پانی کا گلاس

بلا کی سردی ہو رہی تھی۔ شاہد باہر آسمان پر بادل بھی چھائے ہوں۔ مگر یہ دیکھنے جانے کی کس میں ہمت تھی۔ کھانا کھا پی کر سب بستروں میں دبکنے کی تیاریاں کر رہے تھے۔ لیٹ کر پڑھنے کے لیے کوئی روشنی کا رخ دیکھ رہا تھا۔ کوئی رسالہ یا کتاب کے ورق پلٹ کر اپنی چھوڑی ہوئی جگہ تلاش کر رہا تھا۔ آپا جی لحاف میں دبکی اپنی لاڈلی مانو کو تھپک رہی تھیں۔ اور تتلا تتلا کر اس سے پیاری پیاری باتیں ہو رہی تھیں۔

’’مانو میری کیسی اچھی ہے، مانو مجھے پانی پلائے گی، کیوں مانو پلائے گی نا پانی۔‘‘

چھوٹی آپا نے یہ الفاظ سنے تو ذرا چوکنی ہوئیں۔ اس حسن طلب پر غور کرنے اور داد دینے کے لیے ٹھٹکیں، دل میں سوچا مانو تو کیا پانی پلائے گی۔ درپردہ انہیں سنایا جا رہا ہے کہ آپا جی کو پانی چاہیے۔ وہ آپا سے بزرگی میں کمتر ہیں۔ انہیں کے ساتھ جائے گی۔ گرم گرم بستر میں سے نکلنے کو ان کا جی بھی نہیں چاہ رہا تھا۔ ادھر آپا جی کے قہر کو بھی جانتی تھیں۔ بڑی مشکل پڑی۔ انہوں نے سوچا براہِ راست خطاب سے پہلے مصیبت کو ٹالنے کا بندوبست کرلینا چاہیے۔ انہوں نے چھوٹے بھیا پر حکم چلایا ’’شرم نہیں آتی۔ آپا جی پانی طلب کر رہی ہیں اور تم کان بند کیے بیٹھے ہو، چلو اٹھو گلاس میں پانی لے کر آؤ۔‘‘

چھوٹے بھیا میں اتنی عقل کہاں کہ وہ اپنی جان بچانے کے لیے کوئی ترکیب لڑاتے، نہ اتنی جرات کہ آپا بی کی حکم عدولی کا بار اٹھا سکیں۔ ننگے پیر بھاگنے پر تیار ہوئے تو چھوٹی آپا سٹ پٹائیں کہ اماں کے قریب ہی ہیں جو کہیں ان کی نظر ننگے پیروں پر پڑ گئی یا انہیں پتہ چل گیا کہ چھوٹے بھیا کو بھیج بھیج کر سردی میں پانی منگا کر پیا جا رہا ہے تو اور جان غضب میں پڑے گی۔ گھبرا کے چیخ پڑیں۔ ’’ارے ارے ننگے پاؤں کیوں بھاگ رہے ہو۔ جوتا پہن کر جاؤ۔‘‘ جوتا نہیں ملتا۔‘‘ ’’کیوں، نہیں ملتا ڈھونڈو اس کو۔‘‘ پہلے پانی لاؤں یا جوتا ڈھونڈوں؟ کیا کروں؟‘‘

چھوٹے بھیا تابڑ توڑ حکموں سے ہواس باختہ ہوکر پلنگ پر اچھلنے لگے۔ آپا جی اس تمام کارروائی کو شانِ استغناء سے نظر انداز کر کے جیسے کچھ ہو ہی نہیں رہا برابر مانو کو تھپکنے اور چمکارنے میں مصروف رہیں۔ چھوٹی آپا بھیا کی نامعقول حرکتوں پر آگ بگولا ہوتی جا رہی تھی کہ اگر اس نالائق نے جلد تعمیل حکم نہ کی تو پھر ان کی خیر نہیں پانی ان کو لانا پڑے گا۔ ماتھے پر بل پڑ گئے تھے۔ غصہ کے مارے آنکھیں دگنی ہوگئی تھیں۔

اماں تھوڑی دیر تو چپکی یہ دھما چوکڑی سنتی رہی۔ روز روز چھوٹے بڑوں کے لیے اصول ضابطے اور ادب قاعدے وضع ہوکر مقرر ہوتے تھے اور روز روز یوں ہی ان کی مٹی پلید ہوتی تھی۔ وہ خاموشی سے اپنے بستر پر سے اٹھیں اور باہر سے گلاس بھر پانی لاکر آپا جی کی خدمت میں پیش کر دیا ادھر تو چھوٹی آپا کا غصہ پانی ہوکر بہہ گیا۔ ادھر شرم کے مارے آپا جی گلاس پکڑنے پر تیار نہ ہوں۔ ’’بھلا اماں آپ پانی لے کر کیوں آئیں مجھے تو پینا ہی نہیں تھا۔‘‘ ’’پھر مانگ کیوں رہی تھیں؟‘‘

’’کہاں مانگ رہی تھی، میں تو مانو سے باتیں کر رہی تھی۔ زرینہ نے خواہ مخواہ سمجھ لیا کہ مجھے پانی چاہیے۔ اپنی شخصیت جتانے کو سلیم پر حکم چلا رہی تھیں۔‘‘

’’ارے بس رہنے دو، مجھے سب معلوم ہے۔ اگر ضرورت نہ تھی تو ان کو روکا کیوں نہیں۔ آخر یہ سب تمہارے ہی سامنے تو ہو رہا تھا۔‘‘ اب انہوں نے زرینہ کی طرف رخ کیا۔

’’کیوں بنو! اگر آپا کا ایسا ہی خیال تھا تو خود کیوں نہیں لائیں پانی۔ کچھ اپنے بھی ہاتھ پیر ہلانا سیکھو یا چھوٹوں پر رعب جمانا ہی کافی ہے۔‘‘

چھوٹی آپا کا برا حال تھا۔ اعترافِ تقصیر پر آواز مدھم ہوچکی تھی، کچھ منمنا کر رہ گئیں۔

’’آپا پانی پانی کر رہی تھیں۔ بھلا مانو تھوڑی لاکر پلاتی۔ ہم لاکر نہ دیتے تو خفا ہوتیں کہ تم نے سن لیا۔ پھر کیوں نہیں پلایا پانی؟‘‘

’’یہ تو ٹھیک ہے، مگر آپا پر احسان کرنا تھا تو خود جاتیں نا باہر۔ اس بچے کو کیوں ٹھنڈ میں باہر بھیج رہی تھی اور ہاں کیوں بی آپا! تم وہی مثل سچ کر رہی ہو کہ بنو بڑی سیانی ہل کر پئے نہ پانی یہ تمہاری کیا حرکت تھی۔ لاکھ سمجھاؤ۔ خاک اثر نہیں ہوتا۔‘‘

’’اماں! آپ بھی کمال کرتی ہیں۔ مجھے سرے سے پانی ہی نہیں پینا تھا۔ اوپر سے آپ پانی بھی لے آئیں۔‘‘

’’تو اور کیا کرتی۔ یہ جھگڑا کسی طرح ختم بھی ہوتا، کیا دن بھر میں تمہارے کام نہیں کرتی ہوں۔ یہ بات تمہاری سمجھ میں نہیں آتی کہ بڑوں کو تھوڑا بہت چھوٹوں کا کام کرنا چاہیے۔‘‘

مگر ساتھ ہی یہ بھی کہتی ہیں کہ آپ کو چھوٹوں کو بڑوں کی خدمت کرنی چاہیے۔ چھوٹوں کو بڑوں کی خدمت کرنے کا کیسے موقع ملے گا۔‘‘

اپنی اس منطق کو رہنے دو۔ سچ سچ بتاؤ، اس وقت پانی طلب کرنے کا مقصد چھوٹوں کو ادب سکھانا تھا، تم رات اور ٹھنڈ کا خیال کر کے اس تادیب کو کسی اور وقت پر اٹھا رکھتیں اپنی تادیب کا دھیان بھی رکھا کرو۔ اگر انسان اپنے فرض کی ادائیگی کا سوچے تو کیسا رہے۔ بجائے دوسروں سے ڈنڈے کے زور فرض ادا کرانے کے۔‘‘

اب ذرا آپا بی شرمندہ ہوکر مسکرانے لگیں۔ اصل میں اس وقت آپا بی بری طرح پھنس گئی تھیں۔ ورنہ وہ اپنی شرمندگی ظاہر کرنا ہرگز گوارا نہیں کرتیں۔ زرینہ اس گفتگو کے دوران موقع غنیمت جان کر لحاف میں منہ چھپا کر منظر سے غائب تھیں۔ وہ سمجھ چکی تھیں کہ آج اچھی جھاڑ پڑے گی اور ایسی مزاج پرسی ہوگی جو کئی دن کو کافی ہو۔ کیوں کہ اس بات کی گواہی تو خود ان کا دل دے رہا تھا کہ وہ چھوٹے بھیا پر ناحق زیادتی کر رہی تھیں۔ اماں کے ہاتھ میں پانی کا گلاس دیکھ کر تو چھوٹی اور بڑی آپا دونوں کے جذبات بغیر پانی پئے سرد ہوگئے تھے۔ خدمت خلق اور بزرگ پرستی کے حوصلوں پر سناٹا چھا گیا تھا۔ گرم گرم بستر بھی ایک گلاس پانی میں ڈوب گئے تھے۔ جیسے گھڑوں پانی پڑ گیا ہو۔lll

شیئر کیجیے
Default image
نیر بانو

Leave a Reply