نئی نسل کی تربیت کا چیلنج

بچوں کی دیکھ بھا ل اور تعلیم و تر بیت والدین پر ایک بھاری ذمہ داری ہے۔جس طر ح مالی پر اس کے باغ کی حفاظت کی ذمہ داری ہوتی ہے اور اس کی ذرا سی کوتاہی باغ کو تباہ کرسکتی ہے،اسی طرح والدین کی ذرا سی غفلت پوری قوم کو برباد کرسکتی ہے۔

موجودہ زمانے میں نسلِ نو کی تعلیم وتربیت پر بہت سے عوامل اثر انداز ہوتے ہیں۔ جیسے گھر، مدرسہ، معاشرہ، میڈیا وغیرہ۔

گھر: جدید طبی تحقیقات بھی اس نتیجہ پر پہنچی ہیں کہ ماں کی کوکھ میں پلنے والے بچہ پر گھر کے ماحول کا کافی اثر ہوتا ہے۔ اس لئے حمل کے دوران ہی افراد خانہ، جسیے شوہر، ساس وغیرہ کو چاہیے کہ گھر کا ماحول خوشگواربنائے رکھیں۔ اسلامی تعلیمات بھی عورت کو تلقین کرتی ہیں کہ دوران حمل تلاوت قرآن پاک کرنا چاہیے اور اللہ کی تسبیح بیان کرنی چاہیے۔

تعلیم و تربیت کا اہم ترین ادارہ گھر ہے۔ بچوں کے سادہ ذہن پر گھریلو زندگی کے جو گہرے نقوش ثبت ہوتے ہیں وہ زندگی بھر نہیں مٹتے۔مدرسہ میں داخل ہونے کے بعد بھی گھر کی اہمیت کم نہیں ہوتی بلکہ جب بچہ گھر سے باہر نکلتا ہے تو وہ اپنے والدین اور اپنے گھریلو ماحول کی نمائندگی کرتا ہے۔مدرسہ میں اسے نہ صرف لکھنا پڑھنا ہوتا ہے بلکہ جسمانی ، ذہنی اور اخلاقی سرگرمی انجام دینی پڑتی ہے جو گھر کے تعاون کے بغیر ناممکن ہے۔

والدین کے فرائض میں شامل ہے کہ وہ گھر میں بچہ کی پرورش، جسمانی تربیت اور صحت و صفائی کا خیال رکھیں۔کھانے پینے اور پہننے اوڑھنے کا سلیقہ انہیں سکھائیں،حفظان صحت کے اصولوں کی پابندی کرائیں۔ بچے کی عادات و اطوار پر نظر رکھیں۔ شفقت و محبت سے ان کی تربیت کریں۔ تعلیم پر توجہ دیں ۔ گھر کے کام کاج میں ہاتھ بٹانے کے مواقع دیں۔ کوئی مشغلہ مہیا کریں۔ گھریلو ذمہ داریاں دے کر احساس ذمہ داری پیدا کریں۔ اور بچوں کی عزت نفس کا لحاظ رکھیں۔آج کل کی بھاگتی دوڑتی زندگی نے گھر کے اس روایتی نظام کو درہم برہم کردیا ہے۔ والدین اپنی زندگی میں مصروف رہتے ہیں اور بچے اپنی۔ضرورت اس بات کی ہے کہ اس صورت حال کا ازالہ ہو اور ہم اپنے بچوں پر بھرپور توجہ دیں۔اور انہیں ایک مکمل گھر فراہم کریں۔

مدرسہ: نئی نسل کی تعلیم و تربیت میں تعلیمی ادارے بھی اہم رول ادا کرتے ہیں۔ ہم اپنے بچوں کے لئے ایسے اداروں کا انتخاب کریں، جہاں بہترین اساتذہ کا تقرر کیا جاتا ہو۔ وہ اساتذہ نہ صرف علمی اور فنی اعتبار سے ہی عمدہ ہوں بلکہ ان کے اخلاق بھی اعلیٰ ہوں ۔ان مدارس کی ذمہ داری ہے کہ وہ بچوں میںعلم کے ساتھ ساتھ، بُرے بھلے کی تمیز، حق سے محبت اور باطل سے نفرت اور برائیوں کو مٹانے کا جذبہ پروان چڑھائیں۔ مدارس کی ایک اہم ذمہ داری یہ بھی ہے کہ وہ نئی نسل کو اسلاف سے ملے علمی، فنّی اور ثقافتی ورثہ کی منتقلی کو یقینی بنائیں۔

اس تناظر میں والدین کی یہ بڑی ذمہ داری ہے کہ وہ اپنے بچوں کے لئے معیاری تعلیمی ادارہ منتخب کریں۔نہ ظاہری چکا چوند سے مرعوب ہوں اور نہ اسلام اور دینی تعلیم کی پر فریب نمائش اور کھوکلے نعروں سے۔ بچوں کے لئے معیاری تعلیم کا مسابقتی ماحول بھی ضروری ہے اور ایسا ماحول بھی جہاں ان کے دینی تشخص اور اخلاق و کردار کے تحفظ اور نشونما کا انتظام بھی موجود ہو۔اچھے ادارہ میں داخلہ کے بعد بھی مائیں مطمئن نہ ہوجائیں بلکہ تعلیمی کا رکردگی اور اس کے ادارہ کے ماحول پر نظر رکھیں اور انتظامیہ سے تال میل کے ساتھ ادارہ کے معیار کو یقینی بنائیں۔

میڈیا: کہتے ہیں کہ نئی نسل کا ذہن اور مزاج بنانے میں آج کل تعلیم اور گھر سے زیادہ اثر میڈیا کا ہے۔ ٹی، کارٹون اور اشتہارات جہاں بچوں کی معلومات بڑھاتے ہیں وہیں ان کے اندر فضول خرچی، بے حیائی، تعیش پسندی اور تشددجیسی تباہ کن خرابیاں بھی پروان چڑھاتے ہیں۔انٹرنیٹ سے جہاں ان کی تعلیمی ضرورتیں پوری ہوتی ہیں وہیں غلط صحبت، وقت کے ضیاع اور اس سے آگے بڑھ کر فحاشی اور بے حیائی کا بڑے پیمانہ پر فروغ بھی ہورہا ہے۔ یہی معاملہ موبائیل فونس کا بھی ہے۔

مائوں کو بہت حکمت کے ساتھ اس مسئلہ سے نبٹنا چاہیے۔ پہلی ضرورت یہ ہے کہ مائیں، انٹرنیٹ اور خاص طور پر سوشل نیٹ ورک کے استعمال پر قدرت حاصل کریں۔ ماں باپ اگر کمپیوٹر اور فون کی مختلف سہولتوں سے ناواقف ہوں تو ان کے لئے بچوں کو ان کے غلط استعمال سے روکنا ممکن نہیں رہتا۔مناسب عمر سے پہلے موبائیل فون بچوں کے ہاتھ میں دینے سے گریز کریں۔ گھر میں فرنیچر کی ترتیب کچھ اس طرح ہو کہ کمپیوٹر اور ٹیبلیٹ بچے تنہائی میں استعمال نہ کرسکیں بلکہ گھر والوں خصوصاً ماں کی موجودگی ہی میں کرسکیں۔کمپیوٹر اور فون پر ان کے اوقات کی تنظیم و تحدید ہو۔

سب سے بڑھ کر بچوں میں برائی سے نفرت پیدا کریں۔میڈیا کے دھوکوں کا شعور پیدا کریں ۔ خدا کا خوف پیدا کریں۔ اور کوشش کریں کہ بچے کسی بیرونی دبائو کے بغیر خود ہی ان آلات کے غلط استعمال سے بچیں۔lll

شیئر کیجیے
Default image
ڈاکٹرنازنین سعادت (حیدر آباد)

Leave a Reply