسی اہم کام کے پیش نظر میں جدہ جا رہا تھا۔ راستے میں ایک گاڑی کا حادثہ دیکھ کر میں بری طرح گھبرا اٹھا… معلوم ہو رہا تھا کہ اس گاڑی کا ابھی ابھی حادثہ ہوا ہے۔ میں اس جائے حادثہ پر پہنچنے والا پہلا شخص تھا۔ میں نے اپنی کار روکی اور جلدی سے اس گاڑی کی طرف گیا جو اس حادثہ فاجعہ سے دوچار ہوئی تھی۔ میرا خیال تھا کہ گاڑی کے اندر ضرور کوئی نقصان ہوا ہوگا۔

میں نے گاڑی کے اندر جھانک کر دیکھا تو میری دھڑکنیں تیز ہوگئیں۔ ہاتھ تھرتھر کانپنے لگے۔ پاؤں ڈگمگانے لگے اور نگاہ عبرت سے سانس رکنے لگا۔ میری آنکھیں آنسوؤں سے بھر گئیں اور قریب تھا کہ میں چلا کر رونے لگوں۔

یہ عجیب منظر تھا … رنج و غم کا منظر… گاڑی چلانے والا اسٹیرنگ ہی پر مردہ پڑا تھا۔ اس کی نگاہ آسمان کی طرف اٹھی ہوئی تھی، شہادت کی انگلی کھڑی تھی، چہرے پر مسکراہٹ کے آثار تھے… اس پر گھنی داڑھی تھی، اور ایسا نور نمایاں تھا جیسے سورج اپنی شعاعیں بکھیر رہا ہو یا چاند جگمگا رہا ہو!!

عجیب منظر تھا!! اس کی معصوم سی ننھی بچی اس کی پیٹھ پر پڑی تھی… اس نے اپنے چھوٹے چھوٹے ہاتھوں سے باپ کی گردن پکڑی ہوئی تھی… اور وہ بھی دنیا کو الوداع کہہ کر اپنی جان جان آفریں کے حوالے کرچکی تھی!!

لا الٰہ الا اللہ! میں نے کبھی ایسی موت نہیں دیکھی تھی۔ پاکیزہ موت! پرسکون موت… پروقار موت اس کی صورت بتلا رہی تھی کہ اس کی زندگی انتہائی استقامت کے ساتھ رواں دواں تھی … اس کی شہادت کی انگلی اس بات کا پتہ دے رہی تھی کہ وہ اللہ کی وحدانیت کا اقرار کرتے ہوئے اس دنیا سے رخصت ہوا ہے… مسکراتے ہوئے زندگی کی آخری سانس لینا اس بات کی علامت تھی کہ اس کی موت بڑے اطمینان کے عالم میں ہوئی ہے۔

میں اس خاتمہ بالخیر کو دیکھ کر گہرے غور و فکر کی وادیوں میں اتر گیا۔ میرے دماغ میں افکار کا ازدحام ہوگیا… ایک سوال میرے دل و دماغ کو بار بار جھنجھوڑ رہا تھا اور میں بارہا سوچ رہا تھا:

’’میرا خاتمہ کس حالت میں ہوگا؟‘‘

اتنے میں میرے کانوں سے ایک عورت کی آواز ٹکرائی جو بہت ہی اطمینان اور یقین کے ساتھ بول رہی تھی۔ اس کی آواز نے میرے شعور و آگہی کو واپس کر دیا۔ وہ کہہ رہی تھی: بھائی صاحب! آپ میت پر آنسو نہ بہائیں… یہ ایک صالح اور نیک آدمی تھے۔ ہمیں گاڑی کے اندر سے نکالنے کی کوشش کریں۔ اللہ تعالیٰ آپ کو جزائے خیر دے… میں آواز کی طرف متوجہ ہوا، دیکھا تو کار کی پچھلی سیٹ پر ایک خاتون دو چھوٹے چھوٹے بچوں کو اپنے سینے سے لگائے بیٹھی ہے جنہیں کوئی زخم نہیں لگا تھا۔ وہ سب صحیح سلامت تھے!!

وہ خاتون پورے طور پر پردہ کیے ہوئی تھی اور جاں گداز حادثے کے باوجود پوری طرح اطمینان کی حالت میں تھی۔ کوئی رونا دھونا تھا نہ چیخ پکار اور نہ کوئی آہ و بکا اور گریہ و زاری تھی!!

ہم نے گاڑی کے اندر موجود اس خاتون اور اس کے دونوں بچوں کو نکالا… جو کوئی مجھے اور اس خاتون کو دیکھتا، وہ سمجھتا کہ خاتون نہیں بلکہ میں مصیبت زدہ ہوں!!

خاتون اپنے پردے کو سمیٹتے اور پورے جسم کو ڈھانپتے ہوئے اور اللہ تعالیٰ کی قضا و قدر پر راضی اور ثابت قدم رہتے ہوئے ہم سے گویا ہوئی۔ اگر آپ لوگ دشواری نہ سمجھیں تو میرے شوہر اور بچی کو کسی قریبی ہسپتال میں پہنچانے کی زحمت کریں… غسل اور کفن میں جلدی کریں اور مجھے میرے دونوں بچوں کے ساتھ ہمارے گھر پہنچا دیں… اللہ تعالیٰ آپ کو جزائے خیر عطا فرمائے۔

چند لوگوں نے جلدی سے خاتون کے شوہر اور اس کی بچی کو قریبی ہسپتال پہنچایا اور ضروری کارروائی کے بعد قریبی قبرستان لے گئے۔ دیگر حاضرین نے اس خاتون سے کہا کہ وہ ہم میں سے کسی کے ساتھ گاڑی میں سوار ہوجائے تاکہ اسے اس کے گھر تک پہنچایا جاسکے۔ لیکن اس خاتون نے انتہائی شرم و حیا اور عزم کے ساتھ انکار کرتے ہوئے کہا: ’’میں صرف اسی گاڑی میں سوار ہوسکتی ہوں، جس میں کچھ عورتیں بھی ہوں۔‘‘

پھر وہ خاتون اپنے دونوں بچوں کو لے کر ایک طرف ہوگئی۔ ہم اس وقت اس خاتون کی خواہش کی تکمیل کیسے کرسکتے تھے، اس کی خواہش کے مطابق عورتوں والی گاڑی کہاں سے لاتے؟ بہرحال ہم نے اس کے جذبات کا خیال رکھا… اور اس کے موقف کی تعظیم کی۔

خاصا وقت گزر گیا اور ہم اس پریشان کن گھڑی میں … اس بیابان جگہ دو گھنٹے مسلسل انتظار کرتے رہے۔ اتنے میں ہمارے پاس سے ایک گاڑی کا گزر ہوا، جس میں ایک آدمی اور اس کی پوری فیملی سوار تھی۔ ہم نے گاڑی رکوائی اور اس کے مالک کو خاتون کے ساتھ پیش آمدہ حادثے سے آگاہ کیا اور اس سے گزارش کی: ’’براہِ کرم اس خاتون کو اس کے بچوں سمیت اس کے گھر پہنچا دیں۔ وہ آدمی راضی ہوگیا اور اس خاتون کو اس کے بچوں سمیت لے کر اس کے گھر کی طرف روانہ ہوگیا۔

پھر میں اپنی گاڑی کی طرف واپس آیا اور اپنی منزل کو روانہ ہوا۔ میں اس خاتون کی عظیم ثابت قدمی پر بہت تعجب کر رہا تھا۔ آخری لمحات میں اس کے شوہر کی استقامت اور ایمان کی شہادت!! اور ایسی پریشان کن گھڑی میں اس کی بیوی کا مکمل پردے کی حالت میں ایمانی جذبے سے بات کرنا اور اسلامی تعلیمات پر بھرپور عمل کرنا!! اسی کا نام ایمان ہے!!… اسی کا نام ایمان ہے!!lll

شیئر کیجیے
Default image
تحریر: یحییٰ سعید آل شلوان ترجمہ: عبد المالک مجاہد

Leave a Reply