عید منانے کا طریقہ

ہماری عیدیں ایسے تہوار ہیں جنہیں منانے کا طریقہ بہت حد تک رسول مقبولؐ نے خود ہی معین فرما دیا ہے۔ عید کے دن اچھا لباس پہننا، خوشبو لگانا، میٹھی چیز کھانا، نماز عید ادا کرنا، عید الفطر میں فطرہ ادا کرنا اور عید الاضحی کو قربانی دینا وغیرہ کو دیکھئے کہ ان میں اپنی مسرت بھی آگئی۔ اللہ تعالیٰ کی عبادت بھی آگئی اور اپنے غریب بہن بھائیوں کی امداد بھی آگئی۔ گویا مسلمان خوشی منا رہا ہے، مگر کس طرح کہ نہ اپنے خالق کو بھولا ہے اور نہ اپنے غریب بہن بھائیوں کو بھولا ہے اور اس وقار اور عقل مندی سے خوشی منا رہا ہے کہ ساتھ ہی اپنے مالک کی خوشنودی بھی حاصل کر رہا ہے اور اپنے غریب بہن بھائیوں کو بھی اس خوشی میں شریک کر رہا ہے۔
مسلمان دنیا بھر میں پھیلے ہوئے ہیں۔ مختلف علاقوں میں اپنے اپنے طور طریقے اور رواج ہیں۔ اس طرح عید منانے میں بھی تھوڑا تھوڑا اختلاف ہوگا۔ تاہم بہ حیثیت مجموعی مسلمان ایک ہی طرح عید مناتے ہیں۔ نمازِ عید کی ادائیگی، فطرہ اور قربانی کی ادائیگی، عمدہ لباس پہننے، خوشبو لگانے، میٹھی چیز کھانے کے علاوہ عام طور پر مسلمان اس دن بچوں، نوکروں اور دوسرے متعلقین کو عیدیاں دیتے اور دوسروں کے گھروں میں تحفے بھیجتے اور عید کی ملاقاتوں کے لیے ایک دوسرے سے ملتے ہیں۔ یہ سب چیزیں اپنی اپنی جگہ اتنی اچھی اور مفید ہیں کہ اب یہ سوچنا کہ عید منانے کا کیا طریقہ اختیار کیا جائے بہت حد تک لا حاصل ہے۔ تاہم یہ ضرور ہے کہ عید منانے کے جو طریقے ہم اختیار کرتے ہیں، ان میں زیادہ سے زیادہ عمدگی سے ادا کرنے کی ضرورت بہرحال موجود ہے۔
فطرہ ہی لیجئے! اس بات کی ضرورت ہے کہ فطرہ دینے کے لیے مستحق لوگوں کے متعلق پہلے ہی سوچ لیا جائے فطرہ لازماً دینا ہی ہوتا ہے۔ مگر تھوڑی سی محنت اور وقت اس پر صرف کرلیاجائے کہ جو زیادہ سے زیادہ مستحق ہے اسے دیا جائے۔ کئی گھروں میں دیکھا گیا ہے کہ گھروں والی بیبیاں سارا فطرہ ہٹے کٹے مشٹنڈے فقیروں کی نذر کردیتی ہیں حالاں کہ ان کی اپنی آبادیوں کے اندر کئی سفید پوش ایسے ہوتے ہیں، جنہیں اس فطرے کی زیادہ حاجت ہوتی ہے۔ بہتر یہ ہے کہ مستحق لوگوں کا حال معلوم کر کے عید سے کچھ روز پہلے ہی انہیں فطرہ پہنچا دیا جائے تاکہ عید تک کچھ تیاری کرلیں۔
عید کے دن ایک دوسرے کو تحائف بھیجنا بھی کیا ہی عمدہ بات ہے۔ اس سے باہمی ربط بڑھتا ہے اور تحفہ تو ہے ہی محبت کا ذریعہ مگر تحائف کے سلسلے میں بھی رسولِ خداﷺ کے فرمان کو نہیں بھولنا چاہیے کہ کوئی ہمسائی کسی ہمسائی کے لیے تحفے کو حقیر نہ جانے۔ چاہیے بکری کا کھر ہی کیوں نہ ہو۔
ایک دوسرے کے بھیجے ہوئے تحفے کو تنقیدی نگاہ سے دیکھنا اور اس کی مالیت کا اندازہ لگانا اور پھر اس کی مالیت کا اپنے تحفے کی مالیت سے مقابلہ کرنا ایک ایسا فعل ہے جس سے تحفہ دینے کے عمل کی برکتیں اور فوائد بہت حد تک ختم ہی ہوجاتے ہیں۔ ایک دوسرے کے بچوں کو نقد عیدیاں دیتے ہوئے بھی اس بات کا خیال رکھنا کہ میں نے اس کے بچے کو اتنے دیے ہیں اور اس نے میرے بچے کو اتنے دیے گویا عیدی کو محبت کا ذریعہ بنانے کے بجائے رنج کا ذریعہ بنانا ہے۔
عید کے دن ایک دوسرے سے ملاقات کرنا بھی خیر و برکت کا باعث ہے۔ ویسے عید کے دن ہر گھر میں اتنی مصروفیت ہوتی ہے کہ ضروری نہیں کہ ہر شخص اس دن دوست احباب سے ملاقات کر ہی سکے تاہم جتنی ملاقاتیں بھی کی جاسکیں، خوشی کا موجب ہوتی ہیں اس سلسلے میں یہ بات بہت عمدہ ہے کہ کوئی ایسی جگہ ہو جہاں زیادہ تر خواتین جائیں اور اس طرح تھوڑے وقت میں بہت سی خواتین ایک دوسرے سے مل لیں۔ افسوس کی بات ہے کہ ہمارے یہاں خواتین میں نماز عید پڑھنے کا جذبہ بہت ہی کم ہے حالاں کہ عید کے دن مسلمانوں کا اکٹھے ہوکر نماز عید ادا کرنا اور اجتماعی دعا میں شریک ہونا بڑی خوشی اور خیر و برکت کا موجب ہوتا ہے۔ خواتین کو اپنے گھروں کے کاموں کی مصروفیت کا عذر ہوتا ہے۔ یہ بات اپنی جگہ درست ہے تاہم اگر گھروں کے کاموں کی ترتیب وغیرہ عمدہ رکھی جائے اور اس طرح تھوڑا سا وقت نماز کے لیے نکال لیا جائے تو ا س سے عید کی خوشی بڑھ جائے۔ اور اس طرح عورتوں کو کسی حد تک ایک دوسرے سے تھوڑے وقت میں ملاقاتیں کرلینے کا موقع بھی مل جائے گا۔
اللہ نے جن لوگوں کو مالی استطاعت دے رکھی ہے وہ عید کو بھی زیادہ خیر و فلاح کا ذریعہ بنا سکتے ہیں۔ فطرہ تو لازمی ہے ہی مگر جانتے ہیں کہ فطرہ کی رقم تو بہت معمولی ہوتی ہے اس لیے فطرے کے علاوہ بھی اس دن خیرات کریں تو یہ چیز ان کی مسرت کو بڑھانے کا ہی موجب ہوگی۔ بعض گھرانوں میں دیکھا گیا ہے کہ بچوں کے کپڑے تو بڑے ارمانوں سے بنائے جا رہے ہیں مگر نوکروں کی طرف بہت کم توجہ دی جا رہی ہے۔ پھر عید کے دن چوں کہ کھانے پکانے اور مہمان داری کا کام زیادہ ہوتا ہے اس لیے بعض سخت گیر بیویاں تو اس دن نوکروں کی جان ہی نکال لیتی ہیں۔ اس بات کو بھولنا نہیں چاہیے کہ یہ غریب لوگ بھی عید منانے کے اتنے ہی حق دار ہیں جتنے ہم خود۔ عید کے دن ان کا بھی دل چاہتا ہے کہ اچھا لباس پہنیں، اچھی چیزیں کھائیں اور تھوڑی سی دیر کے لیے وہ بھی فارغ ہوکر عید کی خوشی منالیں۔

یہ مسرت کے دن اللہ تعالیٰ نے آپ کو اپنی مہربانی سے عنایت کیے ہیں۔ آپ کے لیے لازم ہے کہ چاروں طرف دیکھ لیں کہ جو لوگ آپ کے ارد گرد ہیں وہ بھی مسرور ہی ہیں نا۔ کہیں ایسے تو نہیں کہ آپ تو خوشی منا رہی ہوں اور آپ کے حلقہ اختیار کے اندر ہی بعض دکھے ہوئے دل چپکے چپکے اندر ہی اندر آنسو بہا رہے ہوں۔ انسان کی مسرت کیا ہی قابل رشک ہے، جس نے اپنی خوشی کے ساتھ کئی اور غمگین دلوں کے مسکرا پڑنے کا سامان کرلیا ہو۔lll

شیئر کیجیے
Default image
منور سلطانہ

Leave a Reply