خوشی منائیں مگر کیسے؟!

عید الفطر کا تہوار ایک اہم اور خوشی کا موقع ہے اور خوشی کے وقت پر خوشیاں منانا عین انسانی فطرت ہے۔ لیکن ہمارے معاشرے میں عید کے موقعے پر خوشی منانے کا تصور کم زور ہوتا جا رہا ہے۔ کیوں کہ عید کے بجائے مختلف قسم کے "Days” اور غیر مذہبی تہواروں کو ہم نے ضرورت سے زیادہ اہمیت دے دی ہے اور ان کو کچھ اس انداز سے مناتے ہیں کہ عید کی خوشی اس کے سامنے ماند پڑتی محسوس ہوتی ہے۔ کچھ طالبات کو اس انداز کا تبصرہ کرتے سنا ہے ’’اس دن تو بہت بور ہوتا ہے میٹھا کھا کھا کر سر دکھنے لگتا ہے۔‘‘

خواتین کا معاملہ یہ ہوتا ہے کہ عید کے دن سارا وقت کچن میں مصروف رہتی ہیں۔ بچوں کو سجانے سنوارنے میں لگی رہتی ہیں اور خود کو قطعی نظر انداز کر کے بالکل سادہ سا حلیہ بنائے رکھتی ہیں۔ عید صرف بچوں کا نہیں سب مسلمانوں کا تہوار ہے اس لیے یہ رویہ مناسب نہیں ہے۔

کچھ مرد حضرات بھی عید کے روز نماز سے فارغ ہوکر گھر آتے ہی سو جاتے ہیں۔ بچے دیر سے اٹھتے ہیں اور جب صبح اٹھ کر کوئی امنگ نہیں ہوتی تو وہ ایک بے کار سا دن گزارتے ہیں۔ عید کے دن پڑے سوتے رہنا اور بوریت کا اظہار کرنا ناپسندیدہ عمل ہے۔ یہ عید کے دن یعنی اللہ کے انعام کی ناقدری ہے۔ ایسا شاید اس لیے بھی ہوتا ہے کہ ہمیں یہ معلوم نہیں ہوتا کہ عید کے دن کرنا کیا ہے۔ اس کے لیے ہمیں قرآن و حدیث کی طرف رجوع کرنا ہوگا۔ قرآن میں ارشاد ہے:

ترجمہ ’’اور جو کوئی تم میں سے مریض ہو یا سفر پر ہو تو وہ دوسرے دنوں میں روزوں کی تعداد پوری کرلے۔ اللہ تمہارے ساتھ نرمی کرنا چاہتا ہے سختی نہیں۔ اور تاکہ تم گنتی پوری کرسکو اور اللہ کی کبریائی کا اعتراف کرو اس نعمت پر جو اللہ نے تمہیں دی ہے اور تاکہ تم شکر ادا کرو۔‘‘ (البقرۃ)

اس آیت میں سیدھے عید کے احکام ملتے ہیں۔

۱- تکبیر پڑھنا اور نماز عید پڑھنا۔

۲-شکر کرنا یعنی خوشیاں منانا۔

نبی ؐ جب مدینے تشریف لائے تو ایک موقعے پر فرمایا ’’تم سال میں دو دن خوشیاں منایا کرتے تھے اب خدا نے تمہیں ان سے بہتر دو دن عطا فرمائے ہیں یعنی عید الفطر اور عید الاضحی۔ ‘‘

آپ عید کیسے مناتے؟

نبیؐ عید کے دن صبح سویرے عیدگاہ تشریف لے جاتے اور عید گاہ جانے تک تکبیریں پڑھتے۔ پھر عیدگاہ میں بھی تکبیریں پڑھتے رہتے۔ یہاں تک کہ امام خطبہ کے لیے بیٹھ جاتا۔ حضرت انسؓ کہتے ہیں کہ اللہ کے رسولؐ کھجوریں کھائے بنا عید گاہ نہیں جاتے تھے اور آپ طاق عدد کھجوریں کھاتے تھے۔ حضرت ابن عمرؓ سے روایت ہے کہ نبیؐ نے صدقہ فطر ایک صاع کھجور ہر مسلمان پر فرض قرار دیا ہے۔‘‘ حضرت عائشہؓ فرماتی ہیں کہ عید کے دن کچھ بچیاں اشعار گا رہی تھیں اور دف بجا رہی تھیں۔ حضرت ابو بکرؓ تشریف لائے اور بولے نبیؐ کے گھر یہ گانا بجانا؟ آپؐ نے فرمایا ابو بکر رہنے دو ہر قوم کے لیے تہوار کا ایک دن ہوتا ہے اور آج ہماری عید کا دن ہے۔

ایک بار عید کے روز کچھ حبشی فوجی کرتب دکھا رہے تھے۔ آپؐ نے یہ کرتب خود بھی دیکھے اور حضرت عائشہؓ کو بھی اپنی آڑ میں لے کر دکھائے۔ ان کرتب بازوں کو آپ شاباشی بھی دیتے جاتے تھے۔ جب عائشہؓ تھک گئیں تو چلی گئیں۔ (بخاری)

معلوم ہونا چاہیے کہ کرتب بازوں کا یہ کھیل عید کے دن مسجد نبوی کے اندر ہوا تھا۔ پھر ہم نے اپنی عید اتنی روکھی پھیکی اور غیر دلچسپ کیوں بنا رکھی ہے۔ نہ ہم عید کے دن کچھ کھیل کود میں دلچسپی لیتے ہیں اور نہ ہی کچھ تفریحی مشاغل اختیار کرتے ہیں۔

عید کے دن خوب کھل کر خوشی منانی چاہیے۔ طبیعت کو ذرا آزاد چھوڑ کر مسرت کا پورا پورا اظہار کرنا چاہیے۔ اسی لیے ان دونوں تہواروں میں روزہ رکھنے کی ممانعت ہے۔ آپؐ کا ارشاد ہے: ’’یہ ایام کھانے پینے، باہم خوشی کا لطف اٹھانے اور اللہ کو یاد کرنے کے ہیں۔‘‘

ہماری تقریب کیسی ہو؟

عید کی اصل قدر دانی یہ ہے کہ جو اللہ نے دیا ہے اس میں عمدہ اور خوب صورت لباس پہنا جائے۔ اور میسر عمدہ و بہترین کھانا تیار کیا جائے۔ غسل کریں، خوشبو لگائیں، مہندی اور زیب و زینت اختیار کریں۔ گھر سجانے کے ساتھ ساتھ خود بھی بنیں سنوریں، اور میل اور ملاقات کا اہتمام کریں۔ عید کی تمام سنتوں کا اہتمام کریں، کثرت سے تکبیرات پڑھیں اور نمازِ عید، عیدگاہ میں جاکر ہی ادا کریں۔

اللہ نے انسان کی فطرت میں رکھا ہے کہ وہ خوب صورتی اور خوب صورت ہیئت، وسیع جگہ اور بارونق منظر دیکھ کر خوش ہوتا ہے۔ ہماری عید کی خوشی میں یہ بات بھی اضافہ کرسکتی ہے کہ عید کے دن یا اگلے روز ہم کسی پرفضا مقام پر جہاں پانی ہو سبزہ ہو اور دیگر اچھی پرمسرت چیزیں میسر ہوں، پکنک کے لیے جائیں۔ وہ سارے تحفے تحائف جو ہم مختلف موقعوں پر اپنے اعزہ و اقربا میں تقسیم کرتے ہیں ان کا عید سے اچھا اور کون سا موقع ہوسکتا ہے۔ اسی طرح ان کے ساتھ مل بیٹھنے اور کھانے کھلانے کا اہتمام بھی اس سے بہتر کس دن کیا جاسکتا ہے؟

یہ بھی دیکھنے میں آیا ہے کہ خوشی منانے میں ہم جو کپڑے اور زیور پہنتے ہیں ان میں بعض اوقات مقابلہ بازی شروع ہوجاتی ہے اور کبھی کبھی خوشی کی اوقات میں حسد شامل ہو جاتا ہے۔ ہمیں اس بات کا تو حق دیا گیا ہے کہ ہم نعمت کا اظہار کریں لیکن اس بات کی اجازت نہیں کہ ہم اظہارِ نعمت کے ساتھ حسد یا تکبر شامل کرلیں۔

عید کے دن ہمیں خوش ہونا چاہیے، حالات چاہے جو بھی ہوں۔ ہر انسان آزمایا جا رہا ہے۔ جب اللہ چاہتا ہے کہ ہم خوش ہوں تو دل نہ بھی چاہ رہا ہو تو خوش ہوجائیں ، اپنے رب کے لیے۔ ہمارے چہرے پر ویسے ہی مسرت کی چمک ہو جیسی حضور پاکؐ کے چہرے پر ہوتی تھی۔ حضرت کعب بن مالک کہتے ہیں کہ جب بھی کوئی خوشی حاصل ہوتی تو آپ کا چہرہ اس طرح چمکتا گویا کوئی چاند کا ٹکڑا ہے اور ہم آپ کے چہرے کی رونق اور چمک سے سمجھ جاتے کہ آپؐ اس وقت انتہائی مسرور ہیں۔ (ریاض الصالحین)lll

شیئر کیجیے
Default image
سلمیٰ نسرین (اکولہ)

Leave a Reply