5

نسلِ نو کی تربیت

اب امت مسلمہ کے ہر خاص و عام کو احساس ہو رہا ہے کہ نئی نسل گمراہ ہورہی ہے یعنی کہ ’’کارواں کے دل سے احساس ِ زیاں جاتا رہا‘‘ والی نو بت ابھی نہیں آئی الحمد للہ الحمد للہ۔

مگر اس کی تباہی و بربادی کے ہم خودذمہ دارہیں اس کا احساس کم ہی لوگوں کو ہے۔ جب کہ یقینا ہماری تعلیم و تربیت میں کمی رہی جس کی بنا پر ہماری اولاد بگڑ گئی یا بگڑ رہی ہے ۔ ایک مفکر اسلام نے کہا تھا ’’بچوں کے ذہن میں اوائل عمر میں توحید ڈالدو پھر ان کو میدان کار میں اتاردو۔ ‘‘

ماضی قریب کی معاشرتی و سماجی روایات میں بڑوں کا ادب و احترام ،چھوٹوںپر شفقت، انسانی ہمدردی ،خدا ترسی اور راست بازی و انصاف پسندی تھی، لڑکیاں حیادار اور لڑکے شریف ہوتے تھے تو اس کی واحد وجہ ہمارے بزرگ تھے جنہوں نے ہماری دینی تعلیم و تربیت کی تھی۔ وہ مغرب پرست یا مرعوب نہیں تھے۔ ماحول پر ویسٹرن کلچر کی چھاپ نہیں تھی ۔سو شل میڈیا عام نہیں تھا ۔دجّالی فتنے اتنی کثرت سے نمودار نہیں ہوئے تھے۔ شیطانی طاقتیں اور فریب کاریاں اتنی نہیں پھیلی تھیں۔ مخلوط سوسائٹیاں اور مخلوط ادارے نہیں تھے زیادہ نہیں مگر پھر بھی بہت کچھ معاشرے میں قرآن حدیث کا ذکر تھا۔

مگر اب کیا کہا جا ئے جبکہ بچے تو بچے مائیں بھی موبائل پر مصروف رہتی ہیں ۔۔چیٹنگ۔فوٹوئوں کا آدان پردان ، موسیقی اور ہیروہروئن کی ادائوں پر ہمارے بڑے بھی ریجھے ہوئے ہیں۔ والدین خود پسند کرتے ہیں کہ بچے کا نوینٹ میں پڑ ھیں چاہے وہاں کا ماحول کیسا ہی بے دین اور اسلام مخالف کیوں نا ہو۔ فیملی فلموں کے نام پر ایسی ایسی بے حیائی کی داستانیں دیکھتے اور سنتے ہیں کہ الامان اور الحفیظ جسکی وجہ سے آنکھ سے شرم نکل گئی ہے ۔

قرآن وحدیث سے دو ری کیوجہ سے آخرت کا خوف اور اولاد کو خدا کی عطا کردہ نعمت بلکہ امانت سمجھنے کا رجحان ختم ہوگیا ہے مادہ پرستی نے رشتوں کو بھی روپیہ پیسوں میں تولنا شروع کردیاہے ۔

کسی نے سچ ہی کہا ہے اگر اصلاح معاشرے چاہتے ہو تو پیچھے ،پیچھے ،اور بالکل پیچھے پلٹ جائو اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے دور مبارک میںپہونچ جائو۔ آپ نے جس دور کی اصلاح کی وہ آج سے کہیں زیادہ سنگیں اور پر آشوب تھا۔ آپ کا طرزِ اصلاح ہی ہمارے لئے قابل تقلید ہے ۔

باتیں بہت ہوگئیں۔ اب کام کی طرف آتے ہیں۔ کرنے کے کام مندرجہ ذیل ہیں ۔

۱۔ اسلامی ماحول میں دینی اور دنیاوی تعلیم کے مراکز کھولیں جائیں ۔

۲۔ لڑ کے اور لڑکیوں کے لئے الگ الگ تعلیمی ادارے قائم کئے جائیں جن میں سائینس کی کئی ٹیکنالوجی کو برو کار لاتے ہوئے سوشل میڈیا کے نفع نقصانات کی معلومات بہم پہنچائی جائیں ۔

موبائل ، انٹرنیٹ ، واٹس ایپ، اسکائپ، فیس بک کے نقصان دہ اور ضرورت استعمال پر پابندی عائد کی جائے اور بچوں کو دسویں کلاس تک ان چیزوں سے مکمل طور پر دور رکھا جائے۔ اگر جڑ بوسیدہ ہوگئی ہو تو پھل پھول ناقص ہی آئینگے ۔ لہٰذا اچھی کھاداور پانی سے جڑوں کو مظبوط کیا جائے۔ تعلیم بالغان اور ان کی تہذیب و تربیت کی طرف بھی توجہ دی جائے کیونکہ ایک وقت تھا جب ایک پھل فروش بڑھیا کی بیٹی اپنی ما ں کی بیماری کے سبب پھل فروخت کرنے نکلی کچھ دنوں بعد وہ لڑکی باریک کپڑے پہن کر گئی اور جب پھل بیچ کر گھرآئی تو پیسے دیتے وقت بڑھیا کی نظر اسکے لباس پر پڑی تو بڑھیا چیخ اٹھی۔ پیسے پھینک کر کہا ” نامرادکیا تو اب حرام کی کمائی کھلائے گی۔‘‘ مگر اب مائیں اپنی بیٹیوں کے فوٹو زخوداپ لوڈ کرتی ہیں اور اپنی لخت جگر کو عریاں لباس پہناتی ہیں اور انکے بوائے فرینڈ کی تعریف کرتی ہیں ۔

تعلیم بالغان کے ضمن میں قرآن وحدیث کی تعلیم اور صحابیات کی سیر ت مفید ثابت ہوگی جس سے ہماری مائوں کو پتہ چلے گا کہ اولاد امانت ہے اور ان کو خدا کا نافرمان بنانا یا فاحشہ عورتوں سے اپنے بچوں کی پرورش کرانا سب سے بڑی خیانت ہے ۔

مسلمانوں نے تقریباً اپنے سارے پروگرام غیر مسلموں جیسے کرلئے ہیں اور رسوم ورواج کی بھرمار کرلی ہے۔ امت مسلمہ غیر اسلامی طرز حیات پر مگن ہوگئی ہے۔

آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تھا بچہ کی پیدائش پر دائیں کان میں آذان اور بائیں کان میں اقامت کہو اور شیطان کے مس ہونے سے پناہ مانگو۔ جب اسکی زبان کھلے تو سب سے پہلے کلمہ سکھائو ۔شام کے وقت بچوں کو گھروں میں کر لو۔

آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ’’جیسا بوئوگے ویسا کاٹوگے۔‘‘ قرآن کریم میں ہے ۔ لوگوں کے ہاتھوں کی کمائی کے سبب بروبحر میں فساد پھیل گیا ہے بنی نوع انسانی اور خصوصاً امت مسلمہ کی نئی نسل اگر تباہی بربادی کے دھانے پر ہے تو کہیں ناکہیں ہم مجرم ہیں اور اس پر غفلت ستم بالائے ستم ۔

اجتماع تو بہ اور دعا۔ تنہائی میں گڑ گڑا کر تو بہ استغفار کرنا اور پھر اولاد کے لئے دعائے خیر کرنا موثر ثابت ہوسکتاہے ۔ lll

شیئر کیجیے
Default image
عارفہ محسنہ صالحاتی (ممبئی)

تبصرہ کیجیے