5

ہمسایہ سے حسن سلوک!

اللہ کے رسولﷺ نے قریبی ہمسایے کے ساتھ حسن سلوک اختیار کرنے کی بڑی تلقین کی ہے۔ ہمسائے دو قسم کے ہیں۔ مسلم اور غیر مسلم۔ مسلمان ہمسائے کے تین حق ہیں۔ حق ہمسائیگی، حق قرابت اور حق اسلام اور غیر مسلم ہو تو صرف حق ہمسائے گی۔

حضرت حسن بصری رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں: ہمسایہ کا صرف یہی حق نہیں کہ اسے تکلیف نہ پہنچاؤ بلکہ یہ بھی ہے کہ اس کے ساتھ حسن سلوک اختیار کرو کیوں کہ جو اپنے ہمسایہ سے عمدہ سلوک نہیں کرتا اللہ اس پر جنت حرام ٹھہرا دیتا ہے۔

نبی کریمﷺ نے فرمایا:جس شخص نے اپنے ہمسائے کو تکلیف پہنچائی گویا کہ اس نے مجھے تکلیف دی اور جس نے مجھے ایذا پہنچائی اس نے اللہ تعالیٰ کو ایذا دی۔ نیز فرمایا: ’’جس نے اپنے ہمسایہ سے لڑائی کی اس نے مجھ سے لڑائی کی اور جس نے مجھ سے لڑائی لڑی اس نے اللہ تعالیٰ سے لڑائی کی۔ خدا کی قسم وہ مومن نہیں، خدا کی قسم وہ مومن نہیں، خدا کی قسم وہ مومن نہیں۔ آقا علیہ الصلوۃ والسلام نے تین بار ارشاد فرمایا۔ عرض کی گئی، کون؟ یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم، فرمایا وہ شخص کہ اس کے پڑوسی اس کی آفتوں سے محفوظ نہ ہوں۔‘‘نیز حضور پاکؐ نے فرمایا: ’’وہ شخص مومن نہیں جو خود تو پیٹ بھر کے کھائے اور اس کا پڑوسی اس کے پہلو میں بھوکا رہے۔‘‘

ایک حدیث شریف میں ہے کہ ایک شخص نے عرض کیا، یا رسول اللہؐ فلاں عورت کے متعلق ذکر کیا جاتا ہے کہ وہ نماز روزہ و صدقہ کثرت سے کرتی ہے مگر یہ بات بھی ہے کہ وہ اپنے پڑوسیوں کو زبان سے تکلیف دیتی ہے۔ آپﷺ نے فرمایا وہ جہنم میں ہے۔ انہوں نے پھر عرض کیا۔ یا رسول اللہﷺ فلاں عورت کے متعلق ذکر کیا جاتا ہے کہ اس کے نماز، روزہ و صدقہ میں کمی ہے مگر اپنی زبان سے پڑوسیوں کو ایذا نہیں دیتی۔ فرمایا: وہ جنت میں ہے۔ (بیہقی)

نبی کریمﷺ نے فرمایا تم جانتے ہو ہمسائے کے کیا حقوق ہیں۔ سنو اگر وہ تم سے مدد مانگے تو اس کی مدد کرو، قرض مانگے تو قرض دو، وہ محتاج ہوجائے تو اس پر کرم کرو، اگر وہ بیمار ہو تو اس کی عیادت کرو، اگر فوت ہوجائے تو اس کے جنازہ میں شریک ہو اگر اسے بھلائی حاصل ہو تو مبارک باد کہو۔مصیبت میں مبتلا ہو تو ہمدری کا اظہار کرو، اپنا مکان اتنا اونچا نہ بناؤ کہ تمہارے پڑوسی کو ہوا نہ لگے البتہ اجازت طلب کرو، پھل خریدو تو ہمسائے کو بھی تحفہ دو اگر ایسے نہ ہوسکے تو پوشیدہ گھر میں لاؤ۔‘‘

ہمسائے کے حقوق اسلامی اخوت سے بہت زیادہ مطالبہ کرتے ہیں، حضور ختم المرسلینﷺ نے فرمایا: حضرت جبرئیل علیہ السلام ہمیشہ مجھے ہمسائے کے بارے میں وصیت فرماتے رہتے مجھے گمان ہوا کہ جلد ہی ہمسائے کو وارث بنا دیا جائے گا۔ آپﷺ کا فرمان ہے جو اللہ تعالیٰ اور آخرت پر ایمان رکھتا ہے اسے ہمسائے کی عزت کرنی چاہیے، قیامت کو سب سے پہلا فیصلہ دو ہمسایوں کا ہوگا۔‘‘

ایک شخص حضرت ابن مسعودؓ کی خدمت میں حاضر ہوا اور اس نے اپنے ہمسایہ کی ایذا رسانی کی شکایت کی کہ وہ مجھے گالیاں بھی دیتا ہے اور تنگ بھی کرتا ہے۔ آپؐ نے فرمایا جاؤ اس نے تمہارے بارے میں اللہ تعالیٰ کی نافرمانی کی ہے لیکن تم اللہ تعالیٰ کی اطاعت کرو اور اس سے حسن سلوک سے پیش آؤ۔‘‘ امام زہریؒ سے روایت ہے کہ ایک شخص آپؐ کی خدمت میں پڑوسی کا معاملہ لے کر آیا تو آپؐ نے فرمایا: ’’مسجد کے دروازے پر لکھ دو چالیس گھر چاروں طرف باہم پڑوسی ہیں۔‘‘

تکلیفیں دور کر کے ہی ہمسائے کا حق ادا نہیں ہوتا بلکہ ان چیزوں کا تدارک بھی ضروری ہے جن سے تکالیف پیدا ہوتی ہیں۔ اس سے نرمی اور حسن سلوک سے پیش آئے۔ اس سے نیکی اور بھلائی کرتا رہے، قیامت کو ایک مفلس ہمسایہ صاحب مال ہمسائے کو پکڑ کر اللہ کے حضور پیش کر کے کہے گا یا اللہ اس سے پوچھئے اس نے تیری عطا سے مجھے کیوں محروم رکھا اور اپنا درازہ میرے لیے کیوں بند کیا۔

حضرت ابن مقفعؒ سے کسی نے کہا تھا تمہارا ہمسایہ بوجہ تنگ دستی اپنا مکان بیچ رہا ہے۔ آپ اس کے سایہ دیوار میں بیٹھا کرتے تھے۔ انہوں نے یہ سن کر کہا اگر اس نے تنگ دستی کی وجہ سے اپنا گھر بیچ دیا تو گویا میں نے اس کے گھر کے سایہ کا احترام نہیں کیا گھر جاکر رقم بھجوا دی اور کہا مکان فروخت نہ کرو۔ حضرت مجاہدؒ فرماتے ہیں کہ میں حضرت عبد اللہ بن عمر فاروقؓ کے پاس بیٹھا ہوا تھا اور آپ کا خادم بکری کی کھال اتار رہا تھا۔ فرمایا جب تم گوشت بنا لو تو تقسیم کا آغاز یہودی ہمسائے سے کرنا۔ آپ نے یہ الفاظ کہہ کر پھر یہودی ہمسائے کے بارے میں تاکید کی تھی۔ خادم نے بتایا کہ آپ کتنی مرتبہ دہراتے چلے گئے۔ آپ نے فرمایا حضورﷺ تاجدار مدینہ ہمیں ہمسایوں کے بارے میں برابر نصیحت اس قدر فرمایا کرتے تھے کہ ہمیں خطرہ ہوا کہیں ہمسائے کو وارث نہ قرار دے دیا جائے۔ حضرت ابو ذرؓ سے روایت ہے کہ مجھے حبیب اللہﷺ نے وصیت فرمائی کہ جب تم کھانا پکاؤ تو اس میں زیادہ پانی ڈال دو پھر اپنے ہمسایوں کی طرف نگاہ دوڑاؤ اور انہیں تھوڑا سا شوربا یا سالن بھیج دیا کرو۔‘‘ اللہ اکبر یہ ہیں ہمسایوں کے حقوق۔

اسلام جو معاشرہ تشکیل دینا چاہتا ہے اس معاشرے کا نشان امتیاز ہی یہ ہے کہ اس میں بسنے والے بلا کسی تفریق کے باہم برادرانہ ماحول میں رہ سکیں گے۔ جو لوگ اسلامی معاشرے میں غیر مسلموں سے متعلق اندیشوں اور دینی تحفظات کا شکار رہتے ہیں، ان کے لیے حضور پاکؐ کے یہ فرمان وضاحت کرتے ہیں کہ مسلم معاشرے میں کسی غیر مسلم کا کوئی بھی انسانی حق سلب نہیں کیا جاسکتا۔ کیوں کہ اسلام غیر مسلم پڑوسیوں کے ساتھ بھی حسن سلوک کی تاکید کرتا ہے اور جنت اور جہنم کو پڑوسی کے ساتھ حسن سلوک سے باندھ دیتا ہے۔

ہم مسلمانوں کے لیے یہ بات قابل غور ہے کہ ہم آپس میں ہی اپنے پڑوسیوں کے ساتھ حسن سلوک نہیں کرتے۔ ایسے میں ہم اسلام یا مسلم سماج کی نمائندگی کیسے کرسکتے ہیں اور غیر مسلم لوگوں کو یہ کیسے بتا سکتے ہیں کہ اسلام اس طرح کا معاشرہ تشکیل دینا چاہتا ہے۔ اگر ہم اپنے معاشرے میں پڑوسیوں کے حقوق کے اس چارٹر کو نافذ العمل کرلیں اور ہر شخص دوسرے کے لیے حسن سلوک کا پیکر بن جائے تو ایک پرامن اور محبت و مودت پر مبنی سماج تشکیل پاسکتا ہے۔ اگر ایسا ہوجائے تو لوگ اس سماج کا حصہ بننے کے لیے اسی طرح بے چین رہیں گے جیسے ایک پیاسا پانی کے لیے بے تاب ہو جاتا ہے اور اس کا حصہ بننے میں اسی طرح خوشی اور اطمینان محسوس کریں گے، جیسے ایک پیاس سے تڑپتا انسان ایک گلاس ٹھنڈا پانی پی کر محسوس کرتا

شیئر کیجیے
Default image
سمیرا فاطمہ قادری

تبصرہ کیجیے